• 27 فروری, 2021

بہتر اخلاق- بہتر معاشرہ

ہمارے آقا آنحضرت ﷺ نے دنیا کو اخلاق فاضلہ کا سبق دیا۔ اس سلسلہ میں آپ ؐکے بیش قیمت ارشادات کے ساتھ ساتھ اپنا بےمثال نمونہ موجود تھا ۔ آپؐ نے فرمایا:

بُعِثْتُ لِاُتَمِمَ مَکَارِمُ الْاَخْلَاق

(موطا امام مالک-باب فی حسن الخلق صفحہ 364)

یعنی میں بہترین اخلاق کو درجہء کمال تک پہنچانے کے لئے بھیجا گیا ہوں۔یہ محض ایک ادعا نہیں تھا بلکہ آپ ؐ سے ملنے والا ہر خوش قسمت آپؐ کے بہترین اخلاق کی وجہ سے آپؐ کی طرف کھنچا چلا آتا۔ ہر خوش قسمت آپؐ کی خوش خلقی کی وجہ سے آپؐ کا دلدادہ اور فریفتہ ہو جاتا ۔

آپ ؐ نے ارشاد فرمایا :

خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِاَھْلِہٖ

(ترمذی۴۰ کتاب المناقب باب ۴۶)

تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل یعنی گھر والوں سے اچھا سلوک کرتا ہو ۔

مگر یہ بات یہاں ہی ختم نہیں ہوتی بلکہ آپؐ نے زندگی کے اس سنہرے اصول پر بہترین رنگ میں عمل کرتے ہوئے فرمایا: اَنَا خَیْرُکُمْ لِاَھْلِیْ

میں نے جو بات کہی ہے وہ ایک اچھی بات تو ضرور ہے مگر میں نے اس پر عمل کیا ہے اور تم سب میں سے اپنے ا ہل کے ساتھ بہتر سلوک کرنے میں آگے اور نمایاں ہوں۔ یہ محض ایک مثال ہے، خلق عظیم کا ہر پہلو آپ ؐ میں بدرجہء کمال موجود تھا اور اسی کی آپ ؐ نے تعلیم بھی دی۔ آپؐ نے فرمایا:

اِتَّقُوْا مَوَاضِعَ التُّھَمِ

ایسے مواقع اور اسباب سے بھی بچتے رہو جس میں کسی الزام یا تہمت لگنے کا اندیشہ ہو۔

یہ کیسا پر حکمت ارشاد ہے کہ بری باتوں سے اجتناب تو ضروری ہے۔ ایسی باتوں سے بھی اجتناب کرنا چاہئے جہاں کسی برائی کا الزام لگ سکے یا لوگوں کو الزام لگانے کا موقع مل سکے۔ اس بات کو ایک مثال سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔ حضرت امام بخاری ؒحدیث کے بہت بڑے عالم تھے ۔آپ کی مرتبہ حدیث کی کتاب جو آپ کے نام سے ہی مشہور ہے وہ حدیث کی سب سے زیادہ مستند اور سب سے زیادہ صحیح تسلیم کی جاتی ہے اور جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اصح الکتب بعد کتاب اللہ (کتاب اللہ کے بعد سب سے صحیح کتاب)۔

حضرت امام بخاری کے متعلق مشہور ہے کہ ایک دفعہ وہ کسی سفر پر جا رہے تھے۔ان کے کسی حاسد نے ان کے پاس کچھ رقم دیکھ لی اور شور مچا دیا کہ میری اتنی رقم گم ہو گئی ہے ۔ سب مسافروں کی تلاشی لی گئی تو الزام لگانے والا شخص بہت حیران اور نادم ہؤا کہ وہ اپنی شرارت اور سازش میں ناکام ہو گیا ہے۔ اس نے حضرت امام صاحب سے علیحدگی میں پوچھا کہ میں نے تو آپ کے پاس خود اتنی رقم دیکھی تھی اور اسی لئے اس الزام کو شہرت دی تھی مگر آپ کے پاس وہ رقم نہیں ملی اور میری شرارت بے کار گئی ؟ آپ نے فرمایا کہ میں سمجھ گیا تھا کہ میرے
متعلق یہ بات کسی نے دانستہ مشہور کر دی ہے ،لیکن میں نے وہ رقم چپکے سے پانی میں پھینک دی تا کل کوئی شخص یہ نہ کہہ سکے کہ حدیث جمع کرنے والے اس شخص پر چوری کا الزام لگا تھا۔ گویا آپ نے اپنا نقصان صرف اس وجہ سے برداشت کر لیا کہ آپ ایک الزام اور تہمت سے محفوظ رہیں۔

یہ سب باتیں اس لئے ذہن میں آ رہی ہیں کہ ہمارے وطن پاکستان میں ایک دوسرے پر الزامات لگانے کی وبا بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے ۔ ہم میں سے اکثر کو یہ امر اچھی طرح یاد ہو گا کہ اگر کبھی کسی پر رشوت لینے یا کسی اور بے ایمانی یا بد انتظامی کا الزام لگتا تو وہ لوگوں سے چھپتا پھرتا تھا اور معاشرے میں اسے عزت کی نظر سے نہیں دیکھا جاتا تھا ۔ اب یہ صورت ہے کہ ملک کا سب سے معزز عہدے پر فائز منتخب عہدیدار الزامات کی زد پر آتا ہے اور اسے جھوٹا، چور، خائن ، بے ایمان اور جو بھی گالی منہ میں آتی ہے، بک دی جاتی ہے اور اس طرح نوجوانوں کے اخلاق۔ عام لوگوں کی وضعداری کا جنازہ نکالا جا رہا ہے۔ ہمارا ملک بد انتظامی اور بدمعاملگی کی مثال بن گیا ہے اور کسی کو اس بات کا احساس تک نہیں ہے کہ ملک کی معاشی اور اقتصادی حالت تو شاید کبھی بہتر ہو جائے مگر جو اخلاقی دیوالیہ پن ہے اس کا ازالہ کب اور کیسے ہو سکے گا ۔

آجکل ہمارے ملک کی سب سے بڑی عدالت میں بد معاملگی اور بد دیانتی کا ایک بہت بڑا مقدمہ چل رہا ہے۔ مقرر جج صاحبان اپنے فرائض کی ادائیگی میں مصروف ہیں مگر یوں نظر آتا ہے کہ عدالت سے باہر مقدمہ کا چرچا زیادہ ہے۔ ہر اینکر پرسن، ہر لال بجھکڑ اپنی اپنی رائے دے رہا ہے۔ فیصلے سے پہلے فیصلہ سنایا جا رہا ہے۔ عدالت کی کارروائی کو اپنے اپنے رنگ اور اپنے اپنے مفاد میں پیش کیا جاتا ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچی ہوئی ہے کہ ایک معزز وکیل نے برسر عدالت کہا کہ اگر عدالت کمیشن مقرر کرے گی تو ہم اس کا بائیکاٹ کریں گے!

کیا کبھی وہ زمانہ واپس آسکے گا جہاں بزرگوں کی عزت، آنکھوں کی شرم روایات کا احترام، دولت پر اخلاق و شرافت کی ترجیح، دنیوی مفاد اور ذاتی اغراض پر اللہ تعالیٰ کے احکام کی ترجیح اور معلم اخلاق فاضلہ کی سنت کی متابعت و پیروی کی جائے گی

؎ تشنہ بیٹھے ہو کنار آبِ شیریں حیف ہے۔

(از عبدالباسط شاہد (مربی سلسلہ۔ یو کے))

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 8 فروری 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 9 فروری 2021