• 27 فروری, 2021

رائے بہادر سر گنگا رام جدید لاہور کا معمار اور محسن لاہور

رائے بہادر سر گنگا رام 13اپریل 1851 کو پاکستانی پنجاب کے گاؤں مانگٹا والا میں پیدا ہوئے تھے، ان کی وفات 10جولائی1927 کو لندن میں ان کے گھر ہوئی تھی، اس عرصہ میں سرگنگا رام نے جو کارہائے سرانجام دیئے وہ ان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تاریخ میں زندہ رکھیں گے، ان کی ہمت، جدوجہد، ان کے سوچنے ، کام کرنے کی صلاحیت اور منفرد انداز تخلیق اور تحقیق نے ان کو انسانیت کے ایک عظیم مرتبہ اور مقام پر فائز کردیا ہے ۔ ان کا تعلق ایک ہندو گھرانے سے تھا لیکن ان کے کاموں اور کارناموں سے ہر مذہب و ملت اور قوم کے ہزاروں ، لاکھوں افراد نے فیض پایا ۔ وہ پیدائشی طور پر انسانی ہمدردی اور انسانی دوستی کے علمبردار تھے ۔ انہوں نے زندگی بھر تعلیم ، زراعت اور صحت کے لئے عمارتوں کی اور ہسپتالوں کی تعمیر کی جس کی بدولت لاکھوں طلباء اور مریضوں اور انسانوں نے فائدہ اٹھایا ۔ چھ سال بعد2027 کو ان کی وفات کو ایک سو سال پورے ہو جائیں گے ۔ گنگا رام کو جدید لاہور کا بانی بھی کہا جاتا ہے، ان کو محسن لاہور بھی کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔ لاہور کی مال روڈ کا حسن وہ منفرد طرز کی جدید ترین عمارتیں ہیں جو سر گنگا رام نے ڈیزائن اور تعمیر کرائیں تھیں ،دونوں اطراف موجود انتہائی دیدہ زیب اور پرشکوہ تاریخی عمارتیں گنگا رام کی عظمت اور قابلیت کی گواہی دیتی ہیں اور اس کا تذکرہ مضمون میں آگے آئے گا ۔ گنگا رام کی خوش بختی تھی کہ ان کو اس دور کی ایک علمی شخصیت رائے بہادر کنہیا لال کے معاون کے طور پر کام کرنے کا موقع ملا جس نے گنگا رام کی صلاحتیوں کو نکھارنے میں اہم کردار کیا، کنہیا لال بھی ایک سول انجینئر اور صاحب علم انسان تھے جنہوں نے تاریخ لاہور لکھ کر خود کو تاریخ میں امر کرلیا تھا ۔

سر گنگا رام پیشہ کے لحاظ سے ایک سول انجینئر تھے لیکن اس کے ساتھ ساتھ زراعت سے بھی ان کو جنون کی حد تک لگاؤ تھا، یہی وجہ ہے کہ اپنے علم کی وجہ سے زراعت کے بھی ماہر مانے جاتے تھے ۔ وہ ایک انتہائی ذہین اور تخلیقی دماغ رکھنے والے سول انجینئر اور سماجی کارکن تھے ۔
گنگا رام کے والد دولت رام اگروال کے پولیس اسٹیشن میں جونیئر سب انسپکٹر تھے، بعد میں وہ امرتسر شفٹ ہوگئے اور وہاں ایک دربار میں کاپی رائٹ ہوگئے تھے ۔ گنگا رام نے امرتسر سے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور1869 میں گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا،دو سال بعد1871 میں روڑکی کے تھامسن کالج آف سول انجینئرنگ سے سکالرشپ حاصل کیا ۔ دوسال بعد اسی کالج سے سونے کے تمغہ کے ساتھ سول انجینئرنگ کی تعلیم مکمل کی اور ایک محکمہ میں اسسٹنٹ انجینئر لگ گئے، بعد ازاں ان کی قابلیت کو دیکھتے ہوئے ان کو امپیریل اسمبلی کی تعمیر میں مدد کے لئے دہلی بلا لیا گیا ۔ گنگا رام کی قابلیت اور خدا داد صلاحیتیں اور انسانی ہمدردی بہت جلد کھل کر سامنے آنے لگی تھیں ۔ پی ڈبلیو ڈی پنجاب کے محکمہ میں دس سال سے زائد عرصہ تک ایگزیکٹیو انجینئر کی ملازمت کرنے کے بعد انہوں نے کاشت کاری اور زراعت کے میدان میں عملی قدم رکھا اور منٹگمری(موجودہ ساہیوال) میں پچاس ہزار ایکڑ بنجر زمین لیز پر حاصل کی اور دو تین سالوں میں اس کو سرسبز لہلاتے کھیتوں میں بدل دیا ۔ ہوا پانی کے بجلی گھر کا یہ اچھوتا منصوبہ تھا جو نجی طور پر تعمیر کیا گیا تھا اس کے بعد دولت گنگا رام کے پیچھے پیچھے تھی اور وہ یہ کمائی دولت فلاحی اداروں اور عمارتوں ہسپتالوں کی تعمیر پر لگاتے رہے ۔ گنگا رام کی اس فراخدلی اور انسان دوستی کاموں اور منصوبوں پر اس وقت کے گورنر پنجاب سر میلکم ہیلی نے ان کو کچھ یوں خراج تحسین پیش کیا تھا کہ ’’;72;e won like a hero , and gave like a ;83;aint‘‘۔ گنگا رام کے دور کو ’’فن تعمیر کا گنگا رام دور‘‘ بھی کہا جاتا رہا ہے، کیونکہ ان کے دن تعمیر اور ڈیزائنوں نے عمارتوں کو ایک نیا حسن اور نئی زینت عطا کی تھی ۔ مال روڈ کے علاوہ لاہور کا پوش اور جدید علاقہ ’’ماڈل ٹاون‘‘ کا بانی بھی گنگا رام ہی تھے ۔ گنگا رام کی خدمات اور تعمیرات کا سلسلہ پاکستان بھر میں پھیلا ہوا ہے ۔ اور ایک مضمون میں ان کا احاطہ کرناممکن نہیں ہے ۔ انہوں نے رینالہ خورد میں پاور ہاوس بنایا جو آج بھی کام کر رہا ہے ۔ انہوں نے لائلپور (آج کافیصل آباد) کی بنجر زمینوں کو سرسبز کھیتوں میں بدل دیا تھا، ان کے نام کا ایک گاؤں گنگا پور آج بھی فیصل آباد میں موجود ہے۔ بھارت میں بھی ان کی تعمیرات کی یادگاروں کا جال پھیلا ہوا ہے ۔ گنگا رام نے کھیتوں میں آبپاشی نظام کا نیا سلسلہ اپنے دور میں تعارف کراکر انقلاب برپا کردیا تھا ۔ گنگا رام نے 1900 کے ابتدائی سالوں میں نکاس آب اور واٹر ورکس کی ٹریننگ کے لئے انگلینڈ کا تعلیمی سفر کیا اور واپس آنے کے بعد لاہور میں ان کے تعمیراتی سنہری دور کا آغاز ہوا تھا ۔

موجودہ نوجوان نسل شاید گنگا رام ہسپتال کے حوالے سے ہی ان کو جانتی ہوگی لیکن یہ سچ نہیں ہے اور حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے ۔ گنگا رام نے آج کے پورے جدید لاہور کی تعمیر کی تھی اور لاہور کو ایک نیا حسن بخشا تھا ۔ آج لاہور کی جو عمارتیں سیاست، ثقافت اور علم کا ورثہ ہیں ان سبھی کی تعمیر و تخلیق کے بانی سر گنگا رام ہی تھے ۔ لاہور کی تاریخ میں گنگا رام کے تعمیراتی سنہری کارناموں میں گنگا رام ہسپتال، گنگا رام فلیٹس اور گنگا رام بلڈنگز قابل ذکر ہیں ۔ 1919 میں انہوں نے مال روڈ پر گنگا رام بلڈنگ تعمیر کی جس میں ایک لفٹ لگائی گئی تھی، بعد میں یہ بلڈنگ بھی ایک ٹرسٹ کے سپرد ہو گئی تھی ۔ انہوں نے ذاتی خرچے سے بحالی معذوراں اور دیگر فلاحی ادارے قائم کئے تھے ۔ مثال کے طور پر لاہور کا عجائب گھر جو سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا رہتا ہے، وہ عمارت گنگا رام نے تعمیر کرائی تھی ۔ ایچی سن کالج کی وسیع و عریض عمارت جس نے بڑے بڑے بیوروکروٹیس، سیاستدان وغیرہ پیدا کئے، اس کو بھی گنگا رام ہی نے ڈیزائن کیا تھا ۔ 1921ء میں لاہور کا معروف و مشہور ہسپتال گنگا رام ہسپتال تعمیر کیا تھا جو اس وقت550بیڈ پر مشتمل تھا ۔ اس کے علاوہ مال روڈ اور اس کے نواح میں واقع تاریخی عمارتیں جن کو گنگا رام نے ڈیزائن اور تعمیر کروایا تھا ان میں عجائب گھر، جنرل پوسٹ آفس، ایچی سن کالج، میواسکول آف آرٹس، میو ہسپتال کا سر البرٹ وکٹر ہال، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کا کمسٹری ڈیپارٹمنٹ ان کے ڈیزائن کردہ ہیں جبکہ سر گنگا رام ہسپتال، اسلامیہ کالج سول لائن( اولڈڈی اے وی کالج)، سر گنگا رام گرلز اسکول( موجودہ لاہور کالج فار وومن)، ادارہ بحالی معذوراں فیروز پور روڈ وغیرہ انہوں نے اپنے ذاتی خرچہ پر تعمیر کروائے تھے ۔ اسی طرح آج بھارت میں بھی ان کی متعدد تاریخی یادگاریں موجود ہیں جن میں سر گنگا رام ہسپتال دہلی، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی روڑکی( گنگا بھون) قابل ذکر ہیں ۔ لاہور کا مشہور کامرس کا لج (ہیلی کالج آف کامرس) غریب طلباء کے لئے قائم کیا ۔ تعمیرات اور زراعت اور انسانی ہمدردی کی غیر معمولی کاموں کو دیکھتے ہوئے ان کو 1885ء میں رائے بہادر کا خطاب دیاگیا اور اسی سال وہ 52سال کی عمر میں ریٹائر ہوئے تو بیس مربع اراضی کے مالک تھے۔ 1922ء میں گنگا رام کو سر کا خطاب دیاگیا۔ 1923ء میں انہوں نے اپنے فلاحی منصوبوں کی نگرانی کے لئے ’’سر گنگا رام ٹرسٹ‘‘ قائم کیا ۔ 74 برس کی عمر میں انہیں زرعی سائنس دان ایگریکلچرل کمیشن کی رکنیت کا بڑا اعزاز دیا گیا۔ اس کے علاوہ ان کو ممبر آف رائل وکٹورین آرڈر اور کمپیئین آف دی انڈین ایمائر کے اعزازات بھی دیئےگئے۔

سرگنگا رام نے زندگی کے آخری آیام لندن میں گزارے اور بالآخرمحسن اور معمار لاہور10 جولائی1927ء کو اپنے گھر میں انتقال کرگئے ۔ گنگا رام سے ایک بار ان کے کسی دوست نے ان کی دولت اور شہرت کےبارے استفسار کیا کہ کتنی ہے ؟ توانہوں نے جواب دیا کہ میں جب شہر آیا تھا تو میںنے ایک شراکت داری کی تھی جو پچاس پچاس فیصد کی تھی۔ اسی شراکت داری کے سبب مجھے یہ دولت ملی ہے۔ اس دوست نے حیرانی سے پوچھا کہ کس سے شراکت داری کی ؟ گنگا رام نے جواب دیا کہ بھگوان سے۔

دوست نے حیرانی سے پوچھاکہ بھگوان سے ؟ انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ ہاں !بھگوان سے۔انہوں نے بتایا کہ میںجو کچھ کماتا ہوں اس کا پچاس فیصد لوگوں پر خرچ کرتا ہوں ۔

سرگنگا رام کی وفات کے بعد گنگا رام کی استھیاں دریائے راوی (بڈھا راوی) میں بہائیں گئیں تھیں اور بعد میں وہاں ایک انتہائی خوبصورت سمادھی تعمیر کردی گئی تھی جو اعلیٰ سنگ مرمر سے تعمیر کی گئی تھی اور یہ آج بھی دریائے راوی کےکنارے موجود ہے ۔ لیکن افسوس کہ کسی بھی حکومت کی طرف سے اس عظیم انسان اور محسن لاہور کو کبھی بھی اس کے شان شایان کے طور پریاد نہیں کیا گیا۔

(از منور علی شاہد (جرمنی))

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 8 فروری 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 9 فروری 2021