• 29 نومبر, 2020

ہر سطح پر اسلام کی تعلیم امن اور سلامتی کو قائم رکھنے کی تعلیم ہے

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
جب دنیا میں ہر جگہ فساد پھیلتا ہے اور سلامتی ہر جگہ سے اٹھتی نظر آتی ہے تو جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی اصلاح کے لئے، اپنے بندوں کو اس فساد سے بچانے کے لئے انبیاء بھیجتا ہے اور جب دنیا سے تقویٰ بالکل اٹھ جاتا ہے اس وقت بھی انبیاء بھیجے جاتے ہیں اور آج سے چودہ سو سال قبل ہم نے دیکھا کہ جب اس زمین پر سے تقویٰ بالکل اٹھ گیا، خشکی اور تری، ہر جگہ پر فساد اپنے عروج پرتھا تو اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری شریعت آنحضرتﷺ پر اتار کر دنیا کو اس فساد سے بچانے کے سامان پیدا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ نے آنحضرتﷺ پر قرآن کریم نازل فرما کر حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کے اسلوب ہمیں سکھائے۔ جن کو پہلے انبیاء کے ماننے والے یا تو بھول چکے تھے یا ان پہلے انبیاء کو اُن اعلیٰ معیاروں کے احکامات دئیے ہی نہیں گئے تھے۔ اور مشرکین کا جہاں تک سوال ہے وہ تواپنی جہالت میں انتہا کو پہنچے ہوئے تھے۔ تو قرآن کریم نے ہر قسم کے احکامات کے ادا کرنے کے لئے جس اہم ترین نکتہ کی طرف قرآن کریم کے ذریعہ ہمیں توجہ دلائی وہ ہے تقویٰ۔ پس تقویٰ ایک انتہائی اہم چیز ہے جس کا ایک انسان کو اگر فہم و ادراک حاصل ہو جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کی صفات پر کار بند ہو سکتا ہے، اس کا پَرتو بن سکتا ہے اور ان کو پھیلانے والا بن سکتا ہے۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس اہم نکتہ پر توجہ دلاتے ہوئے ایک جگہ بیان فرماتے ہیں کہ:
’’قرآن شریف میں تمام احکام کی نسبت تقویٰ اور پرہیز گاری کے لئے بڑی تاکید ہے۔ وجہ یہ کہ تقویٰ ہر ایک بدی سے بچنے کے لئے قوت بخشتی ہے۔ اور ہر ایک نیکی کی طرف دوڑنے کے لئے حرکت دیتی ہے۔ اور اس قدر تاکید فرمانے میں بھید یہ ہے کہ تقویٰ ہر ایک باب میں انسان کے لئے سلامتی کا تعویذ ہے اور ہر ایک قسم کے فتنہ سے محفوظ رہنے کے لئے حِصن حصین ہے۔ ایک متقی انسان بہت سے ایسے فضول اور خطرناک جھگڑوں سے بچ سکتا ہے جن میں دوسرے لوگ گرفتار ہو کر بسا اوقات ہلاکت تک پہنچ جاتے ہیں اور اپنی جلد بازیوں اور بدگمانیوں سے قوم میں تفرقہ ڈالتے اور مخالفین کو اعتراض کا موقع دیتے ہیں۔

(ایام الصلح۔ روحانی خزائن جلد14 صفحہ342)

پس یہ تقویٰ ہی ہے جو دین کی بنیاد ہے اور جب تک مسلمانوں میں یہ قائم رہا وہ اللہ تعالیٰ کے سلامتی کے پیغام کو دنیامیں پھیلاتے چلے گئے اور سعید روحیں ان میں شامل ہوتی چلی گئیں اور اسلام عرب سے نکل کر ایشیا کے دوسرے ممالک میں بھی پھیل گیا، مشرق بعید میں بھی پھیل گیا، افریقہ نے بھی اس کی برکتوں سے فیض پایا اور یورپ میں بھی اسلام کا جھنڈا لہرایا۔ لیکن جب تقویٰ کی کمی ہوتی گئی، جب سلامتی کی جگہ خود غرضیوں نے لے لی، جب محبت پیار کی جگہ حسد، بغض اور کینہ نے لے لی تو ان انعامات اور برکات سے بھی مسلمان محروم ہوتے چلے گئے جو اللہ تعالیٰ نے اپنا تقویٰ دلوں میں رکھنے والوں کے لئے مقدر کی ہوئی تھیں۔ لیکن جیسا کہ مَیں نے کہا اللہ تعالیٰ نے بحرو بر کے فسادوں کو دور کرنے کے لئے آخری تعلیم آنحضرت ﷺ پر اتاری۔ آج بھی یہی تعلیم ہے جس نے اندھیروں کو روشنیوں میں بدلناہے۔ آج بھی یہی تعلیم ہے جس نے دنیا کے فسادوں کو اپنی سلامتی کے پیغام سے دور کرنا ہے۔ گو کہ وہ لوگ محروم ہو گئے جن کے دلوں سے تقویٰ نکل گیا اور خود غرضیوں اور حسد اور بغض میں بڑھ گئے لیکن خدا تعالیٰ نے آنحضرتﷺ جو اللہ تعالیٰ کے آخری شرعی نبی تھے سے کئے گئے اس وعدے کو کہ اسلام نے ہی تمام ادیان پر غالب آنا ہے واپس نہیں لے لیا۔ محروم اگر ہوئے تو تقویٰ سے عاری لوگ ہوئے نہ کہ دین اسلام میں کسی قسم کی کمی ہوئی۔ آج اللہ تعالیٰ نے اسلام کی نشأۃ ثانیہ کے لئے اور اس کی ترقی کے لئے آنحضرتﷺ کے عاشق صادق کو کھڑا کیا ہے۔ آج مسلمانوں کی اس کھوئی ہوئی میراث کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ماننے والوں نے اسلام کی صحیح تعلیم پر عمل کرتے ہوئے اور اپنے دلوں کو تقویٰ سے پُر کرتے ہوئے واپس لانا ہے۔

پس یہ احمدی کی ذمہ داری ہے کہ اس سلامتی کے پیغام کو ہر طرف پھیلاتا چلا جائے۔ ہر دل میں یہ بات راسخ کر دے کہ اسلام تشدد کا نہیں بلکہ پیار اور محبت کا علمبردار ہے۔ ہر سطح پر اسلام کی تعلیم امن اور سلامتی کو قائم رکھنے کی تعلیم ہے۔ اسلام نے قوموں اور ملکوں کی سطح پر بھی امن اور سلامتی قائم کرنے کے لئے جو خوبصورت تعلیم دی ہے اس کا مقابلہ نہ کوئی انسانی سوچ کر سکتی ہے اور نہ کوئی مذہب کر سکتا ہے۔ اس خوبصورت تعلیم پر عمل سے ہی دنیا کا امن اور سلامتی قائم ہو سکتے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد بھی دنیا میں امن قائم کرنے کے لئے قوموں کی ایک تنظیم اقوام متحدہ کے نام سے ابھری لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اس کا بھی حشر وہی ہوا اور ہو رہا ہے جو اس سے پہلے قائم کردہ تنظیم کا تھا۔ اس میں بڑے دماغوں نے مل کر بڑی منصوبہ بندی کی اور بڑی منصوبہ بندی سے یہ تنظیم بنائی۔ اس میں کئی کمیٹیاں قائم کی گئیں۔ سلامتی کونسل بنائی گئی تاکہ دنیا کا امن اور سکون قائم رکھا جائے، جھگڑوں کو نپٹایا جائے۔ معاشی حالات کے جائزے کے لئے کہ یہ بھی فسادوں کی ایک وجہ بنتی ہے، اس میں ایک کونسل بنائی گئی۔ عدالت انصاف قائم کی گئی۔ لیکن اس کے باوجود آج جو کچھ دنیا میں ہو رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ اس سب ناکامی کی وجہ تقویٰ کی کمی ہے۔ اس میں بعض قوموں نے اپنے آپ کو دولت کا معیار رکھتے ہوئے، یا عقل کا معیار رکھتے ہوئے، یا طاقت کا معیار رکھتے ہوئے، یا علم کا معیار رکھتے ہوئے، تکبر کی وجہ سے یا اپنے آپ کو سب سے زیاہ امن و سلامتی کا علمبردار سمجھتے ہوئے باقی قوموں سے بالا رکھا ہوا ہے۔ مستقل نمائندگی اور غیر مستقل نمائندگی کے معیار قائم کئے ہوئے ہیں جو کبھی انصاف قائم نہیں کر سکتے۔ بغیر روحانی آنکھ کے، اللہ تعالیٰ کی مدد اور تقویٰ کے نہ ہونے کی وجہ سے جب کسی ایک طاقت کو اکثریتی فیصلہ پر قلم پھیرنے کا اختیار ہو گا تو یہ اختیار سلامتی پھیلانے والا نہیں ہو سکتا۔ پس دنیا میں سلامتی اگر پھیلے گی تو اس تعلیم سے جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرتﷺ کو دی ہے جس میں تقویٰ شرط ہے۔ جس کی چند مثالیں اب میں یہاں پیش کرتا ہوں۔ تمام قوموں کے بحیثیت انسان ہونے کے بارے میں قرآن کریم ہمیں تعلیم دیتا ہے۔ فرمایا یٰٓاَیُّھَاالنَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّاُنْثٰی وَجَعَلْنٰکُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا۔ اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ۔ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ (الحجرات:14) کہ اے لوگو یقینا ہم نے تمہیں نر اور مادہ سے پیدا کیا ہے اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تا کہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بلاشبہ اللہ کے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔ یقینا اللہ دائمی علم رکھنے والا اور ہمیشہ باخبر ہے۔

(خطبہ جمعہ 22؍ جون 2007ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 7 نومبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 9 نومبر 2020