• 28 اکتوبر, 2020

تعارف سورۃ العنکبوت (29ویں سورۃ)

تعارف سورۃ العنکبوت (29ویں سورۃ)
(مکی سورۃ، تسمیہ سمیت اس سورۃ کی89 آیات ہیں)

(ترجمہ از انگریزی ترجمہ قرآن (حضرت ملک غلام فرید صاحب) ایڈیشن 2003ء)
(مترجم: وقار احمد بھٹی)

وقت نزول اور سیاق و سباق

اکثر مسلمان علماء نے اس سورۃ کے نزول کا وقت مکی دور کا وسط یا نصف آخر بتایا ہے۔ اس سورۃ کا عنوان اس کی آیت 42 سے لیا گیا ہے جہاں متعدد خداؤں کو ماننے والوں کے عقیدہ کا جھوٹ اور بودہ پن ایک نہایت خوبصورت تشبیہ سے ظاہر کیا گیاہےکہ ایسے عقائد کمزور اور نازک ہونے کی ایسی حالت میں ہیں جیسے مکڑی کا جالا ہوتا ہے اور معقول تنقید کا سامنا بھی نہیں کر سکتے۔ گزشتہ سورۃ کا اختتام اس بیان پر ہوا تھا کہ آنحضرت ﷺ ایک فاتح کی حیثیت سے اپنے آبائی وطن (مکہ) میں واپس لوٹیں گے۔ جہاں سے آپ کو تن تنہا نکلنا پڑا جبکہ آپ کے سر کی قیمت لگائی جا چکی تھی۔ اس سورۃ میں مومنوں کو یہ تنبیہ کی گئی ہے کہ طویل اور سخت محنت اور مشکلات اور مصائب برداشت کرنا کامیاب زندگی کے لئے ایک شرطِ لازم ہے۔

مضامین کا خلاصہ

اس سورۃ میں یہ مضمون مزید صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ مومنوں پر جو عظیم افضال اور نعمتیں نازل ہوتی ہیں اس دنیا میں اور اگلے جہان میں وہ اپنے ایمان کے سخت امتحان کے بغیر انہیں نصیب نہیں ہوتیں۔ وہ آگ اور خون کے شدائد اور مصائب سے گزر کر انہیں پاتے ہیں۔ یہ سچی اور حقیقی توبہ سے اور عاجزی والے دل سے خدا کی طرف جھکنے سے اور اپنی زندگی میں ایک حقیقی پاک تبدیلی سے ہی ممکن ہے کہ انسان خدا کی مغفرت حاصل کرے اور الٰہی افضال اور نعمتوں کے وارث بنتے ہیں۔ مومنوں پر ہونے والے ظلم و تعدی کے بارے میں یہ سورۃ بتاتی ہے کہ کسی بھی قسم کی سختیاں اور مصائب جوخدا کے راستے میں حائل ہوں انہیں سچائی کے راستے سے متزلزل نہیں کر سکتی اور انہیں تاکیدی نصیحت کی گئی ہے کہ خدا سے اپنی وفا داری کو والدین کی اطاعت سے بالا رکھیں جب بھی دونوں محبتوں کا ٹکراؤ ہو۔

بعد ازاں انبیاء کی زندگی کے بارے میں مختصر حالات بیان ہوئے ہیں جن میں حضرت نوح، حضرت ابراھیم، حضرت لوط اور چند دیگر انبیاء شامل ہیں اور یہ بتایا گیاہے کہ ظلم و تعدی سچائی کے راستے میں حائل نہیں ہو سکتی اور مذہبی معاملات میں زبردستی کے بھیانک نتائج نکلتے ہیں اور ایک قوم کو مستقل طور پر مجبور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ زبردستی مسلط کئے گئے خیالات کے مطابق چلیں۔ اس سورۃ میں مزید بتایا گیاہے کہ متعدد خداؤں کو ماننے والے، مکڑی کے جالے کی طرح کمزور عقائد رکھتے ہیں اور معقول اور گہری جانچ پڑت کرنے والی تنقید کا سامنا نہیں کر سکتے۔ لہٰذا کفار کے پاس کوئی دلیل اور وجہ نہیں ہے کہ وہ اپنے مشرکانہ عقائد کا پرچار کریں جبکہ قرآ ن کریم جیسی (عظیم الشان) کتاب نازل ہو چکی ہے جو جملہ اخلاقیات کو سمیٹے ہوئے ہے اور انسانی ضروریات کے عین مطابق ہے اور ایسی طاقت رکھتی ہے کہ انسان کو اعلیٰ اخلاقی معیار تک بلند کر سکے۔ پھر اس سورۃ میں اکثر دہرائے جانے والے کفار کے اعتراضات کی تردید کی گئی ہے کہ قرآن کریم آنحضرت ﷺ نے خود بنایا ہے۔

حقیقیت یہ ہے کہ قرآن کریم ایک الٰہی معجزہ کے طور پر پیش کیاگیاہے۔ پھر کفار کے نشان مانگنے اور معجزہ طلب کرنے کے جواب میں اپنے اختتام پر یہ سورۃ مسلمانوں کو تسلی دیتی ہے کہ اگر وہ اس ظلم و تعدی کے مقابل پر ثابت قدم رہیں گے، جس کا انہیں نشانہ بنایا جارہا ہے تو ایک عظیم الشان اور روشن مستقبل ان کا مقدر ہے۔

اس سورۃ کے اختتام پر بتایا گیاہے کہ مسلمانوں کو اپنے دفاع کے لئے تلوار اٹھانی ہوگی اور برائی کی طاقت کے خلاف بھرپور جہاد کرنا چاہیئے۔ مگر اصل جہاد کے بارے میں یہ سورۃ بتاتی ہے کہ وہ صرف قتل کرنے یا اپنی جان دینے تک محدود نہیں ہے بلکہ حقیقی جہاد خدا کی رضا کے حصول کے لئے ہے اور قرآنی تعلیم کے پرچار میں ہے۔

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 7 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 8 اکتوبر 2020