• 21 مئی, 2022

جناب پوپ فرانسس کا دورہ مالٹا

جناب پوپ فرانسس کا دورہ مالٹا
جماعت احمدیہ مالٹا کی پروگرام میں شرکت

’’اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہوں کہ اس نے ہمیں مسلمان بنایا اور پھر احمدی مسلمان بنایا۔‘‘

(حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ)

بین الممالک سفر کے دوران رہن سہن، بول چال، ادب آداب، معاشرت، تعلیم و ترقی کے ساتھ ساتھ مذہب کا تقابلی جائزہ ایک لازمی امر ہے۔ حال ہی میں رومن کیتھولک مسیحی برادری کے سب سے بڑے مذہبی رہنما جناب پوپ فرانسس صاحب دو روزہ دورہ پرمالٹا تشریف لائے۔ مختلف طے شدہ پروگراموں میں سے ایک پروگرام عوامی Mass کا بھی تھا جس میں متعدد طرزِ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بھرپور شرکت کی۔

جماعت احمدیہ مالٹا کی پروگرام میں شرکت

جناب پوپ فرانسس صاحب کے مالٹا وزٹ سے قبل مبلغ سلسلہ کی مالٹا کے آرک بشپ صاحب کے ساتھ ملاقات ہوئی جس میں جناب پوپ صاحب کے دورہ کے بارہ میں تبادلہ خیال ہوا نیز جماعت کی طرف سے جناب پوپ صاحب کے دورہ کا خیر مقدم اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔ اس موقع پر جناب آرک بشپ صاحب کو جماعتی لٹریچر بشمول پیارے آقا کی کتاب World crisis and the pathway to peace اور تحائف پیش کئے گئے۔

جناب پوپ فرانسس صاحب کے وزٹ میں اتوار کے روز منعقدہ اجتمائی Mass میں بیس ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی۔ اس پروگرام میں شرکت کے لئے جناب آرک بشپ صاحب کی طرف سے جماعتی وفد کو سٹیج کے سامنے والے حصہ میں چھ نشستیں الاٹ کی گئیں اور پروگرام میں شمولیت کی دعوت دی۔ جماعت احمدیہ مالٹا کے چھ ممبران کو اس پروگرام میں شرکت کا موقع ملا۔

پروگرام میں شمولیت کا مقصد

جماعتی وفد کے ساتھ اس پروگرام میں شمولیت کے دو اہم مقاصد پیش نظر تھے۔ ایک یہ کہ جماعت کی طرف سے دوسرے مذاہب اور ان کے لیڈران کے احترام کا عملی نمونہ پیش کرنا جس کے ذریعے بین المذاہب ہم آہنگی، برداشت اور احترام کو فروغ ملے نیز یہ پیغام دینا بھی تھا کہ جس طرح ہم احمدی مسلمان دوسرے مذاہب کے پیشواؤں کا احترام کرتے ہیں اسی طرح ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا بھی احترام دوسرے مذاہب کے ماننے والوں پر لازم ہے۔ ایک دوسرے کے مذاہب اور مذہبی راہنماؤں کا احترام معاشرے میں قیام امن کے لئے نہ صرف ضروری ہے بلکہ ایک ایسا لازمی جزو ہے کہ جس کے بغیر امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ جماعت کی موجودگی اسلامی تعلیمات کا ایک عملی نمونہ پیش کررہی تھی۔

اسلام بناوٹ اور تصنع سے پاک ایک دائمی اور لازوال زندگی گزارنے کے سنہرے اصول پیش کرتا ہے اور ہمیں اس بات پر نہ صرف یہ کہ فخر ہونا چاہئے بلکہ اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بھی ہونا چاہئے کہ جس نے ہمیں احمدی مسلمان بنایا۔ اور پیارے آقا کا یہ ارشاد ہمارے دلوں میں گھر کرجائے کہ ’’اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہوں کہ اس نے ہمیں مسلمان بنایا اور پھر احمدی مسلمان بنایا۔‘‘

(حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ)

اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے نوجوان اس پروگرام کے بعد اس بات پر مکمل طور پر convince تھے کہ اسلام ہی بہترین مذہب ہے اور اس کا کوئی ثانی نہیں۔ لاریب اس پروگرام میں شمولیت کے بعد حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بیان فرمودہ کلام کی تاثیر میخ کی طرح دل و دماغ میں پیوست ہوگئی اور دل یقین اور حمد سے بھر گیا۔

ہر طرف فکر کو دوڑا کے تھکایا ہم نے
کوئی دیں دین محمدؐ سا نہ پایا ہم نے
کوئی مذہب نہیں ایسا کہ نشاں دِکھلائے
یہ ثمر باغِ محمدؐ سے ہی کھایا ہم نے
ہم نے اسلام کو خود تجربہ کر کے دیکھا
نور ہے نور اُٹھو دیکھو سنایا ہم نے
اور دِینوں کو جو دیکھا تو کہیں نور نہ تھا
کوئی دِکھلائے اگر حق کو چھپایا ہم نے

اس پروگرام کے بارہ میں چند تاثرات

شاملین میں زیادہ تعداد بوڑھے افراد کی تھی۔ کچھ بچے بھی شامل تھے جن کو گھر میں اکیلا نہیں چھوڑا جا سکتا تھا۔ نوجوان مرد و عورت کی تعداد بہت کم تھی۔ حالانکہ قوموں کی اصلاح نوجوانوں کی اصلاح کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ جس قوم کے نوجوان اصلاح کے عمل سے باہر ہوں وہاں قوموں میں کیا مثبت تبدیلی پیدا ہوسکتی ہے۔ کیونکہ آج کے نوجوان کل کے معمار ہوں گے۔ اس پروگرام کے توسط سے زیادہ شدت سے اس امر کی طرف توجہ پیدا ہوئی کہ نوجوانوں کی اصلاح اور تربیت کس قدر اہم اور ضروری ہے۔ اس حوالہ سے حضرت سیدنا المصلح الموعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک ارشاد پیش ہے۔

قوموں کی اصلاح
نوجوانوں کی اصلاح کے بغیر نہیں ہو سکتی

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ میں نے متواتر جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ قوموں کی اصلاح نوجوانوں کی اصلاح کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ نئی نسلیں جب تک اس دین اور ان اصول کی حامل نہ ہوں جن کو خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کے نبی اور مامور دنیا میں قائم کرتے ہیں اس وقت تک اس سلسلہ کا ترقی کی طرف کبھی بھی صحیح معنوں میں قدم نہیں اٹھ سکتا۔ ۔ ۔ ہمیں ان امور کی اصلاح کی فکر کرنی چاہئے اور وہ اصلاح اسی رنگ میں ہوسکتی ہے کہ نوجوانوں کو اِس امر کی تلقین کی جائے کہ وہ اپنے اندر ایسی روح پیدا کریں کہ اسلام اور احمدیت کا حقیقی مغز انہیں میسر آجائے۔ اگر ان کے اندر اپنے طور پر یہ بات پیدا ہوجائے تو پھر کسی حکم کی ضرورت نہیں رہتی۔

(خطبات محمود جلد19 صفحہ194-195)

اس پروگرام میں دعائیں مقامی زبان کی بجائے اطالوی زبان میں تھیں اور ترجمے کا انتظام نہ تھا۔ عوام کو دئیے جانے والے کتابچے مقامی زبان مالٹی یا انگریزی میں نہ تھے۔ حاضرین اسی میں ہی خوش تھے کہ انہوں نے پوپ صاحب کا دیدار کر لیاہے اور دعاوٴں میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ حاضرین کے لئے کوئی نصیحتی وعظ نہ تھا۔ نہ دعاوٴں کے ساتھ حضرت عیسیٰؑ کی زندگی کے سنہری پہلووں پر روشنی ڈالی گئی اور نہ ہی پر امن زندگی گزارنے کے اصول سکھائے گئے۔

حالانکہ اگر غور کیا جائے تو مذہب کا مقصد ہی حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی ہے۔ مذہب کا مقصد تہذیب اور شائستگی، حوصلہ مندی اور بردباری، ہمدردی اور رواداری کے اخلاق پیدا کرنا ہے۔ مذہب کا مقصد صرف ظاہری نہیں بلکہ باطنی ہے۔ مذہب صرف یہ نہیں کہ اچھی تقریبات کرلی جائیں اور ظاہری طور پر اعلیٰ اور عمدہ انتظام ہو بلکہ مذہب کا مقصد انسان کی ایمانی، اخلاقی، معاشرتی اور روحانی تربیت اور اصلاح ہے۔ یہ پروگرام مذہب کی اصل روح اور مغز سے خالی نظر آئے تاہم ظاہری تزئین و زیبائش نہایت عمدہ تھی۔ کیا یہ مذہب کی اصل غرض ہے؟ (مذہب کی اصل اغراض ومقاصد پر علیحدہ مضمون بعد میں قدرے تفصیل کے ساتھ لکھا جائے گا۔)

اس پروگرام کا لب لباب یا نقطہ عروج climax صلیبی مجسمے اور صلیب (جو کہ شرک ہی شرک ہیں) نظر آیا اور اسی پر ساری نظریں مرکوز تھیں۔ مقدس کتاب، تصویر اور صلیبی مجسمے کو اہمیت دی گئی تھی جبکہ مذہب کے اصل معانی و مغز پر کسی کی نظر نہ تھی۔

سب دیں ہیں اِک فسانہ شِرکوں کا آشیانہ
اُس کا ہے جو یگانہ چہرہ نما یہی ہے

اس قدر شرک نظر آیا کہ خداتعالیٰ کا حقیقی چہرہ لوگوں کی آنکھوں سے اوجھل دکھائی دیا۔ مقصد تھا تو صلیب اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مجسمے کا طواف اور اسی سے اپنی تمام مرادوں کوجوڑ لینا۔ اس موقع پر ہم فرزندان توحید کو کثرت کے ساتھ سورہ فاتحہ اور سورہ اخلاص کے ورد کی توفیق ملی اور اس شرک کے ماحول میں ہم اپنے دل و دماغ میں توحید باری تعالیٰ کے دیئے روشن کئے رکھے اور دعاکرتے رہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت دے اور انہیں اپنی حقیقی پہچان کرائے۔ آمین

ایک اور بات جو قابل ذکر ہے وہ یہ ہے اس موقع پر تفصیل کے ساتھ عیسائیت کی مذہبی رسومات دیکھنے کو ملیں۔ رسومات کی بھرمار تھی جب کہ سادہ زندگی گزارنے کی کوئی ترغیب نہ دی گئی تھی۔ عام آدمی کا مذہب کی طرف رجحان بہت کم نظر آیا بلکہ انتظامیہ اور عوام کو سارا زور ان مذہبی رسومات پر تھا جو بہت زیادہ اور پیچیدہ تھیں۔ روحانیت محسوس نہیں ہوئی بلکہ ایک مصنوعی ماحول کا احساس ہوا۔

ان مذہبی رسومات کو دیکھ کر ہمیں ایک بار پھر اسلام کے ساتھ موازنہ کا موقع ملا اور دل پھر خداتعالیٰ کی حمد و ثناء سے لبریز ہوگیا کہ اس نے ہمیں مسلمان بنایا ہے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلیٰ ذَالِکَ۔ اسلام ہمیں پیچیدگیوں کی بجائے سادگی کا درس دیتا ہے۔ اسلام ہمیں قشر اور چھلکے کی بجائے روح اور مغز کا درس دیتا ہے۔ اسلام ہمیں ظاہری پوشاکوں کی بجائے روحانیت، پاکیزگی اور تقویٰ کی چادر اوڑھنے کا حکم دیتا ہے۔ اسلام ہمیں تالیاں بجانے اور میوزک کے تار چھیڑنے کی بجائے خداتعالیٰ کی حمدوثناء اور نعرہ تکبیر بلند کرنے کا ارشاد فرماتا ہے۔

دو پہلو

دو پہلو یعنی عمدہ انتظامات اور فول پروف سیکورٹی ایسے تھے جو بہت متاثر کن تھے اور ہمارے لئے اس میں بہت کچھ سیکھنے کو تھا۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا حکمت اور دانائی کی بات مومن کی گمشدہ چیز ہے۔ جہاں کہیں وہ اسے پاتا ہے وہ اس کا زیادہ حقدار ہوتا ہے۔

(سنن ابن ماجہ کتاب الزھد۔ باب الحکمۃ حدیث:4169)

حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بیان فرماتے ہیں۔ اس میں جہاں یہ واضح فرمایا کہ حکمت کی بات کہیں سے بھی ملے خواہ وہ غیر مذہب والے سے ملے، غریب سے ملے، بچّے سے ملے، تمہارے خیال میں کوئی جاہل ہے، کم پڑھا لکھا ہے اس سے ملے، لیکن یہ دیکھو کہ بات کیا ہے۔ اگر حکمت ہے تو اس کو اپنا لو کیونکہ تم اس کے حقدار ہو۔ اسے تکبر سے رَدّ نہ کرو یا یہ نہ سمجھو کہ جو کچھ مجھے پتہ ہے وہی سب کچھ ہے۔ بلکہ غور کرتے ہوئے اسے اختیار کرو۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ مؤرخہ 14دسمبر 2007)

مندرجہ بالا حدیث اور اقتباس کے مطابق ہم نے مندرجہ بالا دو پہلوؤں سے بہت کچھ سیکھا اور ان امور کو جماعتی پروگراموں میں بھی اپلائی کرنے کی کوشش کی جائے گی اور بہتر ہوگا کہ جلسہ ہائے سالانہ پر سیکورٹی اورحفاظتی نظام کو کسی طرح بھی کمپرومائز نہیں ہونا چاہئے۔ اور کسی بھی غیر متعلقہ فرد کو خواہ ڈیوٹی پر مامور افراد انہیں ذاتی حیثیت میں جانتے بھی ہوں انہیں صرف ذاتی تعلقات کی بناء پر بغیر اجازت آگے نہیں آنے دینا چاہئے اور سیکورٹی رولز کو سختی سے اپلائی کرنا چاہئے۔ اسی طرح کسی فرد کو ذاتی تعلق اور پہچان کی بناء پر کوئی فائدہ نہیں اٹھانا چاہئے بلکہ سیکورٹی کے قواعد و ضوابط کو سختی سے فالو کرنا چاہئے تاکہ تمام امور نہایت نظم و ضبط کے ساتھ آگے بڑھیں اور کسی قسم کی سیکورٹی کمپرومائز نہ ہو۔ گھٹنہ کو اچھی طرح باندھنا چاہئے اور پھر خداتعالیٰ کی ذات پر توکل کرنا چاہئے اور یقینا خداتعالیٰ سے بہتر کوئی محافظ نہیں اور اسی پر ہمارا ایمان و یقین ہے۔ اِنَّ رَبِّیۡ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ حَفِیۡظٌ۔

ذاتی تجربہ

اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے گزشتہ ایک دہائی سے زائد مغربی معاشرہ میں تبلیغ کی توفیق کی سعادت مل رہی ہے۔ اس لئے مغربی معاشرہ اور عیسائیت کو مشاہدہ کرنا کا موقع ملا ہے۔ خاکسار تحدیث نعمت کے طور پراور ذاتی تجربہ کی بناء پر علیٰ وجہ البصیرت یہ بیان کرنا چاہتا ہے اسلام بہترین مذہب ہے۔ اسلام ایک جاودانی مذہب۔ اسلام زندگی گزارنے کا مکمل ضابطہ حیات پیش کرتا ہے۔ اسلام زندگی کے ہر موقع، ہر موڑ، ہر دور اور ہر عمر کے لحاظ سے راہنمائی فرماتا ہے۔

اسلام ہی اصل دین ہے

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ اِنَّ الدِّیۡنَ عِنۡدَ اللّٰہِ الۡاِسۡلَامُ۔ یقیناً اللہ تعالیٰ کے نزدیک حقیقی دین اسلام ہی ہے۔

(اٰل عمران: 20)

آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر میں نے اپنی نعمت تمام کر دی ہے اور میں نے اسلام کو تمہارے لئے دین کے طور پر پسند کر لیا ہے۔

(المائدہ: 4)

پس جسے اللہ چاہے کہ اُسے ہدایت دے اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے۔

(الانعام: 126)

سچا مذہب صرف اسلام ہے

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔ اے تمام وہ لوگو جو زمین پر رہتے ہو! اور اے تمام وہ انسانی روحو جو مشرق اور مغرب میں آباد ہو! میں پورے زور کے ساتھ آپ کو اس طرف دعوت کرتا ہوں کہ اب زمین پر سچا مذہب صرف اسلام ہے اور سچاخدا بھی وہی ہے جو قرآن نے بیان کیا ہے۔ اور ہمیشہ کی روحانی زندگی والا نبی اور جلال اور تقدس کے تخت پر بیٹھنے والا حضرت محمد مصطفی ﷺ ہے۔

(تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد15 صفحہ141)

آپ ؑ مزید فرماتے ہیں۔ میں صرف اسلام کو سچامذہب سمجھتا ہوں اور دوسرے مذاہب کو باطل اور سراسر دروغ کا پتلا خیال کرتا ہوں اور میں دیکھتا ہوں کہ اسلام کے ماننے سے نور کے چشمے میرے اندر بہہ رہے ہیں اور محض محبت رسول اللہ ﷺ کی وجہ سے وہ اعلیٰ مرتبہ مکالمہ الہٰیہ اور اجابت دعاؤں کا مجھے حاصل ہوا ہے جو کہ بجز سچے نبی کے پیرو کے اور کسی کو حاصل نہیں ہو سکے گا۔ ۔ ۔ اور مجھے دکھلایا اور بتلایا گیا اور سمجھایا گیا ہے کہ دنیا میں فقط اسلام ہی حق ہے اور میرے پر ظاہر کیا گیا کہ یہ سب کچھ بہ برکت پیروی حضرت خاتم الانبیاء ﷺ تجھ کو ملا ہے اور جو کچھ ملا ہے اس کی نظیر دوسرے مذاہب میں نہیں کیونکہ وہ باطل پر ہیں۔

(آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد5 صفحہ275-276)

قرآن شریف کو دستور العمل بناؤ

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔ خدا اس شخص سے پیار کرتا ہے جو اس کی کتاب قرآن شریف کو اپنا دستور العمل قرار دیتا ہے اور اس کے رسول حضرت محمد ﷺ کو درحقیقت خاتم الانبیاء سمجھتا ہے اور اس کے فیض کا اپنے تئیں محتاج جانتا ہے پس ایسا شخص خداتعالیٰ کی جناب میں پیارا ہوجاتا ہے۔

(روحانی خزائن جلد23 صفحہ340)

اِسلام سے نہ بھاگو راہِ ہدیٰ یہی ہے
اَے سونے والو جاگو! شمس الضّحٰی یہی ہے
مجھ کو قسم خدا کی جس نے ہمیں بنایا
اَب آسماں کے نیچے دین خدا یہی ہے
دنیا کی سب دُکانیں ہیں ہم نے دیکھی بھالیں
آخر ہوا یہ ثابت دَارُالشّفاء یہی ہے
سب خشک ہو گئے ہیں جتنے تھے باغ پہلے
ہر طرف مَیں نے دیکھا بُستاں ہرا یہی ہے

(رپورٹ: لئیق احمد عاطف و مصور احمد۔ مالٹا)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 7 مئی 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ