• 27 فروری, 2021

خدام احمدیت

ہیں باده مست بادہ آشام احمدیت
چلتا ہے دور مینا و جام احمدیت
تشنہ لبوں کی خاطر ہر سمت گھومتے ہیں
تھامے ہوئے سبوئے گلفام احمدیت
خدام احمدیت خدام احمدیت
جب دہریت کے دم سے مسموم تھیں فضائیں
پھوٹی تھیں جا بجا جب الحاد کی وبائیں
تب آیا اک منادی اور ہر طرف ندا دی
آؤ کہ ان کی زد سے اسلام کو بچائیں
زور دعا دکھائیں، خدام احمدیت
پھر باغ مصطفی کا دھیان آیا ذوالمنن کو
سینچا پھر آنسوؤں سے احمد نے اس چمن کو
آہوں کا تھا بلاوا پھولوں کی انجمن کو
اور کھینچ لائے نالے مرغان خوش لحن کو
لوٹ آئے پھر وطن کو ، خدام احمدیت
چمکا پھر آسمان مشرق پر نام احمد
مغرب میں جگمگایا ماہ تمام احمد
وہم و گماں ۔ سے بالا عالی مقام احمد
ہم ہیں غلام خاک پائے غلام احمد
مرغان دام احمد ، خدام احمدیت
ربوہ میں آجکل ہے جاری نظام اپنا
پر قادیاں رہے گا مرکز مدام اپنا
تبلیغ احمدیت دنیا میں کام اپنا
دارالعمل ہے گویا عالم تمام اپنا
پوچھو جو نام اپنا ، خدام احمدیت
اٹھو کہ ساعت آئی اور وقت جارہا ہے
پسر مسیح دیکھو کب سے جگا رہا ہے
گو دیر بعد آیا از راہ دور لیکن
وہ تیز گام آگے بڑھتا ہی جارہا ہے
تم کو بلا رہا ہے ، خدام احمدیت

(کلام طاہر)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 8 فروری 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 9 فروری 2021