• 15 اپریل, 2024

فرانس کے شمال میں نویں بین المذاہب کانفرنس

قرآنی تعلیمات کے مطابق جماعت احمدیہ عالمگیر ساری دنیا میں بین المذاہبی ہم اہنگی کے لئے بین المذاہبی کانفرنسز منعقد کرتی ہے۔گزشتہ 15 سالوں سے فرانس میں مرکزی مشن ہاؤس میں مرکزی سطح پر ہر سال کسی ایک موضوع پر کانفرنس منعقد کی جاتی ہے۔ اور کئی سالوں سے فرانس کی لوکل جماعتیں بھی اپنی سطح پر باقاعدہ ایسی کانفرنسز منعقد کرتی ہیں۔

فرانس کے شمالی ریجن (Hauts۔de۔ France) کی جماعت جو پیرس سے 250 کلومیٹر شمال میں ’’بیوغاج‘‘ (Beuvrages) میں واقع ہے، نے 13؍نومبر 2022 کو اپنی نویں بین المذاہب کانفرنس منعقد کی۔ امسال اس کانفرنس کا موضوع ’’عالمی بحران اور امن کی راہ‘‘ رکھا گیا۔ الحمداللّٰہ اس کانفرنس میں جماعت احمدیہ کے علاوہ پانچ مذاہب (عیسائیت پروٹسٹنٹ و کیتھولک، بدھ مت، ہندومت اور یونی فیکیشن چرچ) کے نمائندگان نے شرکت کی۔ ان مذہبی نمائندوں کے علاوہ علاقہ کے میئر مکرم علی بن یحییٰ نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور اپنی دوسری مصروفیات کے باوجود تمام پروگرام میں شامل رہے۔ فجزاہ اللّٰہ خیراً

اس کانفرنس کی صدارت میئر موصوف نے کی۔کانفرس کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا جو مکرم عزالدین صاحب نے پیش کی۔ اس کے بعد مکرم نعمان رشید صاحب سیکرٹری اشاعت نے سلائیڈز کی مدد سے جماعت احمدیہ کا تعارف پیش کیا۔ اس کے بعد تمام مذہبی نمائندوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

ہندو مذہب کے نمائندہ۔Mr. Gaura Bakta نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے ساتھ پروگرام میں شامل ہونا ہمیشہ خوشی کی بات ہے۔ گیتا ایک ایسی کتاب ہے جو بحران سے نمٹتی ہے لیکن سب سے بڑھ کر امن کے ساتھ۔ ہمیں یہ جاننے کے لیے کسی ڈگری کی ضرورت نہیں کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے، لیکن جو ہم نہیں جانتے وہ امن کا راستہ ہے۔ ہم اس دنیا میں آئے ہیں۔ ہم خدا کے قوانین کا احترام نہیں کرتے اور ہم نے خود کو خدا سے دور کر لیا ہے۔ جب آپ خدا سے محبت کرتے ہیں تو آپ اپنے پڑوسی سے محبت کریں گے کیونکہ خدا اس کے دل میں ہے۔ ہم سب خدا کے ابدی بندے ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ اس کی اطاعت کریں، دعا کریں، اپنے اور دوسروں کے ساتھ بھلائی کریں۔ لہٰذا، ہمارا فرض ہے کہ ہم اُس کی التجا کریں اور اُس کی تعریف کریں، چاہے ہم امن کے لیے کسی بھی عقیدے کی پیروی کریں۔

بدھ مت مذہب کے نمائندہ Mr. LEFEBVRE Jean۔Jacques نے سب کو سلام کرنے کے بعد موجودہ بحران سے متعلق کہا کہ ہمارے اپنے انتخاب کا نتیجہ ہو سکتا ہے کیونکہ ہم نے کائنات کے بعض قوانین کا احترام نہیں کیا ہے۔ ہم شاید محبت کا کردار کھو چکے ہیں۔ ہم جس چیز کا تجربہ کر رہے ہیں وہ امن، بھائی چارہ اور غیر مشروط محبت ہے اس کی مزید تفہیم کی طرف ایک قدم ہے۔ تو یہ ہمیں روشنی میں لے آئے گا۔ مختصراً، بدھ کی تعلیم ہمیں کرما کے ذریعے ذمہ دار بننا سکھاتی ہے۔

عیسائی کیتھولک مذہب کے نمائندہ Mr. Callebeau Bruno نے کہا کہ آپ سب سے مل کر خوشی ہوئی۔سکون حاصل کرنے کے لئے خدا کی عظمت اور انسان کی عظمت کو جاننا ضروری ہے۔ انسانی حقوق کے متن سے مراد وہ حقوق اور فرائض ہیں جو امن قائم کرنے کے لیے انسان کو پورا کرنے چاہئیں۔ یہ ایک اخلاقی ترتیب قائم کرنے میں مدد کرتا ہے جو خدا پر مبنی ہے۔ مشترکہ بھلائی کا تصور بہت ضروری ہے اور ہر ایک کی پہلی فکر ہونی چاہیے۔ ماتحتی کے اصول کا بھی احترام کیا جانا چاہیے۔ ہم سب کو کوشش کرنی ہے یعنی جہاد۔

عیسائی پروٹسٹنٹ مذہب کے نمائندہ Mr. LAVOISY Pierre نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے تمام شاملین اور کانفرنس کی انتظامیاں کا شکریہ ادا کیا آپ نے کہا کہ ہم نے اپنے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے اس پر انصاف کے مطابق فیصلہ کیا جائے نہ کہ ہماری مذہبی یا فلسفیانہ من گھڑت باتوں پر۔ میں اس بارے میں بات کروں گا کہ ’’امن کا کیا مطلب ہے‘‘ ہمارے خالق کی طرف سے تحفہ۔ برائی کے خلاف لڑنے کے لیے آپ کو اپنے خلاف جنگ لڑنی ہوگی۔ حقیقی سکون قلب ہے جس کا موازنہ مسلم جہاد سے کیا جا سکتا ہے جو اندرونی اور بیرونی امن کے لیے کوششیں کرتا ہے۔

یونیفیکیشن عقیدہ کی نمائندہ Mrs. Chantel ONANA نے تمام حاضرین کو سلام کے بعد بیان کیا کہ آج جو موضوع ہمیں یہاں اکٹھا کرتا ہے وہ عالمی بحران اور امن کا راستہ ہے۔ ہم تفریق، جدوجہد، جنگ، قحط اور امیر اور غریب کے درمیان فرق کے ذمہ دار ہیں۔ ہم سب کی ایک مشترکہ بنیاد ہے جو کہ خدا ہے۔ کیا خدا جنگ، قحط چاہتا تھا یا غریب اور امیر میں فرق چاہتا تھا؟ ہرگز نہیں۔ وہ چاہتا تھا کہ ہم ایک خاندان بنیں۔ خاندان میں ہی تمام رشتوں کا تعین ہوتا ہے۔ یہ تصور ہمیں امن کی طرف لے جا سکتا ہے۔ ہمیں خدا سے مدد مانگنے کی ضرورت ہے۔ ہم میں سے ہر ایک کی یہ ذمہ داری ہے کہ ہم امن کا راج قائم کریں۔

جماعت احمدیہ مسلمہ کے نمائندہ مکرم نصیر شاہد صا حب مربی سلسلہ نے اپنے خیالات کا اظہار یوں کیا کہ دنیا ایک بحران سے گزر رہی ہے۔کافی عرصہ سے ہر روز صورتحال نئے تنازعات کو جنم دیتی ہے جو پچھلے تنازعات سے زیادہ تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انسان نے دو عالمی جنگوں کے باوجود کوئی سبق نہیں سیکھا۔اب ایسا لگتا ہے کہ یہ صورت حال دنیا کو تیزی سے تیسری عالمی جنگ کی طرف دھکیل رہی ہے جس کے تباہ کن اثرات انسانی سوچ سے بھی باہر ہوں گے۔ انسان کی طرف سے انسان کو پہنچنے والے اس تمام مصائب کی اصل وجہ کیا تھی؟ غربت؟ نہیں۔ انسانی تنوع؟ نہیں۔مذہب؟ نہیں، ہرگز نہیں۔ حالانکہ بدقسمتی سے لوگ سمجھتے ہیں کہ تمام تنازعات مذاہب کی وجہ سے ہیں۔ درحقیقت اس کی وجہ ناانصافی ہے جو غرور، خود غرضی اور غریب اور بے اختیار ممالک کے وسائل پر قبضے سے جنم لیتی ہے۔ لیڈروں نے پچھلی جنگوں سے سبق کیوں نہیں لیا؟ اقوام متحدہ کیوں ناکام ہوئی اور انسانیت کو تباہی سے بچا نہیں سکی؟ اقوام متحدہ کے قیام کے باوجود ہم ایک نئی جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

جماعت احمدیہ مسلمہ کےسربراہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے دنیا کو متنبہ کر رہے ہیں اور دنیا کے سیاسی رہنماؤں کو اپنے خطابات اور خطوط کے ذریعے امن کا پیغام پہنچا رہے ہیں۔ آپ نے دنیا کے سیاسی راہنماؤں کو اس بحران کا اسلام کے مطابق حل پیش کرتے ہوئے نصیحت کی کہ اسلامی انصاف سے کام لینے، دوسروں کی بھلائی کے لئے تعاون کرنے اور نیکی کی راہ پر چلنے کا کہتا ہے۔ قرآن کہتا ہے جب دو گروہ آپس میں ٹکرا جائیں تو ان میں صلح کر انی چاہیے۔ قائدین سیاسی عزائم کی تسکین نہ کریں۔ ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ جب انسان ناکام ہوتا ہے تو خدا اپنے حکم کے مطابق بنی نوع انسان کی تقدیر کا تعین کرتا ہے۔ لہٰذا اگر انسان اصلاح کرے اور خدا کی طرف رجوع کرے تو نجات پائے گا ورنہ اللہ کے عذابوں کا مزہ چکھنا پڑے گا۔

علاقہ کے میئر مکرم علی بن یحییٰ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا تمام نظریات تعریف کے قابل ہیں آ پ نےکہا کہ آج کل کے حالات میں ضروری ہے کہ سب مل کر رہے آپس میں بھائی چارہ قائم کریں دنیا ایک پر امن اور محبت کی حالت کو دیکھنا چاہتی ہے۔ آپ جس بھی عقیدہ سے ہوں یہ بات ضروری ہے کہ آپ کا اپنے پڑوسی کے ساتھ امن، محبت اور احترام قائم ہو، آخر پر آپ نے تمام شاملین کا شکریہ ادا کیا جماعت احمدیہ کو مبارکباد پیش کی اور اس قسم کے پروگرام کرتے رہنے کی درخواست کی۔

آخر پر دعا ہوئی اور تمام لیڈران کو حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی کتاب ’’عالمی بحران اور امن کی راہ‘‘ اور چند پمفلٹ بطور تحفہ پیش کی گئے۔ اور تمام شرکاء کی خدمت میں ماحضر پیش کیا گیا۔

قارئین کی خدمت میں چند مہمانوں کے تأثرات پیش کرتے ہیں:۔
ایک مہمان نے کہا، افسوس کہ یہ کانفرنس سال میں صرف ایک دفعہ ہوتی ہے۔ایک مہمان نے کہا کہ وہ کوشش کریں گے کہ نیشنل مذہبی کانفرنس میں جماعت احمدیہ کو شامل کریں۔ ایک مہمان کا کہنا تھا کہ ایسی باتیں جنہوں نے لاجواب کردیا سب کو مل بیٹھ کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک مہمان کا کہنا تھا کہ جماعت احمدیہ کو مبارک باد اور ان کا مہمانوں کے لیے استقبال پر بہت خوش ہوں ایک لمحہ کے لیے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے کسی اور دنیا میں ہوں۔ تمام مہمانوں نے مکرم مبلغ انچارج نصیر احمد شاہد صاحب کے بیان کردہ جماعت احمدیہ کے موقف کو بہت پسند کیا۔

اس کانفرنس میں 28 مہمانوں سمیت کل حاضری 85 رہی۔اس سال محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس پروگرام کو یوٹیوب پر لائیو نشرکیا گیا جس میں شاملین کی تعداد 190 رہی۔ اس طرح کل 275افراد نے کانفرنس میں شمولیت اختیار کی۔

(داؤد رشید۔ صدر جماعت احمدیہ شمالی فرانس)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 9 جنوری 2023

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالی