• 27 اکتوبر, 2020

ہستی باری تعالیٰ

تبرکات
(حضرت میر محمد اسحاق صاحبؓ)

(آخری قسط نمبر6)

تیرھویں دلیل

دنیا یا تو قدیم ہے یا حادث۔ اگر کہو کہ قدیم ہے تو ہم کہتے ہیں کہ یہ غلط ہے کیونکہ قدیم وہ چیز ہو سکتی ہے جو کسی اور کی محتاج نہ ہو کیونکہ جس چیز کا قیام دوسروں کے سہارے ہو وہ قدیم کس طرح ہو سکتی ہے۔ ادھر ہم دنیا کی چیزوں کو دیکھتے ہیں کہ سب کی سب محتاج ہیں۔ زمین اناج اگاتی ہے۔ لیکن اس میں بھی وہ پانی کی محتاج ہے۔ اگر پانی نہ برسے تو زمین اکیلی کیا کر سکتی ہے۔ پانی کھیتیوں کو فائدہ دیتا ہے لیکن اکیلا کچھ نہیں کر سکتا ہے۔ اگر زمین سے خوراک نہ پہنچے تب بھی درخت نہ اُگیں۔ یا اگر سورج گرمی نہ پہنچائے تب بھی اناج پیدا نہ ہو۔ سو پانی بھی مستقل حیثیت نہیں رکھتا۔ اسی طرح سورج گرمی پہنچاتا ہے مگر ہوا کا محتاج ہے۔ اگر ہوا نہ ہو تو اس کی شعاعیں ہم تک نہ پہنچیں۔ غرض دنیا کی ہر چیز محتاج ہے اور کوئی محتاج قدیم نہیں ہو سکتا۔ اس لئے معلوم ہوا کہ دنیا کی ہر چیز حادث ہے۔ تو جب حادث ہوئی تو کوئی ان کا محدث ہونا چاہئے اور جو ہستی اتنے بڑے عظیم الشان کارخانہ کی محدث ہو وہی عبادت اور پرستش کے لائق ہے اور اسی کو مذہبی اصطلاح میں خدا کہتے ہیں۔

چودھویں دلیل

دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی مصنوع بغیر صانع کے نہیں۔ دیکھو اگر جنگل میں ہم کو ایک صندوق مل جائے۔ گو اس کے بنانے والے کو ہم نے نہیں دیکھا اور نہ وہ صندوق ہمارے سامنے بنایا گیا تب بھی ہم یہی یقین کریں گے کہ ضرور اُسے کسی نہ کسی نے بنایا ہے۔ غرض ایک ادنیٰ سے ادنیٰ چیز بھی جب ہمارے سامنے آوے گی تو ہم اسے دیکھتے ہی اپنے دل میں اس خیال کو جگہ دیں گے کہ اسے کسی نے بنایا ہے اور یہ خودبخود نہیں بنی۔ اور اس بات میں ایک دہریہ بھی ہمارے ساتھ شریک ہے۔ وہ جب کوئی عمارت بنی ہوئی دیکھتا ہے تو اسے بھی یہی یقین ہوتا ہے کہ یہ خودبخود نہیں بنی بلکہ اس کا کوئی بنانے والا ہے۔ حالانکہ اس نے اس کے بنانے والے کو نہیں دیکھا ہوتا۔ سو جب ہماری فطرت یہی یقین رکھتی ہے کہ ہر مصنوع کا کوئی نہ کوئی صانع ضرور ہوتا ہے۔ اور ہمارا مشاہدہ بھی یہی کہتا ہے تو پھر دہریوں کا یہ کہنا کہ اتنے بڑے نظام کا کوئی خالق نہیں اور یہ تمام دنیا خودبخود ہے۔ زمین، سورج، چاند وغیرہ آپ ہی آ پ ہیں کیسا غلط اور فطرت کے خلاف عقیدہ ہے۔ جب ایک قلم ایک دوات ایک کاغذ بھی بغیر بنانے والے کے نہیں بنتا تو اتنا بڑا نظام اور ایسا پُرحکمت انتظام کس طرح بغیر صانع اور خالق کے قائم ہے۔ اگر یہ کہیں کہ ہم مکانوں اور عمارتوں کو بنتا دیکھتے ہیں۔ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ ان کو کسی نے بنایا ہو گا لیکن دہریوں کی یہ بات بالکل لغو ہے۔ کیا مصر کے میناروں کے معمار کسی نے دیکھے ہیں۔ ہرگز نہیں۔ لیکن پھر بھی دہریہ تک مانتے ہیں کہ وہ مینار بھی کسی کے بنائے ہوئے ہیں۔ پھر ایک اور بات سنو۔ کیا ایسی ایجاد جو پہلے کسی نے نہ کی ہو وہ ایک دہریہ کو دکھائی جاوے تو کیا دہریہ اقرار کرے گا کہ یہ خودبخود ہے۔ ہرگز نہیں۔ کیا فونو گراف جو دنیا میں پہلے کسی نے نہیں بنایا۔ کیا پہلے پہل جب کوئی دہریہ اسے دیکھتا ہے تو یہی سمجھتا ہے کہ وہ خودبخود ہے۔ ہرگز نہیں۔

غرض یہ بات صاف ظاہر ہے کہ کوئی چیز بغیر صانع کے نہیں ہوتی۔ اس لئے یہ کہنا کہ دنیا خودبخود ہے اور کوئی اس کا پیدا کرنے والا نہیں ایک بالکل غلط بات ہے۔ علاوہ ازیں ایک مثال پر غور کرو۔ ایک شخص ایک کاغذپر سیاہی گری ہوئی دیکھتا ہے تو وہ خیال کرتا ہے کہ کسی انسان نے گرائی ہو گی مگر ساتھ ہی یہ خیال بھی آتا ہے کہ شاید کسی چوہے وغیرہ نے دوات اُلٹا دی ہو۔ لیکن اگر اس کاغذ پر تین چار سطریں لکھی ہوئی ہوں خواہ وہ ایسی زبان میں کیوں نہ ہوں جس کو دیکھنے والا نہیں سمجھتا تب بھی یہی یقین کرے گا کہ یہ صرف انسان کا فعل ہے کسی جانور کا نہیں۔ یہ اسی لئے کہ سطروں کا لکھنا ایک اعلیٰ کام ہے اور ترتیب پر مبنی ہے۔

سو جس طرح ایک شخص تین چار سطروں کو دیکھ کر اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ اس ترتیب کا ضرور کوئی مرتب ہونا چاہئے۔ اسی طرح ہم بھی جب دنیا اور نظام عالم کو دیکھتے ہیں تو ہم بھی اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ ایسے پُرحکمت اور مرتب نظام کا بھی کوئی پیدا کرنے والا ہے اور اسی کو ہم خدا کہتے ہیں۔

وَآخِر دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ

(الفضل قادیان 9فروری 1915)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 7 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 8 اکتوبر 2020