• 20 جون, 2021

زمین کے تم ستارے بن جاؤ (مسیح موعودؑ)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے متبعین کے حق میں دعا کرتے ہوئے لکھا کہ:
’’اب میں … دعا کرتا ہوں کہ یہ تعلیم میری تمہارے لئے مفید ہو اور تمہارے اندر ایسی تبدیلی پیدا ہو کہ زمین کے تم ستارے بن جاؤ اور زمین اس نور سے روشن ہو جو تمہارے رب سے تمہیں ملے‘‘

(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد19 صفحہ85)

یہ دعا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسلام نے اپنی اس معرکہ آراء کتاب میں جماعت احمدیہ کی بنیادی تعلیم تحریر فرماکر (جو الگ سے تین اداریوں میں دی جا رہی ہے) آخر پر تا قیامت آنے والے متبعین کو دی ہے۔ دوسری طرف ہمارے بہت ہی پیارے آقا و مولیٰ خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہؓ کے متعلق فرمایا کہ: أَصْحَابِي كَالنُّجُوْمِ بِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ ۔

(جامع بیان العلم وفضلہ لابن عبد البر 895 و الشفاء باحوال المصطفی للقاضی عیاض)

کہ میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں آپ ان میں سے جس کی پیروی کرو گے ہدایت پا جاؤ گے۔

بعض روایات میں اس ارشادسے قبل حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے نام آتے ہیں کہ ان کی پیروی کرو کیونکہ میرے اصحاب ستاروں کی طرح ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی جماعت کو صحابہ جیسانمونہ اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
’’میں تمہیں بار بار یہی نصیحت کرتا ہوں کہ تم ایسے پاک صاف ہو جاؤ جیسے صحابہ نے اپنی تبدیلی کی۔ انہوں نے دنیا کو بالکل چھوڑ دیا گویا ٹاٹ کے کپڑے پہن لئے اسی طرح تم اپنی تبدیلی کرو ۔‘‘

(ملفوظات جلد3 صفحہ264 حاشیہ)

پھر فرمایا
’’آخَرِیْنَ مِنْہُمْ کہہ کر جو خدا تعالیٰ اس جماعت کو صحابہ سے ملاتا ہے تو صحابہ ؓ کا سا اخلاص اور وفاداری اور ارادت ان میں بھی ہونی چاہیے۔ صحابہ نے کیا کیا جس طرح پر انہوں نے خدا تعالی کےجلال کے اظہار کو دیکھا اسی طریق کو انہوں نے اختیار کر لیا یہاں تک کہ اس کی راہ میں جانیں دے دیں وہ جانتے تھے کہ بیویاں بیوہ ہوں گی۔ بچے یتیم رہ جائیں گے۔ لوگ ہنسی کریں گے مگر انہوں نے اس امر کی ذرا پروا نہ کی انہوں نے سب کچھ گوارا کیا مگر اس ایمان کے اظہار سے نہ رکے جو وہ اللہ اور اس کے رسول پر لائے تھے۔ حقیقت میں ان کا ایمان بڑا قوی تھا اس کی نظیر نہیں ملتی۔‘‘

(ملفوظات جلد3 صفحہ292 حاشیہ)

قبل اس کے کہ اس مضمون کو مزید آگے بڑھایا جائے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ نظام فلکی میں سورج ،چاند اور ستاروں کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالی جائے۔ نظام فلکی میں ہر چھوٹا سیارہ اپنے سے بڑے سیارے سے روشنی لے کر روشن ہوتا هے جیسے ستارہ چاند سے اور چاند سورج سے۔ یہی نظام روحانی دنیا میں بھی پایا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سرور کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو سورج قرار دیا ہے۔ اس زمانے کے چاند حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہیں جو براہ راست سورج یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے روشنی لیکر شمسی توانائی کو آگے پہنچا رہے ہیں ۔اور صحابہ جو توانائی لے کر روشن ہوتے ہیں وہ چاند سے روشنی لیتے ہیں۔ یہاں یہ حقیقت بھی غورطلب ہے سورج دن کو روشن ہوتا ہے جبکہ چاند اور ستارے رات کو ۔ گزشتہ وقتوں میں جب دنیا نے ترقی نہ کی تھی اور راستوں کی تلاش اور ان کی سمت متعین کرنے کے لیے کوئی آلے جیسے نیویگیشن یا ویوز نہیں بنے تھے۔ لوگ تاروں کی مدد سے راستے تلاش کرتے اور اپنی سمت متعین کیا کرتے تھے۔اور اس میں یہ بھی سر (راز) ہے کہ آخری زمانے میں دنیا رات کی مانند ہو گی۔ جس میں لوگ روحانی چاند اور روحانی ستاروں سےمدد لے کر راہ ہدایت تلاش کریں گے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ’’اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور بروزی رنگ میں ہوا ہے اور ایک جماعت صحابہ کی پھر قائم ہوئی ہے‘‘

(ملفوظات جلد2 صفحہ514)

پھر آپؑ نے فرمایا۔
’’صحابہ کی جماعت اتنی ہی نہ سمجھو جو پہلے گزر چکے ہیں بلکہ ایک اور گروہ بھی ہے جس کا اللہ تعالی نے قرآن شریف میں ذکر کیا ہے وہ بھی صحابہ ہی میں داخل ہیں۔ جو احمد کے بروز کے ساتھ ہوں گے چنانچہ فرمایا ہے وَآخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ (الجمعہ آیت 4) یعنی صحابہ کی جماعت کو اس قدر نہ سمجھو بلکہ مسیح موعودؑکے زمانہ کی جماعت بھی صحابہؓ هی ہوگی۔‘‘

(ملفوظات جلد2 صفحہ72)

پھر آپ نے ایک موقع پر صحابہ رسول کے رنگ سے اپنے آپ کو رنگین کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا۔
’’صحابہ ؓکرام کی حالت کو دیکھوکه انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہنے کے لئے کیا کچھ نہ کیا اور جو کچھ انہوں نے کیا اسی طرح پر ہماری جماعت کو لازم ہے کہ وهی رنگ اپنے اندر پیدا کریں۔‘‘

(ملفوظات جلد2 صفحہ32, 33)

صحابہؓ رسولؐ کی سیرت و سوانح اور شمائل پر اکثر بات ہوتی رہتی ہے ۔ ہمارے پیارے آقا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے صحابہؓ کی سیرت اور شمائل پر خطبات کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ جن میں صحابہ کی قربانیوں اور اپنے آقا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کامل وابستگی کے ایمان افروز واقعات شامل ہوتے ہیں۔ آج کل سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سیرت پر خطبات جاری ہیں اور پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سیرت بیان ہوگی۔ ان شاء اللہ ۔اور یہی وہ اجل صحابہ ہیں جن کی پیروی کرنے کی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔ جن کی قربانیوں کی بدولت تمام صحابہ ؓ کو ستارے قرار دے کر ان سے ہدایت اور رہنمائی لینے کی تلقین ملتی ہے۔ اس لیے ہم پر لازم ہے کہ ہم صحابہؓ کی اقتداءمیں اپنے آپ کو ان حسین اعمال و افعال سے مزین کریں جن سے وہ صحابہؓ مزین تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے رضی اللہ عنہم و رضواعنہ کا مبارک سرٹیفکیٹ عطا فرمایا۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی فرما رکھا ہے۔

مبارک وہ جو اب ایمان لایا
صحابہؓ سے ملا جب مجھ کو پایا
وہی مے ان کو ساقی نے پلا دی
فسبحان الذی اخزی الاعادی

یعنی ہم صحابہؓ جیسا کردار اختیار کریں گے ان کا رنگ چڑھائیں گے۔ محبت و عشق کی مئے پئیں گے جو صحابہؓ نے پی تو اخزی الاعادی دیکھنے کو ملے گا۔ یعنی ہمارا دشمن ذلیل اور رسواگا۔

(ابو سعید)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 8 جون 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 9 جون 2021