• بدھ 1 اپریل 2020   (8 شعبان 1441)

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبہ جمعہ مورخہ 6 مارچ 2020ء بمقام مسجد بیت الفتوح کا خلاصہ

آنحضرت ﷺ کے عشق ومحبت میں ڈوبے اطاعت و وفا کے پیکر بدری صحابی حضرت مصعب بن عمیرؓ کی سیرتِ مبارکہ کا تذکرہ

غزوہ بدر میں مہاجرین کا بڑا جھنڈا حضرت مصعب بن عمیرؓ کے پاس تھا جو رسول اللہ ﷺ نے آپؓ کو دیا تھا

حضرت مرزا بشیر احمد ؓ لکھتے ہیں کہ اُحد کے شہداء میں ایک مصعب بن عمیرؓ تھے آپ سب سے پہلے مہاجر تھے جو مدینہ میں اسلام کے مبلغ بن کر آئے تھے

کورونا وائرس سے بچنے کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے، مسجد کے آداب کا خیال رکھنے اور اسلامی تعلیم کو اپنانے کی تلقین

عزیزم تنزیل احمد بٹ، بریگیڈیئر بشیر احمد امیر ضلع راولپنڈی اور ڈاکٹر حمیدالدین آف گوکھووال کا ذکر خیر اور نماز ہائے جنازہ غائب

خلاصہ خطبہ جمعہ

سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ ا للہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنےمورخہ 6 مارچ 2020ء کو مسجد بیت الفتوح لندن میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جو کہ مختلف زبانوں میں تراجم کے ساتھ ایم ٹی اے انٹر نیشنل پر براہ راست ٹیلی کاسٹ کیا گیا ۔حضور انور نے فرمایا: گزشتہ خطبہ میں حضرت مصعب بن عمیرؓ کا ذکر ہوا تھا ،کچھ حصہ رہ گیا تھا جس کا بیان آج ہو گا حضرت مصلح موعود ؓ نے لکھا ہے کہ یہود کہا کرتے تھے کہ ایک نبی آنے والا ہے ۔ جب یہود نے، مدینہ والوں نے نبیﷺ کا سنا تو کہا کہ یہ وہی نبی معلوم ہوتا ہے جس کی خبر ہے تو بہت سے نوجوان تعلیم سے متاثر ہو کر ایمان لے آئے ۔12 آدمی یہ ارادہ کر کے چلے کہ محمد ﷺ کے دین میں داخل ہوں گے۔ 10 خَزرج اور 2 اَوس قبیلہ کے تھے اور اقرار کیا کہ وہ خدا کے علاوہ کسی کی پرستش نہیں کریں گے۔یہ لوگ واپس گئے اور پہلے سے بھی زیادہ زور سے تعلیم پھیلانے لگے۔ خدا کے سوااب لوگوں کے ماتھے کسی کے سامنے جھکنے کے لئے تیار نہ تھے اور مدینہ میں جب ان سے تعلیم کا پوچھا گیا تو نبیﷺ سے کسی کو بھجوانے کی عرض کی آپ ﷺ نے حضرت مصعب بن عمیرؓ کو بھجوایا تا کہ وہ وہاں کے مسلمانوں کو دین سکھائیں۔ غزوہ بدر میں مہاجرین کا بڑا جھنڈا حضرت مصعب بن عمیر ؓکے پاس تھا جو رسول اللہ ﷺ نے آپؓ کو دیا تھا۔

حضور انور نے فرمایا:سیرت خاتم النبیین میں حضرت مرزا بشیر احمدؓ نے لکھا ہے کہ غزوۂ احد میں بھی مہاجرین کا جھنڈا حضرت مصعب بن عمیر ؓکے پاس تھا۔ رسول کریم ﷺ نے لشکر اسلامی کی صف بندی کی اورمختلف دستوں کے جُداجُدا امیر مقرر فرمائے۔ اس موقع پر آپؐ کو یہ اطلاع دی گئی کہ لشکرقریش کاجھنڈا طلحٰہ کے ہاتھ میں ہے۔ طلحٰہ اس خاندان سے تعلق رکھتا تھاجوقریش کے مورث اعلیٰ قصی بن کلاب کے قائم کردہ انتظام کے ماتحت جنگوں میں قریش کی علمبرداری کا حق رکھتا تھا۔ یہ معلوم کرکے جب یہ پتا لگا تو آپؐ نے فرمایا۔ ہم قومی وفاداری دکھانے کے زیادہ حق دار ہیں چنانچہ آپؐ نے حضرت علی ؓسے مہاجرین کا جھنڈا لے کر مصعب بن عمیر ؓکے سپرد فرمایا جو اسی خاندان کے ایک فرد تھے جس سے طلحٰہ تعلق رکھتا تھا۔ آپ ؓ غزوہ اُحد کے روز نبی ﷺ کے آگے لڑتے لڑتے شہید ہوئے۔ آپؓ نے جھنڈے کا حق خوب ادا کیا۔ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے مرزا بشیر احمد ؓ نے سیرة خاتم النبیینؐ میں اس طرح لکھا ہے کہ قریش کے لشکر نے قریباً چاروں طرف گھیرا ڈال رکھا تھا اور اپنے پَے در پَے حملوں سے ہر آن دباتا چلا آتا تھا اس پر بھی مسلمان شاید تھوڑی دیر بعد سنبھل جاتے مگر غضب یہ ہوا کہ قریش کے ایک بہادر سپاہی عبداللہ بن قمیئہ نے مسلمانوں کے علمبردار مصعب بن عمیر پر حملہ کیا اور اپنی تلوار کے وار سے ان کا دایاں ہاتھ کاٹ گرایا۔ مصعب نے فوراً دوسرے ہاتھ میں جھنڈا تھام لیا اور ابن قمیئہ کے مقابلے کے لئے آگے بڑھے مگر اس نے دوسرے وار میں ان کا دوسرا ہاتھ بھی قلم کر دیا۔ اس پر مصعب نے اپنے دونوں کٹے ہوئے ہاتھوں کو جوڑ کر گرتے ہوئے اسلامی جھنڈے کو سنبھالنے کی کوشش کی اور اسے چھاتی سے چمٹا لیا۔ جس پر ابن قمیئہ نے ان پر تیسرا وار کیا اور اب کی دفعہ مصعب شہید ہو کر گر گئے۔ جھنڈاتو کسی دوسرے مسلمان نے فوراً آگے بڑھ کر تھام لیا مگر چونکہ مصعب کا ڈیل ڈول آنحضرت ﷺ سے ملتا تھا ابن قمیئہ نے سمجھا کہ میں نے محمد ﷺ کو مار لیا یا یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی طرف سے یہ تجویز محض شرارت اور دھوکہ دہی کے خیال سے ہو۔ بہرحال اس نے مصعبؓ کو شہید ہوکر گرنے پر شور مچا دیا کہ میں نے محمد (ﷺ) کو مار لیا ہے اس خبر سے مسلمانوں کے رہے سہے اوسان بھی جاتے رہے اور ان کی جمعیت بالکل منتشر ہو گئی یہ بھی ایک بڑی وجہ ہوئی تھی جو جنگ احد میں مسلمانوں کے جو حوصلہ تھا پست ہونے کی لیکن بہرحال بعد میں اکٹھے بھی ہو گئے۔

رسول اللہ ﷺ جب حضرت مصعبؓ کی نعش کے پاس پہنچے تو ان کی نعش چہرے کے بل پڑی تھی نبی کریم ﷺ نے اس کے پاس کھڑے ہو کر یہ آیت تلاوت فرمائی کہ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عَاہَدُوا اللّٰہَ عَلَیۡہِ فَمِنۡہُمۡ مَّنۡ قَضٰی نَحۡبَہٗ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّنۡتَظِرُ وَ مَا بَدَّلُوۡا تَبۡدِیۡلًا کہ مؤمنوں میں سے ایسے مرد ہیں جنہوں نے جس بات پر اللہ سے عہد کیا تھا اسے سچا کر دکھایا پس ان میں سے وہ بھی ہے جس نے اپنی منت کو پورا کر دیا اور ان میں سے وہ بھی ہے جو ابھی انتظار کر رہا ہے اور انہوں نے ہرگز اپنے طرز عمل میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ حضرت مصعبؓ کے بھائی حضرت ابوروم بن عمیر حضرت سویبط بن سعد اور حضرت عامر بن ربیعہ نے حضرت مصعب ؓ کو قبر میں اتارا۔ شہادت کے وقت حضرت مصعبؓ کی عمر 40 سال یا اس سے کچھ زائد تھی۔

سیرت خاتم النبینؐ میں مرزا بشیر احمد ؓ لکھتے ہیں کہ اُحد کے شہداء میں ایک صاحب مصعب بن عمیرؓ تھے۔یہ وہ سب سے پہلے مہاجر تھے جو مدینہ میں اسلام کے مبلغ بن کر آئے تھے۔زمانہ جاہلیت میں مصعبؓ مکہ کے نوجوانوں میں سب سے زیادہ خوش پوش اوربانکے سمجھے جاتے تھےاوربڑے نازونعمت میں رہتے تھے۔

اسلام لانے کے بعد ان کی حالت بالکل بدل گئی۔چنانچہ روایت آتی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک دفعہ ان کے بدن پرایک کپڑا دیکھا۔ جس پر کئی پیوند لگے ہوئے تھے۔ آپؐ کو ان کا وہ پہلا زمانہ یاد آگیا تو آپؐ چشم پُرآب ہوگئے۔اُحد میں جب مصعبؓ شہید ہوئے تو ان کے پاس اتنا کپڑا بھی نہیں تھا کہ جس سے ان کے بدن کو چھپایا جاسکتا۔ پاؤں ڈھانکتے تھے توسرننگا ہو جاتا تھا اور سر ڈھانکتے تھے توپاؤں کھل جاتے تھے۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ کے حکم سے سرکوکپڑے سے ڈھانک کر پاؤں کو گھاس سے چھپادیاگیا۔

حضور انور نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ جب غزوہ اُحد کے بعد مدینہ لوٹے تو آپؐ کو حضرت مصعب بن عمیرؓ کی بیوی حضرت حمنہ بنت جحشؓ ملیں۔ لوگوں نے انہیں ان کے بھائی حضرت عبداللہ بن جحشؓ کی شہادت کی خبر دی اس پر انہوں نے اِنَّا لِلّٰہ پڑھا اور ان کے لئے مغفرت کی دُعا کی۔ پھر لوگوں نے انہیں ان کے ماموں حضرت حمزہؓ کی شہادت کی خبر دی اس پر انہوں نے اِنَّا لِلّٰہ پڑھا اور ان کے لئے مغفرت کی دُعا کی۔ پھر لوگوں نے انہیں ان کے خاوند حضرت مصعب بن عمیرؓ کی شہادت کی اطلاع دی اس پر وہ رونے لگیں اور بے چین ہو گئیں۔ یہ سن کر حضور ﷺ نے فرمایا کہ واقعی شوہر کا بیوی پر بڑا حق ہے کہ کسی اور کا نہیں مگر تو نے ایسا کلمہ کیوں کہا اس سے پوچھا۔ اس پر انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ۔ مجھے اس کے بچوں کی یتیمی یاد آ گئی تھی جس سے میں پریشان ہو گئی اور پریشانی کی حالت میں یہ کلمہ میرے منہ سے نکل گیا۔ یہ سن کر حضور ﷺ نے مصعب ؓ کی اولاد کے حق میں یہ دُعا کی کہ اے اللہ ! ان کے سرپرست اور بزرگ ان پر شفقت اور مہربانی کریں اور ان کے ساتھ سلوک سے پیش آویں۔ آنحضرت ﷺکی دُعا قبول ہوئی۔

حضور انور نے فرمایا: یہاں حضرت مصعبؓ کا ذکر ختم ہوا۔ انشاء اللہ آئندہ اگلے صحابی کا ذکر ہو گا۔

حضور انور نے فرمایا: آج کل جو وباء پھیلی ہوئی ہے کرونا وائرس، اس کی طرف بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں۔

فرمایا: بعض ہومیو پیتھی دوائیں بتائی تھیں جو علاج کے طورپراور ابتدائی ہیں۔ اس کے قریب قریب جو ممکنہ علاج ہو سکتا تھا تجویز کی گئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس میں شفاء رکھے لیکن اس کے ساتھ احتیاطی تدابیر بھی کریں۔ فرمایا: مسجدکے بھی کچھ حقوق ہیں ،ایسے لوگ جنہیں ٹمپریچر کچھ زیادہ ہے یا نزلہ زکام ہے اور چھینکیں وغیرہ آتی ہوں تو انہیں اس حالت میں مسجد میں نہیں آنا چاہئے تاکہ دوسرے لوگ متاثر نہ ہوں۔ آج کل خاص طور پراور عمومی طور پر بھی رومال رکھیں۔ بعض لوگ اس زور دار آواز سے چھینکتے کہ اس کے چھینٹے دوسرے پر بھی جا پڑ تے ہیں۔ ہاتھ اگرگندے ہیں تو چہرے پر نہ لگائیں۔ ہمارے لئے اگر کوئی پانچ وقت کا نمازی ہے اور وضو بھی کر رہا ہے، ناک صاف ہو رہا ہے تو یہ صفائی کا ایک ایسااعلیٰ میعار ہے جو سنیٹائزر کا بھی محتاج نہیں۔حضور انور نےمساجد کے حقوق کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ خاص طور پر سردیوں میں مسجد میں آنے والوں کو جرابیں روزانہ تبدیل کرنی چاہئیں اور دھونی چاہئیں۔ان کی بد بو نمازیوں کے لئے تکلیف کا باعث بن سکتی ہے۔ ڈکار وغیرہ یا ویسے منہ سے بُو آتی ہے،اس سے باقی نمازیوں کی طبیعت پر گراں گزرتا ہے ۔خوشبو لگا کر آنا چاہئے۔ جسم کی صفائی اور فضا کی صفائی بھی ایک نمازی کے لئے بہت ضروری ہے۔

حضور انور نے فرمایا: مصافحوں سے آج کل پرہیز کرنے کا کہا جا رہا ہے۔ اس لحاظ سے گو تعلق بڑھتا ہے لیکن آج کل پرہیز کرنا ہی بہتر ہوتا ہے۔ جو شور مچایا جاتا تھا کہ مصافحہ نہیں کرتے، جرمنی کی ایک وزیر نے انکار کر دیا مصافحہ کرنے سے کہ یہ روایت ہی نہیں ہم تو سلوٹ کیا کرتے تھے۔ یہاں تک اس نے کہہ دیا کہ عورتوں کو مصافحے کرتے ہیں، انہیں معلوم بھی نہیں کہ عورتوں کو یہ بات پسند بھی ہے یا نہیں، بلاوجہ کر رہے ہوتے ہیں۔ اس بیماری نے اُن کو یاد دلا دیا۔ جب ہم کہتے تھے کہ ہمیں منع ہے اس طرح کرنا لیکن اب اکثر سنا ہے کہ یہ لوگ بڑے رُوڈ طریقے سے انکار کرتے ہیں اور اخلاق کا بھی کوئی پاس نہیں ہے۔ اللہ کرے کہ یہ اصلاح انہیں اللہ کی طرف لے کر جانے والی ہو۔

حضور انور نے فرمایا : اللہ بہتر جانتا ہے کہ اس وباء نے کس حد تک ابھی اور آگے جانا ہے۔ اگر یہ خدا کی ناراضگی کی وجہ سے نازل ہو رہی ہے تو اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے بد اثرات سے بچنے کے لئے اللہ ہی کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر احمدی کو دُعاؤں کی اور روحانی حالت کو بہتر کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور دُنیا کے لئے بھی دُعا کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ دُنیا کو توفیق دے کہ وہ خدا تعالیٰ کو پہچاننے والے ہوں۔

حضور انور نے فرمایا :اس کے بعدمَیں کچھ جنازے غائب بھی پڑھاؤں گا۔ عزیزم تنزیل احمد بٹ ابن مکرم عقیل احمد بٹ، 27 فروری 2020 کو بعمر 11 سال اس بچے کی وفات ہوئی۔ میرے نزدیک یہ ایک شہادت ہے۔ حضور انور نے واقعہ کی تفصیل بیان فرمائی۔ عزیزم تنزیل احمد بٹ اطفال الاحمدیہ کا فعّال رکن تھا۔ ذہین اور نہایت فرماں بردار بچہ تھا۔ ایم ٹی اے باقاعدہ دیکھنے والا تھا۔ نماز کی ادائیگی مسجد میں جا کر کیا کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ ماں باپ کو صبر اور سکون عطا فرمائے اور قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچائے۔

فرمایا: بریگیڈیر بشیر احمدامیر ضلع راولپنڈی 16 فروری کو 87 سال کی عمر میں راولپنڈی میں وفات پا گئے۔ 1952ء میں پاکستان کی ملٹری اکیڈمی کے six long course میں پاک فوج میں کمیشن لیا۔ 1982ء میں فوج سے بحیثیت بریگیڈیئر ریٹائر ہوئے۔ پھر ایک لمبا عرصہ تک اسلام آباد کے پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ کے طور پر ملک کی خدمت کی توفیق پائی۔ اس طرح آپ کو 66 سال تک ملک کی خدمت کی توفیق ملی۔ جماعتی خدمات یہ ہیں کہ 2012ء میں ان کو میں نے جماعت راولپنڈی کا امیر مقرر کیا تھا اور 9فروری 2020ء تک بطور امیر راولپنڈی شہر اور ضلع کی خدمت کی توفیق ان کو ملی۔ 1979ء میں آپ کا تبادلہ راولپنڈی میں ہوا۔16 سال تک نائب امیر اور سیکرٹری تعلیم جماعت احمدیہ راولپنڈی شہر اور ضلع کی خدمات کی توفیق ملی۔ فضل عمر فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر اور مجلس شوریٰ کے متعدد کمیٹیوں کے ممبر رہے۔مرحوم بے حد مخلص ،تقویٰ شعار اور خلافت کے ساتھ سچے وفادار خادم سلسلہ تھے، اخلاص کے ساتھ خدمت دین بجا لاتے تھے۔ ملنسار، شفیق، خدمت خلق کرنے والے اور ضرورتمند کے کام دل جمعی کے ساتھ کیا کرتے تھے۔ انتہائی دھیمے مزاج کے مالک تھے، رحم دل ،کم گو، بہت دُعا گو، عبادت گزار وجود تھے۔ آخر عمر تک آپ کی یادداشت بھی بڑی اچھی تھی۔ آنحضرت ﷺ اور حضرت مسیح موعود ؑ کے عاشق تھے ۔ کتب کا بڑا وسیع مطالعہ تھا ان کا۔ غرباء اور ضرورتمندوں کی فراخدلی اور خاموشی سے مالی اعانت کیا کرتے تھے۔ خصوصاً بیواؤں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے بہت زیادہ فکر مند ہوتے تھے اور ہر وقت مدد کے لئے تیار رہتے تھے۔ کئی افراد اور خاندان آپ کی مستقل مالی اعانت سے مستفید ہو رہے تھے۔ ان کی ایک خاص خوبی تعلق باللہ اور بہت خشوع و خضوع سے نماز ادا کرنا تھا۔ اللہ تعالیٰ مرحوم سے مغفرت اور رحم کا سلوک کرے درجات بلند کرے ان کی اولاد کو بھی ان کی نیکیاں جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

فرمایا: تیسرا جنازہ ہے ڈاکٹر حمید الدین کا جو 121 جب گوکھووال فیصل آباد کے رہنے والے تھے۔ 29 فروری 2020ء کو ان کی وفات ہوئی۔ مرحوم کی پیدائش قادیان میں ہوئی۔ آپ کی والدہ کے حقیقی چچا حضرت مولانا محمد ابراہیم قادیانیؓ حضرت مسیح موعود ؑ کے صحابی تھے۔ تقسیم ہند کے بعد مرحوم کا خاندان فیصل آباد آ کے آباد ہو گیا۔ پیشے کے لحاظ سے ڈسپنسر تھے اور اس حوالے سے ان کو پورے علاقے میں انسانیت کی خدمت کرنے کی توفیق ملی۔ ضرورت مندوں کا مفت علاج کیا کرتے تھے۔ بڑے سادہ مزاج ،متقی، بچپن سے نماز، روزوں کے پابند تھے، شعائراللہ کا احترام کرنے والے تھے۔ خلافت سے محبت کرنے والے ، نہایت شفیق ،متوکل علی اللہ، ایک ایمانداراور دیانتدار انسان تھے۔ جماعت کے مختلف عہدوں پر خدمت کی بھی توفیق پائی انہوں نے۔ ان کے ایک بیٹے کریم الدین شمس مربی سلسلہ آج کل تنزانیہ میں خدمت کی توفیق پا رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ مرحوم سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے ان کے درجات بلند کرے ان کی نسلوں میں بھی وفا کے ساتھ اپنی بیعت کا حق ادا کرنے کی توفیق ان کو عطا فرماتا رہے۔ آمین


پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 7 مارچ 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 9 مارچ 2020

مقبول ترین