• 19 اکتوبر, 2021

اس وقت تبلیغ دین کا واحد مرکز

آج سے ساٹھ سال پہلے بڑا مشکل لگ رہا تھا کہ دنیا کے غیر ممالک سے لوگ قادیان نہیں آ سکتے لیکن آج جب ہم اس حوالے سے دیکھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کا کتنا فضل ہے۔

بہرحال آپ (حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کہتے ہیں کہ ’’اگر کسی وقت امریکہ میں ہماری جماعت کے مالدار لوگ ہوں اور وہ آمدو رفت کے لئے روپیہ خرچ کر سکیں تو حج کے علاوہ ان کے لئے یہ امر بھی ضروری ہو گا کہ وہ اپنی عمر میں ایک دو دفعہ قادیان بھی جلسہ سالانہ کے موقع پر آئیں۔‘‘ (یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ نعوذ باللہ احمدی حج پر نہیں جاتے۔ اس کی جگہ قادیان چلے جاتے ہیں۔ تو ’حج کے علاوہ‘، حج پر جائیں جو جا سکتے ہیں، اس کے علاوہ قادیان جانے کی کوشش کریں) ’’کیونکہ قادیان میں علمی برکات میسر آتی ہیں اور مرکز کے فیوض سے لوگ بہرہ ور ہوتے ہیں۔‘‘ (باوجود اس کے کہ اب وہاں خلافت نہیں ہے لیکن پھر بھی وہاں اس کی ایک روحانی حیثیت ہے جو وہاں جائیں تو جا کے احساس ہوتا ہے۔)

آپ فرماتے ہیں کہ ’’مَیں تو یہ یقین رکھتا ہوں کہ ایک دن آنے والا ہے جبکہ دور دراز ممالک کے لوگ یہاں آئیں گے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک رؤیا ہے جس میں آپ نے دیکھا کہ آپ ہوا میں تیر رہے ہیں اور فرماتے ہیں کہ کہ عیسیٰ تو پانی پر چلتے تھے اور مَیں ہوا پر تیر رہا ہوں اور میرے خدا کا فضل ان سے بڑھ کر مجھ پر ہے۔ (یہ آپ نے خواب دیکھی۔) اس رؤیا کے ماتحت مَیں سمجھتا ہوں کہ وہ زمانہ آنے والا ہے کہ جس طرح قادیان کے جلسے پر کبھی یکّے سڑکوں کو گھسا دیتے تھے اور پھر موٹریں چل چل کر سڑکوں میں گڑھے ڈال دیتی تھیں اور اب ریل سواریوں کو کھینچ کھینچ کر قادیان لاتی ہے۔ اسی طرح کسی زمانے میں جلسہ کے ایام میں تھوڑے تھوڑے وقفے پر یہ خبریں بھی ملا کریں گی کہ ابھی ابھی فلاں ملک سے اتنے ہوائی جہاز آئے ہیں۔ یہ باتیں دنیا کی نظروں میں عجیب ہیں مگر خدا تعالیٰ کی نظر میں عجیب نہیں۔‘‘

اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب یہ نظارے ہم کثرت سے دیکھ رہے ہیں جیسا کہ مَیں نے کہا دنیا کے بیس پچیس ممالک کے لوگ اس وقت ہوائی جہاز کے ذریعہ سے ہی وہاں قادیان جلسے پر گئے ہوئے ہیں اور بعض ایسے ملکوں کے مقامی لوگ ہیں جن کا کبھی تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ وہ وہاں پہنچیں گے۔ اور یہ بھی بعیدنہیں کہ کسی وقت چارٹرڈ فلائٹس چلا کریں اور قادیان کے جلسے میں لوگ شامل ہوا کریں۔ آپ فرماتے ہیں کہ ‘‘خداتعالیٰ کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ اپنے دین کے لئے مکّہ اور مدینہ کے بعد قادیان کو مرکز بنانا چاہتا ہے۔ مکّہ اور مدینہ وہ دو مقامات ہیں جن سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کا تعلق ہے۔ آپ اسلام کے بانی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے آقا اور استاد ہیں۔ اس لحاظ سے ان دونوں مقامات کو قادیان پر فضیلت حاصل ہے لیکن مکہ اور مدینہ کے بعد جس مقام کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی ہدایت کا مرکز قرار دیا ہے وہ وہی ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظل یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہے اور جو اس وقت تبلیغ دین کا واحد مرکز ہے۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آجکل مکّہ اور مدینہ جو کسی وقت بابرکت مقام ہونے کے علاوہ تبلیغی مرکز بھی تھے آج وہاں کے باشندے اس فرض کو بھلائے ہوئے ہیں لیکن یہ حالت ہمیشہ نہیں رہے گی۔ (ان شاء اللہ۔) مجھے یقین ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ان علاقوں میں (یعنی عرب ملکوں میں) احمدیت کو قائم کرے گا تو پھر یہ مقدس مقامات (مکہ اور مدینہ بھی) اپنی اصل شان و شوکت کی طرف لوٹائے جائیں گے۔

(ماخوذ از خطبات محمود جلد18 صفحہ615تا618۔ خطبہ جمعہ فرمودہ 10؍دسمبر 1937ء)

(خطبہ جمعہ 25؍ دسمبر 2015ء بحوالہ خطبات مسرور جلد13 صفحہ770۔771)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 7 اکتوبر 2021

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ