• 4 فروری, 2023

This Week with Huzur (8؍جولائی 2022ء)

This Week with Huzur
8؍جولائی 2022ء

5؍جولائی 2022ء بروز منگل کو حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا ریکارڈ شدہ پیغام مذہبی یا عقیدے کی آزادی پر عالمی وزارتی کانفرس 2022ء کے افتتاحی اجلاس کے موقعے پر سنایا گیا جو Queen Elizabeth II Centre London میں منعقد ہوئی۔ اس کانفرس میں مذہب اور عقیدے کی آزادی پر عالمی سطح پر پہلے سے زیادہ عملی کارروائی کی طرف توجہ دلانا مقصود تھا۔ جس میں حکومتوں اور پارلیمنٹس کے اراکین، مذہبی نمائندوں اور سول سوسائٹی نے شرکت کی۔ افتتاحی تقریب میں پیغامات بھی شامل کیے گئے جن میں اس وقت کے شہزادہ ویلزجو بعد میں برطانیہ کے بادشاہ بنے اور برطانیہ کے وزیر اعظم اور دیگر معززین اور مذہبی راہنماؤں کے پیغامات شامل تھے۔

عالمی وزارتی کانفرس میں خطاب

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے پیغام میں مذہبی آزادی کے بارہ میں قرآنی تعلیم کا خاکہ پیش فرمایا اور اپنے خالق کو حقیقی امن کیلئے پہچاننے کی اہمیت کی طرف توجہ دلائی۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا: ’’اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنیوالا، بار بار رحم کرنیوالا ہے (پڑھتا ہوں)۔ مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ آج ’’آزادی مذہب یا عقیدہ‘‘ کے بارے میں عالمی وزارتی کانفرس 2022ء منعقد ہو رہی ہےتا کہ مذہب اور عقیدہ کی آزادی کے بنیادی اصولوں کا تحفظ کیا جائے۔ جیسا کہ اس افتتاحی اجلاس کا موضوع ہے، یقیناَ آزادئ مذہب اور عقیدہ اہم انسانی حقوق ہیں جنہیں یقیناَ ہر کسی کے لئے اور ہر جگہ تحفظ دیا جانا چاہیے۔ گو ہم ایک تیزی سے مادیت کی طرف بڑھتی دنیا میں رہ رہے ہیں جس میں لوگ مذہب سے دور ہوتے جا رہے ہیں مگر اب بھی دنیا بھر میں لاکھوں لوگ مذہبی اقدار کو مانتے ہیں اور یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے عقائد اور نظریات کے مطابق اپنی زندگی گزار سکیں۔ اس لیے جماعت احمدیہ مسلمہ کے عالمی سربراہ کے طور پر بہت اخلاص سے اس بات کی قدر کرتا ہوں کہ آپ اس کانفرس کا انعقاد کر رہے ہیں تا کہ عالمی سطح پر مذہبی آزادی کا دفاع کریں۔ جماعت احمدیہ مسلمہ بذاتِ خود انتہائی مذہبی ظلم و تشدد کا نشانہ رہی ہے۔ یہاں تک کہ ہمارے خلاف قانون بنائے گئے ہیں تا کہ ہمارے افراد بنیادی مذہبی عقائد کا اظہارنہ کر سکیں اور نہ ان پر عمل کر سکیں۔ کئی دہائیوں کے عرصہ میں احمدی مسلمانوں کو بہیمانہ طور پر صرف اپنے مذہبی عقائد کی بناء پر نشانہ بنایا گیاہے۔ اور مذہبی دہشتگردوں کے غیر انسانی اور وحشیانہ حملوں کی بناء پر کئی اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں۔ مگر ہم نے اس ظلم و تشدد کا جواب نہ کبھی ظلم سےدیا ہے اور نہ ہی کبھی دیں گے۔ بلکہ ہمارا جواب ہمیشہ محبت اور امن کا جواب ہو گا۔ اسلامی تعلیمات کی بنیاد پر ہم مسلمانوں اور غیر مسلموں سے ایک ہی بات کہتے ہیں کہ تمام افراد لازماً ہمیشہ اپنے پر امن عقائد رکھنے اور ان پر عمل کرنے کے لئے آزاد ہونے چاہئیں۔ یقیناً اللہ تعالیٰ نے آزادی عقیدہ اور سوچ کو اس حد تک رائج کیا ہے کہ قرآن کہتا ہے کہ طاقت کے استعمال کی اجازت صرف ان لوگوں کے مقابل پر دی گئی ہے جو مذہب کو دنیا سے مٹانا چاہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم واضح فرماتا ہے کہ اگر ان لوگوں کا طاقت سے جواب نہ دیا گیا جو مذہب کو طاقت سے ختم کرنا چاہتے ہیں، تو نہ کوئی چرچ، یہودیوں کی عبادت گاہ، مندر، مسجد یا عبادت کی کوئی اور جگہ جہاں اللہ کا نام لیا جاتا ہے، محفوظ رہے گی۔ چنانچہ قرآن کریم نے اسے مسلمانوں کی مذہبی ذمہ داری قرار دیا ہے کہ وہ تمام مذہب کے لوگوں کے حقوق کی حفاظت کرےاور عقیدہ کی آزادی ہمارے مذہب کا اہم ستون قرار دیا ہے۔ مزید یہ کہ بڑی طاقتوں، حکومتوں اور عالمی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ تمام ذرائع جو ان کے پاس ہیں ان کا استعمال اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام لوگ اپنے عقائد کی بناء پر آزاد رہ سکیں۔ اس روشنی میں مجھے امید ہے کہ وہ ممالک، رہنما اور تنظیمیں جو اس معزز کانفرس میں حصہ لے رہے ہیں، رنگ و نسل سے بالا ہو کر مخلصانہ طور پر کوشش کریں گےکہ تمام ممالک کے لوگ اپنے عقائد کا آزادانہ اظہار اور ان پر بغیر کسی ڈر و خوف کے عمل کر سکیں۔ ساتھ ہی بطور ایک مذہبی انسان ہونے کے ناطے میرا یہ دلی عقیدہ ہےکہ دنیا میں حقیقی آزادی اور دیر پا امن اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتا۔ جب تک انسانیت اپنے خالق کو نہ پہچان لے اور اس کے حقوق کی ادئیگی کرے اور اس کے احکامات پر عمل کرے۔ چاہے ہمارے مذہبی رجحان ہیں یا نہیں، ہمیں لازماً ماننا ہو گا کہ ایک خدا ہے جو خالق ہے اور اس کے ہاتھ میں تمام تخلیق ہے۔ چنانچہ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اس کے اور تمام بنی نوع انسان کے حقوق ادا کریں۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ تمام جماعتوں اور لوگوں کے لئے دنیا بھر میں حقیقی مذہبی آزادی اور ہم آہنگی غالب آئے تا وہ اپنی زندگیاں اپنے عقائد کے مطابق گزار سکیں۔ آخر میں، میں آپ سب کے لیے اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہوں اس کانفرس کے باقی پروگرام کے لئے۔ اور دعا کرتا ہوں کہ یہ کانفرس اپنے حقیقی مقاصد، مذہبی آزادی کے دنیا بھر میں اصولوں کے تحفظ کو پورا کرے۔ آمین۔ بہت شکریہ۔‘‘

انڈونیشیا کے مہمانوں سے ملاقات

7؍جولائی بروز جمعہ انڈونیشیا سے آئے ہوئے 2 مہمانوں کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ حضور (احمدتوفندمنک) جو چیئرمین نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق ہیں اورمحمد اسنور سے بھی جو کہ چیئرمین قانونی امداد فاؤنڈیشن انڈونیشیاہیں ملے۔ اس ملاقات میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے بڑی گہرائی میں اسلامی تعلیمات پر روشنی ڈالی اور بیان فرمایا کہ اسلام کس طرح امن کا مذہب ہے۔ حضور نے یہ واضح طور پر فرمایا کہ مذہب کی آزادی اسلام کی بنیادی تعلیمات میں سے ہے۔ حضور نے دونوں اشخاص کی کوششوں کو بھی سراہا جو اقلیتوں کے حقوق قائم کرنے اور احمدی مسلمانوں کے حقوق قائم کرنے میں کوشاں ہیں۔

ان مہمانان کرام نے بیان کیا کہ: ’’ہمارے لیے یہ سعادت کی بات ہے کہ ہمیں حضور سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ جس میں ہمیں یہ بات کرنے کا موقع ملا کہ دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے مذہب کیا کردار ادا کر سکتا ہے۔ میں بہت خوش ہوں کیونکہ مجھے پہلی دفعہ حضور سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا ہے۔ مجھے بڑے اچھے اور امن پسند لوگوں سے ملنے کا موقع ملا۔ ہمیں بڑا اچھا لگ جب حضور نے اپنے دفتر میں ہمارا استقبال کیا۔ ہمیں امید ہے کہ انڈونیشیا میں جماعت احمدیہ کی حالت بہتر ہو جائے گی اور ہم حضور سے انڈونیشیا کے ملک اور اس کے باشندوں کے لیے دعا کی درخواست کرتے ہیں اور ان کے لیے برکت طلب کرتے ہیں۔ حضور کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ اسلام ایک امن پسند مذہب ہے اور ایک مسلمان ہو نے کی حیثیت سے ہم ہمیشہ اسی بات کے لیے کوشاں رہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں اور دنیا بھر میں امن قائم ہو جائے۔ یہ وہ بنیادی پیغام تھا جو ہمیں حضور سے ملا۔‘‘

اسی طرح دوسرے معزز مہمان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئےبیان کیا کہ: ’’یہ بڑی سعادت اور برکت کی بات ہے کہ ہمیں یہاں آنے کا موقع ملا اور حضور سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ جب ہم یہاں پہنچیں تو ہم نے اکٹھے با جماعت نماز ادا کی۔ حضور نے عصر کی نماز پڑھائی۔ حضور کے پیچھے عصر کی نماز پڑھنا بہت برکت کی بات تھی۔ مجھے پہلی دفعہ حضور کے پیچھے اس طرح نماز پڑھنے کا موقع ملا۔ پھر عصر کی نماز کے بعد ہماری حضور سے ملاقات ہوئی۔ دورانِ ملاقات ہم نے اسلام کے پیغام کے متعلق بات کی۔ حضور نے واضح طور پر فرمایا کہ اسلام ایک امن پسند مذہب ہے۔ اسلام میں کوئی جبر نہیں اور اسلام میں دوسروں کے خلاف ظلم و ستم کرنے کا کوئی جواز نہیں۔

(ٹرانسکرپشن و کمپوزنگ۔ ابو اثمار اٹھوال)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 7 نومبر 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ