• 1 اکتوبر, 2020

مکرم الحاجی احمدو فاسلوکو صاحب مربی سلسلہ مغربی افریقہ سیرالیون کا ذکر خیر

’’مجھے نہیں معلوم کہ میں مزید کتنا عرصہ زندہ رہوں گا، اس لئے میں حق قبول کرنے میں مزید تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا‘‘

یہ اس خوش قسمت انسان مکرم الحاجی احمدو فاسلوکو مرحوم و مغفور کے الفاظ ہیں جس نے اپنی وفات سے صرف ڈیڑھ ماہ قبل اپنے دل کی گواہی پر امام الزماں علیہ السلام کو قبول کیا اور معاً مالی نظام میں شامل ہونےکی سعادت پائی۔ خاکسار اس بزرگ کا ذکر خیر کرنا چاہے گا۔

آج سے ٹھیک ایک سال قبل پاکستان سے سیرالیون کے مشرقی ریجن ’’کونو‘‘ میں بطور ریجنل مبلغ تقرری کے بعد خاکسار کی ملاقات یہاں کے ڈسٹرکٹ چیف امام مکرم الحاجی شیخ کابینے منسارے صاحب سے ہوئی جنہیں خاکسار نے اپنا اور جماعت کا تعارف کروایا۔ موصوف کے چہرے کے تاثرات بتا رہے تھے کہ وہ جماعت کے بارہ میں مزید نہیں جاننا چاہتے لہذا انہوں نے میری بات کاٹتے ہوئے اپنی مصروفیت کا عذرکیا۔ نشست برخاست ہوئی اور ہم مشن ہاؤس واپس آگئے۔

وقت گزرتا گیا۔ مذکورہ چیف امام صاحب سے رابطہ بحال رہا۔ دریں اثناء 2019ء کا اختتام آپہنچا اور جنوری 2020ء میں ہونے والے جلسہ سالانہ سیرالیون کی تیاریاں شروع ہوگئیں۔

جلسے کے دعوت نامے تقسیم کرنےکا مرحلہ آیا تو ہم نے دوبارہ چیف امام صاحب سے ملاقات کی۔ جب انہیں جلسہ میں شرکت کی دعوت دی گئی تو کہنے لگے کہ میں تو بوجوہ جلسہ میں شامل نہیں ہو سکوں گا تاہم اپنے اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ چیف امام مکرم الحاجی احمدو فاسلوکو صاحب کو پیغام دوں گا کہ جلسہ میں میری نمائندگی کر لیں۔ ہم نے شکریہ ادا کیا اور وہاں سے رخصت ہوئے۔

امسال اس نوخیز ’’کونو‘‘ ریجن سے کل 115؍ احباب و خواتین حد درجہ غربت اور نہایت نامساعد حالات کے باوجود پائی پائی جوڑ کر جلسہ میں شرکت کرنے جا رہے تھے۔

خاکسار بوجہ ڈیوٹی جلسہ سے چند روز قبل اپنے ریجن سے جلسہ کے مقام ’’بو‘‘ شہر پہنچ گیا تھا۔ جلسہ سے ایک روز قبل صبح جب ہمارا قافلہ خاکسار کے دونوں لوکل مشنریز صاحبان کی قیادت میں ’’کونو‘‘ سے روانہ ہوا تو خاکسار نے اپنے ایک لوکل مشنری صاحب سے فون پر پوچھا ’’اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ چیف امام صاحب کے آنے کی امید ہے؟‘‘ تو جواب ملا:

’’وہ ہمارے ساتھ ہی قافلےمیں آ رہے ہیں۔‘‘

یَأتُوْنَ مِن كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ کا مصداق یہ قافلہ طویل سفر کے بعد جب شام کو جلسے کے مقام ’’بو‘‘ شہر پہنچا تو خاکسار پارکنگ میں پہلے سے موجود تھا۔

اسی اثناء میں میری نظر سفید لباس اور سرخ پرنے میں ملبوس ایک باریش بزرگ پر پڑی جس کا چہرہ باقی شرکائےجلسہ کی طرح سفر کی گرد سے اٹا ہوا تھا اور تھکاوٹ کے آثار نمایاں تھے لیکن جلسہ سالانہ میں شرکت کا شوق اور اخلاص و وفا ہر چیز پر حاوی تھا۔

خاکسار نے آگے بڑھ کر اس بزرگ اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ چیف امام الحاجی احمدو فاسلوکو صاحب کا استقبال کیا اور دیگر احمدیوں سمیت ہم احمدیہ کمپاؤنڈ پہنچے۔

وہاں پہنچ کر خاکسار نے امام صاحب سے عرض کی کہ آئیں آپ کے لئے رہائش کا انتظام کردوں تو اس درویش صفت انسان نے دیگر احمدیوں کے ساتھ ہی رہنے کی خواہش ظاہر کی اور جلسہ کے تینوں دن ہماری جماعت کے احباب کے ساتھ رہے۔ یوں لگتا تھا کہ موصوف بہت بڑا مقصد لے کر جلسے میں آئے ہیں۔ مکرم امام صاحب نے اس جلسہ میں شامل ہو کر اپنے اندر نمایاں تبدیلی محسوس کی۔

جلسہ میں باجماعت نماز تہجد کے دوران پر رقت اور پرسوز دعاؤں کی آہ و فغاں نے موصوف کے دل پر گہرا نقش چھوڑ دیا تھا جس کا اظہار انہوں نے اپنی تقریر کے دوران کیا اور جلسہ میں اسلامی بھائی چارے کی عمدہ مثال کا مشاہدہ کرتے ہوئے کہا کہ یہاں 24 ہزار سے زائد افراد کا جم غفیر بھی ایک گھر جیسا ماحول پیش کر رہا ہے۔

تقریر کے تسلسل میں کہا کہ اگر کوئی بیمار ہو تو احمدیہ ہسپتال موجود ہیںاگر تعلیم کی بات کی جائے تو احمدیہ سکول موجود ہیں اور اگر خدا کی عبادت کرنی ہو تو خوبصورت احمدیہ مساجد موجود ہیں اور یہ امتیاز جماعت احمدیہ کے علاوہ کسی اور تنظیم کو حاصل نہیں۔اس پر جلسہ کا پنڈال اللہ اکبر کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھا۔

یہ جلسہ امام صاحب کی زندگی کا ایک اہم موڑ ثابت ہوا اور جلسہ کی حسین یادوں سے رطب اللسان اس بزرگ نے واپس جا کر ہر ایک سے جماعت کی مہمان نوازی، اعلیٰ اخلاق اور جلسے کے کامیاب انعقاد کا تذکرہ جاری رکھا یہانتک کہ ان کی روداد سن کر چیف امام ’’کونو‘‘ کا بھی ہمارے ساتھ رویہ پہلے کی نسبت بہت اچھا ہو گیا۔

ماہ اپریل کے آغاز میں ایک روز امام فاسلوکوصاحب بغیر دھوپ کی عینک لگائے خاکسار کے مشن ہاؤس تشریف لائے اور آتے ہی مسکراتے ہوئے کہنے لگے کہ شیخ! (یہاں مسلمانوں میں کسی کو عزت دینے کے لئے شیخ کہہ کر پکارا جاتا ہے) ’’میں نے آنکھوں کا کامیاب آپریشن کروایا ہے۔ اب میں کتابیں پڑھ سکتا ہوں۔‘‘ چنانچہ خاکسار نے امام صاحب موصوف کو قرآن مجید کا تحفہ دیا جس پر ان کی خوشی دیدنی تھی۔ پھر جلسہ کی یادوں کا تذکرہ شروع ہوا اور بار بار جلسے میں مدعو کیے جانے پر مشکور ہوئے۔

بعد ازاں موصوف نے اپنے ذہن میں گردش کرنے والے بعض سوالات پوچھے جن کے تسلی بخش جوابات دئیے گئے۔اس کے بعد امام صاحب کہنے لگے۔ ‘‘مجھے نہیں معلوم کہ میں نے مزید کتنا عرصہ زندہ رہنا ہے, اس لئے میں حق قبول کرنے میں مزید تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا‘‘

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:

؎صاف دل کو کثرت اعجاز کی حاجت نہیں
اک نشاں کافی ہے گر دل میں ہے خوف کردگار

چنانچہ اسی وقت انکا بیعت فارم پر کیاگیااور انہیں بمعہ اہل و عیال جماعت میں شمولیت کی مبارکباد پیش کی گئی۔

بیعت کے بعد امام صاحب سے ہمارے لوکل مشنری صاحب کا مسلسل رابطہ رہا اور جماعتی نظام سے آگاہی کا سلسلہ چلتا رہا۔

وباء کے سبب فوری طور پر امام صاحب کی مقامی کمیونیٹی میں اجتماعی تبلیغ ناممکن تھی تاہم امام صاحب کی خواہش تھی کہ جلد ان کی کمیونیٹی میں بھی احمدیت کا پیغام پہنچے۔

مؤرخہ 22 جون کی شام ایک غیر از جماعت دوست مکرم محمد سیسے صاحب نے اس بزرگ امام الحاجی احمدو فاسلوکو صاحب کی اچانک وفات کی افسوسناک اطلاع دی اور بتایا کہ ٹائیفائیڈ کے حملے سے آپ کی وفات ہوگئی ہے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔

ہمارے استفسار پر مکرم سیسے صاحب نے بتایا کہ وہ ہمیں امام صاحب کی وفات کی اطلاع دینا چاہتے تھے لیکن ہمارا نمبر امام صاحب کے ہی فون میں تھا اور فون بند ہو گیا تھا اس لئے ہمیں ان کی تدفین کے بعد ہی اطلاع ملی جس کا بے حد افسوس ہوا۔

بلا شبہ الحاجی احمدو فاسلوکو صاحب بعد میں آئے اور بہتوں پر سبقت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے اور پسماندگان کو بھی احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی راہ پر گامزن ہونے کی توفیق دے۔ آمین۔

اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلَہُ وَارَحْمَہُ وَارْفَعُ دَرَجَاتَہٖ وَادَخَلَہُ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ

٭…٭…٭

(مرسلہ:حافظ اسداللہ وحید)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 7 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 8 ستمبر 2020