• 23 اکتوبر, 2020

کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کسی جادو کا اثر ہوا تھا

احادیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نعوذ باللہ کسی یہودی نے جادو کر دیا تھا جس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اثر ہو گیا تھا اور روایات میں آتا ہے کہ کنگھی اور بالوں پر وہ جادو کر کے ذروان کنویں میں ڈال دیا تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد میں ان کو وہاں سے جا کر نکالا۔ صحیح بخاری کی شرح فتح الباری میں ہے کہ وہ کنگھی اور بال حضرت جُبَیْر بن اِیَاس نے ذروان کنویں سے نکالے تھے اور ایک اَور روایت کے مطابق حضرت قَیْس بن مِحْصَن نے نکالے تھے۔

(فتح الباری ازامام ابن حجر کتاب الطب باب السحر حدیث 5763جلد 10 صفحہ 282 قدیمی کتب خانہ کراچی)

اس لیے ان دونوں صحابہ کا ذکر میں نے اکٹھا کیا ہے۔ ان میں سے جس نے بھی یہ چیزیں نکالی تھیں یہ بات اتنی اہم نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کسی جادو کا اثر ہوا تھا؟ اس کی حقیقت کیا ہے؟ اس بات پر ہمارا نقطۂ نظر کیا ہے؟ اور یہ ہمیں پتہ ہونا چاہیے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر جس بات سے بھی اعتراض پیدا ہو سکتا ہے یا لوگ اعتراض کرتے ہیں ہم نے جواب دینا ہے۔ اس لیے مَیں اس کی کچھ تفصیل بیان کرتا ہوں جو جماعت کے لٹریچر میں موجود ہے۔ ان دونوں صحابہؓ کے حوالہ سے آج اس بات کی وضاحت ہو گی۔

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سورۃ فلق کی تفسیر کے تعارف میں اس واقعہ کا ذکر فرماتے ہوئے بیان فرمایا۔ آپ سورۃکے بارے میں بیان فرما رہے ہیں کہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ سورۃ الفلق اور الناس یہ آخری دونوں سورتیں مکہ میں نازل ہوئیں۔ بعض ان کو مدنی سورتیں کہتے ہیں یعنی مدینہ میں نازل ہوئیں۔ آپؓ لکھتے ہیں کہ ’’جو لوگ اس بات کے حق میں ہیں کہ یہ سورۃ مدنی ہے ان کی دلیل یہ ہے کہ اس سورۃ اور اس کے بعد کی سورۃ کا تعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بیماری کے ساتھ ہے جس میں یہ سمجھا گیا تھا کہ یہود کی طرف سے آپؐ پر جادو کیا گیا ہے۔ اس وقت یہ دو سورتیں نازل ہوئیں اور آپؐ نے ان کو پڑھ کر پھونکا۔‘‘ یہ آپؓ بیان فرما رہے ہیں کہ یہ کہا جاتا ہے اور ’’مفسرین کہتے ہیں کہ چونکہ یہ واقعہ مدینہ میں ہوا تھا اس لیے سورۃ الفلق اور سورۃ الناس مدنی ہیں۔ بہرحال ترجیح اسی کو دی گئی ہے کہ یہ دونوں سورتیں مدنی ہیں‘‘ یعنی مدینہ میں نازل ہوئیں۔ حضرت مصلح موعودؓ یہ لکھتے ہیں کہ ’’یہ مفسرین کا ایک استدلال ہے۔ تاریخی شہادت نہیں۔ گو ہمارے پاس بھی ایسی کوئی یقینی شہادت نہیں کہ جس کی بناء پر ہم کہہ سکیں کہ یہ مکی سورۃ ہے۔ مگر جو استدلال کیا گیا ہے وہ بھی بودا ہے‘‘ فضول قسم کا یہ استدلال ہے ’’کیونکہ خواہ یہ سورۃ مکہ میں نازل ہوتی تب بھی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیماری کے موقع پر اس کو پڑھ کر اپنے اوپر پھونک سکتے تھے۔ پس محض پھونکنے سے یہ سمجھنا کہ یہ مدینہ میں نازل ہوئی تھی یہ استدلال درست نہیں۔‘‘

’’…رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بیمار ہونا اور لوگوں کا یہ سمجھنا کہ آپ پر یہودیوں کی طرف سے جادو کیا گیا ہے یہ واقعہ جن الفاظ میں روایت کیا گیا ہے وہ الفاظ یہ ہیں‘‘ حضرت مصلح موعودؓ نے یہ الفاظ اسی سورۃ کے تعارف میں بیان کرتے ہوئے لکھے۔ آپؓ لکھتے ہیں کہ ’’…چونکہ مفسرین نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کو ترجیح دی ہے اس لیے ہم صرف اسی روایت کا ترجمہ کرتے ہیں۔‘‘ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہودیوں کی طرف سے جادو کیا گیا اور اس کا اثر یہاں تک ہوا کہ آپؐ بعض اوقات یہ سمجھتے تھے کہ آپؐ نے فلاں کام کیا ہے حالانکہ وہ کام نہیں کیا ہوتا تھا۔ ایک دن یا ایک رات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ پھر دعا کی اور پھر دعا کی۔ پھر فرمایا: اے عائشہ! اللہ تعالیٰ سے جو کچھ میں نے مانگا تھا وہ اس نے مجھے دے دیا۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسولؐ اللہ وہ کیا ہے۔‘‘ جو آپؐ نے مانگا تھا؟ کیا دیا ہے اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو؟’’ تو آپؐ نے فرمایا کہ میرے پاس دو آدمی آئے۔ ایک میرے سر کے پاس بیٹھ گیا اور دوسرا میرے پاؤں کے پاس۔ پھر وہ شخص جو میرے سر کے پاس بیٹھا ہوا تھا اس نے پاؤں کے پاس بیٹھنے والے کو مخاطب کر کے کہا یا غالباً یہ فرمایا ‘‘(حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں یا یہ کہا)’’ کہ پاؤں کے پاس بیٹھنے والے نے سر کے پاس بیٹھنے والے کو مخاطب کر تے ہوئے کہا کہ اس شخص (یعنی محمد رسول اللہ)‘ ﷺ ’’کو کیا تکلیف ہے؟ تو دوسرے نے جواب دیا کہ جادو کیا گیا ہے۔ اس نے کہا کہ کس نے جادو کیا ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ لَبِیْد بن الْاَعْصَمْ یہودی نے۔ تب پہلے نے کہا کہ کس چیز میں جادو کیا گیا ہے؟ تو دوسرے نے جواب دیا کہ کنگھی اور سر کے بالوں پر جو کھجور کے خوشہ کے اندر ہیں۔ پہلے نے پوچھا یہ چیزیں کہاں ہیں؟ تو دوسرے نے کہا یہ ذی اروان کے کنوئیں میں ہیں۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ اس کے بعد ’’اپنے صحابہؓ سمیت اس کنوئیں کے پاس تشریف لے گئے۔’’ پھر واپس آئے تو ’’پھر فرمایا اے عائشہ! اللہ کی قسم!! کنوئیں کا پانی یوں معلوم ہوتا تھا جیسے مہندی کے نچوڑ کی طرح سرخ ہوتا ہے۔’‘‘حضرت مصلح موعودؓ نے آگے اس کی وضاحت لکھی ہے کہ ’’(معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں میں یہ رواج تھا کہ جب وہ کسی پر جادو ٹونہ کرتے تھے تو مہندی یا اسی قسم کی کوئی اور چیز پانی میں ڈال دیتے تھے یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ‘‘ یہ ’’جادو کے زور سے پانی کو سرخ کیا گیا ہے)‘‘ ایک ظاہری تدبیر وہ کیا کرتے تھے سادہ لوگوں کو بہکانے کے لیے اور وہاں پھر آپؓ نے فرمایا ’’اور وہاں کی کھجوریں ایسی تھیں‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ’’جیسے شیاطین یعنی سانپوں کے سر(اس میں کھجورکے گابھوں کو سانپوں کے سر وں کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے یعنی کھجوریں گابھوں والی تھیں) حضرت عائشہؓ کہتی ہیں میں نے کہا یا رسولؐ اللہ! آپؐ نے اس چیز کو جس پر جادو کیا گیا تھا جلا کیوں نہ دیا؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ مجھے جب اللہ تعالیٰ نے شفا دے دی تو میں نے ناپسند کیا کہ کوئی ایسی بات کروں جس سے شر کھڑا ہو … اس لیے میں نے حکم دیا کہ ان اشیاء کو دفن کر دیا جائے۔ چنانچہ ان کو دبا دیا گیا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں‘‘ حضرت مصلح موعودؓ لکھتے ہیں کہ ’’جن دو مردوں کا ذکر آتا ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ دو فرشتے تھے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائے گئے۔ اگر وہ انسان ہوتے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی نظر آ جاتے۔‘‘ آپؓ فرماتے ہیں ’’روایت جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کی گئی ہے اس کا صرف اتنا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرشتوں کے ذریعہ سے خبر دی کہ یہودیوں نے آپؐ پر جادو کیا ہوا ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ جس طرح جادو کا اثر تسلیم کیا جاتا ہے اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر ہو بھی گیا تھا۔‘‘ پھر آپؓ کہتے ہیں کہ بہرحال ’’…جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے جادو ٹونے کی چیزیں نکال کر زمین میں دفن کر دیں تو یہودیوں کو خیال ہو گیا کہ انہوں نے جو جادو کیا تھا وہ باطل ہو گیا ہے‘‘ ختم ہو گیا۔ ’’ادھر اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو صحت‘‘ بھی ’’عطا فرما دی۔ خلاصہ کلام یہ کہ یہودی یہ یقین رکھتے تھے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا ہے۔ اس وجہ سے طبعی طور پر ان کی توجہ اس طرف مرکوز ہو ئی کہ آپؐ بیمار ہو جائیں۔‘‘ آپؓ لکھتے ہیں کہ ’’…اس روایت سے جہاں یہودیوں کے اس عناد کا پتہ چلتا ہے جو ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے تھا وہاں یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے سچے رسول تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپؐ کو ان تمام باتوں کا علم دے دیا گیا جو یہودی آپؐ کے خلاف کر رہے تھے۔ پس آپؐ کو غیب کی باتوں کا معلوم ہو جانا اور یہودیوں کا اپنے مقصد میں ناکام رہنا آپؐ کے سچا رسول ہونے کی واضح اور بین دلیل ہے۔‘‘

(تفسیر کبیر جلد 10 صفحہ 539 تا 542)

بہرحال حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جس طرح نتیجہ نکالا ہے وہی حقیقت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر یہودیوں نے اپنے زعم میں جادو کیا لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوا اور بیماری جو بھولنے کی بیماری تھی یا جو بھی بیماری تھی اس کی کچھ اَور وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہودیوں کی اس کارروائی سے آگاہ فرما کر ظاہری طور پر بھی ان کا جو خیال تھا کہ انہوں نے جادو کیا ہے اس کو بھی ناکام کر دیا اور یہودی جو آپؐ کی بیماری کو دیکھ کر اپنے زعم میں خوش ہو رہے تھے یایہ مشہور کر دیاتھا، یہ باتیں کرتے تھے کہ ہمارے جادو کا اثر ہے جو یہ بیماری چل رہی ہے اس کی حقیقت ظاہر ہو گئی۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ 8مارچ 2019ء)

٭…٭…٭

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 7 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 8 اکتوبر 2020