• 9 جولائی, 2020

یاجوج ماجوج کی پیشگوئی

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے ۔
قَالُواْ يٰذَا الْقَرْنَيْنِ إِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مُفْسِدُونَ فِى الأَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجاً عَلیٰ أَن تَجْعَلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ سَدّاً۔ (الکہف:95) انہوں نے کہا اے ذوالقرنین یاجوج ماجوج یقیناً اس ملک میں فساد پھیلا رہے ہیں پس کیا ہم (لوگ) آپ کے لئے کچھ خراج اس شرط پر مقرر کر دیں کہ آپ ہمارے درمیان اور ان کے درمیان ایک روک بنا دیں۔

قرآن کریم میں دوسری جگہ یاجوج ماجوج کے پھیلنے کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے حَتّٰى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِّن كُلِّ حَدَبٍ يَّنسِلُونَ۔ وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَإِذَا هِىَ شَاخِصَةٌ أَبْصَارُ الَّذِينَ كَفَرُوْا يٰوَيْلَنَا قَدْ كُنَّا فِى غَفْلَةٍ مِّنْ هٰـذَا بَلْ كُنَّا ظَالِمِينَ۔ (انبیاء:98,97) یعنی جب یاجوج ماجوج کی روک کو ہم دور کر دیں گے اور وہ سمندر کی لہروں پر سے تیزی سے سفر کرتے ہوئے سب دنیا میں پھیل جائیں گے اس کے بعد ہمارا وعدہ ان کی تباہی کے متعلق پورا ہو گااور عذاب آئے گا تب وہ حیران ہو کر کہیں گے کہ ہمیں تو اس عذاب کاخیال تک نہ تھا اور ہم تو دنیا پر ظلم کرتے رہے۔ اب ہماری تباہی میں کیا شک ہے۔

اس آیت میں یہ بھی بتایا گیاہے کہ یاجوج ماجوج مشرق کی طرف کسی دیوار کے رخنہ میں سے نہیں بلکہ سمندر کے راستہ سے آئیں گے اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان کا سمندروں پر قبضہ ہو گا اور سب دنیا کے سمندروں پر ان کے جہاز چلیں گے۔ کیونکہ مِّن كُلِّ حَدَبٍ ٍ کے الفاظ آیت میں استعمال ہوئے ہیں جن کے معنے ہیں کہ سمندر کی سب لہروں پر سے وہ آئیں گے۔ نیز اس آیت میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان کے یہ سفر بڑی جلدی سے طے ہوں گے۔ اس سے دخانی جہازوں کی ایجاد کی طرف اشارہ ہے۔ چنانچہ دیکھ لو یہ پیشگوئی کس طرح حرف بہ حرف پوری ہوئی۔ سمندر ہی کے ذریعہ سے یہ اقوام مشرق میں پھیلیں اور سمندری سفر جس طرح ان کے زمانہ میں جلدی طے ہونے لگا ہے اس کی نظیر پہلے نہیں ملتی۔

(تفسیرکبیرجلد 5زیرآیت سورۃالکہف)

اسی طرح حضرت مسیح موعودؑ براہین احمدیہ میں یاجوج ماجوج کے متعلق فرماتے ہیں۔

ہاں جیسا کہ قرآن شریف میں عیسائیت کے فتنہ کا ذکر ہے ایسا ہی یاجوج ماجوج کا ذکر ہے اور اس آیت میں اُن کے غلبہ کی طرف اشارہ ہے کہ تمام زمین پر اُن کا غلبہ ہو جائے گا اب اگر دجال اور عیسائیت اور یاجوج ماجوج تین علیحدہ قومیں سمجھیں جائیں جو مسیح کے وقت ظاہر ہوں گی تو اور بھی تناقض بڑھ جاتا ہے مگر بائبل سے یقینی طور پر یہ بات سمجھ آتی ہے کہ یاجوج ماجوج کا فتنہ بھی درحقیقت عیسائیت کا فتنہ ہے۔ کیونکہ بائبل نے اس کو یاجوج کے نام پر پکاراہے۔ پس درحقیقت ایک ہی قوم کو بااعتبار مختلف حالتوں کے تین ناموں سے پکارا گیا ہے۔

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص 95)

فلسطین پر یہود کے قابض ہونے کی پیشگوئی

قرآن کریم میں ہے کہ وَقُلْنَا مِن بَعْدِهِ لِبَنِى إِسْرَائِيلَ اسْكُنُوا الْأَرْضَ فَإِذَا جَآءَ وَعْدُ الآخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيفاً۔ (بنی اسرائیل:105) اس میں اسْكُنُواْ الْأَرْضَ سے مراد مصر کی سرزمین نہیں۔ کیونکہ مصر میں تو وہ نہیں آباد ہوئے ،اس سے مراد ملک کنعان ہے یعنی وہ ملک جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا ہے۔ گویا الارض سے مراد معہود ذہنی ہے۔ رسول کریم ﷺ کو موسیٰ علیہ السلام پر یہ فضیلت ہے کہ ان کو جو جگہ ملی وہ مصر کے قائم مقام تھی۔ مصر نہیں ملا۔ رسول کریم ﷺ کو عین وہ جگہ ملی جو آپ کا وطن تھا اورپھر دشمنوں کے ملک بھی ہاتھ آئے۔ فَإِذَا جَآءَ وَعْدُ الآخِرَةِ۔ یعنی اب تم کنعان میں جاؤ۔ لیکن ایک وقت کے بعد تم کو وہاں سے نکلنا پڑے گاپھر خدا تعالیٰ تم کو واپس لائے گا پھر تم نافرمانی کرو گے اور دوسری دفعہ عذاب آئے گا اس کے بعد تم جلاوطن رہو گے۔یہاں تک کہ تمہاری مثیل قوم کے متعلق جو دوسری تباہی کی خبر ہے اس کا وقت آجائے۔ اس وقت پھر تم کو مختلف ملکوں سے اکٹھا کر کے ارض مقدس میں واپس لایا جائے گا۔

اس آیت سے یہ ظاہر ہے کہ جس طرح بنی اسرائیل کے لئے دو تباہیوں کی خبر اس سورت کے شروع میں دی گئی تھی ویسی ہی خبر مسلمانوں کے لئے بھی دی گئی ہے کیونکہ مسلمانوں کو بنی اسرائیل کا مثیل قرار دیا گیا ہے۔ جس سے رسول کریم ﷺ کو موسیٰ کا مثیل قرار دیا گیا ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ سورت کے شروع میں دو وعدوں کا ذکر ہے اور دونوں عذاب کے وعدے ہیں۔ ایک بخت نصر شاہ بابل کے ہاتھوں پورا ہوا اور دوسرا ٹائیٹس شاہ روم کے ہاتھ سے پورا ہوا۔ (دیکھو رکوع اول) ان دونوں وعدوں میں بنی اسرائیل کے اکٹھا کرنے کا ذکر نہیں بلکہ ان کے پراگندہ ہونے کا ذکر ہے۔ اس کے برخلاف اس آیت میں یہ ذکر ہے کہ دوسرے وعدے کے وقت بنی اسرائیل کو پھر ارض مقدس میں لایا جائے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ دوسرا وعدہ کوئی اور ہے اور اس دوسرے وعدے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس دوسرے وعدے کے ساتھ کوئی پہلا وعدہ بھی ہے ۔ اب ہم غور کرتے ہیں تو ان دونوں وعدوں کا ذکر قرآن کریم میں صرف اس طرح ملتا ہے کہ محمد رسول ﷺ کو مثیل موسیٰ قرار دیاگیا ہے۔ اور سورہ فاتحہ میں مسلمانوں کے ایک حصہ کے متعلق خبر دی گئی ہے کہ وہ اہل ِ کتاب کے نقش قدم پر چلیں گے۔ پس ان دونوں باتوں کو ملا کر ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ بنی اسرائیل کی طرح دو عذاب کے وعدے مسلمانوں کے لئے بھی کئے گئے ہیں اور اس جگہ وَعْدُ الآخِرَةِ سے مراد مسلمانوں کے دوسرے عذاب کا وعدہ ہے اور بتایا یہ ہے کہ مسلمانوں پر جب یہ عذاب آئے گا کہ دوسری دفعہ ارض مقدس کچھ عرصہ کے لئے ان کے ہاتھ سے نکل جائے گی تو اس وقت اللہ تعالیٰ پھر تم کو اس ملک میں واپس لے آئے گا۔ چنانچہ دیکھ لو اسی طرح واقعہ ہوا ہے جس طرح بخت نصر کے وقت میں پہلی دفعہ ارض مقدس یہود کے ہاتھ سے نکلی۔ اسی طرح صلیبی جنگوں کے وقت مسلمانوں کے ہاتھ سےنکلی۔ پھر جس طرح موسیٰ سے تیرہ سو سال بعد حضرت مسیح ؑ کے صلیب کے واقعہ کے بعد جبکہ گویا وہ بظاہر اس ملک کے لوگوں کے لئے مر گئے تھے ۔ بنی اسرائیل کو ارض مقدس سے دوبارہ بے دخل کر دیا گیا۔ اسی طرح اس زمانہ میں جبکہ رسول کریم ﷺ کی وفات پر اتنا ہی عرصہ گزرا ہے مسلمانوں کی حکومت پھر ارض مقدس سے جاتی رہی ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم نے فرمایا تھا مسلمانوں کا یہ دوسرا عذاب یہود کے لئے ارضِ مقدس میں واپس آنے کا ذریعہ بن گیا ہے۔

تفسیر فتح البیان کے مصنف اس آیت کے متعلق لکھتے ہیں کہ بعض علماء کے نزدیک وَعْدُ الآخِرَةِ سے اس جگہ مسیح موعود کا نزول مراد ہے۔

گناہوں کی کثرت کی پیشگوئی

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔

وَإِذَا الْجَحِيمُ سُعِّرَتْ (سورۃ التکویر:13) اور جب جہنم کو بھڑکا دیا جائے گا۔

جہنم کے معنی خود آگ کے ہیں۔ پس جو پہلے ہی آگ ہے اس کا بھڑکایا جانا اور بھی خطرناک حالت پر دلالت کرتا ہے یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کہتے ہیں ’’کریلہ اور پھر نیم چڑھا‘‘ جہنم کے بھڑکائے جانے کے ایک معنی تویہ ہیں کہ اس زمانہ میں گناہ کی زیادتی ہو جائے گی کیونکہ جب کوئی مہمان آیا ہوا ہو تو اس کا کھانے پکانے اور ضیافت کرنے کے لئے آگ کو بھڑکایا جاتا ہے ۔پس جہنم جن لوگوں کا گھر ہے اور جن کا نزول واقعہ ہوا ہے جب وہ کثرت سے اس گھر میں جائیں گے تو یہ لازمی بات ہے کہ اس کی آگ بھی بھڑکائی جائے گی پس اس کے ایک معنی یہ ہیں کہ گناہوں کی زیادتی کی وجہ سے اس زمانہ میں دوزخیوں کی تعداد بڑھ جائے گی۔

وَإِذَا الْجَحِيمُ سُعِّرَتْ کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ اس وقت خدا کا ایک نبی آئے گا جس کی مخالفت کی وجہ سے خدا تعالیٰ کا غضب بھڑک اٹھے گا کیونکہ خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُولاً (بنی اسرائیل :16) ہم اس وقت تک لوگوں پر عذاب نازل نہیں کرتے جب تک اپنا رسول بھیج کر ان پر حجت تمام نہ کر لیں۔ پس اس آیت میں ایک لطیف اشارہ اس امر کی طرف بھی ہے کہ اس وقت خدا کا ایک مامور آئے گا کیونکہ جب اس کی طرف سے کوئی مامور آتا ہے تو اس کے آنے کے ساتھ جہاں مومنوں کے لئے رحمت کے دروازے کھلتے ہیں وہاں کفار کے لئے عذاب کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔

پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَإِذَا الْجَنَّةُ أُزْلِفَت

(التکویر:14)

یہ وَإِذَا الْجَنَّةُ أُزْلِفَتْ کا ایک طبعی نتیجہ ہے جو بیان کیا گیا ہے کیونکہ جب گناہ بڑھ جاتے ہیں اور خداتعالیٰ کی طرف لوگوں کی توجہ نہیں رہتی تو اس وقت جنت بھی لوگوں کے قریب کر دی جاتی ہے اور تھوڑی سی محنت اور تھوڑی سی قربانی سے وہ اس کو حاصل کر لیتے ہیں جس زمانہ میں نیکی کی کثرت ہو ۔جنت کا حصول اتنا آسان نہیں ہوتا جتنا اس زمانہ میں جب لوگوں میں عام طور پر بے دینی پائی جاتی ہو۔ کیونکہ اس وقت خدا تعالیٰ کی طرف ادنیٰ توجہ بھی اس کی خوشنودی کا مستحق بنا دیتی ہے۔ اس آیت کے ایک یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ جنت کے حصول کے لئے اس زمانہ کی قربانیاں نسبتاً آسان ہوں گی ۔جہاد بند ہو گا اور اس طرح جانی قربانی کے مواقع پیش نہیں آئیں گے ۔صرف مالی قربانی کر کے وہ جنت کو حاصل کر سکیں گے۔ پہلا زمانہ وہ تھا جب اَلْجَنَّۃُ تَحْتَ ظِلَالَ السَّیُوْفِ (بخاری کتاب الجہاد) کا سبق مومنوں کے سامنے دُہرایا جاتا ہے مگر اِس زمانہ میں تلوار کا جہاد اللہ تعالیٰ کی حکمت کے ماتحت بند ہے اس لئے اب وہ تکالیف برداشت نہیں کرنی پڑتیں جو پہلے زمانہ میں برداشت کرنی پڑتی تھیں۔ اب جہاد بالسیف کے بغیر ہی مالی قربانیوں میں حصہ لے کر جنت مل سکتی ہے۔

اس آیت کے ایک معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ مامور من اللہ کی بیعت کی وجہ سے جنت کا پانا ان سے پہلے لوگوں کی نسبت آسان ہو جائے گا جنہوں نے کسی مامور کا زمانہ نہیں دیکھا۔ آج سے سو سال پہلے ساری عمر بزرگان دین کی صحبت میں گزارکر جو نور حاصل ہوتا تھا وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک نکتۂ معرفت سے انسانی قلب میں پید اہو جاتا ہے پھر جو نشانات اور معجزات اِس وقت ہمارے سامنے ہیں اور جن کے ذریعے ایک زندہ خدا ہمیں نظرآرہا ہے یہ پہلے کہاں تھے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے تازہ الہامات ہمارے ایمانوں میں جو تازگی پیدا کرتے ہیں وہ پہلے زمانہ کے لوگوں کو کہاں نصیب ہوتی تھی۔ پس حق یہی ہے کہ اس زمانہ میں ایک مامور من اللہ کی بعثت اور پھر اُس کی بیعت کی وجہ سے جنت کا حصول پہلے لوگوں کی نسبت بہت زیادہ آسان ہوگیا ہے اور یہی مامورِ زمانہ کی علامت ہوتی ہے کہ اس وقت جنت بالکل قریب کر دی جاتی ہے۔

فرماتا ہے اس دن الہٰی تقدیر خاص طور پر جاری ہو گی اور نتائج اعمال خاص طور پر نکلنے شروع ہوں گے۔مطلب یہ کہ عام زمانہ میں فردی محاسبہ ہوتا ہے جیسا کہ آیت وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُولاً (بنی اسرائیل ع : 16) سے ظاہر ہے اور قومی محاسبہ بڑا سخت ہوتا ہے لیکن قومی محاسبہ ایسی چیز ہے جو سب کو نظر آجاتی ہے کیونکہ اس کا تعلق تمام قوم کے ساتھ ہوتا ہے چنانچہ زلازل اور جنگوں کی کثرت سے اس قومی محاسبہ کے دن کا اب اظہار ہو رہا ہے۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ زلازل سے زمین اس طرح ہلائی جائے گی کہ انسان پکار اٹھے گا مَالَھَا (سورہ زلزال) زمین کو کیا ہو گا کہ عذاب پر عذاب اور تباہی پر تباہی آتی جا رہی ہے۔ چنانچہ عام طور پر یہی احساس لوگوں کے قلوب میں پید اہو رہا ہے کہ یہ خدائی عذاب ہے جو دُنیا پر مسلط ہے اور اس کی طرف سے اب زلازل اور جنگوں کے نتائج قومی طور پر نکلنے شروع ہو جائیں گےاور تقدیر الہٰی دنیا میں خاص طور پر جاری ہو جائے گی۔

(تفسیر کبیر زیر آیت ہٰذا سورہ التکویر)

سائنسی اور دیگر پیشگوئیاں

پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔

وَإِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتْ اور جب آسمان کی کھال اُتار دی جائے گی وَإِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتْ میں آسمان سے مراد چونکہ آسمانی علوم بھی لئے جا سکتے ہیں اس لئے اس آیت کے یہ معنی ہوں گے کہ آسمانی علوم پر سے پردے اٹھا دئیے جائیں گے یعنی اس وقت آسمانی علوم دب گئے ہوں گے اور اُن پر پردے پڑ چکے ہوں گے تب اللہ تعالیٰ ایک ایسے آدمی کو مبعوث کرے گا جو آسمانی علوم کو کھول کر رکھ دے گا اور قرآن کریم کے وہ اسرار جو چھپے ہوئے تھے یا احادیث کے وہ علوم جو مخفی چلے آتے تھے ان سب کو ظاہر کر دے گا۔

دوسرے معنی اس کے یہ ہیں کہ آسمان کی کھال کھینچی جائے گی یعنی علم ہیئت میں حیرت انگیز ترقی ہو گی۔ ہماری زبان میں بھی کہتے ہیں کہ تم تو بال کی کھال اُتارتے ہو جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ تم تو بہت باریکیاں نکالتے ہو۔ چنانچہ اِس زمانہ میں علم ہیئت میں خیال ووہم سے بھی زیادہ ترقی ہوئی ہے اور سیر نجوم اور وسعت عالم اور خلق عالم اور اجرام فلکی وغیرہ کے بارہ میں غیر معمولی علوم کااضافہ ہوا ہے جو گزشتہ ہزاروں سال میں بھی نہ ہوا تھا۔ آج سے سو ڈیڑھ سوسال پہلے جو مہندس اور حساب دان تھے کہ تھوڑے عرصہ کے بعد ہی کیا سے کیا ہو جائے گا۔ پہلے زمانہ میں زیادہ سے زیادہ تین فٹ قطر کی دُوربینیں ہوتی تھیں مگر اب امریکہ میں ایک سو فٹ قطر کی دُوربین ایجاد کی گئی ہے۔ قاعدہ یہ ہوتا ہے کہ دُوربین کا جتنا بھی قطر بڑھتا جاتاہے اتنی ہی اس کی طاقت بڑھتی چلی جاتی ہے۔ کہتے ہیں کہ اس کو دُوربین پر ایک کروڑ ڈالر سے زیادہ خرچ ہوا ہے۔ ہر شخص غور کر سکتا ہے کہ اتنی بڑی دُوربین کتنے سالوں میں تیار ہوئی ہو گی اور اس کے لئے کس قدر ماہرین ساری دُنیا سے جمع کئے گئے ہوں گے۔ بہرحال یہ دُوربین تیار ہوئی اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ علم ہیئت میں حیرت انگیز ترقی ہو گئی۔ دو ستاروں کے باہمی فاصلوں کا اندازہ لگانے کے لئے علم ہیئت والوں کا طریق یہ ہے کہ وہ رفتار نور سے باہمی فاصلے کا اندازہ لگاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ نور کی رفتار فی سیکنڈ 1 لاکھ 86 ہزار سال میل ہے۔ 1 لاکھ 86ہزار کو 60 سے ضرب دیں گے تو ایک منٹ کی رفتار نکل آئے گی پھر اسے24 سے ضرب دیں تو ایک دن کی رفتار نکل آئے گی اور پھر اسے 360 سے ضرب دیں تو ایک سال کی رفتار نکل آئے گی ۔ اس بنیاد پر جب وہ ایک ستارہ کے دوسرے ستارہ کا فاصلہ بتانا چاہیں تو یہ نہیں کہیں گے کہ وہ ستارہ اتنے میل دور ہے بلکہ کہیں گے کہ وہ 20 نوری سال کے فاصلہ پر ہے یا 1000 سال نوری کے فاصلہ پر ہے۔ مطلب یہ کہ ایک سال نوری کا جس قدر فاصلہ بنتا ہے اسے اتنے سالوں سے ضرب دے لو اور پھر خود ہی اندازہ لگا لو کہ اُن میں کتنا فاصلہ ہے ۔ پس دُوربینوں کی ایجاد کے ذریعے ایک تو سیر نجوم میں بہت بڑی ترقی ہوتی ہے پھر اس سے وسعت عالم کے متعلق سابقہ علوم میں بھی بہت بڑی تبدیلی ہوئی ہے۔ گزشتہ زمانہ کا ذکر تو جانے دو جنگ عظیم سے پہلے ہیئت دان 2 ہزار نوری سال عالم کی وسعت سمجھتے تھے مگر پچھلی جنگ کے خاتمہ پر انہوں نے اعلان کیا کہ یہ عالم 12ہزار نوری سال تک پھیلا ہوا ہے اور اب یہ کہتے ہیں کہ اب اس عالم میں اتنی وسعت ہے کہ ہم اس کا اندازہ لگانے سے قطعی طور پر قاصر ہیں اور جو لوگ کچھ اندازے بتاتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ 36 یا 40 ہزار نوری سال تک یہ عالم پھیل گیا ہے اور اب جبکہ میں اس نوٹ کو نظر ثانی کر رہا ہوں پہلے سے بھی اور فاصلہ کے ستاروں کا پتہ لگنے کا اعلان ہوا ہے۔

پھر نئے حساب کے ذریعے انہوں نے اپنی تحقیق میں اس قدر ترقی کر لی ہے کہ وہ کہتے ہیں ہم نے اس سارے عالم کا مرکزدریافت کر لیا ہے جس میں یہ سورج اور چاند وغیرہ ایسے ہی نظر آتے ہیں جیسے ایک چھوٹا سا ذرّہ ہوتا ہے وہ کہتے ہیں اس عالم کے اوپر اور عالم ہے پھر اور عالم اور آخر میں ایک بہت بڑا مرکز ہے جس کے اِرد گرد یہ سب سیارے اور ستارے اور سورج اور چاند وغیرہ چکر کھا رہے ہیں۔ اُن کو اپنی اس تحقیق پر اس قدر ناز ہے کہ ماہرین حساب یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے خدائی کا راز دریافت کر لیا ہے ۔گویا وہ مرکز ان کے نزدیک خدا ہے اور سمجھتے ہیں کہ وہاں سے اللہ تعالیٰ ساری دنیا پر حکومت کر رہا ہے ۔اسی طرح پیدائش عالم کے متعلق پرانے اور موجودہ نظریہ میں بہت بڑا فرق پیدا ہو گیاہے ۔اب ایسے آلے نکل آئے ہیں جن سے شعاعوں کو پھاڑ کر بتا دیا جاتا ہے کہ وہ شعاعیں جن ستاروں سے نکل رہی ہیں اُن میں کون کون سا مادہ ہے کیونکہ ہر شعاع جو کسی ستارہ سے لوٹتی ہے، اس ستارہ کو ساخت دینے والی دھاتوں کا اثر اپنے اندر رکھتی ہے۔ پہلے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ تمام روشنیاں ایک ہی قسم کی ہیں مگر اب ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ہر روشنی الگ قسم کی ہوتی ہے۔ پلاٹینم سے نکلنے والی روشنی کو اگر پھاڑا جائے تو وہ بتا دے گی کہ وہ پلاٹینم سے نکلی ہے۔ اگر ریڈیم سے نکلی ہوئی روشنی کو دیکھا جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ وہ ریڈیم کی ہے۔ غرض ہر روشنی کو پھاڑ کر وہ بتا دیتے ہیں کہ اس کے ساتھ کن کن چیزوں کا تعلق ہے۔ اس علمی ترقی کا یہ فائدہ ہوا ہے کہ سائنسدان بیٹھے ہوئے سورج کی روشنی لیں گے اور اس کا تجربہ کر کے بتا دیں گے کہ سورج میں فلاں فلاں عناصر ہیں ۔ مریخ کی روشنی پھاڑ کر بتا دیں گےکہ اس میں فلاں فلاں عناصر ہیں۔ غرض علم ہیئت میں ایسے عظیم الشان تغیرات ہوئے ہیں کہ اُن کو دیکھ کر حیرت آتی ہے۔

پھر ایک اور انکشاف بھی ہوا ہے جواسلام کی بہت بڑی تائید کرتا ہے۔ پہلے تمام یورپ پر ڈارون تھیوری کا غلبہ تھا۔مگر اب کہا جاتا ہے کہ اس دُنیا کی کُل 48 ہزار سال عمر ہے اور سورج جوں جوں اپنے مرکز کے قریب آتا جاتا ہے اس کی گرمی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے یہاں تک کہ48 ہزار سال پورے ہو جائیں گے تو سورج کی گرمی اتنی شدید ہو جائے گی کہ زمین اور اِردگرد کے تمام سیاروں کو پگھلا کر رکھ دے گی۔ یہ وہی بات ہے جس کا حدیثوں میں ذکر آتا ہے کہ جب قیامت آئے گی تو سورج بالکل قریب ہو جائے گا اور اس کی گرمی زمین کو تباہ کر دے گی غرض علم ہیئت کے ذریعہ آسمان کی کھال اُدھیڑ دی گئی ہے اور اس علم میں ایسی عظیم الشان ترقی ہوئی ہے کہ جس کی مثال پہلے کسی زمانہ میں نہیں ملتی۔

تیسرے معنی اس کے یہ ہیں کہ سماء سے مراد سماوی علوم لئے جائیں۔ اس صورت میں اس آیت کا یہ مطلب ہو گا کہ یہ لوگ دین کو پھاڑ کر رکھ دیں گے اور اس کی ایسی چھان بین کریں گے کہ اپنے خیال میں اس کی کھال اکھیڑ دیں گے۔ چنانچہ دیکھ لو اس زمانہ میں دین کے متعلق ایسی ایسی بحثیں ہوئی ہیں جو پہلے کبھی نہیں ہوئی تھیں ۔پھر ہر مذہب والے نے اپنے اپنے مذہب کا ایسا تجزیہ کیا ہے کہ جس کی کوئی حد نہیں رہی۔ مثلاً بائبل ہے عیسائیوں نے اس کی کھال اُدھیڑ کر رکھ دی ہے اور ثابت کیا ہے کہ فلاں بات موسیؑ کی نہیں بلکہ ہارونؑ کی ہے۔ یا یہ لفظ فلاں زبان کا ہے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں فلاں زبان تھی اس لئے معلوم ہوا کہ یہ لفظ بعد میں ملایا گیا ہے۔غرض ایسا تجزیہ کیا گیا ہے کہ ایک ایک بات کو خود عیسائیوں نے کھول کر رکھ دیا ہے ۔ اس چیر پھاڑ میں اگر کوئی زندہ وجود بچا ہے تو وہ صرف قرآن ہے ۔ ویدوں کے متعلق بھی خود ہندو محققین نے بہت بڑی تحقیقات کی ہیں اور انہوں نے ثابت کیا ہے کہ ویدوں میں فلاں فلاں زبان شامل ہے اور یہ زبان فلاں فلاں سن میں بولی جاتی تھی۔ اسی طرح ویدوں کی تاریخ اور ان کی ترتیب کے متعلق ایسا تجزیہ کیا ہے کہ ان کی کھال اُدھیڑ دی ہے ۔ا س چیر پھاڑ سے صرف قرآن ہی محفوظ رہا ہے اور کوئی کتاب محفوظ نہیں رہی۔ مگر چونکہ پیشگوئی تھی کہ بہرحال آسمانی علوم کی کھال اُتاری جائے گی اور ان کے اسرار کو منکشف کیا جائے گا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کاملہ کے ماتحت اور کتابوں کی چیر پھاڑ کا کام یورپ والوں کے سپرد کر دیا ہے اور قرآنی عُلوم کے انکشاف کا کام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سپرد کر دیا۔ کیونکہ وَإِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتْ کی پیشگوئی نے سب پر چسپاں ہونا تھا مگر باقی کتب کا چونکہ اعزاز مد نظر نہیں تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اُن کو قصابوں کے سپرد کر دیا کہ تم اِن کی کھالیں ادھیڑو اور قرآن کا چونکہ اعزاز مدّنظر تھا اس لئے اسے بجائے غیروں کے ہاتھوں میں دینے کے اپنے ایک برگزیدہ کے ہاتھوں میں دےدیا کہ تم اس کے معارف ظاہر کرو اور اس کے حقائق دنیا پر روشن کرو۔

ہوائی جہاز کی پیشگوئی

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔

وَإِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ قرآن کریم عرب میں نازل ہوا ہے اس لئے قرآن کریم میں عرب کی ضروریات اور اہل عرب کے جذبات کو پہلے مقدم رکھا گیا ہے تا کہ پہلے وہ خود قرآن کریم کو اچھی طرح سمجھ لیں پھر اسے دنیا میں پھیلائیں۔ جو قوم الہام الہٰی کی اولین مخاطب ہوتی ہے اس کے محاورات اور اس کے جذبات وغیرہ کو کلام الہٰی میں مقدم رکھا جاتا ہے کیونکہ اگر وہ اس کلام کو سمجھے گی نہیں تو اُسے پھیلائے گی کس طرح۔ یہ امر یاد رکھنا چاہئے کہ عرب میں سواری اور غذا دونوں چیزیں اونٹ سے وابستہ تھیں۔ اونٹ ہی پر وہ سواری کرتے تھے اور اونٹنی کا دودھ ہی غذا کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ اس طرح اونٹ کا گوشت کھایا کرتے تھے اور ان تینوں باتوں کے لحاظ سے دس ماہ کی گھابن اونٹنی خواہ وہ بچہ جَن چکی ہو یا بچہ جننے والی ہو ان کی نگاہ میں بہت بڑی وقعت رکھتی تھی، اس لئے کہ بچہ جننے والی نہ صرف خود سواری کے قابل ہوتی تھی بلکہ اس کے متعلق یہ امید بھی ہوتی تھی کہ اس کا جو بچہ پیدا ہو گا وہ بھی سواری کے یا غذا کے کام آئے گا۔ پھر اونٹنی کا دودھ پیتے تھے اور دودھ کے لحاظ سے بھی دس ماہ کی گھابن اونٹنی کو وہ بہت قیمتی سمجھتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ عنقریب بچہ دے گی اور ہم اس کا دودھ خوب پئیں گے۔ پھر وہ گوشت کھایا کرتے تھے اس لحاظ سے دس ماہ کی گھابن اونٹنی بہت اعلیٰ خیال کی جاتی تھی کیونکہ چھوٹے بچے کا گوشت بہت اچھا ہوتا ہے۔ پشاور کی تجارت کا ایک بہت بڑا حصہ دُنبہ کے بچے کے گوشت سے وابستہ ہے۔ وہ دو ماہ کا دُنبہ ذبح کر کے اس کا گوشت بیچتے ہیں اور لوگ دُور دُور سے اس دُنبہ کا گوشت چکھنے پشاور جاتے ہیں۔ بکری کے چھوٹے بچے کا گوشت بھی بہت مزیدار ہوتا ہے ۔غرض وہ ایسی اونٹنی کوبہت قیمتی سمجھتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ ہم اونٹنی کا دودھ پئیں گے اور بچے کا گوشت کھائیں گے لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَإِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ ایک زمانہ آنے والا ہے جب ایسی اونٹنیاں بیکار چھوڑ دی جائیں گی جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے لغت کے لحاظ سے عطل کے معانی یہ ہوئے کہ کسی چیز کو ضائع ہونے کے لئے چھوڑ دیا اس سے کسی قسم کا واسطہ نہ رکھا جائے۔ اس لحاظ سے عُطِّلَتْ کے دو ہی معنی ہو سکتے ہیں کہ (1) اونٹ کو بیکار کرنے والی سواریاں نکل آئیں گی جس سے ایسی اونٹنیوں کی قیمت بھی کہ دس ماہ سے گھابن ہوں اور جلد بچہ دینے والی ہوں گر جائے گی اور لوگ ان کو چھوڑ دیں گے (2) یا یہ کہ اس قدر تیز سواریاں نکل آئیں گی کہ ان کی وجہ سے جنی ہوئی اورجننے کے قریب پہنچی ہوئی اونٹنی کی قدر پہلے جیسی نہ رہے گی چنانچہ ہم دیکھتے ہیں اس زمانہ میں یہ دونوں باتیں پوری ہو چکی ہیں۔ سواری کے لئے دخانی جہاز،ریل، موٹر اور ہوائی جہاز ایجاد ہو چکے ہیں اور ان کئی ایجادات کی وجہ سے عرب جہاں اونٹوں پر سفر کیا جاتا تھا وہاں اب موٹروں پر سفر کیا جاتا ہے۔ جب شروع شروع عرب میں موٹریں جاری کی گئیں تو بدوؤں نے بغاوت کر دی کہ اس طرح ہماری تجارت کو نقصان ہو گا آخر موٹریں ہی جاری رہیں اور اونٹوں کی سواری متروک ہو گئی چنانچہ اب مکہ میں جانے والے موٹروں پر سفر کر کے ہی جاتے ہیں۔ مولوی ثناء اللہ نے ایک دفعہ اعتراض کیا تھا کہ مکہ میں اب تک تو ریل نہیں گئی حالانکہ ریل کیا اور موٹر کیا مطلب تو یہ تھا کہ اونٹ کی سواری جاتی رہے گی اور اس کی بجائے ایسی نئی سواریاں نکل آئیں گی جن کو لوگ زیادہ ترجیح دیں گے چنانچہ موٹروں نے اونٹ کی سواری کی اہمیت بالکل ختم کر دی ہے۔

اس پیشگوئی کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ ایسے تیز رفتار جہاز پیدا ہو جائیں گے کہ جن کی وجہ سے ہر قسم کی سبزی ترکاری عرب میں پہنچنے لگ جائے گی۔ چنانچہ پیشگوئی کا یہ حصہ بھی پوراہوا۔ وہ قوم جس کی غذا ہی اونٹ کا دودھ اور اس کا گوشت تھا اب اس کو دُنبے کا گوشت بھی میسر آرہا ہے، سبزیاں اور ترکاریاں بھی مل رہی ہیں اور اسے اونٹ کا دودھ یا اس کا گوشت کھانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی اونٹ کا دودھ آخر ضرورت کے ماتحت ہی پیا جاتا تھا یہ تو نہیں کہ وہ کوئی مزیدار شے ہے۔ میں نے خود اس کو پی کر دیکھا ہے ایسا بد مزہ ہوتا ہے کہ اس کے پینے سے قے آتی ہے۔ جس شخص کو کھانے کے لئے اور کچھ نہ ملے وہ بے شک یہ دودھ پی سکتا ہے مگر جسے وہ چیزیں کھانے کے لئے مل جائیں وہ اونٹنی کا دودھ کیوں پیئے گا۔ اسی طرح اونٹ کا گوشت بھی بڑا سخت ہوتا ہے اورگو عرب لوگ اسے کھایا کرتے تھے مگر جب انہیں دُنبہ کا گوشت کھانے کو مل جائے تو وہ اونٹ کا گوشت کیوں کھائیں اور جب سبزی ترکاری انہیں میسر آجائے تو اونٹنی کے دودھ کی طرف کیوں رغبت کریں۔ یہی بات اس آیت میں بیان کی گئی تھی کہ نقل و حرکت کے سامان اس قدر کثرت سے نکل آئیں گے اور تیز رفتار سواریاں ایجاد ہو جائیں گی کہ ہر چیز عرب میں پہنچنے لگ جائے گی اس وجہ سے نہ اونٹ کی سواری کی کوئی اہمیت رہے گی اور نہ اونٹنی کے دودھ اور اس کے بچہ کے گوشت کی قدر رہے گی۔ ہم دیکھتے ہیں عرب میں پان بھی پہنچ گیا ہے حالانکہ عرب کا پان سے کوئی تعلق نہیں لیکن جہازوں میں بھی لد کر اب پان عرب میں پہنچنے لگ گیا ہے اور ہندوستانی تو الگ رہے بعض عرب بھی شوق کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح اور کئی قسم کا سامان خورونوش جو پہلے عرب کے واہمہ میں بھی نہیں آسکتا تھا اب وہاں آسانی سے پہنچ رہا ہے اور اس طرح اونٹ کے دودھ اور اس کے گوشت کی ضرورت بہت کم ہو گئی ہے اور روز بروز کم ہوتی جائے گی یہاں تک کہ اونٹ کی ضرورت وہاں اسی طرح رہ جائے گی جس طرح دوسرے ملکوں میں ہے اور پہلی سی بات اب نہیں رہی آئندہ اور بھی تبدیل ہو جائے گی۔

پریس اور کتب کی پیشگوئی

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔

وَإِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ اور جب کتابیں پھیلا دی جائیں گی۔

وَإِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ کے پہلے معنے یہ تھے کہ صحیفے پھیلائے جائیں گے۔ یہ پیشگوئی اس طرح پوری ہوئی کہ کتابوں اور اخبارات کی اشاعت کے لئے مطابع نکل آئے ہیں۔ پھر ریل گاڑیاں ایجاد ہو چکی ہیں جن سے شائع شدہ اخباریں اور کتابیں سارے جہان میں پھیل جاتی ہیں دنیا میں پچاس پچاس لاکھ روزانہ چھپنے والے اخبارات موجود ہیں۔ اسی طرح کتابیں چھپتی ہیں تو دس دس بیس بیس لاکھ نسخہ ایک ایک کتاب کا نکل جاتا ہے۔یہی خبر اس آیت میں دی گئی تھی کہ صحیفے پھیلا دئیے جائیں گے۔

دوسرے معنی اس کے یہ تھے کہ صحیفے کھولے جائیں گے۔ یہ پیشگوئی بھی پوری ہو چکی ہے کیونکہ کتابوں کے پڑھنے کا رواج موجودہ زمانہ میں بڑھ گیا ہے۔پھر بڑی بڑی لائبریریاں کھل گئی ہیں جہاں لوگ آتے ہیں اور کتابیں وغیرہ پڑھتے رہتے ہیں اور جو لوگ لائبریریوں کے ممبر ہوتے ہیں وہ اپنے گھر پر بھی اُن کتابوں کو پڑھنے کے لئے لے جاتے ہیں ۔غرض کتابیں بجائے بند رہنے کے کھل گئی ہیں اور علم کا چرچا دنیا میں چاروں طرف ہو گیا ہے۔پھر یہ پیشگوئی اس رنگ میں بھی پوری ہوئی ہے کہ بڑی بڑی پرانی لائبریریاں آثار قدیمہ والوں نے نکال کر رکھ دی ہیں ۔بخت نصرکی لائبریری جو اینٹوں پر لکھی ہوئی تھی وہ سب کی سب نکال لی گئی ہے اور اس طرح مردہ صحیفوں کو بھی زندہ کر دیا گیا ہے۔ گویا وہ کتابیں جن کو لوگ بھول چکے تھے اور جو عملی طور پر بالکل متروک ہو چکی تھیں آثار قدیمہ والے ان کو بھی کھود کھود کر نکال رہے ہیں اور لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں ۔اسی طرح مصر میں فرعون موسیٰ سے پہلے کے آثار نکال کر ان کو پڑھا جا رہا ہے۔مصریوں کی پرانی زبان جو ہیلو گرافی کہلاتی تھی بالکل مٹ گئی تھی مگر آثار قدیمہ والوں نے اپنی عمر صرف کر کے آخر اس زبان کا پتہ لگا لیا ۔چنانچہ وہ ان آثار کو پڑھ کر یہ بتا دیتے ہیں کہ موسیٰ سے 2 ہزار سال پہلے یہ ہوا اور 3 ہزار سال پہلے یہ ہوا۔غرض مردہ صحیفے اس زمانہ میں زندہ کئے جا رہے ہیں اور إِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ کی پیشگوئی بڑی صفائی سے پوری ہو رہی ہے۔

چڑیا گھروں کی پیشگوئی

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَاِذَ الْوُحُوْشُ حُشِرَتْیہ بھی ایک زبردست پیشگوئی ہے جو موجودہ زمانہ میں پوری ہوئی ۔اس میں یہ بتایا گیا تھا کہ ایک زمانہ میں وحشی جانور جمع کئے جائیں گے۔ چنانچہ دیکھ لو آجکل چڑیا گھروں میں جس قدر وحشی جانور اکٹھے کئے گئے ہیں۔ اس کی مثال پہلے زمانوں میں کہاں ملتی ہے۔ کوئی صوبہ اور کوئی ملک ایسا نہیں جہاں کوئی چڑیا گھر نہ ہو اور اس میں وحشی جانوروں کو اکٹھا نہ کیا گیا ہو۔ پہلے زمانہ میں شاید ساری دنیا میں بھی ایک مقام ایسا نہیں مل سکتا جہاں اس طرح جانور اکٹھے کئے گئے ہوں مگر اب کوئی ملک ایسا نہیں جس میں چڑیا گھر نہ ہو اور پھر اس بارہ میں ملکوں اور صوبوں کی آپس میں رقابت پائی جاتی ہے اور ہر ملک یہ چاہتا ہے کہ وہ دوسروں سے زیادہ وحشی جانور اکٹھا کرے۔ یہ تو چڑیا خانوں کا حال ہے جہاں زندہ وحشی جانور اکٹھے ہوتے ہیں۔ عجائب گھروں میں مردہ جانوروں کی کھالوں میں بھوسہ بھر بھر کر ان کو رکھا جاتا ہے کہ لوگ آئیں اُن کو دیکھیں اور اپنی معلومات میں اضافہ کریں۔ اسی طرح علم حیات کی تحقیقات کے لئے سائنٹفک ریسرچ انسٹیٹیوشن (Research Instituion) میں مردہ جانوروں کے لاشے اور ان کے ڈھانچے لا لا کر جمع کئے جاتے ہیں اور دیکھا جاتا ہے کہ یہ ڈھانچے کتنے سال کے ہیں یا کتنا زمانہ اِن پر گزر چکا ہے یا اُن کی مختلف حالتوں کو دیکھنے اور دوسروں کو یاد کرانے کے لئے اُن ڈھانچوں پر غور کیا جاتا ہے۔ غرض چڑیا گھروں کے لحاظ سے اور کیا علم تحقیق کے لحاظ سے اس پیش گوئی کی صداقت پوری طرح ثابت ہے اور جس طرح موجودہ زمانہ میں وحشی جانوروں کو زندہ یا مردہ اکٹھا کیا گیا ہے اس کی مثال پہلے کسی زمانہ میں نہیں ملتی۔

(تفسیر کبیر سورۃ التکویر)

بحری جہازوں اور نہروں کی پیشگوئی

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَاِذَ االْبِحَارُ سُجِّرَتْ اور جب دریاؤں (کے پانیوں) کو (نکال کر دوسری طرف) بہایا جائے گا۔

دریاؤں کا پھاڑنا دو طرح ہو سکتا ہے اول اس طرح کہ اس کا پانی کسی اور طرف لے جایا جائے ۔دوسرے اس طرح کہ اس میں کوئی اور پانی ملا دیا جائے ۔ پس اس آیت کے یہ معنے ہوئے کہ یا تو دریا نہریں نکال نکال کر خشک کر دئیے جائیں گے یا دریاؤں میں اور پانی ملا کر اُن کو اور بڑھا دیا جائے گا یہ دونوں نظارے آج کل دنیا میں نظر آتے ہیں ۔چنانچہ کئی دریا ایسے ہیں جن میں سے نہریں نکال نکال کر اُن کو خشک کر دیا گیا ہے اور کئی دریا ایسے بھی ہیں جن میں دوسرے دریاؤں کا پانی ملا کر اُن کو وسیع کر دیا گیا ہے ۔ہمارے ملک میں دریاؤں کو جہاز رانی کے قابل نہیں سمجھا گیا لیکن یورپ میں اس کا بڑا رواج ہے اور وہ دریاؤں کو درست کر کے اندرون ِ ملک میں بھی جہاز چلاتے ہیں تا رسل و رسائل میں آسانی رہے ۔اب تک کے تجربہ سے یہی ثابت ہوا ہے کہ ریل نقل و اسباب کے لحاظ سے مہنگی ہے لیکن جہاز سستا ہے اس وجہ سے یورپین لوگ تجارت کے لئے جہازوں سے زیادہ کام لیتے ہیں اور جہاں دریا سمندر میں ملتے ہیں اس علاقہ کو صاف اور ہموار کر کے دریا کو جہاز رانی کے قابل بنا دیتے ہیں جس کی وجہ سے تیس تیس چالیس چالیس پچاس پچاس بلکہ بعض جگہ سو سو میل تک وہ اندرون ملک میں جہاز لے جاتے ہیں اور اس طرح اُن کو تجارت میں بہت آسانی رہتی ہے ۔ہمارے ملک میں اس کا رواج نہیں لیکن وہاں اِس کا کثرت سے رواج ہے اور پھر یہ بھی ہو رہا ہے کہ دریاؤں میں نہریں نکالی جاتی ہیں بلکہ بعض جگہ وسیع نہریں نکالنے کے لئے ایک دریا کا پانی دوسرے دریا کے پانی میں ملا دیتے ہیں اور اس طرح بحار کی تسجیر عمل میں آرہی ہے ۔

وَاِذَ االْبِحَارُ سُجِّرَتْ کے یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ عالم جاہل ہو جائیں گے اور ان کا علم مفقود ہو جائے گا کیونکہ بحر کے ایک معنے عالم کے بھی ہیں اور چونکہ بحر کے معنے بحارالماء الملح کے بھی ہیں یعنی صرف دریا نہیں مراد بلکہ اس کے معنے سمندر کے بھی ہیں اس لئے اس آیت کے یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ سمندر آپس میں ملا دئیے جائیں گے جیسے نہر سویز کے ذریعہ قلزم اور روم کو نیز نہر پانامہ کے ذریعہ سے دو امریکن سمندروں کو آپس میں ملا دیا گیا ۔

(تفسیر کبیر سورۃ التکویر)

(چوہدری نثار احمد)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 8 جون 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 9 جون 2020ء