• 26 فروری, 2024

آج دنیا کی حالت بہت نازک ہو گئی ہے

جماعت کے خلاف تو مقدمات میں ہمیں اکثر نظر آتا ہے کہ بہت سارے لوگ جو موجود بھی نہیں ہوتے وہ گواہ بن کے کسی کے مقدمے میں پیش ہو جاتے ہیں۔ تو بہرحال (حضرت مسیح موعود علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ ’’آج دنیا کی حالت بہت نازک ہو گئی ہے۔ جس پہلو اور رنگ سے دیکھو جھوٹے گواہ بنائے جاتے ہیں۔ جھوٹے مقدمہ کرنا توبات ہی کچھ نہیں۔ جھوٹے اسناد بنا لیے جاتے ہیں‘‘۔ (سارے کاغذات documents جھوٹے بنا لئے جاتے ہیں۔ کسی سرکاری افسر کو پیسے دئیے اور جھوٹے بنا لئے) ’’کوئی امر بیان کریں گے تو سچ کا پہلو بچا کر بولیں گے۔‘‘ (یعنی سچ سے دُور ہی رہیں گے اور آجکل تو یہ حالت پہلے سے بھی بڑھ گئی ہے) ’’اب کوئی ان لوگوں سے جو اس سلسلہ کی ضرورت نہیں سمجھتے پوچھے کہ کیا یہی وہ دین تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے؟‘‘ (سلسلے کی ضرورت کے بارے میں آپ نے ان اخلاق کو پیش کیا اور بتایا کہ کیا صرف اتنا ہی کہہ دینا کہ مسیح آسمان پر نہیں ہے اور زمین میں فوت ہو چکے ہیں اور اب جس نے آنا تھا وہ آگیا ہے کافی ہے؟ نہیں۔ بلکہ یہ اعلیٰ اخلاق ہیں جو قائم کرنے ہوں گے۔ اور اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا) فرمایا کہ ’’اللہ تعالیٰ نے تو جھوٹ کو نجاست کہا تھا کہ اس سے پرہیز کرو۔ فَاجۡتَنِبُوا الرِّجۡسَ مِنَ الۡاَوۡثَانِ وَاجۡتَنِبُوۡا قَوۡلَ الزُّوۡرِ (الحج: 31) بُت پرستی کے ساتھ اس جھوٹ کو ملایا ہے‘‘۔ فرمایا ’’جیسااحمق انسان اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر پتھر کی طرف سر جھکا تا ہے ویسے ہی صدق اور راستی کو چھوڑ کر اپنے مطلب کے لیے جھوٹ کو بُت بناتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو بُت پرستی کے ساتھ ملایا اور اس سے نسبت دی جیسے ایک بت پرست بت سے نجات چاہتا ہے۔ جھوٹ بولنے والا بھی اپنی طرف سے بت بناتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس بُت کے ذریعہ نجات ہو جاوے گی…‘‘

(ملفوظات جلد8 صفحہ349-350 ایڈیشن1984ء)

(خطبہ جمعہ فرمودہ 5؍فروری 2016ء بحوالہ الاسلام ویب سائٹ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 8 دسمبر 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالی