• 23 اکتوبر, 2020

آپؐ نے کس قدر بہادری اور جرأت کے مظاہرے کئے

پھر ہم دیکھتے ہیں کہ وحی نازل ہونے کے بعد مختلف اوقات میں آپؐ نے کس قدر بہادری اور جرأت کے مظاہرے کئے۔ مکّہ کی تیرہ سالہ زندگی میں یعنی دعویٰ نبوت کے بعد آپؐ کو ہر طرح سے ڈرایادھمکایا گیا اور آپؐ کے بزرگوں اور پناہ دینے والوں کی پناہیں آپؐ سے ہٹانے کی کوششیں کی گئیں۔ لیکن اس جرأت و شجاعت کے پیکر نے ان کی ذرہ بھی پرواہ نہیں کی۔ اس مکّی زندگی میں آپؐ پر ظلم اور زیادتیوں کے واقعات کی روایات جو ہم تک پہنچی ہیں ان میں سے چند ایک کا ذکر کرتا ہوں، جن سے پتہ چلتا ہے کہ آپؐ نے کس بہادری اور جرأت اور بغیر کسی پریشانی اور گھبراہٹ کے اظہار کے ان سب چیزوں کا مقابلہ کیا۔ آپ ؐ کو فکر رہتی تھی تو اپنے ماننے والوں کی۔ یہ فکر ہوتی تھی کہ ان پر ظلم نہ ہوں۔ روایتوں کو پڑھتے ہوئے بعض دفعہ ذہن کے رجحان کے مطابق ایک آدھ پہلو سیرت کا سامنے آتا ہے لیکن اگر دیکھا جائے تو بعض ایسی روایتیں ہیں جن میں ایک ایک حدیث میں آپؐ کی سیرت اور خُلق کے کئی پہلو نظر آتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب مکّہ میں تھے تو نہایت جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بے دھڑک خانہ کعبہ کا طواف اور وہاں اپنے طریق پر عبادت کیا کرتے تھے۔ قریش مکّہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب خانہ کعبہ میں اس طرح عبادت کرتے ہوئے دیکھتے تھے تو بہت غصے میں آجایا کرتے تھے کہ ہمارے بتوں کو برا بھلا کہتے ہیں او رپھر ہمارے سامنے ہی بغیر کسی جھجک کے اپنے طریق پر اپنی عبادتیں بھی کر رہے ہیں، طواف بھی کر رہے ہیں۔ چنانچہ ایک دفعہ ایسے ہی ایک موقع پر قریش کا رویہ کیا تھااس کا ذکر عبداللہ بن عمرو ؓ بن عاص نے کیا ہے۔ کہتے ہیں کہ ایک روز میں خانہ کعبہ کے قریب موجود تھا تو قریش کے سب بڑے بڑے لوگ حجرا سود کے پاس خانہ کعبہ میں اکٹھے ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرنے لگے کہ یہ بتوں کو برا بھلا کہتے ہیں اور ہم نے بڑا صبرکر لیا اور اب صبر کی انتہاہو گئی ہے۔ تو کہتے ہیں کہ یہ لوگ باتیں کر رہے تھے کہ اتنے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپؐ طواف میں مشغول ہو گئے۔ جب آپؐ طواف کرتے ہوئے ان لوگوں کے پاس سے گزرتے تو کفار آپؐ پر آوازے کستے تھے، بیہودہ باتیں آپؐ کے متعلق کرتے تھے۔ چنانچہ تین بار ایسا ہوا۔ کہتے ہیں کہ مَیں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر دکھ محسوس کیا او ر تیسری دفعہ آوازے کسنے پر آپؐ کھڑے ہوگئے اور آپؐ نے فرمایا کہ اے گروہ قریش! قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے کہ مَیں تم جیسوں کی ہلاکت کی خبر لے کر آیا ہوں۔ راوی کہتے ہیں کہ اس بات کا قریش پر ایسا اثر ہوا کہ وہ سکتے کی حالت میں آگئے۔ اور جو شخص اُن میں سب سے زیادہ بڑھ بڑ ھ کر باتیں کرنے والا تھا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑی نرمی سے بات کرنے لگا اور کہنے لگا کہ آپ تشریف لے جائیں۔ (جو بھی معذرت کی) پھر آپؐ وہاں سے تشریف لے آئے۔ دوسرے روز پھر یہ لوگ اکٹھے ہوئے اور ہر طرف سے آپؐ کو گھیر لیا اور کہنے لگے کہ تم ہی ہو جو ہمارے بتوں میں عیب نکالتے ہو، ہمارے دین کو برا بھلا کہتے ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہاں مَیں کہتا ہوں۔ تو دیکھیں کس جرأت سے آپؐ اکیلے، تن تنہا ظالموں اور جابروں کے گروہ کے بیچ میں چلے جایا کرتے تھے۔ قطعاً اس کی پرواہ نہیں کرتے تھے کہ یہ ظالم اور انسانیت سے عاری لوگ آپؐ کے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔ اور پھر یہی نہیں بلکہ ان کو للکار کر کہا کہ تم جو آج بڑھ کر بڑھ کر مجھ سے باتیں کر رہے ہو، مجھ پر باتیں بنا رہے ہو، میرے خلاف غلیظ اور انسانیت سے گری ہوئی گندی زبان استعمال کر رہے ہو یا د رکھو کہ تم لوگوں کی ہلاکت میرے ہاتھوں سے ہونی ہے۔

اب جس کو ذرا سا بھی دنیا کا خوف ہو، وہ ایسی بات نہیں کر سکتا۔ وہ تو مصلحت کے تقاضوں کی وجہ سے خاموش ہو جائے گا کہ کہیں مجھ سے اَور زیادتی نہ کریں۔ لیکن خدا کا یہ شیر سب کو للکارتا ہے بغیرکسی کی پرواہ کے، بغیر کسی خوف کے، بغیر کسی ڈر کے، اور اس للکار میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رعب ہی ایسا دیا گیا ہے کہ باوجود مضبوط گروہ ہونے کے وہ سب اس بات پر خاموش ہو گئے جیسے جسم سے جان ہی نکل گئی ہو۔

(خطبہ جمعہ 22 اپریل 2005)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 8 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 9 اکتوبر 2020