• 15 جنوری, 2021

مکرم علی احمد صاحب مرحوم ریٹائرڈ معلم وقف جدید کا ذکر خیر

یاد رفتگاں
مکرم علی احمد صاحب مرحوم ریٹائرڈ معلم وقف جدید کا ذکر خیر

خاکسار کے والد محترم مکرم علی احمد صاحب ولد میاں اللہ دتہ صاحب رضی اللہ عنہ یکم جنوری 1934ء کوپوڑانوالہ ضلع گجرات میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد محترم حضرت میاں اللہ دتہ صاحب رضی اللہ عنہ نے 1903ء میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے سفر جہلم کے موقعہ پر اپنے گاؤں پوڑانوالہ ضلع گجرات سے دس بارہ میل کا پیدل سفر کر کے حضور علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کی سعادت پائی۔والد صاحب نے اپنے علاقے میں ہی مڈل تک تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد1951ء میں آپ اپنے بھائیوں کے ساتھ مبارک آباد فارم ضلع حیدرآباد سندھ منتقل ہوگئےاور کھیتی باڑی شروع کر دی۔ اپنے والد محترم حضرت میاں اللہ دتہ صاحب رضی اللہ عنہ کی تربیت کے نتیجہ میں آپ اللہ تعالیٰ کے فضل سے نمازوں اور تہجد کے عادی تھے۔آپ دعا گو اور محنتی تھے اس وجہ سے آپ کی فصل بھی اچھی ہوتی تھی ۔مکرم مولوی ابراہیم صاحب خلیل سابق مبلغ اٹلی اور سابق ہیڈماسٹر ٹی آئی ہائی سکول بشیر آباد جو کہ مبارک آباد کے ساتھ ہی واقع ہے کہ نے آپ کو تحریک کی کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے تحریک فرمائی ہے کہ جماعت کے نوجوان براہ راست میرے ماتحت وقف جدید میں وقف کریں۔ چنانچہ آپ نے 1965ءمیں زندگی وقف کر دی اور 1966ء میں وقف جدید کی معلمین کلاس میں داخل ہوگئے۔ اسی سال آپ نظام وصیت میں بھی شامل ہوگئے۔آپ نے 1967ء سے 2008ء تک تقریباً اکتالیس سال سلسلہ کی خدمت کی توفیق پائی۔ آپ کو صوبہ سند ھ اور پنجاب کے مختلف اضلاع کی جماعتوں ،کرونڈی ،نگر پارکر،کوٹ احمدیہ،نواز آباد،باندھی،چک نمبر 38 جنوبی چک نمبر37 جنوبی ،چک نمبر 35 شمالی، چک نمبر 116شمالی،چک نمبر 30 جنوبی،سالار والہ،چک 79 پھائی والہ ، چاہ سردار والہ،دوداہ ،چک نمبر 648گ۔ب اورچک نمبر 125گ۔ب میں خدمت دین کی توفیق ملی ۔آپ نے سینکڑوں بچوں بچیوں اور خواتین و حضرات کو قرآن پاک پڑھایا۔آپ کی تبلیغی کاوشوں اور دعاؤں کی بدولت بیسیوں سعید روحوں کو جماعت احمدیہ میں شامل ہونے کی سعادت نصیب ہوئی ۔

آپ نے مجاہدانہ زندگی گزاری اور عالم با عمل تھے۔جب سے میں نے ہوش سنبھالا اپنے والد صاحب کو تہجد گزار، پابند نماز باجماعت اورقرآن وسنت پر عمل کرنے والا پایا۔آپ خلیفۂ وقت کے عاشق صادق،اطاعت گزار ادنیٰ غلام ،نظام جماعت کے پابند اور احترام کرنے والےتھے۔قرآن کریم سے عشق تھا۔ روزانہ تین وقت تلاوت کرتے تھے۔ متوکل علی اللہ ،شفیق باپ،ہمدرد دوست، باوفا ساتھی،بےنفس،بے ریا،عاجز،ملنسار،مہمان نواز،ہنس مکھ، قناعت پسند،کفایت شعار،جفاکش،محنتی،صفائی پسند،صحت کا خیال رکھنے والے،منظم زندگی کے مالک،باقاعدہ ڈائری لکھنے والے،والدہ صاحبہ اور ان کے اقارب کا احترام کرنے والے، تیماردار ی اور تعزیت کرنےوالےاور بیٹوں سے بڑھ کر بہوؤں سے محبت کرنے والےوجودتھے۔بچپن میں ہم سب بچوں کو قرآن پاک پڑھایا اورسکول کی پڑھائی کروائی۔ 1985ء تک بچے اپنے ساتھ سنٹر میں رکھے۔ جب بچوں کی ہائی سکول کی پڑھائی شروع ہوئی تو ربوہ میں اپنا مکان تعمیر کروا کر حصول تعلیم کی غرض سے ہمیں والدہ صاحب کے ساتھ ربوہ چھوڑ کر خود میدان عمل میں اکیلے رہنے لگے۔ ابا جان کی غیر موجودگی میں والدہ صاحبہ نے بھی ہماری تربیت میں کوئی کمی نہ آنے دی۔ والدہ صاحبہ قرآن کریم ناظرہ جانتی تھیں۔ آپ نماز، دعائیں اور سترہ آیات اباجان نے حفظ کروائیں تھیں۔امی جان بھی ابا جان کے رنگ مین رنگین پابندِ صوم و صلوٰۃ ہیں اور حقیقی معنوں میں ایک واقف زندگی کی بیوی ہونے کا حق ادا کرنے والی ہیں۔ ابا جان کا جس جماعت میں تقرر ہوتا اسی جماعت کے ہو کر رہ جاتے۔ تبادلہ ہو جاتا تو تعلق اور بھی مضبوط ہوجاتے۔ احباب جماعت سے رابطہ رکھتے۔ جماعتوں میں ایسی خوددار زندگی گزاری کہ احباب جماعت ان کی مثال دیتے۔ جس جماعت میں جاتے وہاں سے مدرسۃ الحفظ ،معلمین کلاس اور جامعہ احمدیہ کے لئے طلباء کو تیار کرکے بھجواتے۔ ماشاء اللہ بہت سے حفاظ، معلمین اور مربیان ابا جان کی کوششوں اور دعاؤں کا پھل بنے۔دنیا بھر میں پھیلے ہوئے اپنے شاگردوں کے نمبر اپنی ڈائری میں رکھتے۔ ان سے رابطہ رکھتے اور وہ بھی آپ سے عقیدت اور محبت کا اظہار کرتے رہتے۔

سب بچوں کو حسب خواہش تعلیم دلوائی۔ ان کی شادیاں کیں۔ خاکسار کو اپنی خواہش سے قرآن پاک حفظ کروایا اور اپنے خواب کی بنا پروقف اولاد کے تحت وقف کیا۔ خدا تعالیٰ کے فضل سےخاکسار کو بھی والدصاحب کی خواہش پوری کرنے کی توفیق ملی۔ حفظ قرآن کے بعد جامعہ پاس کیا۔ حدیث میں تخصص کیا اور آج کل جامعہ احمدیہ گھانا میں بطور استاد خدمت کی توفیق پا رہا ہے۔مکرم والدصاحب نےعمر کے آخری دن تک نماز ادا کی۔ سیکرٹری صاحب مال کو گھر بلا کر اس سال کے چندوں کا حساب صاف کیا۔کبھی بھی کسی دنیاوی کام کے لئے انہیں پریشان نہیں دیکھا ۔ان دنوںخاکسار کی بڑی ہمشیرہ اور ان کی فیملی پاکستان میں ان کے پاس تھے۔ وفات سے تین دن قبل میری ہمشیرہ سے ابا جان نے کہا:
بیٹی! یہ مشکل وقت تم پر اکیلے ہی آنا ہے۔ میرے پاس تین دن ہیں۔ صبر سے کام لینا ۔ہمت کرنا ۔انہوں نے کہا ابا جی ایسے نہ کہیں ۔کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے بہت لمبی عمر دی ہےاوراب حاضر ہونا ہے۔ دیر نہ کرنا ۔سب کام جلدی جلدی کر لینا ۔وہ رونے لگیں تو منہ دوسری طرف کر لیا۔ٹھیک تین دن بعد مؤرخہ 18جون 2020ء بوقت 2:40 سہ پہر اپنے مولیٰ کے حضور حاضر ہو گئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔ چنانچہ اسی دن رات کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی اجازت سے بہشتی مقبرہ دارالفضل میں ان کی تدفین ہوئی۔ اللہ تعالیٰ آپ سے بہت پیار کا سلوک کرے۔ آپ کو آپ کی خواہش کے مطابق محمد مصطفی ٰﷺ کا قرب عطاء فرمائے اور آپ کے درجات بلند فرماتا چلا جائے اور جو دعائیں آپ نے ہمارے لئے کیں وہ ساری قبول فرمائے۔ اورجیسا کہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے آپ کا ذکر خیر کرتے ہوئے فرمایا تھاکہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کی اولاد اور نسل کو بھی ان کی خوبیاں جاری رکھنے کی توفیق عطاء فرمائے۔آمین۔ آپ نے لواحقین میں بیوہ مکرمہ صدیقہ بیگم صاحبہ (اللہ تعالیٰ آپ کی صحت اور عمر میں برکت ڈالے) دو بیٹیاں مکرمہ رفعت النساء صاحبہ ٹیچر بیوت الحمد سکول ربوہ اور مکرمہ راحت النساء صاحبہ مقیم جرمنی اور تین بیٹے مکرم عطاء القیوم صاحب یوکے ،مکرم عزیز احمد صاحب تھائی لینڈ اورخاکسار عبدالہادی طارق استادجامعہ احمدیہ گھانا بطور یاد گار چھوڑے ہیں۔

ریٹائرمنٹ کے بعد تلاوت قرآن پاک ان کا واحد مشغلہ تھا ۔مطالعہ کتب احادیث،مطالعہ روحانی خزائن ،مطالعہ خطابات و تصنیفات خلفائے احمدیت میںآپ کےاوقات گزرتے۔آخری رمضان میں جب بیٹھ نہ سکتے تھے تو لیٹ کر قرآن کریم کے تین دور مکمل کئے اور روزوں کا فدیہ دیا۔آپ کا حلقہ احباب بہت وسیع تھا۔ آپ کی وفات پر آپ کے کچھ دوستوں اور آپ کے ساتھ کام کرنے والوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کچھ یوں کیا :
مکرم مظہر اقبال صاحب ناظم ارشاد وقف جدید نے بیان کیا:
’’آپ نے وقف کو ہمیشہ وفا کے ساتھ نبھانے کی کوشش کی۔ مرتے دم تک خلافت کے ساتھ وفا کا تعلق رکھا۔آپ بہت ملنسار،مہمان نواز،خوش مزاج اور عاجز انسان تھے۔‘‘مکرم اللہ بخش صادق صاحب بیان کیا:
’’آپ اللہ کے فضل سے نمازوں اور تہجد کے عادی تھے ۔دعا گو اور محنتی تھے۔ 1994ء میں وقف جدید سے ریٹائرڈ ہو گئے مگر خدمت کا جذبہ تھا کہ ابھی اور سلسلہ کی خدمت کی توفیق پاؤں۔ درخواست کر کے 2008ء تک ری ایمپلائی کر کے مختلف جماعتوں میں خدمت کی توفیق پائی۔‘‘ مکرم ضیاء الرحمٰن صاحب نے بیان کیا : مولوی صاحب کو دعوت الی اللہ کا بے حد شوق تھا۔ہمیشہ عبادات میں مشغول رہتے ۔بہت زیادہ نفلی روزے رکھتے۔ ہر کسی سے ہمدردی سے پیش آتے ۔صاف دل انسان تھے۔‘‘

مکرم مرزا خلیل احمد قمر صاحب نے بیان کیا کہ معلم صاحب کا طریق تبلیغ بڑا پیارا اور انداز دھیماتھا۔آپ آہستہ آہستہ بات کرتے تھے۔ خود سادہ اورمنکسر المزاج تھے اس لئے ان کی تبلیغ بھی مؤثر ہوتی تھی ۔آپ تبلیغ کے زیرتبلیغ دوست کوساتھ ساتھ بتاتے کہ مسئلے مسائل کی جہاں تک بات ہےتو وہ حل ہوگئے ہیں۔آپ اپنے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ آپ کی راہنمائی فرمائے اور آپ کا سینہ کھول دے ۔مولوی صاحب خاموش طبع تھے۔ زیادہ گفتگو نہیں کرتے تھے مگر خوش ہوکر ملتے تھے ۔کہا کرتے تھے کہ مجھے بعض اوقات بڑے مشکل مواقع آئے مگر اللہ تعالیٰ نے موقع کی مناسبت سے ایسے جواب سمجھائے کہ مخالف کا منہ بند کردیا۔ ان کی تقرری جہاں کی جاتی وہاں بشاشت سے چلے جاتے ۔اور یہی بات اپنے ساتھیوں سے کہا کرتے تھے کہ تبادلہ رکوانے کی کوشش نہ کریں بلکہ خوشی خوشی نئے سنٹر چلے جائیں۔ اگر آپ تنگ دلی کے ساتھ نئے سنٹر جائیں گے تو آپ وہاں جاکر کام نہیں کرسکیں گے ۔ سوال کرنے سے بچتے تھے۔ ہاں ناظم صاحب ارشاد کی کوئی بات وضاحت طلب ہوتی تو اجازت لیکر وضاحت چاہتے ۔جماعتی کتب اور رسالہ جات کا باقاعدہ مطالعہ کرتے اور نوٹس بھی لیتے تھے ۔حضرت حضرت مسیح موعودؑ کی کتب اور جماعتی کتب کےمطالعہ کےلئے محترم اللہ بخش صاحب صادق ناظم ارشاد نے مطالعہ کتب کا کارڈ جاری کیا تو کہتے تھےکہ اس سے یہ فائدہ ہوا ہے کہ یاد رہتا ہے کہ کونسی کتب کا مطالعہ کرلیا ہے اور کونسی کتب ابھی باقی ہیں ۔معلم صاحب اپنی طبیعت کی وجہ سے ہر جماعت میں لوگوں کے دلوں میں رہتے تھے ۔بعض احباب جماعت ان کو اپنے گھر کا فرد سمجھتے تھے ۔ جب بھی سنٹر سے دفتر تشریف لاتے توسب کے ساتھ بشاشت اور خوشدلی سے ملتے ۔سب کا حال احوال پوچھتے ۔سنٹر میں کام کی تفصیل مکرم ناظم ارشاد صاحب کی خدمت میں بیان کرتے اورپیش آمدہ حالات کے بارے میں راہنمائی چاہتے اور اپنے تعلیم و تربیت کے کام کو احسن سے احسن بنانے کی تگ و دو میں لگے رہتے ۔

مکرم مغفور احمد منیب صاحب نے بیان کیا کہ مکرم مولوی صاحب واقفین زندگی مربیان اور معلمین کے لئے بلاشبہ ایک نمونہ تھے۔ کم گو، غض بصر کرنے والے،اپنے کام سے کام رکھنے والے، دعا گو، منکسر المزاج، خندہ پیشانی سے ملنے والے اور خلافت احمدیہ کے لئے سینہ سپر رہتے تھے۔ناراض بھی ہوتے تو سمجھانے میں درد نمایاں ہوتا۔آپ میں قناعت شعاری بہت تھی۔آج وہ بچے اور بچیاں جو مولوی صاحب کے شاگرد تھے بڑے ہو گئے ہیں لیکن ان کے دلوں سے مولوی صاحب کے حسن اخلاق اور محبت کی یادیں محو نہیں ہوئیں۔

مکرم نصیر احمد بدر صاحب مربی سلسلہ نے بیان کیا کہ محترم علی احمد صاحب ہمارے محلہ دارالعلوم شرقی حلقہ نور میں لمبا عرصہ قیام پذیر رہے۔موصوف ہماری مسجد کی رونق تھے اور ہر حال میں اولین وقت میں نمازوں کے لئے مسجد پہنچا کرتے تھے۔بعض دفعہ ان کی بیماری اور جسمانی کمزوری کو دیکھ کر خاکسار انہیں گھر پر نماز پڑھنے کی درخواست کرتا تو اکثر کہا کرتے تھے کہ زندگی کاکوئی اعتبار نہیں۔میں نہیں چاہتا کہ میں اپنے رب سے ایسی حالت میں ملوں کہ مسجد نہ جاسکوں۔ اس لئے تکلیف کے باوجود مسجد پہنچ جاتا ہوں۔ان کی یہ کیفیت دیکھ کر وہ حدیث یاد آجاتی جس میں آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ ایک مومن مسجد میں ایسا ہی ہے جیسے مچھلی پانی میں۔آپ سادہ طبیعت کے مالک تھے۔ صاف گو اور سیدھی بات کرنے والے تھے۔محترم علی احمد صاحب کو اپنے چندوں کی ادائیگی کی بھی بڑی فکر رہتی تھی۔اور ہمیشہ کوشش ہوتی تھی کہ اپنے سارے چندے بروقت ادا کئے جائیں۔ضعف اور کمزوری کے باوجود خود سیکرٹری مال کے پاس پہنچ کر اپنا چندہ ادا کیا کرتے تھے اپنا حصہ جائیداد بھی اپنی زندگی میں ہی ادا کر دیا تھا اور الاؤنس کے علاوہ بھی اگر کوئی رقم کہیں سے ملتی تو اس کا بھی حصہ آمد ادا کرتے۔آپ اپنے دوستوں اورملنے جُلنے والوں سے بھی بڑا پیار کا تعلق رکھتے تھے،اور ان سے میل جول رکھنا ضروری سمجھتے تھے اور جب بھی کسی دوست سے ملتے تو باقی دوستوں کے بارے میں بھی احوال پُرسی کرتے ۔اسی طرح جماعتی عہدیداران کا احترام بھی کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا ،جب بھی ان سے ملنے گئے ہمیشہ کھڑے ہو کر استقبال کرتے اور اچھی جگہ بیٹھنے کا انتظام کرتے اور اپنی استطاعت سے بڑھ کر مہمان نوازی کا حق بھی ادا کرتے۔ مکرم شفیق احمد ججہ صاحب مربی سلسلہ نے بیان کیا ۔2005-2006 میں خاکسار کو چک جھمرہ ضلع فیصل آباد میں بطور مربی سلسلہ خدمت کی توفیق ملی مکرم مولوی علی احمد صاحب معلم سلسلہ اس وقت میرے حلقہ کی ایک جماعت میں خدمت بجا لارہے تھے۔ اس جماعت کے بڑےافراد نمازوں میں کافی سست تھے اور جب کبھی کوئی مرکزی نمائندہ بھی جاتا اور نماز کے وقت انہیں نماز کا کہتا تو وہ کہہ دیتے وہ مسجد ہے آپ نے نماز پڑھنی ہے تو پڑھ لیں ہم نہیں پڑھیں گےلیکن جب مولوی علی احمد صاحب کا وہاں تقرر ہوا تو نمایاں تبدیلی یہ ہوئی کہ دو سے تین ماہ کے اندر اندر وہ پنجوقتہ نمازی ہو گئےبلکہ تہجد بھی پڑھنے لگ گئے۔خاکسار نے معلم صاحب سے پوچھا کہ آپ نے کیا طریقہ اپنایا ہے کہ ان کو نمازی بنا دیا ہےتو انہوں نے کہا میں نے تو کوئی خاص طریق نہیں اپنایا بلکہ میں نے کبھی ان کو نماز کے لئے کہا بھی نہیں تھاصرف یہ ہوتا تھا کہ میں ان کے پاس ہی بیٹھا ہوتا تھا گاہے بگاہے تو جب نماز کا وقت ہوتا تو میں صرف ان کو اتنا بتا کے کہ نماز کا وقت ہو گیا ہے نماز کے لئے چلاجاتا تھا ان کے بچوں وغیرہ کو گھر سے بلا کر نماز ادا کر لیتا اور ان کے لئے دعا کرتا رہتا۔آہستہ آہستہ خود ہی یہ نماز پڑھنے لگ گئے ہیں۔گویا کہ معلم صاحب نے اپنے عملی نمونہ سے اور دعاؤں کے ذریعہ سے اس جماعت کے لوگوں کی اصلاح کی۔دعاؤں اور اپنے عملی نمونہ سے ان کی تربیت کا زیادہ خیال رکھا۔ ان دنوں پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی طرف سے یہ ارشاد موصول ہوا تھا کہ پچھلے تیرہ سال یا پندرہ سال میں جتنی بیعتیں ہوئی ہیں ان سب احباب سے رابطہ کیا جائے اور کوشش کی جائے کہ وہ بیعتیں زندہ ہو جائیں مولوی صاحب نے نہایت محنت اور جانفشانی سے پیارے آقا کے ارشاد پر لبیک کہا۔ مکرم ملک نصیر احمد اظہر صاحب مربی سلسلہ نے بیان کیاہم ایک قابل رشک واقف زندگی، دعاؤں کا خزانہ ،ایک حقیقی عابد، ایک نہایت سادہ اور نرم مزاج مثالی پڑوسی سے محروم ہوگئے۔

حضرت امیرالمومنین خلیفۃ المسیح االخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ جمعہ بیان فرمودہ 10جولائی 2020 میں آپ کا ذکر خیر فرمایا اور آپ کی نمازجنازہ غائب پڑھائی۔

نہ روک راہ میں مولا ! شتاب جانے دے
کھلا تو ہے تری جنت کا باب جانے دے
مجھے تو دامن رحمت میں ڈھانپ لے یوں ہی
حساب مجھ سے نہ لے بے حساب جانے دے

٭…٭…٭

(مرسلہ: مرسلہ عبدالہادی طارق مربی سلسلہ گھانا)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 8 جنوری 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 9 جنوری 2021