• 16 جنوری, 2021

قادیان میں قبل ازہجرت گزارے ہوئے ایام کی حسین یادیں

قادیان میں قبل ازہجرت گزارے ہوئے ایام کی حسین یادیں
(پھرتے ہیں آنکھوں کے آگے کوچہ ہائے قادیاں)

قبل ازیں خاکسارایک مضمون میں ذکرکرچکاہے کہ مجھے1942ء میں پہلی مرتبہ رہتال (راجوری) سے مولوی خورشید احمد صاحب منیر (تایا زاد بھائی) اور مولوی نظام دین صاحب (مہمان) کے ہمراہ قادیان جانے کا موقع ملا۔

قادیان دارالامان میں گزارے ہوئے اُن ایام کی یادیں ہنوز ’’پھرتے ہیں آنکھوں کے آگے کوچہ ہائے قادیاں‘‘ کی مانند تروتازہ ہیں۔ 1942ء میں خاکسارکچھ عرصہ دارالشیوخ میں رہا اور ابتداء میں کچھ دن مدرسہ احمدیہ میں زیرِ تعلیم رہا۔ دارالشیوخ میں حضرت میر محمد اسحٰق صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قریب سے دیکھنے اورآپ کی صحبت سے فیضیاب ہونے کا موقع ملا۔ ازاں بعد تعلیم ترک کردی۔ حضرت میرصاحب رضی اللہ عنہ نے خاکسار کو تعلیم پر آمادہ کرنے کی کوشش کی مگر راضی نہ ہوا اور مختلف کام کرتا رہا۔ بابو اکبر علی صاحب کی اسٹارہوزری اورازاں بعدنواب محمد احمد صاحب کے کارخانہ میک ورکس میں کام کرتارہا جس میں بیٹری، لائٹیں، کمپاس اور بعض دیگر اشیاء فوج کے آرڈرپربنتی تھیں۔ بعدہ مہمان خانہ حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام میں خدمت کی توفیق پاتا رہا۔وہاں ان دنوں حضرت حافظ مختار احمد صاحب شاہجہان پوری رضی اللہ عنہ رہائش پذیرتھے، اُن کی خدمت میں بھی کھانا پیش کرتارہا۔

مغرب کی نمازاکثرکبھی مسجدمبارک میں اورکبھی مسجداقصیٰ میں پڑھتاتھا۔ ایک روزمغرب کی نمازمسجدمبارک میں اداکرنے گیا۔آخری صف میں کھڑاہوا۔میرے دائیں جانب حضرت مولاناشیرعلی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز اداکررہے تھے۔ آخری رکعت کے قعدہ میں بیٹھے توحضرت مولاناصاحب کو میں ’’التحیات للہ‘‘ سرگوشی کے رنگ میں پڑھتے سنتارہا۔آپ باربار ’’التحیات للہ التحیات للہ‘‘ پڑھتے رہے اور پھر التحیات للہ پرہی حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے سلام پھیرا۔ اللہ اللہ ان خدا کے برگزیدوں کا خداتعالیٰ سے تعلق اور نماز میں وجد کی یہ کیفیت۔ مجھے اب بھی اُن کی باربارالتحیات للہ کی سرگوشی کانوں میں سنائی دے رہی ہے۔

1944ء میں حضرت خلیفۃالمسیح الثانی رضی اللہ عنہ نےہوشیارپورمیں جلسہ مصلح موعودکاانعقادفرمایا،قادیان سے اس جلسہ میں شریک ہونے کا موقع ملا جس کاتفصیلی ذکرقبل ازیں مضمون میں خاکسار کرچکا ہے۔

دارالشیوخ میں قیام کے دوران کی بات ہے ۔دارالشیوخ کے لڑکے روزانہ مغرب کی نمازکے بعدلنگرخانہ میں جاکرکھاناکھاتے تھے۔عموماًرات کے کھانے کے بعد نماز سے قبل حضرت میرصاحب طلباء کوجمع کرتےاور کھانا کھانے کے بعدکی دعاایک طالبعلم دہراتااوراس کے بعد مسجدمبارک یا مسجداقصیٰ نمازعشاء کے لئے لائنوں میں لے جایاجاتا۔ ایک مرتبہ طلباء کے لئے حضرت میر محمد اسحٰق صاحب رضی اللہ عنہ نےکھانے کے ساتھ زردہ بھی بطور میٹھا بنوایا اور حسبِ عمول بعد ازطعام طلباء کوجمع کرکے کھانے کے بعد کی دعا پڑھوا رہے تھے کہ دعا پڑھانے والے طالبعلم نے اَلَّذِیْ اَطْعَمَنَا پڑھا اور ترجمہ دہرایاکہ جس نے ہمیں کھلایا۔توپیچھے سےایک طالبعلم نے جودہلی کارہنے والاتھا،شرارتاً یہ کہاکہ جس نے ہمیں زردہ کھلایا۔حضرت میر محمد اسحٰق صاحب جو توحیدباری تعالیٰ کے بارہ میں ادنی ٰادنیٰ باتوں کا بھی حددرجہ خیال رکھتے تھے، نے یہ آوازسن لی اورپوچھاکہ یہ کس نے کہاہے۔کسی کے بتانے پراُس طالبعلم کو باہربلاکر بدنی سزادی اورفرمانے لگے کہ تم مجھے خداکاشریک ٹھہراتے ہو۔زردہ میں نے نہیں بلکہ خدانے کھلایا ہے۔آپ کی یہ سزامحض اس وجہ سے تھی تاکہ وہ بچہ اور دیگر طلباء بھی تمام زندگی کے لئے یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ کسی معاملہ اورکسی رنگ میں بھی ہم نے اللہ تعالیٰ کاشریک نہیں ٹھہرانا۔

مارچ1944ء میں حضرت میر محمد اسحٰق صاحب جیسے ہمدرد، شفیق اور یتیم پرور وجود کی وفات محلہ دارالانوار میں ایک گیسٹ ہاؤس میں ہوئی۔اس موقع پر دارالشیوخ اور مدرسہ احمدیہ کے لڑکے وہاں موجود تھے۔ خاکسار بھی اس جگہ موجود تھا۔ اندر کمرہ میں جہاں حضرت میر صاحب کی وفات ہوئی، حافظ مبارک احمد صاحب کے سورۃ یٰسین پڑھنے کی آوازآرہی تھی۔میری آنکھوں کے سامنے ابھی بھی اس کمرہ کے باہر برآمدہ میں سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کادعائیں کرتے ہوئے بے چینی کے عالم میں ٹہلنا یاد ہے۔ ازاں بعد حضور نے آپ کا جنازہ پڑھایا اور خاکسار کو اس عالم اور کریم وجود کے جنازہ میں شمولیت کاموقع ملا۔

مارچ1944ء میں جب حضرت سیدہ امِ طاہرصاحبہ حرم حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا لاہور میں انتقال ہوا تو خاکسار ان دنوں قادیان میں تھا۔ رات کو جس گاڑی میں حضرت ام طاہر کا جنازہ قادیان لایاگیا۔ یہ گاڑی قادیان سے دوتین میل باہر پانی کھڑا ہونےکی وجہ سے کیچڑ میں پھنس گئی۔ مدرسہ احمدیہ میں زیرِ تعلیم اوردارالشیوخ میں رہائش پذیر خاکسار اور چند دیگر خدام نے اس موقع پر قادیان سے باہر جاکے اس گاڑی کو دھکا لگایا اور گاڑی کو پانی سے باہر نکالا۔ خاکسار کو اس موقع پر اس عظیم ہستی کے جنازہ میں بھی شامل ہونے کا موقع ملا۔

غالباً1943ء میں قادیان میں خدام الاحمدیہ کے ایک اجتماع کے موقع پرجوبٹالہ کی جانب آریہ اسکول کی طرف جامعہ احمدیہ کے عقبی میدان میں منعقدہوتاتھا۔اجتماع کے اختتامی روزحضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ خطاب کے لئےتشریف لائے۔ ان دنوں حضورکاطریق یہ تھاکہ اجتماع کے موقع پر اسی جگہ حضوراپنے خدام کو ملاقات کاشرف عطا فرماتے تھے۔ خطاب کے دوران کسی خادم نے نادانستگی میں تالی بجائی توحضوراس عمل پرشدیدناراض ہوئے اورفرمایاکہ میں نے قبل ازیں بھی توجہ دلائی ہے کہ تالی پیٹنامردوں کاشیوہ نہیں ۔چنانچہ مقامِ اجتماع سے ناراضگی کی حالت میں ہی خطاب مکمل کئے اورملاقات کئے بغیر آپ واپس تشریف لے گئے۔بعدمیں حضورکی خدمت میں معافی کے لئے تحریری درخواستیں لکھی گئیں جسے آپ نے ازراہِ شفقت قبول فرمایا اور بعدازاں خدام سے قصرِ خلافت میں ملاقاتیں فرمائیں۔

ایک مرتبہ اجتماع کے دن تھے۔ان دنوں اجتماع میں خیمے لگتے تھے اوران خیموں میں اپنی چادریں لے کرجاتے تھے۔ میرے اور چند دوستوں کے پاس لٹھے کی چادر میں چنے تھے۔وہ کسی لڑکے نے نکال لئے۔لڑکپن اورنوجوانی کے ایام تھےہم نے کہہ دیاکہ چنوں کے ہمراہ ہماری چادربھی اٹھالی گئی ہے۔ بعدمیں جب تحقیق ہوئی توپتہ چل گیاکہ ہمارے چنے تواٹھائے گئے ہیں مگرہم نے چادر کے متعلق حقیقت گوئی سے کام نہیں لیا۔ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب اُ س زمانہ میں نائب صدر خدام الاحمدیہ تھے۔ آپ نے ہمیں بلوایا۔ آپ کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی چھڑی تھی۔ آپ نے ہاتھ آگے کرنے کوکہا۔ جب ہاتھ آگے کئے تو آپ نے بجائے بدنی سزادینے کے ازراہِ ترحم وبراہ تربیت ہمیں مسجداقصیٰ میں ایک گھنٹہ استغفارکرنے کا فرمایا۔

1944ء میں قادیان میں ہی الفضل میں یہ اعلان پڑھا کہ حضرت نواب محمدعبداللہ خان صاحب کو سندھ میں اپنی زمین پرمنشی کی ضرورت ہے۔ چنانچہ میں حضرت نواب عبداللہ خان صاحب رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ہی بذریعہ ٹرین آپ کی اسٹیٹ پر بطور منشی ہو کر سندھ چلا آیا۔ پھر وہاں سے حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ کی اسٹیٹس ناصرآباد اور محمودآباد پر منشی کے طور پر کام کرتارہا۔

1947ء میں جب پنجاب میں فسادات شروع ہوئے تو حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے الفضل میں اعلان فرمایاکہ نوجوانانِ جماعت قادیان میں اپنے مرکزِ احمدیت کی حفاظت کے لئے آئیں تو خاکسار اپنی والدہ ،چھوٹے بھائی مبارک احمد صاحب (جواُس وقت دس برس کے قریب عمرکے تھے)، چھوٹی بہن حلیمہ بیگم اور اپنی بیوی جنّت بی بی کو راجوری (کشمیر) میں سپردِ خدا کر کے ماہ مارچ یا اپریل میں قادیان چلا گیا۔ اس دوران 1947ء میں ہی خاکسارکے قادیان آنے کے بعدمیری بیٹی کی پیدائش ہوئی اور وہ تقدیرِ الٰہی کے تحت پیدائش کے چھ ماہ بعد بیمار ہو کر وفات پاگئی۔ لیکن خاکسار خدا کے مسیح کی اُس پیاری بستی قادیان میں ڈیوٹی کی ادائیگی کی وجہ سے بیٹی کوپیدائش کے بعدنہ دیکھ سکا۔

جب تقسیمِ ہندیعنی پاکستان بننے کااعلان انگریز حکومت نے کیا تو میں قادیان میں تھا۔جب حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ لاہورتشریف لے جانے لگےتوبعض کمزورایمان والوں نے یہ پروپیگنڈا کیا کہ خلیفہ ہمیں یہاں چھوڑ کر خود جا رہا ہے۔ حضور رضی اللہ عنہ نے قادیان کے تمام محلہ جات کی مساجد میں افرادِ جماعت کو اکٹھا کر کے مشورہ لینے کا حکم دیا۔ انہی دنوں فسادات شروع ہوگئے۔ انسانوں کا قتلِ عام میری آنکھوں کے سامنے ہوا۔ہم خدام رات دن ڈیوٹیاں دیتے تھے۔قادیان کے محلہ جات خالی کروائے گئے اور احمدیوں کے گھرلوٹےگئے۔ کئی احمدی زخمی ہوئے۔ایک موقع پرجبکہ خاکسار مسجدِ اقصیٰ کے اندر ڈیوٹی دے رہا تھا۔ مسجداقصیٰ کے محراب کی طرف والی گلی کے دوسری جانب عورتیں اور بچے محصور ہوگئے تھے۔چنانچہ نوجوان خدام نےگلی کے اوپرلکڑی کے تختے رکھ کر عورتوں اور بچوں کو مسجدمیں اتارا۔ جب تمام عورتیں اور بچے مسجد میں بحفاظت آگئے تو آخر میں سیالکوٹ کا رہنے والاایک خادم (عورتوں اوربچوں کو مسجد میں پہنچانے کی ڈیوٹی انجام دے رہا تھا) کو جو تختہ پر سے اتر رہا تھا، اس کو گولی مار کر شہیدکر دیا گیا۔ اناللہ وانالیہ راجعون

ہم ڈیوٹیوں والے خدام پہلے تعلیم السلام کالج میں رہتے تھے ۔جب کالج پرہندوڈوگرہ ملٹری کا کنٹرول ہوگیاتوہم بورڈنگ تحریکِ جدیدمیں منتقل ہوگئے ۔کالج سے منتقلی کے وقت ہم سب بحفاظت نکل آئے مگرمجھے ابھی تک وہ نظارہ آنکھوں کے آگے پھرتاہے کہ حضرت شیخ محمداسمٰعیل صاحب پانی پتی رضی اللہ عنہ کاایک لڑکا (غالباً محمد احمد) بدقسمتی سےڈوگرہ ملٹری کے نرغہ میں آگیا۔وہ جدھرسے نکلنے کی کوشش کرتا ڈوگرہ سپاہی تھپڑ مارتا۔ دوسری طرف بھاگتا تو اُدھر سے بھی ڈوگرہ سپاہی اُسے تھپڑ رسیدکرتا۔ ہم بیسیوں آدمی مسجدنورکے سامنے برگدکے درخت کے نیچے کھڑے خون کے آنسورورہے تھے مگرکچھ کرنہیں سکتے تھے۔صرف بے بس اورلاچارکھڑے دیکھ رہے تھے۔آخرایک طرف سے اُس کو بھاگ کرنکلنے کی جگہ مل گئی۔بڑی مشکل سے اُن کے نرغے سے نکل سکا۔پھرخطرہ پیداہوگیاکہ بورڈنگ تحریکِ جدیدپربھی ہندوملٹری کنٹرول کرلے گی۔ہم دس بارہ یاغالباً اس سے کچھ زیادہ خدام سروں پرحفاظتی سازوسامان رکھ کر چل پڑے۔جب ریتی چھلے والی جگہ (بوڑھ کے درخت کے پاس) پہنچے تو آگے سے گورکھاملٹری کے سات آٹھ سپاہی آرہے تھے۔ انہوں نے ہماری طرف رائفلیں تان کرپوچھاکہ تم کون ہواورکہاں جارہے ہو؟ ہم نےکہاہم کالج کے اسٹوڈنٹ ہیں۔کالج پرآپ کا کنٹرول ہوگیاہے اور ہم شہر میں مسجداقصیٰ میں رہنے جارہے ہیں۔انہوں نے رائفلیں تانے ہمیں ’’اباؤٹ ٹرن‘‘ کہا اور ہم الٹے پاؤں واپس چل دیئے۔ وہ ہمارے پیچھے آتے رہے اور رائفلیں تانے ہمیں بورڈنگ تحریکِ جدیدمیں داخل کردیا۔ہم دل ہی دل میں ڈررہے تھے اور دعائیں کررہے تھے کہ آج ہماری زندگی کاخاتمہ نہ ہوجائے۔کچھ دنوں بعد ہندو ملٹری نے بورڈنگ تحریکِ جدیدکوبھی کنٹرول میں لے لیا اور ہم مسجداقصیٰ میں منتقل ہوگئے۔

اس اثناء میں قادیان کے مضافات سے ستّراسّی ہزارکی تعدادمیں مسلمان مہاجرین قادیان میں آکرپناہ گزین ہوگئے۔ان کوکالج کی گراؤنڈ،حضرت نواب محمدعلی خان صاحبؓ کی کوٹھی اورمسجد نورکے اردگردکے میدان میں بٹھایاگیا۔انہیں جلسہ سالانہ کے لئے جمع کی گئی گندم دیتے تھے۔وہ بجلی کی یاہاتھ کی چکیوں سے پسواتے اورکھاتے تھے۔ہندوملٹری نے ان چکیوں کوبھی اپنےکنٹرول میں لے لیا تاکہ یہ تنگ آکرقادیان سے نکل جائیں۔پھر ہم بھی اورمہاجرین بھی گندم ابال کرکھاتے تھے۔اس دوران پیٹ خراب ہوگئے اورصحتیں گرگئیں۔وہ لوگ باہرگاؤں کے رہنے والے تھے۔انہیں قضائےحاجت کے لئےزمین دوزبیت الخلاء بناکردیئےمگرعورتیں اوربچے باہر ہی قضائے حاجت کردیتے تھے۔ہم خدام کدالوں اورپھاؤڑوں سے گندگی اٹھاکرگڑھوں میں ڈال کےمٹی ڈالتے تھے تاکہ ہیضہ نہ پھوٹ پڑے۔کچھ دنوں کے بعد ٹرکوںکا انتظام ہواتوقادیان کے باشندوں کو آہستہ آہستہ کئی دنوں میں پاکستان بھجوایاگیا۔

اُ ن دنوں جب ہم تعلیم الاسلام کالج کے احاطہ میں رہ رہے تھے اورباہرکے غیرازجماعت مہاجرین حضرت نواب محمدعلی خان صاحبؓ کی کوٹھی، کالج کے میدان اورمسجدنورکے اردگردبیٹھےتھےتو ہماری ڈیوٹیاں میدان کی باہر کی چاردیواری کے گیٹوں پرباری باری ہوتی تھیں کہ کسی کو اندر مہاجرین کی طرف نہ آنے دیاجائے۔ایک دن میری اورایک اورخادم کی جن کامجھے نام یادنہیں رہا،کالج کے سامنے والے گیٹ پر ڈیوٹی تھی۔قادیان کے تھانے کا ایک سکھ سپاہی،ایک ملٹری کی وردی والے فوجی کو ساتھ لے کرگیٹ پرآیاکہ یہ ملٹری کا سپاہی قادیان کے تھانیدار ہزارہ سنگھ کابھائی ہے۔یہ فلاں گاؤں کے فلاں نام کے آدمی کو اندرگراؤنڈ میں ملنے جائے گا۔ہم نے کہاکہ یہ کالج کا احاطہ ہے اورہم پرنسپل کی اجازت کے بغیراندرنہیں جانے دیں گے۔پرنسپل صاحب آجکل چھٹیوں کی وجہ سے یہاں نہیں ہیں۔پولیس کے سپاہی نے کہاکہ ہم اندرجائیں گے تم روکنے والے کون ہو؟میں نے ساتھ والے آدمی کوکہاکہ انہیں روکناہےاور اندرنہیں جانے دینا۔میرے ساتھ والاکچھ سہماہواتھا۔مجھے کہنے لگاتم ہی روکو۔جب میں نے اسےاس طرح ڈرتے دیکھاتومیں ان دونوں سکھوں کے آگے کھڑاہوگیا۔پولیس کے سپاہی کے پاس تھری نٹ تھری کی رائفل تھی۔اُس نے میری طرف تان لی کہ تمہیں شوٹ کردوں گا۔مگر ملٹری کی وردی والاسکھ فوجی کوئی شریف اورسمجھدار آدمی تھا۔اُس نے فوراً پولیس والے کی رائفل کامنہ اوپر کردیا اور پولیس والے کوکہاکہ چلو واپس چلیں مگر پولیس والا ڈٹا رہا کہ ہم اندر جا کر اُس آدمی سے مل کرواپس جائیں گے۔میں نے کہاکہ میں ہرگز نہیں جانے دوں گا۔اسی دوران ملٹری کا فوجی اُسےبازوسے پکڑ کر واپس لے گیا۔ ورنہ پولیس والے کو مجھے گولی مارنی کچھ مشکل نہ تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے میرے دل کو مضبوط رکھا اور میں موت سے نہیں ڈرا۔الحمدللہ

ایسے کئی واقعات ہیں کہ ہمیں موت کا خوف ہی نہیں رہاتھا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا شعر ہے :

؎محموداگرمنزل ہےکٹھن توراہنمابھی کامل ہے
تم اُس پہ توکل کرکے چلوآفات کاخیال ہی جانے دو

اُس وقت موت کا کوئی خیال نہ تھاکیوں کہ ہرطرف موت ہی موت تھی۔دل بہت سخت ہوگئے تھے۔

مجھے یادہے کہ قادیان کے باہرسے آئے اُن مسلمان مہاجرین میں ایک شخص کے پاس بہت ہی خوبصورت گھوڑی تھی۔میں رات کے وقت وہاں ڈیوٹی پرمامورتھا، میںنےاُسے کہاکہ مجھے یہ گھوڑی کچھ دیرکے لئے دوتاکہ میں اس پرسوارہوکرپہرہ کی ڈیوٹیاں چیک کرکے آؤں۔اُس شخص نے تعصب یاغالباً کسی اوروجہ سےمجھےگھوڑی دینے سے انکارکردیا۔اگلے روزجبکہ میں ڈیوٹی پرموجودتھا،ایک سکھ نے آکراسی شخص کونام لے کربلوایااورملنے پرکچھ دورلے جاکرکان میں کچھ کہا۔اُ س سکھ کی اس بات کے نتیجہ میں اُس مسلمان مہاجرنے وہ گھوڑی اُس سکھ کو لاکردے دی اوروہ گھوڑی لے کرچلتابنا۔میں نے اُ س کوکہاکہ ہم جوکہ تمہاری خدمت اورحفاظت پرمامورہیں ہماری نسبت وہ سکھ تمہیں زیادہ عزیزہیں۔لیکن اُس پرمیری بات کا کچھ اثرنہ ہوا۔

قادیان سے ان غیرازجماعت مہاجرین کاجماعت احمدیہ نے ہمدردی اور خدمتِ خلق کے جذبہ کے تحت کامیابی اورحفاظت کے ساتھ انخلاء بھی کروایا لیکن یہ لوگ مصر تھے کہ ہمیں اپنی باری پر نہیں بلکہ جلدی بھجوایا جائے۔ مہاجرین جلد بازی کرنے لگے توقادیان کی انتظامیہ نے کہا کہ تم لوگ اطمینان سے بیٹھے رہو۔تم لوگوں کو آہستہ آہستہ باری آنے پرگروپ کی شکل میں پاکستان بھجوادیں گے۔مگروہ نہ مانے اور اسی جلد بازی کی وجہ سے یہ لوگ جوکہ قریباً ساٹھ ستر ہزار کی تعداد میں تھے، وہاں سے قافلہ بناکراپنی مرضی کے تحت پاکستان کے لئے چل دیئے۔راستہ میں تتلے کی نہرپر یہ قافلہ پہنچاجو قادیان سے اڑھائی تین میل کے فاصلے پرہےتو اُن پرحملہ ہوگیااوربے شمار مسلمانوںکو شہیدکردیاگیا۔لوٹ مارکی گئی اورعورتوں کو اغواء کر کے لے گئے۔بٹالہ پہنچتے پہنچتے یہ ستّراسّی ہزارمیں سے غالباً آدھے رہ گئے۔بعدازاں یہ مہاجرین بٹالہ کیمپ میں پناہ گزین ہوئے۔پھربٹالہ سے بھی ان کو انڈیاکی ملٹری نے پیدل آگے روانہ کردیا۔وہاں سے روانہ ہوئے توآگے بھی اسی طرح حملہ ہوااورپاکستان پہنچتے تک قتلِ عام اورلوٹ مارکی وجہ سے یہ صرف چندہزارہی بچ سکے اورانتظام سے انحراف اورجلدبازی کے نتیجہ میں اپنی جانوں اورمالوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اناللہ واناالیہ راجعون

جب قادیان کی سب آبادی بحفاظت نکل آئی تو دفتر مرکز حفاظت قادیان کی جانب سے اعلان ہواکہ جوخدام حفاظتِ مرکزکے لئے قادیان آئے ہوئے ہیں ، ان میں سے جو جانا چاہے، جاسکتاہے۔کئی ایک اجازت سے پاکستان آئے۔ اُن میں میں بھی آگیا۔ آنے والوں کو ایک کارڈنما اجازت نامہ دیا جاتا تھا جس پر دفتر حفاظتِ مرکز قادیان کی مہرلگی ہوتی تھی۔ مجھے اچھی طرح یادہے کہ میں20اکتوبر 1947ء کو قادیان سے لاہورآیاتھا۔ اٹاری پہنچنے سے چندمیل پہلے ہماری جیپ خراب ہوگئی تھی۔وہ جیپ مرمت کرنے کے لئے ڈرائیور اور ایک مسلمان ملٹری کا سپاہی وہاں رہ گئے ۔ایک سپاہی اسٹین گن لئے ہمارے ساتھ تھا۔ہم پندرہ بیس خدام پیدل چل پڑے۔ہمیں ہدایت تھی کہ کسی نہریاکنویں کاپانی ہرگزنہ پیئیں۔کیونکہ ممکن ہےکہ پانی میں زہر ملا دیا گیا ہو۔ کافی پیدل چلنے کے بعد پیچھے سے جیپ آئی توہم اٹاری سے ہوتے ہوئے واہگہ پہنچے۔الحمدللہ تعالیٰ۔راستہ میں دونوں اطراف انسانوں کی ہڈیوں کے ڈھانچے ہی ڈھانچے نظرآتے تھےجن کی لاشوں کو گِدھوں ،چیلوں اور جانوروں وغیرہ نے نوچ کھایاتھا۔

لاہورپہنچ کرجودھامل بلڈنگ جہاں ہمارے پیارے حضورخلیفۃ المسیح الثانی المصلح الموعودرضی اللہ عنہ قیام فرماتھے،دعاکاعریضہ لکھ کربذریعہ دفترپرائیویٹ سیکرٹری حضوؓرکی خدمت میں بھیجا۔حضوؓر نے جواباًفرمایاکہ آپ کے راجوری سے دوافرادبلااجازت لاہور سے ہی واپس چلے گئے ہیں،جنہیں قادیان بھجواناتھا لہٰذاتم قادیان سےاپنےآنے کا مرکزی اجازت نامہ دکھاؤ۔تومیں نے حفاظتِ مرکزقادیان والااجازت نامہ اندربھجوادیا۔تاہم ملاقات سے قبل ہی مجھے مکرم شیخ نورالحق صاحب نےکچھ مہاجردے کر ناصرآبادسندھ کے لئے بھیج دیا۔سندھ سے جب واپس آیاتوپھرشیخ صاحب موصوف نے دوبارہ مزیدمہاجردے کر محمودآباداسٹیٹ سندھ چھوڑنے بھیج دیا۔اس وجہ سےمجھے قادیان سے آنے کے اجازت نامہ کاخیال دل سے اترگیااوراجازت نامہ گم ہوگیا۔

٭…٭…٭

(مرسلہ: شریف احمد راجوری)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 8 جنوری 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 9 جنوری 2021