• 6 دسمبر, 2022

صحابہ رسولؐ اور ان کے بچپن نیز ان کی فدائیت کے واقعات

(اطفال کے لئے خصوصی تحریر تا ’’صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا‘‘ کا انعام حاصل کرسکیں)

قوموں کی ترقی میں بچوں اور نوجوانوں کا بہت بڑا کردار ہوتا ہے۔ جس قدر بچے مضبوط عزم اور حوصلہ والے ہوں گے۔ جرأت اور بہادری سے کام لینے والے ہوں گے دین و دنیا سے واقفیت رکھنے والے ہوں گے۔ اسی قدر وہ قوم مضبوط ہوگی۔ اور ایسی قوم کو پھر کوئی شکست نہیں دے سکتا۔

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:۔ ’’ہر قوم کی زندگی اس کے نوجوانوں سے وابستہ ہے۔ کس قدر ہی محنت سے کوئی کام چلایا جائے اگر آگے اس کے جاری رکھنے والے لوگ نہ ہوں گے تو سب محنت غارت جاتی ہے اور اس کام کاانجام ناکامی ہوتا ہے۔‘‘

حضورؓ مزید فرماتے ہیں کہ ’’پس اس کا خیال رکھنا ہمارے لئے ضروری ہے ہم پر واجب ہے کہ آپ لوگوں کو ان فرائض پر آگاہ کردیں جو آپ پر عائد ہونے والے ہیں اور ان راہوں سے واقف کر دیں جن پر چل کر آپ منزل مقصود تک پہنچ سکتے ہیں‘‘

(مشعل راہ جلد اول)

یہی وجہ ہے کہ حضرت امیر المومنین خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزایک لمبے عرصہ سے صحابہ کرامؓ میں سے بدری صحابہ ؓ کے واقعات ہمیں سنا رہے ہیں۔ ان کا اخلاص و فدائیت کے واقعات، ان کے تعلق باللہ کے واقعات، ان کے اسلام لانے کے لئے قربانیوں کے واقعات، ان کا توکل علیٰ اللہ، ان کی بہادی و شجاعت، تاجماعت کے چھوٹوں میں بھی، بڑوں میں بھی، مردوں میں بھی خواتین اور بچوں میں بھی تعلق باللہ، وہ فدائیت کے اور اخلاص کے جذبات پیدا ہوں جن کو سن کر ہم اپنے اندر ایک ولولہ اور جوش واخلاص محسوس کریں اور اسلام و احمدیت کی ترقی ہو۔

خاکسار اس وقت آپ کی خدمت میں ان صحابہؓ کے واقعات کا ذکر کرنے لگا ہےجن کی عمریں بہت چھوٹی تھیں۔ایسی عمر جن کو ہم اطفال الاحمدیہ کی عمر کہتے ہیں یعنی 7سال سے 15 سال تک کی عمر۔ بظاہر یہ عمر بہت چھوٹی ہے اس چھوٹی عمر کے بچوں میں جذبہ فدائیت کیا ہوسکتا ہے؟ لیکن نہیں اور ہرگز نہیں نہیں ایسا نہیں ہے۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی اور اس زمانے میں بھی ہمیں بے شمار واقعات اس چھوٹی عمر کے بچوں کے ملتے ہیں جن سے اخلاص و فدائیت، جذبہ محبت، تعلق باللہ ملتا ہے۔ کیوں کہ بچوں کے اندر گو دین کو اس طرح سمجھنا یا دین کے تقاضوں کو اس طرح سمجھنا جس طرح ایک بڑی عمر کے نوجوان یا لوگ سمجھتے ہیں۔ مشکل ہوتا ہے لیکن یہ بچے ایسے تھے اور ایسے ہیں جن کی تربیت خدا تعالیٰ کے فضل سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہوئی جو مربی اعظم تھے، جو محسن انسانیت تھے۔ اسی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ راہنمائی فرمائی ہے کہ جب بچہ پیدا ہو تو اس کے دائیں کان میں آذان اور بائیں میں اقامت کہو۔

گویا والدین کو باور کرا دیا کہ یہ بچہ قوم کی امانت ہے۔ اور اس امانت کی صحیح تربیت کرنا تمہارا فرض ہے۔ ورنہ بچے کو تو اس بات کی اس وقت سمجھ نہیں کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ اور کیا کیا جارہا ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا بچپن

تاریخ سے یہ بات ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاگئے تھے اور آپ نے اپنے چچا کی کفالت میں بطور یتیم بچے کے تربیت اور پرورش پائی لیکن اس چھوٹی عمر میں بھی آپؐ کے اخلاق حسنہ کمال درجہ کے تھے بلکہ بلندیوں کے اعلیٰ معیار تک پہنچے ہوئے تھے۔

آپؐ کے بارے میں آتا ہے کہ جب گھر کے دیگر بچے کھیل کود میں مصروف ہوتے آپؐ اپنے چچا کے ساتھ ان کے کاموں میں ہاتھ بٹاتے تھے اور مدد کرتے رہتے۔ کھانے کے وقت میں آپ خاموشی سے انتظار کرتے اور دوسرے بچوں کی طرح کوئی شوروغل نہ کرتے۔ آپ بچپن سے ہی بہت نیک تھے کبھی جھوٹ نہ بولتے، ہمیشہ سچ بولتے تھے، دوسروں کی مدد کرتے، ہمسایوں کے ساتھ بھی آپ نیک سلوک فرماتے اور ان کی مدد کرنے کو تیار رہتے کسی سے لڑائی جھگڑا نہ کرتے اور جو کچھ بھی آپ کو میسر آجاتا اسی پر خدا تعالیٰ کا بے حدشکر کاادا کرتے۔

اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں آپؐ کی شان میں یہ فرمایا لَقَدۡ جَآءَکُمۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَا عَنِتُّمۡ حَرِیۡصٌ عَلَیۡکُمۡ بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ (التوبہ: 128) یعنی اے مومنو! تمہارے پاس وہ رسول آیا ہے جو تم میں سے ہے اور یہ رسول ایسا مشفق و مہربان ہے کہ تم کو کسی رنج و مصیبت میں مبتلا دیکھ ہی نہیں سکتا۔ یہ بات اس پر سخت گراں ہے۔ اور اسے ہر وقت یہی خواہش اور تڑپ رہتی ہے کہ تم کو ہمیشہ خیر ہی ملتی رہے وہ تو تمہارے لئے ہر بھلائی اور خیرکا بھوکا ہوتا ہے اور مومنوں پر انتہائی مہربان اور رحمت کے ساتھ جھکنے والا ہے۔

آپ رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں جو بھی آیا۔ آپ نے اسے ایسا ہی بنانے کی کوشش کی جیسے آپ خود تھے۔ وہی جذبہ ان میں پیدا کرنے کی کوشش کی ان کی ایسی تربیت فرمائی کہ وہ زمین اور آسمان کے ستارے بن گئے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔

صَادَفْتَھُمْ قَوْمًا کَرَوْثٍ ذِلَّة ًفَجَعَلْتَھُمْ کَسَبِیْقَةِ الْعِقْیَانٖ

اے محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ تو گندے گوبر کی طرح قوم تھی۔ مگر جب تیری صحبت میں آئی تو تُو نے اسے چمکتے ہوئے سونے کی ڈلی بنا دیا۔

بچوں سے پیار

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بچوں سے بہت پیار و محبت کا سلوک فرماتے جس کی وجہ سے بچے بھی آپ سے بہت زیادہ محبت کرتے۔ آپ بچوں کو دیکھ کر انہیں گود میں لے لیتے، انہیں پیار کرتے، ان کے لئے دعا کرتے۔ اور انہیں دین کا علم سکھاتے۔ یہ وجہ تھی کہ پھر بچے آپ کے پاس بھاگ بھاگ کر آتے تھے۔ آپ انہیں سلام میں بھی پہل کرتے اور ان کی تربیت فرماتے تھے۔

ایک بچہ کو آپ نے کھانے کے وقت دیکھا کہ اس کا ہاتھ کھانے کی پلیٹ میں ادھر ادھر جارہا ہے۔ آپ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر نہایت پیار سے فرمایا کہ دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور سامنے سے کھاؤ۔ ساری پلیٹ میں ہاتھ مت ڈالو۔ آپ نے بچوں کے لئے اُن کے والدین کو یہ ہدایت فرمائی۔ اے لوگو! بچوں کو چوما کرو کیوں کہ ان کو چومنے کے بدلے میں تم کو جنت میں ایک درجہ ملے گا۔

(صحیح بخاری، ماخوذ از رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور بچے صفحہ19)

اور آپؐ نے یہ بھی فرمایا کہ لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ یَرْحَمْ صَغِیْرَنَا۔ جو بچوں کے ساتھ رحمت و شفقت کا سلوک نہیں کرتا اس کا ہمارے ساتھ کچھ تعلق نہیں۔

فدائیت اور قبولیت دعا کا ایک واقعہ

ایک دفعہ ایک عورت اپنا بیمار بچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئی۔ اسے کئی قسم کی بیماریاں لاحق تھیں۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا کی درخواست کی کہ حضور دعا کریں یہ بچہ مر جائے۔ اور اسے تکلیفوں سے نجات ملے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر رحم فرماتے ہوئے فرمایا کہ کیا میں یہ دعا نہ کروں کہ تیرا بچہ تندرست ہوجائے پھر جوان ہو کر جہاد میں شریک ہو اور شہادت کا درجہ پالے۔ چنانچہ ایساہی ہوا وہ بچہ تندرست ہوا اور بڑا ہو کر مخلص نوجوان بنا اور میدان جنگ میں شہادت پائی۔

یہ نوجوان کی فدائیت ہی تھی وہ تندرست اور صحت مند ہو کر انکار بھی کر سکتا تھا کہ جہاد میں نہیں جاتا۔ لیکن اس نے جہاد میں اپنے طور پر رضامندی سے شرکت کی اور پھر وہ شہید ہوا۔

آنحضرتؐ کی صحبت میں بیٹھنے کا جذبہ

حضرت نعمان بن منذر کی عمر 8 سال تھی۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات کا بغور مطالعہ کرتے رہتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالکل قریب بیٹھتے تھے تا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وعظ سن سکیں۔ ایک مرتبہ انہوں نے کہا کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز (تہجد مراد ہے) کے متعلق اکثر صحابہ سے زیادہ واقفیت رکھتا ہوں۔

اسی طرح ایک اور کم سن بچے حضرت عمر بن سلمہؓ کا بیان ہے کہ ہم مدینہ کے راستے میں رہتے تھے جب لوگ وہاں سے آتے اور بتاتے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ یہ حصہ قرآن مجھ پر نازل ہوا۔ چنانچہ اُن سےسن سن کر میں بھی وہی آیات اور سورتیں یاد کر لیتا۔ اور یہ وہ وقت تھا جب آپ ابھی مسلمان بھی نہ ہوئے تھے۔ اور اس طرح دوسرے لوگوں سے سن سن کر انہوں نے بہت سارا قرآن شریف حفظ کر لیا تھا۔ اور پھر ان کے اسلام لانے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں امام مقرر کر دیا جب کہ ان کی عمر سات آٹھ سال تھی۔

احادیث کے حفاظ بچے

جہاں کچھ بچوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قرآن شریف حفظ کیا۔ یا قرآن شریف کی بعض سورتیں حفظ کیں وہاں بچوں کے اندر یہ جوش اور جذبہ تھا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر احادیث بھی یاد کر لیں۔ چنانچہ حضرت ابوسعید خدریؓ سے 1120 احادیث مروی ہیں۔ حضرت سہیل بن سعدؓ سے 1188 احادیث مروی ہیں۔ اسی طرح حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے 2260 احادیث اور حضرت عروہ بن جندبؓ جو عہد نبوی میں بہت کم عمر تھے انہوں نے بھی سینکڑوں احادیث یاد کر رکھی تھیں۔

اسی طرح حضرت انس ؓ کے بارے میں آتا ہے کہ جب کہ ان کی عمر آٹھ دس سال تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ اس عمر میں بھی دیوانہ وار فدا تھے۔ اورمحبت و اخلاص کے ساتھ آپ نے مفوضہ امور سرانجام دیتے تھے۔ بلکہ نماز فجر سے پہلے ہی اٹھ کر مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پہنچتے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مسجد میں آنے سے قبل ہی سارے انتظامات کرتے۔

حضرت علیؓ

حضرت علیؓ نے جب اسلام قبول کیا تو آپ کی بہت چھوٹی عمر تھی آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کو ہر چیز پر مقدم رکھا۔ آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہ کر تعلق باللہ بڑھایا۔ عابدوزاہد بنے۔ آپ تو چھوٹی عمر میں ہی روزہ دار اور عبادت گذار تھے۔ یہ حضرت عائشہؓ کی گواہی ہے آپ کے بارے میں۔

حضرت علیؓ خود بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے یوں رہتا تھا جیسے اونٹنی کا بچہ اونٹنی کے پیچھے رہتا ہے۔ یہ کشش اور یہ محبت اور یہ حسن سلوک نہ کسی ماں میں نہ باپ میں تھی۔ اگر تھی تو صرف اور صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مقدسہ میں تھی۔

آپ کے بارے میں تاریخوں میں یہ مشہور واقعہ آتا ہے۔ کہ جب آپ دس سال کے تھے آپ کو اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی سعادت ملی۔ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خاندان کو تبلیغ کرنے کے لئے ایک دعوت کا اہتمام کیا آپ نے جب سب لوگ اکٹھے ہوئے دعوت اسلام دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے یہ پوچھا کہ اس کام میں میرا کون مددگار ہوگا سب لوگ خاموش ہوگئے مگر حضرت علیؓ نے اٹھ کر فرمایا میں آپ کا دست راست بنوں گا آپ نے فرمایا بیٹھ جاؤ۔ دوسری اور تیسری دفعہ بھی آپ نے اپنا سوال دہرایا۔ سب خاموش تھے مگر ہر بار حضرت علیؓ نے ہی اٹھ کر فرمایا کہ میں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اور پھر ساری عمر اس عہد کو نبھایا۔

دشمنوں کی مجلس میں جا کر قرآن سنا دیا

ایک روز مسلمانوں نے مشہور کیا کہ قریش کو قرآن کریم سنایا جائے لیکن یہ کام اس قدر مشکل تھا کہ اس کو سَر انجام دینا سخت خطرناک تھا مگر عبداللہ بن مسعودؓ فوراً اس کام کے لئے تیار ہوگئے۔ انہوں نے قرآن حفظ کیا ہوا تھا دوسرے صحابہؓ نے کہا کہ ابھی بچے ہیں اس کام کے لئے موزوں نہیں۔ کوئی ایسا ہو جس کا خاندان وسیع ہو تاکہ قریش حملہ نہ کرسکیں۔ مگر عبداللہؓ نے کہا مجھے جانے دو میرا خدا حافظ ہے۔ چنانچہ اگلے روز جب قریش کی مجلس لگی ہوئی تھی۔ یہ شمع قرآنی کا دیوانہ وہاں جا پہنچا اور تلاوت قرآن کریم شروع کر دی۔ یہ دیکھ کر تمام مجمع مشتعل ہوگیا اور سب کے سب آپ پر ٹوٹ پڑے اور اس قدر مارا کہ چہرہ متورم ہوگیا۔ لیکن پھر بھی آپ کی زبان بند نہ ہوئی اور تلاوت جاری رکھی۔ اس سے فارغ ہو کر جب صحابہؓ میں واپس آئے تو آپ کی حالت نہایت خستہ ہو رہی تھی۔ صحابہؓ نے کہا ہم اس ڈر کی وجہ سے تمہیں جانے سے روکتے تھے۔ مگر حضرت عبداللہ نے جواب دیا خدا کی قسم اگر کہو تو کل پھر جا کر اسی طرح کروں گا۔ دشمنِ خدا آج سے زیادہ مجھے کبھی ذلیل نظر نہیں آتے۔

(اسد الغابہ۔ تذکرہ عبداللہ بن مسعود)

کم سن صحابہ بچے میدانِ جنگ میں

حضرت اسماء خادمِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر 13 سال کی تھی جب وہ میدان جنگ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے اور یہی عمر ابوسعید خدری ؓ کی تھی جب ان کو ان کے والدین نے جنگ میں شریک ہونے کے لئے حضورؐ کی خدمت میں پیش کیا تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پاؤں تک دیکھا اور فرمایا کہ بہت کمسن ہیں لیکن باپ نے ہاتھ پکڑ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھایا کہ پورے مرد کا ہاتھ ہے تاہم آپؐ نے اجازت نہ دی۔

(بخاری باب غزوہ بنی مصطلق)

لیکن اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ صحابہ کرامؓ دینی خدمات کو اس قدر ضروری اور قابل فخر سمجھتے تھے کہ اپنے بچوں کو اس کا موقع دلانے کے لئے نہایت حریص تھے اور ان کو آگے کرتے تھے کہ کسی نہ کسی طرح یہ سعادت حاصل ہوجائے۔ ہمارے زمانہ میں جو لوگ نہ صرف خود پیچھے ہٹتے ہیں بلکہ اپنی اولاد کو بھی اپنے گھروں میں چھپا کر رکھنا چاہتے ہیں۔ انہیں سوچنا چاہیئے کہ ان لوگوں کو اپنی اولادوں سے محبت ہم سے کم نہ تھی۔ وہ بھی ہماری طرح کے انسان تھے۔ ان کے پہلو میں بھی دل تھے جو ہم سے زیادہ پدری شفقت سے لبریز تھے۔ مگر جوش ایمان اور خدمت اسلام ان کے نزدیک دنیا کی ہر چیز سے زیادہ محبوب تھی۔

بچوں کا جذبہ جہاد فی سبیل اللہ اور شوقِ شہادت

ہمارے پیارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بچوں سے انتہائی محبت و شفقت کا سلوک فرماتے وہاں بچے بھی آپ سے والہانہ محبت و عقیدت رکھتے تھے۔ یہاں تک کہ وہ آپ کے لئے جان تک قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتے تھے۔ اور فدائیت کے جذبے سے سرشار ہو کر میدانِ جنگ میں شمولیت کے لئے درخواست کرتے اور اپنے آپ کو پیش کر دیتے۔

ننّھا مجاہد۔ ننّھا شہید

جنگ بدر کی تیاریاں ہو رہی میں مسلمانوں کو مکہ کے کافروں کےخلاف پہلا موقعہ جہاد میسر آیا تھا۔ اس لئے بڑے جوش و خروش سے تیاریاں ہو رہی تهیں۔

سعد بن ابی وقاصؓ کے چھوٹے بھائی بہت کمسن تھے۔ انہوں نے سُنا حضور کمسن بچوں کو واپس کررہے ہیں تو لشکر کے پیچھے چھپ رہے تھے کہ کہیں کوئی دیکھ نہ لے۔ دل میں خدا کی راہ میں شہید ہونے کی بڑی خواہش تھی۔ جب انہیں تلاش کیا گیا اور واپسی کا حکم ملاتو وہ بے تحاشا رونے اور چلانے لگے۔ جب حضورؐ کو علم ہوا تو آپؐ نے ان کو بادل نخواستہ جنگ میں جانے کی اجازت دے دی۔

چنانچہ اس کے بڑے بھائی نے تیار کر دیا اور تلوار باندھی جو اس کمسن سپاہی سے بھی بڑی تھی۔

اللہ تعالیٰ نے اس معصوم کی شدید آرزو کو قبول کرتے ہوئے اسے شہادت کا رتبہ عطا فرمایا۔ اللہ اللہ کیا جاں نثاری کا جذبہ تھا جو نوجوانوں کے لئے بھی مشعلِ راہ ہے آپ نے اللہ اور اس کے رسول پر اپنی جان قربان کر دی۔

جنگ بدر کے جانباز بچے۔ دشمن خدا کو قتل کردیا

مسلمان کفار مکہ کے خلاف برسرپیکار تھے۔ پیغمبر اسلام کے لشکر میں صرف تین سو تیرہ سپاہی۔ ستّر اونٹ اور دو گھوڑے تھے۔ اور مقابلے پر ایک ہزار کفار۔

جنگ کے طوفان میں دو نوخیز لڑکے کسی جستجو میں پھر رہے تھے ابوجہل کہاں ہیں……… حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابیؓ ہیں بیان کرتے ہیں کہ جنگِ بدر کے میدان میں مَیں نے اپنے دائیں بائیں نظر ڈالی تو دیکھا کہ ایک طرف معوذ اور دوسری طرف معاذ ہیں مَیں نے ایک لمحہ کے لئے سوچا۔ اگر میرے دائیں بائیں کوئی مضبوط نوجوان ہوتے تو جنگ میں لڑنے کا مزہ بھی آتا۔ اس خیال کے آتے ہی ایک بچے نے دائیں طرف سے کہنی ماری چچا ابوجہل کہاں ہے؟ ادھر سے دوسرے نے کہنی مار کر پوچھا۔ چچا! وہ ابوجہل کیاں ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا رہتا ہے اور مسلمانوں کو تکالیف دیتا ہے۔ مَیں نے ارادہ کیا ہے یا تو اسے قتل کردیں گے یا اپنی جان بھی دے دیں گے۔ مَیں نے ابھی انگلی سے اشارہ ہی کیا تھا کہ وہ دیکھو وہ میدانِ جنگ میں پہروں میں لوہے سے لدا ہوا کھڑا ہے وہی ابوجہل ہے۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کہتے ہیں مَیں نے اشارہ ہی کیا تھا کہ دونوں بچے تیزی سے باز کی طرح جھپٹے اور تلواروں سے ایسا تابڑ توڑ حملہ کیا کہ ابوجہل زمین پر گر گیا۔ عکرمہ اس کا لڑکا پاس ہی کھڑا تھا اس نے ایک لڑکے پر وار کیا اور اس کا ایک بازو کٹ کر لٹک گیا جو جنگ میں لڑنے میں حائل ہورہا تھا۔ تو اس نے بازو کو پاؤں کے نیچے رکھ کر جسم سے الگ کر دیا اور پھر لڑنے لگا۔ دشمن خدا ابوجہل نے مرتے ہوئے بڑی حسرت سے کہا کہ میں کمسن لڑکوں کے ہاتھوں قتل ہوا ہوں۔

(بخاری کتاب المغازی باب غزوہ بدر)

جنگ اُحد کے جانباز کمسن سپاہی

جنگ احد بڑی خون ریز جنگ تھی بہت سے کم عمر لڑکے بھی اس جہاد میں شامل ہونے کے لئے بے تاب تھے یہ صحرا کے بچے تھے جن کے سروں میں اللہ کی راہ میں اپنی جانیں فدا کرنے کا جنون سمایا ہوا تھا وہ یا تو فتح چاہتے تھے یا شہادت کا رتبہ مگر حضورؐ نے ان معصوم بچوں کو آگ کی جنگ میں جانے کی اجازت نہ دی اور بچوں کو واپس جانے کے لئے کہا……… ان میں ایک بچہ رافع بھی تھا جو بہت اچھا تیر انداز تھا اس کے باپ نے حضورؐ کی خدمت میں درخواست کی کہ اسے ماہر نشانہ باز ہونے کی وجہ سے اجازت دے دی جائے اور حضورؐ مان گئے۔ یہ دیکھ کر ایک نوخیز بہادر لڑکا جو رافع سے زیادہ طاقتور تھا جوش میں آیا اور اس نے حضورؐ سے التجا کی کہ میں کُشتی میں رافع کو پچھاڑ سکتا ہوں مقابلہ کرالیں۔ اگر مَیں نے اس کو گرا لیا تو مجھے بھی اجازت دے دیں چنانچہ اس طریقے سے اسے بھی میدانِ جنگ میں جانے کی اجازت مل گئی۔

(ابن ہشام جلد ثانی جزثالث صفحہ 586)

سات بہنوں کا ایک بھائی میدانِ جنگ میں

حضرت جابرؓ ایک بچے ہی تھے جو سات بہنوں کے واحد بھائی تھے ان کے والد بھی شہید ہوچکے تھے۔ جنگ احد کے بعد پھر جنگ کا اعلان ہوا۔ تو جابر جہاد میں شامل ہونے کے لئے حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اور اجازت چاہی۔ آپ میدان جنگ میں جانے کے لئے بے قرار تھے۔ حضورؐ کے سامنے گھٹنے ٹیک کر جُھک کر اس قدر عاجزی سے التجا کی کہ حضورؐ نے متاثر ہو کر اجازت دے دی۔ چنانچہ خوشی خوشی میدانِ جنگ میں پہنچ گئے…

عشاق محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں کمسن بچوں کی جان سپاری کے یہ واقعات اس اَمر کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ وہ آپ کے حسنِ سلوک اور محبت و شفقت کے گرویدہ تھے۔ آپؐ نے ان کے دلِ وجان پر یہاں تک قبضہ کر لیا تھا۔ کہ وہ اپنا سب کچھ آپؐ پر نچھاور کرنے پر تُلے بیٹھے تھے۔ اور ان معصوم بچوں نے اس بات کو یقیناً سچ کر دکھایا تھا کہ یا رسول اللہ ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی۔ آپ کے آگے بھی لڑیں گے اور آپ کے پیچھے بھی اور دشمن آپ تک ہرگز نہیں پہنچ سکے گا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ جائے۔

پس یہ وہ کم سن صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فدائیت و اخلاص کےکچھ واقعات ہیں انہوں نے عبادت کے میدان میں بھی فدائیت دکھائی، جہاد کے میدان میں بھی اخلاص و فدائیت کا جذبہ دکھایا۔ اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان کم سن صحابہ نے ہمارے لئے ایک مثال بن کر ہمیں وہ راستہ دکھایا جو أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ کا راستہ ہے۔

اور یہی پیغام اس وقت جماعت احمدیہ کے اطفال الاحمدیہ کے لئے ہے۔ کہ آپ نے بھی وہی جذبہ اخلاص و فدائیت کا اپنے اندر پیدا کرنا ہے جو ان کم سن صحابہ میں تھا۔ آپ نے اپنی تنظیم میں شامل رہنا ہے۔ آپ نے خلیفة المسیح کے خطبات کو باقاعدگی سے سننا ہے۔ آپ نے خلیفة المسیح کی ہر بات میں پیروی اور اطاعت کرنی ہے۔ آپ نے حضرت علیؓ کی طرح کہنا ہے اے خلیفة المہدی !ہم حاضر ہیں اور تبلیغ و تربیت اور جہادکے میدان میں ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔

آپ نے حضرت ابوسعید خدری ؓ اور دیگر صحابہؓ کی طر ح علم القرآن اور علم الحدیث حاصل کرکے دنیا کو خلافت کی ڈھا ل کےنیچے لاکر راہنمائی کرنی ہے۔ آپ نے معوذؓ اور معاذؓ کی طرح خلیفۂ وقت کے دائیں اور بائیں رہنا ہے اور جہالت کو قتل کرنا ہے۔ علم کی روشنی پھیلانی ہے۔

آپ نے حضرت سعد بن وقاص ؓ کی طرح کسی بات کی پرواہ نہیں کرنی کہ آپ ابھی چھوٹے ہیں۔ آپ نے اس قدر علم حاصل کرنا ہے۔ جو کام سیف والا حضرت سعد بن وقاصؓ نے دکھایا۔ آپ نے اس میدان میں قلمی جہاد کرنا ہے۔

آپ عہد کریں کہ اطفال کی ہر میٹنگ میں شریک ہوں گے۔ ہر قسم کی مالی و جانی قربانی کے لئے تیار رہیں گے۔ وقت کی قربانی دیں گے۔ عبادات کے میدان میں نماز تہجد اور پانچوں نمازوں کا اہتمام کریں گے۔ اور خلیفۂ وقت کی ہر بات ماننے کے لئے ہر دم تیار رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ مجھے بھی اور آپ کو بھی توفیق دے۔ (آمین)

(مولانا سید شمشاد احمد ناصر۔ مبلغ امریکہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 8 اگست 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ