• 26 جنوری, 2021

میرے اندر ایک آسمانی روح بول رہی ہے جو میرے لفظ لفظ اور حرف حرف کو زندگی بخشتی ہے۔ (حضرت مسیح موعودؑ)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
مقصد یہی ہے کہ اپنے اندر بھی پاک تبدیلیاں پیدا کرنی ہیں اور اس پیغام کو بھی آگے پہنچانا ہے۔ اب جو اللہ تعالیٰ نے ایم ٹی اے کی نعمت ہمیں عطا فرمائی ہے اس سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اسلام کی جو حقیقی تعلیم ہمیں دی ہے وہ خلیفہ ٔوقت کی آواز میں سب تک پہنچ رہی ہے۔ اس آواز کے پہنچنے میں تو کوئی روک نہیں ہے، اس کو توکسی ملک کا ویزا درکار نہیں ہے، اس کو تو کسی ملک کے مُلّاں کی مرضی کے مطابق خطبات دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ تو ہوائی لہروں پر ہر گھر میں، ہر شہر میں، اپنی اصلی حالت میں اسی طرح اتر رہی ہے جس طرح اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیں بتایا۔

احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے پیغام کو اپنی زندگیوں کا حصہ بھی بنائیں اور اپنے ماحول کو بھی بتائیں۔ ان کو بھی اس نعمت سے فیض اٹھانے کی طرف توجہ دلائیں۔ یہ نہ ہو کہ احمدیت کا پیغام کسی جگہ نہ پہنچا ہو اور اس جگہ کے رہنے والے یہ شکوہ کریں کہ کیوں یہ پیغام ہمیں نہیں پہنچایا گیا۔ اللہ تعالیٰ کا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے وعدہ ہے کہ آپ کے پیغام نے دنیامیں پھیلنا ہے اور ضرور پھیلنا ہے ان شاء اللہ اور کوئی طاقت اس کو پھیلنے سے نہیں روک سکتی۔

آپؑ فرماتے ہیں: ’’مَیں بڑے دعوے اور استقلال سے کہتا ہوں کہ مَیں سچ پر ہوں اور خدائے تعالیٰ کے فضل سے اس میدان میں میری ہی فتح ہے۔ اور جہاں تک مَیں دوربین نظر سے کام لیتا ہوں، تمام دنیا اپنی سچائی کے تحت اقدام دیکھتا ہوں۔ اور قریب ہے کہ مَیں ایک عظیم الشان فتح پاؤں کیونکہ میری زبان کی تائید میں ایک اور زبان بول رہی ہے اور میرے ہاتھ کی تقویت کے لئے ایک اور ہاتھ چل رہا ہے جس کو دنیا نہیں دیکھتی مگر مَیں دیکھ رہا ہوں۔ میرے اندر ایک آسمانی روح بول رہی ہے جو میرے لفظ لفظ اور حرف حرف کو زندگی بخشتی ہے۔ اور آسمان پر ایک جوش اور ابال پیدا ہوا ہے جس نے ایک پتلی کی طرح اِس مشتِ خاک کو کھڑا کر دیا ہے۔ ہر یک وہ شخص جس پر توبہ کا دروازہ بند نہیں عنقریب دیکھ لے گا کہ مَیں اپنی طرف سے نہیں ہوں۔ کیا وہ آنکھیں بینا ہیں جو صادق کو شناخت نہیں کر سکتیں ؟ کیا وہ بھی زندہ ہے جس کو اس آسمانی صدا کا احساس نہیں؟‘‘

(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد 3صفحہ 403)

پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی فتح تو مقدر ہے۔ آپؑ کی تعلیم نے تو دنیا میں پھیلنا ہے۔ لیکن ہر احمدی کا بھی یہ فرض ہے کہ اس پیغام کو پہنچانے کے لئے کوشش میں لگ جائے۔ افریقن ممالک میں خاص طور پر جس طرح پہلے کوشش ہوتی رہی ہے اب پھر وہی کوشش کریں۔ جیسے پہلے منظم ہو کر احمدیت کا پیغام پہنچایا تھا، اب پھر اس طرف توجہ دیں۔ پہلے تربیت میں جو کمی رہ گئی تھی ان کمیوں کو بھی دور کرنے کی کوشش کریں اور جلد سے جلد اپنے ملک کے تمام نیک فطرت شہریوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا غلام بنا دیں۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ آسمان پر ایک جوش اور ابال پیدا ہوا ہے۔ آسمانی تائیدات لوگوں کے دلوں پر بھی اتر رہی ہیں اور اللہ تعالیٰ مختلف ذریعے سے تنبیہ بھی کر رہا ہے، اس کے نظارے بھی ہم ہر جگہ دیکھ رہے ہیں۔ اس کے نظارے طوفانوں اور زلزلوں کی صورت میں نظر آ رہے ہیں۔ ایک خدا کو بھلانے کی وجہ سے انسان انسان کے خلاف جو ظالمانہ حربے استعمال کر رہا ہے وہ اس لئے نظر آ رہے ہیں۔ ایک ہی ملک کے شہری ظالمانہ طریق پر ایک دوسرے کا قتل عام کر رہے ہیں، وہ اسی وجہ سے ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ مسلمان کہلانے والے بھی یہی کچھ کر رہے ہیں۔ پھر مغرب کے نام نہاد امن کے علمبردار، امن کے نام پر ملکوں کی شہری آبادیوں کو تہس نہس کر رہے ہیں، تباہ و برباد کر رہے ہیں۔ بجائے اس کے کہ اپنے پیسے سے غریب لوگوں کی مدد کریں، ان کی بھوک مٹائیں، اس کی بجائے اس پیسے سے تباہی پھیلا رہے ہیں۔ تو یہ سب کچھ چاہے وہ قدرتی آفات ہوں یا اللہ تعالیٰ نے دلوں میں سختی پیدا کر دی ہو جس سے انسان اپنی اقدار ہی بھول گیا ہے اور ایک دوسرے کو جانوروں کی طرح نوچنے اور بھنبھوڑنے لگ گیا ہے۔ یہ سب اس لئے ہے کہ انسان خداتعالیٰ کو بھول گیا ہے اور زمانے کے امام کو پہچاننے سے انکاری ہے یا خدا کے خوف کی جگہ بندوں کے خوف نے لے لی ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا ہے کہ مجھ سے اور صرف مجھ سے ڈرو۔ انسان کو اپنا بندہ بنانے کے لئے، اس کی اصلاح کے لئے، خداتعالیٰ ہر زمانے میں اپنے کسی خاص بندے کو مبعوث فرماتا ہے اور جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ اس زمانے میں بھی اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اسی لئے مبعوث فرمایا ہے۔ یہ دنیا جو خدا کو بھلا بیٹھی ہے اس کو خدا کی طرف لائیں۔ اور آج یہی پیغام لے کرہر احمدی کو یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ایک واحد خدا کی پہچان کروائے۔ پس اس لحاظ سے ہر احمدی کو اپنی ذمہ داری سمجھنی چاہئے۔ اپنے اندر بھی پاک تبدیلیاں پیدا کریں، اپنے آپ کو بھی تقویٰ کے اعلیٰ معیار تک پہنچائیں اور دنیا کو بھی اس حسین تعلیم سے آگاہ کریں۔ اس انتظار میں نہ رہیں، جہاں جہاں اور جن جن ملکوں میں بھی احمدی ہیں، کہ خلیفہ وقت کا دورہ ہو گا تو اس کے بعد ہی ہم نے اپنے اندر تیزی پیدا کرنی ہے۔ یہ وقت ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ آسمان پر بھی جوش ہے۔ پس آگے بڑھیں اور دنیا میں خدا کا پیغام پہنچانے کے لئے اللہ کے مددگار بنیں۔ اور ان برکتوں اور فضلوں سے حصہ لیں جو خدا نے اپنا پیغام پہنچانے والوں کے لئے رکھی ہیں۔ یہ کام تو ہونا ہے ان شاء اللہ تعالیٰ۔ ہمیں تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضلوں کا وارث بنانے کے لئے یہ موقع دیا ہے۔ جیسا کہ مَیں نے کہا دنیا کی تقریباً سب جماعتوں کی خواہش ہے کہ میرے دورے ہوں تاکہ ان میں تیزی پیدا ہو۔ وہ تو ہوں گے ان شاء اللہ اور ہو بھی رہے ہیں لیکن اپنے اس کام کو بھی ہر جماعت کو جاری رکھنا چاہئے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ان دوروں کی وجہ سے جماعت کو جو خلافت سے تعلق ہے اس میں تیزی پیدا ہو بھی جاتی ہے۔ لیکن ہم اس انتظار میں بیٹھ بھی نہیں سکتے کہ خلیفۂ وقت کا دورہ ہو گا تو کام ہو گا۔ وہ براہ راست ہم سے مخاطب ہو گا تو کام ہو گا۔ کام بہرحال ہوتے رہنے چاہئیں۔ جہاں تک میرے دوروں کا تعلق ہے، گزشتہ سال میں بھی جس حد تک ممکن تھا دورے کئے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور جماعت کے مخلصین کی دعاؤں کی قبولیت کے نظارے بھی دیکھے، جیسا کہ مَیں نے کہا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے وعدہ ہے کہ آپ کی جماعت نے غالب آنا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ وہ ہمیں موقع دے کر ان فضلوں کا وارث بنا رہا ہے۔

(خطبہ جمعہ 28؍ جنوری 2005ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 8 جنوری 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 9 جنوری 2021