• 18 جولائی, 2024

اِک سائبانِ خیر

ظاہر رضائے یار کے عنواں ہوئے تو ہیں
پورے تمہاری دید کے ارماں ہوئے تو ہیں

ہم نے بھی اپنے صبر کا دامن بہم رکھا
آخر تمہارے ہجر کے درماں ہوئے تو ہیں

ان تیز و تند موسموں کی دھوپ چھاؤں میں
اک سائبانِ خیر کے ساماں ہوئے تو ہیں

کرتا نہ کیوں میں شکر ترے التفات کا
رستے لِقائے یار کے آساں ہوئے تو ہیں

بجھنے کو تھی حیات جو ہوتا نہ تیرا ہاتھ
تھے مضمحل چراغ، فروزاں ہوئے تو ہیں

دیدارِ یار کیا ہوا، قوسِ قزح کے رنگ
زینت سرائے دیدۂ گِریاں ہوئے تو ہیں

(عبدالشکور کلیولینڈ۔ اوہائیو، امریکا)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 7 ستمبر 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ