• 20 جون, 2021

تبلیغ میں پریس اور میڈیا سے کس طرح کام لیا جاسکتا ہے (قسط 28)

تبلیغ میں پریس اور میڈیا سے کس طرح کام لیا جاسکتا ہے
ذاتی تجربات کی روشنی میں (قسط 28)

’ڈیلی بلٹن‘ نے اپنی اشاعت 21 مئی 2006ء صفحہ A-23 پر Opinion میں خاکسار کا انگریزی میں ایک مضمون شائع کیا ہے جس کا عنوان ہے: ’’لفظ جہاد کی اصل حقیقت اور معانی کو غلط سمجھا گیا ہے‘‘ اخبار نے خاکسار کا یہ مضمون مہمان کالم نگار کے حوالہ سے خاکسار کی تصویر اور مضمون کےساتھ شائع کیا ہے آخر میں نام، مسجد کا پتہ بھی لکھا ہے۔ مضمون کا خلاصہ یہ ہے:
جہاد کے اصل معنی کو سمجھنے میں بہت لوگوں نے غلطی کھائی ہے۔ اگرچہ قرآن نے مسلمانوں کے لئے جہاد کو لازمی قرار دیا ہے لیکن لوگوں کا خون بہانے اور بلاوجہ زمین میں فساد پیدا کرنا بھی کوئی جہاد ہے؟ یہ بالکل جہاد نہیں ہے یہ عربی کا لفظ ہے جس کے معانی انتہائی کوشش کے ہیں۔ مغرب میں یہ تاثر ہے کہ اسلام دہشت گردی کو فروغ دیتا ہے حالانکہ لفظ اسلام ہی اس بات کی نفی کرتا ہے۔ اس بات کو کہ اسلام دہشت گردی سکھاتا ہے۔ دو وجوہات کی بناء پر سچ سمجھا گیا ہے۔ ایک تو غیرمسلموں کا اسلام کے بارے میں تعصب ہے دوسرے خود مسلمانوں کے عمل نے انہیں ایسا سوچنے پر مجبور کیا ہے۔ مسلمانوں نے اب تک جو جہاد کی تعریف کی ہےاور مسلمانوں کا اپنا خود رویہ ایسا ہے اس سے انہوں (مغرب) نے یہ سمجھا ہے کہ اسلام دہشت گردی کو سراہتا ہے۔ حالانکہ اسلام میں اس بات کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ آنحضرت ﷺ امن کے شہزادے تھے۔ آپؐ نے تو اپنے خون کے پیاسوں کو امن دیا اور ان سے حسن سلوک فرمایا۔ اگر ایسا ہے کہ ایک طرف اسلام خون بہانے اور فساد برپا کرنے کے خلاف ہے اور دوسری طرف مسلمانوں کا عمل یہی ہے تو پھر تضاد کیا ہے؟ اس کی پھر حقیقت کیا ہے؟ قرآن کریم 25:53 میں فرماتا ہے وَجَاہِدْہُمْ بِهٖ جِہَاداً کَبِیْراً کہ اس کے ذریعہ (یعنی قرآن کے ذریعہ) جہاد کر۔ یعنی قرآن کی خوبصورت تعلیم دنیا میں پھیلاؤ اور اپنے عملوں کے ساتھ ثابت کرو۔ یعنی اپنی اصلاح کرو اور تزکیہ نفس کرو یہ اس وقت کا سب سے بڑا جہاد ہے۔ گویا موجودہ وقت میں جو زہریلے اثرات ہیں ان سے بچنے کے لئے ہر وقت جہاد کرنے کی ضرورت ہے۔ قرآن کریم میں اس کا ذکر یوں ہے وَجَاہِدُوْا فِی اللّٰہِ حَقَّ جِہَادِہٖ (22:79)

ایک اور جہاد کی قسم یہ ہے کہ اپنے دفاع میں کیا جائے۔ جیسا کہ قرآن شریف سورۃ بقرہ میں ہے کہ خدا کی راہ میں ان لوگوں کےساتھ لڑائی کرو جو تمہارے خلاف لڑائی کر رہے ہیں۔ مذہبی جنگ اسی وقت ہو سکتی ہے اگر مدمقابل بھی تمہیں مذہبی ظلموں کا نشانہ بنائے۔ اب قرآن کریم کی مندرجہ بالاتعلیمات کی روشنی میں قرآن کو مورد الزام ٹھہرانا کسی طو رپر بھی مناسب نہیں ہے۔

آپ کو چاہئے کہ مذہب کو سیاست سے بالکل الگ کر کے دیکھیں۔ سیاست میں بھی عدل اور انصاف سے کام لیں۔ اس وقت جو اسلام پر اعتراضات کئے جارہے ہیں اس کی وجہ میں نے بتا دی ہے۔ پس اس جواب کی روشنی میں اپنے مطمح نظر کو ٹھیک کریں۔

آنحضرت ﷺ نے کس قسم کا جہاد کیا۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ 13 سال مکہ میں رہے۔ مکہ کے لوگوں نے ہر قسم کے مظالم آپ پر اور آپ کے ماننے والوں پر کئے۔ بلکہ آپ کو جان سے مارنے کی بھی سکیم لڑائی۔ اور انہوں نے آپ کو خداتعالیٰ کی وحدانیت کا پیغام پہنچانے میں ہر قسم کی رکاوٹ ڈالی۔ آپ کے ماننے والوں کے ساتھ بھی سفاکانہ ظلم کیا گیا جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ انہیں تپتی ریت پر لٹایا گیا، گلیوں میں گھسیٹا گیا، ان کے سینوں پر چڑھ کر ڈانس کیا گیا، دہکتے کوئلوں پر لٹایا گیا، سوشل بائیکاٹ کیا گیا، پھر آپؐ کو اور مسلمانوں کو اپنے گھر بار چھوڑ کر مدینہ ہجرت کرنا پڑی۔ مخالفین نے اسی پر ہی بس نہیں کی بلکہ پھر مدینہ پر چڑھائی کر دی۔ جس کی وجہ سے آپؐ نے دفاعی جنگ لڑی۔

یہ بات ٹھیک ہے کہ مغربی ممالک میں آزادی ہے اور مسلمان ان ممالک میں آزادی کے ساتھ اپنے مذہب پر عمل کر سکتے ہیں۔ اپنے مذہب کی تبلیغ کر سکتے ہی اور یہی اسلامی تعلیم بھی ہے۔ مگر افسوس کہ مسلمان کہلانے والے ملکوں میں اس تعلیم پر عمل نہیں ہو رہا وہ تعلیم دوسروں نے اپنائی۔ مگر مسلمان کہلانے والوں نے نہیں۔ ان حالات میں جب کہ مغرب آپ کو مذہب کی بالکل آزادی دیتا ہے ان کے خلاف جہاد کرنا بالکل غلط ہے۔

احمدیہ مسلم جماعت اس قسم کے جہاد کی کلیۃً نفی کرتی ہے۔ اسلام میں مذہب کے نام پر خون بہانے کی قطعاً گنجائش نہیں ہے۔ آجکل کے زمانہ میں اسلام پر حملہ ’’قلم‘‘ کے ذریعہ کیا جارہا ہے اس لئے ان کا جواب قلم کے ذریعہ اور دلائل کے ذریعہ ہی دینا چاہئے۔

جہاں ہم متشدد قسم کے مسلمانوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ ایسا کرنا درست نہیں ہے وہاں پر ان ممالک کے حکمرانوں اور پالیسی بنانے والوں سے بھی کہتے ہیں کہ وہ انصاف سے کام لیں اور مسلمانوں کے حقوق کو نظر انداز نہ کریں۔ ان کی حق تلفی نہ کریں کہ جس کا نتیجہ یہ ہو کہ وہ اشتعال میں آئیں۔ خاکسار نے مضمون کے آخر میں لکھا کہ:
پس ایسے ممالک جہاں مسلمانوں کو ان کے مذہب پر عمل کرنے اور تبلیغ کرنے کی مکمل آزادی ہے ان کے خلاف جہاد کرنا یا لڑائی کرنا بالکل ناجائز ہے۔

جماعت احمدیہ کے روحانی پیشوا حضرت مرزا مسرور احمدایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے 181 ممالک میں رہنے والے تمام احمدیوں سے کہا ہے کہ وہ زیادہ توجہ اپنی اصلاح کی طرف کریں اور اپنی عبادتوں کے معیار کو اعلیٰ بنائیں۔ ہم سب کو اسی جہاد کی طرف بلاتے ہیں اور صحیح بات بھی یہی ہے اور یہ کہ اس وقت کا اہم جہاد بھی یہی ہے۔

اخبا رنے آخر میں لکھا کہ یہ مضمون امام شمشاد ناصر نے لکھا ہے جو بیت الحمید مسجد چینو سے تعلق رکھتے ہیں۔

’انڈیا پوسٹ‘ نے اپنی 26 مئی 2006ء کی اشاعت صفحہ 21-26 پر نصف سے زائد صفحہ پر 3 تصاویر کے ساتھ ہماری خبر شائع کی ہے ۔ اسی خبر کا عنوان ہے کہ :
سیمینار۔ کیا مذہب اور امن ایک ساتھ چل سکتے ہیں؟

تصاویر میں ایک میں سامعین بیٹھے مقررین کو سن رہے ہیں۔ ایک تصویر میں ہیڈ ٹیبل پر تمام مقررین بیٹھے ہیں اور ایک تصویر میں خاکسار تقریر کر رہا ہے۔

اخبار نے انڈیا پوسٹ نیوز سروس کے حوالہ سے خبر میں لکھا کہ:یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں احمدی مسلم طلباء نے ایک سیمینار کا انعقاد کیا۔ یہ سیمینار یونیورسٹی کے سوشل سائنس پلازا ایڈیٹوریم میں ہو اجس کا عنوان تھا۔ ’’کیا امن اور مذہب اکٹھے چل سکتے ہیں؟‘‘

پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا جو نعمان مبشر نے کی اورپھراس کا ترجمہ پیش کیا۔ احمدیہ مسلم سٹوڈنٹ ایسوسی ایشن کے صدر نے استقبالیہ دیا۔ ان کے ان الفاظ کو اخبار نے جلی حروف میں لکھا کہ: احمدیہ مسلم سٹوڈنٹ کی تنظیم ایک الگ اور ممتاز حیثیت رکھتی ہے جس کا ایجنڈا صرف امن اور مذہبی رواداری کا قیام ہے۔ اس موقعہ پر ربائی یوناح باکسٹن نے یہودی مذہب میں امن کی تعلیم کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ میرا آج کا دن بہت اہم ہے کہ اس موضوع پر میں اپنے مذہب سے امن کے بارے میں بتا رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مذہب اور امن اکٹھے چل سکتے ہیں اور یہ ہم سب مل کر ایسا کر سکتے ہیں۔ ربائی کی تقریر کے بعد عیسائی مذہب کے نمائندہ منسٹر چارلس ڈورسی آف اروائن نے تقریر کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم واقعہ میں امن قائم رکھنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ہمیں ایک دوسرے کو سمجھنا ہو گا اور اس سفر میں پہلی منزل ایک دوسرے کے ساتھ تبادلہ خیالات ہے۔

امام شمشاد ناصر آف کیلیفورنیا نے کہا : اسلام کے معانی ہی امن کے ہیں اور جب مسلمان دوسرے سے ملاقات کرتا ہے اس وقت وہ السلام علیکم کہتا ہے جس کا مطلب ہے کہ میری طرف سے آپ کے لئے امن ہی امن ہے۔ باقی مذاہب بھی عمل کی تعلیم دیتے ہیں مگر اسلام امن سکھاتا ہے اور امن کی تبلیغ کرتا ہے اور امن پھیلاتا ہے۔ اسلام میں 5 نمازیں ہیں جو امن کی بنیاد ہیں اور یہ نمازیں جہاں خداتعالیٰ کے ساتھ تعلق بڑھاتی ہیں یعنی خداتعالیٰ کے ساتھ امن رکھنے میں معاون ہیں وہاں یہ مخلوق کے ساتھ بھی امن کے ساتھ رہنے کی بنیاد اور اکائی ہے۔ اور اس میں سب سے اول ماں باپ، میاں بیوی اور بچے، رشتہ دار، ہمسایہ اور کمیونٹی کے لوگ ہیں۔ اس کے بعد پھر دیگر لوگ ہیں۔ اگر ہم امن کی تعلیم پر عمل بنیادی اکائی سے کریں تو پھر ہم عالمی امن حاصل کر سکتے ہیں۔ اخبار نے آخر میں لکھا کہ:
تینوں مذاہب کے نمائندگان کی تقاریر کے بعد سوال و جواب کا سیشن بھی ہوا اور پھر اختتام خاموش دعا پرہوا جو امام شمشاد نے کرائی۔

پاکستان پوسٹ نے 15 جون 2006ء کی اشاعت میں اسلامی صفحہ کے عنوان سے خاکسار کا ایک مضمون بعنوان ’’قرآن کریم کے محاسن وفضائل و برکات‘‘ خاکسار کی تصویر اور نام کے ساتھ شائع کیا۔ اس مضمون میں نماز کے بارے میں قرآن کریم میں جس قدر تاکید ہے اس کا بیان ہے اور حضرت ابراہیمؑ نے جو اپنی اہلیہ اور بیٹے کو وہاں چھوڑ کر جہاں بیت اللہ کی تعمیر ہوئی تھی سے ثابت کیا کہ اتنی بڑی قربانی بھی یُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ کی وجہ سے تھی۔ خاکسار نے لکھا کہ نماز کی توجہ اور اہمیت دلانے کے لئے رسول کریم ﷺ کا نمونہ اختیار کرنا چاہئے۔ حضرت مسیح موعودؑ کے ملفوظات میں ایک حکایت بیان ہوئی ہے وہ بھی یہاں لکھی گئی ہے۔ یہ حکایت کچھ یوں ہے:
ایک نواب تھا اس نے ایک مولوی سے وعظ سنا کہ نماز پڑھنی چاہئے تو رات کو اس نے اپنے نوکر سے کہا کہ صبح مجھے نماز کے لئے جگا دینا۔ جب صبح ہوئی تو نوکر نے نواب صاحب کو جگایا۔ نواب صاحب نے دوسری طرف کروٹ بدل لی۔ نوکر نے دوسری طرف جا کر جگایا تو نواب صاحب نے پھر کروٹ بدل لی۔ نوکر بے چارہ اسے بار بار جگاتا رہا۔ آخر جب اس نے نواب صاحب کو بار بار جگایا تو نواب صاحب غصے میں آگئے اور اٹھ کر نوکر کو خوب مارا اور کہا کہ کم بخت جب میں ایک دو دفعہ کے اٹھانے سے نہ اٹھا تو تجھے سمجھ نہ آئی کہ میںابھی نہ اٹھوں گا پھر کیوں تو نے بار بار جگایا۔ حالانکہ خود ہی تو نوکر سے کہا تھا۔

اب بے چارے کی اس طرح شامت آئی تو اصل بات یہ ہے کہ انسان اپنے اندرونے کو پہلے صاف کرے اور دل میں ایک عزم اور ارادہ پیدا کرے۔ خدا کی محبت اور اس کے خوف سے انسان نیک اعمال بجا لا سکتا ہے۔

یہ خوبی قرآن مجید میں بدرجہ اتم موجود ہے کہ انسان کی مختلف پیرایوں میں اس کی فطرت کے مطابق بار بار نہ صرف اسے جگاتا ہے بلکہ یاد دہانی کرواتابھی ہے تاکہ انسان نصیحت پکڑے۔ اس لئے قرآن کریم کی ان خوبیوں سے آگاہی نہیں ہو سکتی جب تک قرآن کو بار بار معانی کے ساتھ سمجھ کر نہ پڑھا جائے۔ مضمون کے آخر میں مسجد بیت الحمید کا ایڈریس اور فون نمبر لکھا ہے۔

ہفت روزہ اردو لنک نے اپنی 15 جون 2006ء کی اشاعت میں ’’دین کی باتیں‘‘ کے عنوان کے تحت خاکسار کا مضمون بعنوان قرآن کریم کے محاسن، فضائل و برکات صفحہ 6 پر شائع کیا ہے۔ اس مضمون میں بھی اسلام کے دوسرے رکن یعنی نماز کی اہمیت کے بارے میں زیادہ تر بیان ہے۔ خاکسار نے اس سوال کا جواب دیا ہے کہ قرآن کریم کے محاسن سے نماز کے مضمون کا کیا تعلق ہے؟

اس بارےمیں خاکسار نے یہ لکھا ہے کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی کامل شریعت ہے جو تمام جہانوں کے لئے قیامت تک ہدایت کا موجب ہے اور آنحضرت ﷺ نے جس خوبی کے ساتھ اورجس حسن کے ساتھ احکام خداوندی پر عمل کیا وہ قرآن کریم کا حسن اور خوبی بن جاتی ہے کیونکہ آپؐ نے قرآن کریم کے احکامات کو اللہ تعالیٰ سے سمجھا اور سب سے زیادہ احسن رنگ میں عمل کیا۔ اس کے بعد اس مضمون میں آنحضرت ﷺ کا نماز کے لئے اہتمام کے چند واقعات درج کئے ہیں۔ پھر آنحضرت ﷺ کی آخری وصیت کے عنوان کے تحت حضرت علیؓ اور حضرت انسؓ کی یہ روایت درج کی ہے کہ ’’الصلوٰۃ وما ملکت ایمانکم‘‘ یعنی اے مسلمانوں! میری آخری نصیحت یہ ہے کہ تم نماز اور اپنے ماتحتوں کا خیال رکھنا۔ اس کے بعد چند اور احادیث درج کی گئی ہیں۔ جن میں نماز کی اہمیت اور برکات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔

مضمون کے آخر میں ملفوظات میں مذکور حضرت مسیح موعودؑ کی یہ نصیحت درج ہے کہ نماز ایسے نہ ادا کرو جیسے مرغی دانے کے لئے ٹھونگے مارتی ہے بلکہ سوزوگداز سے ادا کرو اور دعائیں بہت کیا کرو۔ نماز مشکلات کی کنجی ہے۔

اردو لنک نے اپنی اشاعت 22 جون 2006ء کے صفحہ6 پر ’’امن کی باتیں‘‘ کے تحت خاکسار کے مضمون قرآن کریم کے محاسن و فضائل نصف سے زائد صفحہ پر خاکسار کی تصویر کے ساتھ شائع کیا ہے۔

مضمون میں عبادت کے مفہوم کو قرآن کریم کی آیات سے واضح کیا گیا ہے۔ نماز اورمسجد کی اہمیت کو احادیث کی روشنی میں بیان کیاگیاہے۔ اور وہ حدیث بھی بیان کی گئی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے سات لوگوں کا ذکر کیا ہے جن پر قیامت کے دن خدا کی رحمت کے سوا اور کوئی چیز نہ ہو گی ان میں امام عادل، وہ نوجوان جس کی جوانی عبادت اور خداتعالیٰ کے خوف میں بسر ہوئی، وہ شخص جس کا دل مسجد میں اٹکا رہتا ہےوغیرہ شامل ہیں۔

ان لینڈ ڈیلی بلٹن نے اپنی 26 جون 2006ء کی اشاعت کےصفحہ 3A پر اس عنوان سے خبر دی کہ ’’چینو امام مسلم ریجنل سالانہ اجتماع میں تقریر کرتا ہے‘‘

سین ہوزے۔ سے میسن سٹاک سٹل نے خبر دی ہے کہ امام شمشاد ناصر آف مسجد بیت الحمید نے ویسٹ کوسٹ کے سالانہ ریجنل اجتماع خدام الاحمدیہ میں تقریر کی ہے جو کہ 28 مئی کو سین ہوزے میں ہوا تھا۔ امام شمشاد نے کہا کہ نوجوانوں کو پانچ وقت کی نمازوں پر مداومت اختیار کرنی چاہئے اور انہیں چاہئے کہ وہ جماعت احمدیہ عالمگیر کے روحانی پیشوا حضرت مرزا مسرور احمدصاحب ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خطبۂ جمعہ بھی باقاعدگی کے ساتھ سنا کریں۔ جن کا ہیڈ کوارٹر لندن میں ہے۔ ناصر اس وقت ساؤتھ کیلیفورنیا کے شہر چینو میں اپنی جماعت کے سرکردہ ہیں۔

اردو لنک اپنی اشاعت 30 جون تا 6 جولائی 2006ء کے صفحہ 6 پر ’’دین کی باتیں‘‘ کے تحت خاکسار کا ایک مضمون قرآن کریم کے محاسن، فضائل و برکات کی اگلی قسط خاکسار کی تصویر کے ساتھ شائع کی ہے۔ اس مضمون میں خاکسار نے قرآن کریم کی آیات کے حوالہ سے نماز باجماعت، مسجد کے ساتھ وابستگی اور ہُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ کی تشریح اور پھر وضو ٔ کی حکمت نیز احادیث نبویہؐ سے وضو ٔ کی فضیلت کا ذکر کیا ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ کیا میں تمہیں وہ بات نہ بتاؤں جس سے اللہ تعالیٰ گناہ مٹا دیتا ہے اور درجات بلند کرتا ہے؟

اس پرصحابہؓ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ضرور بتائیے۔ آپؐ نے فرمایا کہ نہ چاہنے کے باوجود خوب اچھی طرح وضؤ کرنا اور مسجد میں دور سے چل کر آنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا یہ بھی ایک قسم کا رباط ہے۔

مضمون کےآخر میں حضرت مسیح موعودؑ کا یہ حوالہ درج ہے:
یہ جو لکھا ہے کہ وضو ٔکرنے سے گناہ دور ہو جاتے ہیں تواس کا یہ مطلب ہےکہ خداتعالیٰ کے چھوٹے سے چھوٹے حکم بھی ضائع نہیں جاتے اور ان کے بجا لانے سے بھی گناہ دور ہو جاتے ہیں۔

آخر میں مسجد بیت الحمید کا ایڈریس اور فون نمبر درج ہے۔

انڈیا پوسٹ نے اپنی اشاعت 7 جولائی 2006ء کےصفحہ 26 پر انڈیا پوسٹ نیوز سروس کے حوالہ سے ہماری ایک خبر دی ہے۔ اس خبر کا عنوان ہے :
’’امام شمشاد کی ریورنڈ کو کاسکی (پادری) کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر تقریر‘‘

چینو کیلیفورنیا اخبار نے لکھا کہ ریورنڈ کوکاسکی کی ریٹائرمنٹ کے موقعہ پر ان کے چرچ واقعہ سلورسپرنگ میں ان کے اعزاز میں دی گئی ایک الوداعیہ میں دیگرمقررین کے علاوہ امام شمشاد بھی تھے۔ ریورنڈ جے نیس اور کونسل ممبر میری لین پریزنر تھے۔

اس موقع پر امام شمشاد کو لاس اینجلس سے آنے اور اس تقریب میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی تھی۔ اس موقعہ پر ان کے چرچ کے قریباً 500 لوگ شامل تھے۔ ان کے علاوہ علاقہ سے اور دیگرمذہبی لیڈر بھی شامل ہوئے تھے۔

امام شمشاد نے چرچ کا شکریہ ادا کیا کہ اس خاص موقعہ پر انہوں نے مجھے دعوت دی کیونکہ ریورنڈ کوکاسکی نہ صرف ایک اچھے آدمی ہیں بلکہ ان کے ساتھ میرا اور میری احمدیہ کمیونٹی کےساتھ گہرے دوستانہ روابط بھی ہیں۔

امام شمشاد نے کہا کہ ہمارے دوستانہ تعلقات 11/9 کے بعد شروع ہوئے اور اس کے بعد سے ہم نے ایک دوسرے کے پروگراموں میں ہمیشہ شرکت کی۔ اس وقت میں ریورنڈ ڈیوڈ کوکاسکی کی خدمت میں قرآن مجید مع انگریزی ترجمہ اور کتاب ‘‘مسیح ہندوستان میں’’ پیش کرنا چاہتا ہوں جو کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی ہے۔

خبر میں تصویر بھی شائع ہوئی ہے جس میں خاکسار ان کے چرچ میں پادری کوکاسکی کو قرآن شریف مع انگریزی ترجمہ اور دوسری کتاب مسیح ہندوستان میں کا انگریزی ترجمہ پیش کر رہا ہے۔ آخر میں خاکسار کا تعارف بھی ہے۔

انڈیا ویسٹ نے بھی یہی مذکورہ بالاخبراپنی 7جولائی 2006ء کی اشاعت کے صفحہ B-17 پر تصویر کے ساتھ شائع کی ہے جس کا درج ذیل عنوان دیا ہے :
’’امام ریورنڈ کی ریٹائرمنٹ کی تقریب میں تقریر کرتا ہے۔‘‘

اور تصویر کے نیچے لکھا ہے کہ امام شمشاد نے اس موقعہ پر ریورنڈ کوکاسکی کو قرآن کریم کا تحفہ دیا۔

اردو لنک نے 14 سے 20 جولائی 2006ء کی اشاعت میں صفحہ 6 پر ’’دین کی باتیں‘‘ کے تحت خاکسار کے مضمون قرآن کریم کے محاسن، فضائل اور برکات کی اگلی قسط خاکسار کی تصویر کے ساتھ نصف صفحہ سے زائد پر شائع کیا۔

اس مضمون میں نماز کے اوقات کا ذکر ہے اور یہ لکھاہےکہ لوگوں کی مصروفیات کا مطلب یہ نہیں کہ نماز سے غفلت برتی جائے اور یہ حدیث نبویؐ بھی درج کی گئی ہے کہ جو نمازفجر اور عشاء سے غفلت برتتے ہیں ان سےاللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا اظہار ہے۔ آپؐ نے فرمایا ہے کہ ان لوگوں کو کامل نور کی بشارت دے دو جو اندھیروں میں مسجد کی طرف آتے ہیں۔ اس میں مسجد میں آنے والوں کے لئے بشارت ہے۔

پھر نماز میں وساوس کا علاج لکھا ہےاور شیطان سے بچنے کی ہدایت ہے نیز ملفوظات سے حضرت مسیح موعودؑ کا حوالہ درج کیا ہے جس میں آپؐ نے فرمایا ہے:
’’شیطان سے بچو۔ شیطان انسان کا پورا پورا دشمن ہے ۔ قرآن شریف میں اس کا نام عدو رکھا گیا ہے۔ اس نے اول تمہارے باپ کو نکالا۔ پھر اس پر خوش نہیں ہوااب اس کا یہ ارادہ ہے کہ تم سب کو دوزخ میں ڈال دے۔ یہ دوسرا حملہ پہلے سے بھی زیادہ سخت ہے۔ یہ جو فرمایا ہے کہ اِنَّ الْحَسَنَات یُذْہِبْنَ السَّیِّاٰتِ یعنی نیکیاں یا نماز بدیوں کو دور کرتی ہے۔

مضمون کے آخر میں ایک حوالہ درس القرآن حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ سے بھی نماز کی اہمیت اور برکات پر درج کیا گیا ہے۔ آخرمیں مسجد بیت الحمید کا پتہ اور فون نمبر بھی درج ہے۔

انڈیا ویسٹ نے اپنی 21 جولائی 2006ء کی اشاعت کے صفحہ C-34 پر ¼ صفحہ پر دو بڑی تصاویر کے ساتھ ہماری مختصراً خبر شائع کی ہے۔ خبر کا عنوان یہ ہے :
’’چرچ کے لوگوں نے مسجد کا وزٹ کیا‘‘

اخبار لکھتا ہے کہ San Dimas کمیونٹی چرچ کی پادری Rev Joyce Kirk کی قیادت میں لوگوں نے مسجد بیت الحمید کا 19 جون کو وزٹ کیا۔ اس موقعہ پر جو تقریب ہوئی اس میںمکرم نعمان مبشر صاحب نے قرآن مجید کی تلاوت کی اور ترجمہ پیش کیا۔ اس کے بعد پادری صاحبہ (ریورنڈ جوائس کرک مُور) نے اپنے چرچ کے بارے میں معلومات دینے کے ساتھ مذہبی آزادی کے حوالہ سے بات کی۔ امام شمشاد آف مسجد بیت الحمید نے اس موقعہ پر The Da Vinci Code کی فلم اور کتاب کے بارے میں بات کرنے کے بعد پادری صاحبہ کو کتاب ’’مسیح ہندوستان میں‘‘ پیش کی۔

جن دو تصاویر کا اوپر ذکر کیا گیا ہےان میںایک تصویر میں ریورنڈ کرک مور اپنے چرچ کے بارے میں بتا رہی ہیں جبکہ ہیڈ ٹیبل پر ایک طرف مکرم مونس چوہدری صاحب سیکرٹری تبلیغ اور دوسری طرف مکرم سید وسیم احمد صاحب اور خاکسار سید شمشاد ناصر بیٹھے ہیں۔ دوسری تصویر جو کافی بڑی ہے اس میں جماعت کے لوگ اور چرچ کے لوگ بیٹھے ہیں اور کھانا کھا رہے ہیں۔

’’دی ڈانچی کوڈ‘‘ ایک ناول ہے جسے Dan Brown نے تصنیف کیا تھا۔ بعد میں کولمبیا پکچرز نے اس ناول کی فلم سازی کی۔

یہ اختلافی نظریات پر مبنی ایک ناول اور فلم ہے جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور کیتھولک چرچ کے متعلق اپنے انداز میں تاریخ کو بیان کیا گیا ہے۔

’’دی مسلم ورلڈ ٹوڈے‘‘ نے 21 جولائی 2006ء بروز جمعہ کو صفحہ 17 پر ’’مسیح ہندوستان میں‘‘ کے عنوان سے خاکسار کا ایک مضمون خاکسار کی تصویر کے ساتھ شائع کیا۔ اخبار لکھتا ہےکہ ڈان براؤن نے ناول ڈا ونچی کوڈ کی 40 ملین کے قریب کاپیاں چالیس سے زائد زبانوں میں شائع کی ہیں۔ مئی 2006ء میں ڈاوِنچی کوڈ فلم 125 ملین ڈالرز میں ریلیز ہوئی تھی۔ اس میں حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کی زندگی کی تصویر کشی کی گئی ہے اور عیسائیت پر غیرعمومی پہلوؤں سے موجودہ دور کی عیسائیت پر ایک حملہ ہوا ہے۔ کیونکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام ایک انسان تھے اور وہ ایک فیملی رکھتے تھے اور یہ موجودہ عیسائیت کے نظریہ کو بری طرح توڑتا ہے۔

اس پر کئی مسلمانوں اور عیسائیوں نے احتجاج کیا ہے اور اس کے نتیجہ میں یہ ناول اور فلم کئی ملکوں میں بند کر دی گئی ہے۔ تاہم اس کو Fictional کہنے کے بعد کچھ ممالک میں اس کی اجازت بھی دی گئی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کو غیرحقیقی کہنے کے باوجود جب برطانیہ میں ایک سروے کیا گیا تو 59% لوگوں کا خیال تھا کہ اس میں کچھ نہ کچھ تو حقیقت ضرور ہے۔

تاریخی طور پر حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے صلیب کے بعد کی زندگی کے شواہد ملتے ہیں جبکہ عیسائیت کا عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام صلیب پر فوت ہوئے اور وہ انسانیت کے گناہوں کا کفارہ بنے۔ صرف مسلمانوں کی ایک جماعت ہے جو کہ یقین رکھتی ہے کہ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام صلیب پر فوت نہیں ہوئے کیونکہ یہود کے عقیدہ کے مطابق کسی کو سبت کے وقت صلیب پر نہیں رکھا جاتا۔ پس حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کو بہت پہلے ہی صلیب سے اتار لیا گیا اور وہ چند گھنٹے ہی صلیب پر رہے۔ تاہم جب رومن سپاہی آئے اور انہوں نے حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کو دیکھا جو کہ بے ہوش ہو چکے تھے تو انہوں نے سمجھا کہ یہ وفات پا چکے ہیں۔ اس پرانہوں نے ان کو ان کے حواریوں کے سپرد کر دیا۔

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام (1835ء۔1908ء) جو کہ کتاب ’’مسیح ہندوستان میں‘‘ کے مصنف ہیں اور بانی جماعت احمدیہ ہیں نے اپنی اس کتاب میں بیان کیا ہے کہ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام صلیب کی لعنتی موت سے بچے اور وہ کیسے ہندوستان سفر کر کے پہنچے۔ حضرت مرزا غلام احمدؑ نے اس Thesis کو بہت سے مسلمانوں اور بدھ مت کے تاریخ دانوں اور تاریخ کے حوالوں سے ثابت کیا۔ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے لکھا ہےکہ اس مضمون کو لکھنے کا اصل مقصد موجودہ دور کے مسلمانوں اور عیسائیت کے گمراہ کن عقائد کو ختم کرنا ہے۔

بہت سے مسلمان اور عیسائی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ جنت میں زندہ ہیں اور آخری زمانہ میں کسی بھی وقت دوبارہ زمین پر آئیں گے۔ فرق صرف یہ ہے کہ عیسائی سمجھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ ؑ صلیب پر وفات پا نے کے بعد آسمان پر چلے گئے اور وہ اپنے باپ یعنی خداتعالیٰ کے ساتھ دائیں طرف بیٹھے ہیں اور قیامت کےد ن وہ دوبارہ نازل ہوں گے۔ جبکہ کچھ مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ وہ صلیب پر مرنے سے پہلے ہی آسمان پر اٹھا لئے گئےتھے۔ مسلمان یہ بھی عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام اللہ کے نبی ہیںاور خدا نہیں ہیں۔

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ لکھتے ہیں کہ وہ اس کتاب میں یہ بات ثابت کریں گے کہ حضرت عیسیٰؑ نہ ہی اپنے جسم کے ساتھ آسمان پر گئے ہیں اور نہ ہی ان کا دوبارہ نزول ہو گا۔ اور یہ بات بھی ثابت کریں گے کہ ان کا 120 سال کی عمر میں سرینگر کشمیر میں انتقال ہوا اور ان کی قبر محلہ خان یار سرینگر کشمیر انڈیا میں ہے۔

اپنے دعویٰ کے ثبوت میں حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ نے بائبل، قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ کی احادیث کے حوالہ جات کا استعمال کیا ہے۔ انہوں نے بہت سی طبی کتب کا حوالہ بھی دیا جن سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کی وفات صلیب پر نہیں ہوئی۔ اس کے بعد آخر میں وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ ان ساری دلیلوں کے ساتھ ساتھ خداتعالیٰ نے ان کو الہام کیا اور بتایا کہ حضرت عیسیٰؑ کی وفات ہو چکی ہے۔

وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ اگر کوئی شخص یہ کتاب شروع سے آخر تک پڑھے گا تووہ ضرور قائل ہو جائے گا کہ حضرت عیسیٰؑ آسمان پر نہیں اٹھائے گئے۔

جیسا کہ پہلے بیان کیا گیاہے کہ برطانیہ کےایک سروے میں لوگوں نے کہا ہےکہ ڈاونچی کوڈ میں کچھ نہ کچھ سچائی ہے تو اس کتاب یعنی ’’مسیح ہندوستان میں‘‘ کابھی ضرور مطالعہ کریں

خاکسار نے آخر میں یہ بھی لکھا ہے کہ ’’مسیح ہندوستان میں‘‘ کا مطالعہ کریں اور ایک اور کتاب جس کے مصنف حضرت مولاناجلال الدین شمس صاحب ہیں نے بھی ایک کتاب لکھی ہے جس کا عنوان ہے کہ ’’حضرت عیسیٰؑ کہاں فوت ہوئے ہیں‘‘

ہر دو کتب جماعت احمدیہ کی ویب سائٹ www.alislam.org پر دستیاب ہیں۔

اخبار نے خاکسار کے مضمون جس کا عنوان ہے کہ ’’مسیح ہندوستان میں‘‘ کے ساتھ ہی ’’دی ڈاوِنچی کوڈ‘‘ ناول کے ٹائیٹل پیج کی تصویر بھی دی ہے۔

ڈیلی بلٹن نے اپنی اشاعت 22 جولائی 2006ء بروز ہفتہ کی اشاعت میں صفحہ A-10 پر خاکسار کا مضمون بعنوان Davinci Code not the only book to challenge various beliefs about Christ.‘‘ شائع کیا۔ یہ قریباًنصف سے زائد صفحہ پر مضمون ہے۔ جیسا کہ قبل ازیں مسلم ورلڈ ٹوڈے کے حوالہ سے لکھا گیا ہےکہ یہ مضمون اس اخبار میں زیادہ تر عیسائی حضرات کے لئے لکھا تھا جس میں ڈاوِنچی کوڈ ناول اور فلم کے بارے میں معلومات ہیں۔ لیکن خاکسار نے اپنے مضمون میں اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں صحیح معلومات مہیا کی ہیں اور اس ضمن میں انہوں نے کتاب ’’مسیح ہندوستان میں‘‘ تحریر کی ہے۔ اس کتاب میں قرآن وحدیث کے علاوہ بائبل اور طبی کتب سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ صلیب پر فوت نہیں ہوئے اور نہ ہی آسمان پر زندہ اٹھائے گئے ہیں بلکہ وہ صلیب سے زندہ بچے اور خداتعالیٰ نے انکو صلیب کی لعنتی موت سے بچایا اور پھر وہ ہجرت کر کے کشمیر چلے گئے جہاں انہوں نے طبعی عمر پا کر طبعی وفات پائی۔ مضمون میں عیسائی عقیدہ کو بیان کیا گیا ہے اور اس کا بطلان ثابت کیا گیا ہے اور لوگوں کو ’’مسیح ہندوستان میں‘‘ جو حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام (1835ء تا 1908ء) کی تصنیف ہے اور اسی طرح کتاب ’’حضرت عیسیٰؑ کہاں فوت ہوئے؟‘‘ جماعت کے ایک بزرگ عالم جلال الدین شمس صاحب کی تصنیف ہے، کو پڑھنے کی ترغیب دی گئی ہے کیونکہ انگلستان میں جو سروے ہوا اس کے مطابق اس دی ڈاونچی کوڈ میں اگر کچھ صداقت ہے تو اصل صداقت کی تلاش کے لئے ان مذکورہ بالا کتب کا مطالعہ بھی ضروری ہے تا قاری حقیقت تک پہنچ سکے۔ مضمون کے آخر میں خاکسار کا نام اور مسجد بیت الحمید کا پتہ درج ہے۔

ہفت روزہ اردو لنک نے اپنی اشاعت 21 تا27 جولائی 2006ء میں صفحہ 9 پر کمیونٹی نیوز میں ہماری اس عنوان سے خبر دی:
’’مسجد بیت الحمید میں آٹھویں دو روزہ سالانہ قرآن کانفرنس‘‘

اس خبر میں اخبار نے ہماری سات تصاویر بھی شائع کی ہیں۔ تصاویر میں برادر مکرم منیر حامد صاحب نائب امیر، مکرم ڈاکٹر ظہیر الدین منصور صاحب نیشنل سیکرٹری تعلیم القرآن، مکرم رشید رینو صاحب امریکن، مکرم ڈاکٹر حمید الرحمٰن صاحب اور خاکسار سید شمشاد ناصر تقاریر کر رہے ہیں جبکہ ایک تصویر میں سامعین قرآن کانفرنس میں پروگرام سن کر نوٹس لے رہے ہیں اورایک تصویر میں لوگ قطار میں کھڑے کھانا لے رہے ہیں۔

خبر میں نمائندہ لنک کے حوالہ سے لکھا گیا ہے کہ مسجد بیت الحمید چینو میں گزشتہ دنوں ’’قرآن کانفرنس‘‘ کا اہتمام کیا گیا۔ 250 سے شائد مرد و زن اور بچوں نے اس دو روزہ قرآن کانفرنس میں شرکت کی۔ کانفرنس کو مکرم ڈاکٹر ظہیر الدین منصور احمد صاحب نے مکرم عمران جٹالہ صاحب، مکرم عبدالباسط صاحب اور اپنی ٹیم کے ساتھ آرگنائز کیا۔ مکرم ڈاکٹر ظہیر الدین صاحب نے اپنی تقریر میں کہاکہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو کہ تمام دنیا کی بھلائی کے لئے سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل کیا گیا۔ قرآن کریم کی تعلیم میں اتنی تاثیر اور قوت ہے کہ اس سے سب اندھیرے دور ہو جاتے ہیں۔ مکرم ڈاکٹر کرنل فضل احمد صاحب نے جو میری لینڈ سے تشریف لائے تھے، نے سورہ فاتحہ کے معانی اور تفسیر بیان کی۔ مکرم خرم شاہ صاحب نے قرآن کریم کی جمع و تدوین پر مقالہ پڑھا۔ نوجوان حافظ احمد صاحب نے صحیح تلفظ کے ساتھ قرآن کریم پڑھنا سکھایا۔ مسجد بیت الحمید کے امام سید شمشاد احمد ناصر صاحب نے کانفرنس کے آغاز میں قرآن کریم کی تلاوت کے آداب اور غرض و غایت پر قرآن و حدیث سے روشنی ڈالی اور بتایا کہ اگر ہم صحیح مسلمان بننا چاہتے ہیں اور خداتعالیٰ کا قرب حاصل کرنا چاہتے ہیں تو قرآن کریم کو حرز جان بنائیں۔ روزانہ تلاوت کریں اور اپنے بچوں کو بھی قرآن کریم پڑھائیں۔ کانفرنس کے دوسرے روز کا پہلا سیشن امام سید شمشاد احمد ناصر صاحب کی صدارت میں تلاوت قرآن سے شروع ہوا۔ جس میں متعدد سکالرز نے تقاریر کیں۔ مکرم ڈاکٹر خالد شیخ صاحب نے ’’قرآن کریم اور سائنس‘‘ کے موضوع پر 45 منٹ کا لیکچر دیا۔ مکرم ڈاکٹر سید وسیم صاحب نے قرآن کریم کی اخلاقی تعلیم کے بارے میں مقالہ پیش کیا۔ مکرم انور محمد خان صاحب نے میاں بیوی، اولاد، رشتہ داروں کے ساتھ سلوک سے متعلق اسلامی تعلیم قرآن کریم سے پیش کی۔ امام ارشاد ملہی صاحب نے قرآن کریم کا ترجمہ پڑھنے اور سیکھنے کی بنیادی تعلیم پیش کی۔ مسٹر رچرڈ رنیو جو کہ اس کانفرنس کے لئے پورٹ لینڈ سے تشریف لائے تھے نے مستشرقین کے قرآن کریم پر اعتراضات کے جوابات پیش کئے۔ ڈاکٹر عاطف ملک آف فی نکس نے قرآن کریم کی آئندہ زمانے کی پیشگوئیوں کی تفصیل بیان کی۔ برادر رقیب ولی صاحب نے قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ ؑ کے ذکر پر اپنا مقالہ پڑھا اور اس طرف توجہ دلائی کہ آنحضرت ﷺ نے دجال کے فتنہ سے بچنے کے لئے سورۃ کہف کی ابتدائی دس آیات اور آخری آیات پڑھنے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ مکرم ڈاکٹر حمید الرحمن صاحب نے تمام حاضرین کو خوش آمدید کہا۔ برادر منیرحامدصاحب نے جو فلاڈلفیا سے تشریف لائے تھے کانفرنس کے آخری روز حاضرین کو صحابہؓ کی محبت کے واقعات سنائے۔ اس طرح یہ دو روزہ کانفرنس کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔

(باقی آئندہ بدھ ان شاء اللہ)

(مولانا سید شمشاد احمد ناصر ۔ امریکہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 8 جون 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 9 جون 2021