• 20 مئی, 2024

کیسے کہوں کہ کر دیا سب کچھ ہے اُس کے نام

فرصت ملی ہے کب مجھے، اب تک پڑے ہیں کام
کیسے کہوں کہ کر دیا سب کچھ ہے اُس کے نام

باقی ہیں وہ جو اَوروں کے پُرسانِ حال ہیں
ساقی نے سب عطا کیے ہیں معرفت کے جام

جاؤ! خدا کے نور کو حاصل کیا کرو
اس شخص سے جو دل کو منوّر کرے مدام

مہمان بن کے آئے تھے رہنے کو چار دن
اب زندگی کی دیکھیے ہونے لگی ہے شام

رونق جہانِ دل کی فقط تیرے دم سے ہے
تیرے بغیر جاناں یہ دنیا ہے ناتمام

میری سنیں تو رات اندھیرے میں کاٹیے
مشعل کا اس کے ذکر سے ہی کیجیے اہتمام

طارؔق! ہیں یوں تو اس جہاں میں آشنا بہت
اب ڈھونڈ ایسا یار کہ ہو جائیں سارے کام

(ڈاکٹر طارق انور باجوہ۔ لندن)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 8 مارچ 2023

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ