• 1 اکتوبر, 2020

خلاصہ خطبہ جمعہ مورخہ 7 فروری 2020ء بمقام مسجد مبارک ٹلفورڈ یوکے

آنحضرت ؐ کے جانثار اور فدائی بدری صحابی حضرت محمد بن مسلمہ انصاریؓ کی سیرت و سوانح کا دلکش تذکرہ

آپؓ قدیم اسلام لانے والوں میں سے تھے، آنحضرت ﷺ نے کئی غزوات کے موقع پر آپ ؓ کو مدینہ پر نگران مقرر فرمایا تھا

کعب بن اشرف کی مفسدانہ کارروائیوں کی وجہ سے اس کے واقعہ ٔقتل کا مفصل بیان اور اَلْحَرْبُ خُدْعَۃٌ کی پُرمعارف تشریح

کعب گو مذہباً یہودی تھا لیکن دراصل یہودی النسل نہ تھا بلکہ عرب تھااور تمام عرب کے یہودی اسے سردار سمجھتے تھے۔اخلاقی نکتہ نگاہ سےوہ ایک نہایت گندے اخلاق کا آدمی تھا اورخفیہ چالوں اور ریشہ دوانیوں کے فن میں، برائیوں میں اورفساد پیدا کرنے میں اسے بڑا کمال حاصل تھا

معاہدہ کی رُو سے آنحضرت ﷺ مدینہ میں قائم ہونے والی اس جمہوری سلطنت کے سردار تھے اور آپ کو یہ اختیار دیاگیا تھا کہ جملہ تنازعات اور امور سیاسی میں جو فیصلہ مناسب خیال کریں صادر فرما ئیں۔ آپ نے ملک کے امن کے مفاد میں کعب کی فتنہ پردازی کی وجہ سے اسے واجب القتل قرار دیا، پس اس فیصلہ قتل پر کوئی اعتراض کی گنجائش نہیں ہے

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبہ جمعہ مورخہ 7 فروری 2020ء بمقام مسجد مبارک ٹلفورڈ یوکے کا خلاصہ

خلاصہ خطبہ جمعہ

سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح ا لخامس ایدہ ا للہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنےمورخہ 7 فروری 2020ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد ٹلفورڈ یو کے میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جو کہ مختلف زبانوں میں تراجم کے ساتھ ایم ٹی اےانٹر نیشنل پر براہ راست ٹیلی کاسٹ کیا گیا ۔ حضور انور نے فرمایا: آج جن صحابی کا ذکر ہوگا ان کا نام ہےحضرت محمد بن مسلمہ انصاریؓ۔ آپؓ کے والد کا نام مسلمہ بن سلمہ تھا اور ان کی والدہ ام سہم تھیں جن کا نام خلیدہ بنت ابو عبیدہ تھا۔ ان کا تعلق انصار کے قبیلہ اوس سے تھا اور قبیلہ عبد اشہل کے حلیف تھے۔ ان کی کنیت ابو عبداللہ یا عبد الرحمٰن اور ابو سعید بھی بیان کی جاتی ہے۔ آپ بعثت نبوی سے 22 سال پہلے پیدا ہوئے اور ان لوگوں میں سے تھے جن کا نام جاہلیت میں محمد رکھا گیا،مدینہ کے یہود اس نبی کے منتظر تھےجس کی بشارت حضرت موسیٰ نے دی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اس مبعوث ہونے والے نبی کا نام محمد ہو گا۔ جب اہل عرب نے یہ بات سنی تو انہوں نے اپنے بچوں کے نام محمد رکھنے شروع کر دیئے۔

سیرت النبیؐ پر مشتمل کتب میں جن افراد کا نام زمانۂ جاہلیت میں بطور تفاؤل کے محمد رکھا گیا ان کی تعداد3سے لے کر 15 تک بیان کی گئی ہے جن میں حضرت محمدبن مسلمہؓ بھی شامل ہیں۔ حضرت محمدبن مسلمہؓ قدیم اسلام لانے والوں میں سے تھے۔آپؓ حضرت مصعب بن عمیر ؓکے ہاتھ پر حضرت سعد بن معاذؓ سے پہلے ایمان لائے تھے۔ جب حضرت ابو عبیدہ بن جراح ہجرت کر کے مدینہ تشریف لا ئے تو آنحضرت ﷺ نے ا ن کی آپؓ کے ساتھ مواخات قائم فرمائی۔ آپؓ ان صحابہؓ میں شامل تھے جنہوں نے کعب بن اشرف اور ابو رافع سلام بن ابو حقیق جیسے فتنہ پردازوں کو قتل کیا تھا۔ آنحضرت ﷺ نے کئی غزوات کے موقع پر ان کو مدینہ پر نگران بھی مقرر فرمایا ۔ آپؓ کے بیٹے جعفر، عبد اللہ، سعد ، عبد الرحمٰن اور عمر نبی کریم ﷺ کےصحابہؓ میں شمار ہوتے ہیں۔حضرت محمد بن مسلمہؓ غزوہ بدر ، احد اور اس کے بعد سوائے غزوہ تبوک کے تمام غزوات میں شریک ہوئے کیونکہ غزوہ تبوک میں وہ نبی کریم ﷺ کی اجازت سے مدینہ میں ٹھہرنے کے لئے پیچھے رہ گئے تھے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے کعب بن اشرف کے قتل کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ سیرت خاتم النبیین میں حضرت مرزا بشیر احمدؓ نے اس ضمن میں لکھا ہے کہ کعب گو مذہباً یہودی تھا لیکن دراصل یہودی النسل نہ تھا بلکہ عرب تھااور تمام عرب کے یہودی اسے سردار سمجھتے تھے۔اخلاقی نکتہ نگاہ سےوہ ایک نہایت گندے اخلاق کا آدمی تھااورخفیہ چالوں اور ریشہ دوانیوں کے فن میں، برائیوں میں اورفساد پیدا کرنے میں اسے بڑا کمال حاصل تھا، نیکی تو اس کے پاس بھی نہ پھٹکی تھی۔ بہرحال جب نبیﷺ مدینہ ہجرت کر کے تشریف لائے تو یہودیوں سے مل کر اس نے اس معاہدے میں شرکت کی جو آنحضرت ﷺ اور یہود کے درمیان باہمی دوستی اور امن و امان اور مشترکہ دفاع کے متعلق تحریر کیا گیا تھا مگر اندر ہی اندر کعب کے دل میں بغض و عداوت کی آگ سلگنے لگ گئی اور اس نے خفیہ چالوں اور خفیہ ساز باز سے اسلام اور بانیٔ اسلام کی مخالفت شروع کر دی۔ کعب کی مخالفت زیادہ خطرناک صورت حال اختیار کرتی گئی اور وہ اپنی فتنہ پردازیوں میں بڑھتا ہی چلا گیا اور بالآخر جنگ بدر کے بعد تو اس نے ایسا رویّہ اختیا کیا جو سخت مفسدانہ اور فتنہ انگیز تھا اور جس کے نتیجے میں مسلمانوں کے لئے نہایت خطرناک حالات پیدا ہو گئے۔ جب اس نے بدر کی جنگ کے بعد اسلام کی ترقی دیکھی تو اس نے پوری کوشش اسلام کو مٹانے، اسے ختم کرنے اور تباہ کرنے میں صرف کردینے کا تہیّہ کر لیا۔

جب کعب کو یقین ہو گیا کہ بدر کی فتح نے اسلام کو استحکام دیا ہے جس کا اس کو وہم وگمان بھی نہ تھا تو وہ غیض و غضب سے بھر گیا ۔اس نے فوراً سفر کی تیاری کر کے مکہ کی راہ لی اور وہاں جا کر اپنی چرب زبانی اور شیر گوئی کے زور سے قریش کے دلوں کی سلگتی ہوئی آگ کو مزید بھڑکادیا اور ان کے دلوں میں مسلمانوں کے خون کی نہ بجھنے والی پیاس پیدا کر دی، عداوت سے بھر دیااور جب کعب کی اشتعال انگیزی سے ان کے احساسات میں ایک انتہائی درجہ کی بجلی پیدا ہو گئی تو اس نے انہیں خانۂ کعبہ کے صحن میں لے جا کر خانہ کعبہ کے پردے ان کے ہاتھوں میں دے دے کر ان سےقسمیں لیں کہ جب تک اسلام اور بانیٔ اسلام کو دُنیا سے ملیا میٹ نہ کر دیں گے اس وقت تک چین نہ لیں گے اور پھر عرب کے دوسرے قبائل سے مل کرانہیں مسلمانو ں کے خلاف بھڑکایا اور پھر مدینہ میں واپس آکر اپنے جوش دلانے والےاشعار میں نہایت گندے اور فحش طریق پر مسلمان خواتین کا ذکر کیا حتیٰ کہ خاندان نبوت کی عورتوں کو بھی ا پنے ان گندے اشعار کا نشانہ بنانے سے دریغ نہیں کیا اور ملک میں ان اشعار کا چرچاکروایا اورآخر پھر اس نے یہ کوشش بھی کی کہ آنحضرتﷺ کے قتل کی سازش کی اور دعوت کے بہانہ سے بلا کر چند نوجوان یہودیوں سے قتل کروانے کا منصوبہ بنایا لیکن خدا کے فضل سے وقت پر اطلاع ہو گئی اورسازش کامیاب نہیں ہوئی۔

جب نوبت یہاں تک پہنچ گئی اور کعب کے خلاف عہد شکنی، بغاوت، تحریک جنگ، فتنہ پردازی، فحش گوئی، فساد اور سازش قتل کے الزامات پایۂ ثبوت کو پہنچ گئے تو آنحضرت ﷺ نے فیصلہ صادر فرمایا کہ کعب بن اشرف اپنی کارروائیوں کی وجہ سے واجب القتل ہے اور فیصلہ کیا کہ کعب کو برملا طور پر قتل نہ کیا جائے بلکہ چند لوگ خاموشی کے ساتھ کوئی مناسب موقع نکال کر اُسے قتل کر دیں اور یہ ڈیوٹی آپؐ نے قبیلہ اوس کے ایک مخلص صحابی حضرت محمد بن مسلمہؓ کے سپرد فرمائی اور انہیں تاکید فرمائی کہ جو طریق بھی اختیار کریں قبیلہ اوس کے رئیس سعد بن معاذ ؓکے مشورہ سے کریں۔ چنانچہ محمد بن مسلمہؓ سعد بن معاذ ؓ کے مشورے سے ابو نائلہ اور دو تین اور ساتھیوں کو ساتھ لے کر کعب کے مکان پر پہنچے اور کعب کو بلا کر کہا کہ محمدﷺ ہم سے صدقہ مانگتے ہیں اور ہم تنگ حال ہیں۔ کیا تم ہمیں کچھ قرض دے سکتے ہو؟ اس نے کہا کہ وہ دن دُور نہیں کہ تم اس شخص سے بیزار ہو کر اس کو چھوڑ دو گے۔

محمد بن مسلمہؓ نے کہا کہ خیر ہم جس لئےآئے ہیں تم وہ دو گے؟ کعب نے اس کے عوض میں اپنی عورتیں رہن رکھنے کو کہا۔جواباً انکار پر اس نے کہا اچھا تو پھر بیٹے سہی ۔ محمد بن مسلمؓہ نے جواب دیا کہ یہ بھی ناممکن ہے۔بہرحال ہتھیار کی رضامندی پر کہ رہن رکھا جائے گا۔ رات کے وقت ہتھیار لائے اور اُسے گھر سے نکال کر باتیں کرتے کرتے ایک طرف کو لے گئے اور تھوڑی دیر بعد چلتے چلتے محمد ؓبن مسلمہ یا ان کے ایک ساتھی نے کسی بہانے سےکعب کے سر پر ہاتھ ڈالا اور نہایت پُھرتی کے ساتھ اس کے بالوں کو مضبوطی سےقابو کر کے اپنے ساتھیوں کو آواز دی کہ مارو ۔ صحابہؓ نے جو پہلے سے تیار تھے فوراً تلواریں چلا دیں اور بالآخر کعب قتل ہو کر گرا ۔ محمد ؓبن مسلمہ اور ان کے ساتھی وہاں سے رخصت ہو کر جلدی جلدی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپؐ کو اس قتل کی اطلاع دی۔ جب کعب کے قتل کی خبر مشہور ہوئی تو شہر میں ایک سنسنی پھیل گئی اور یہودی لوگ سخت جوش میں آگئے۔ یہودیوں کا ایک وفدآنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور شکایت کی کہ ہمارا سردار کعب بن اشرف اس طرح قتل کر دیا گیا ہے۔ نبی ﷺ نے ان کی بات سن کرفرمایا۔کیا تمہیں یہ بھی معلوم ہے کہ کعب کس کس جرم کا مرتکب ہوا ہے ؟ اور پھر آپؐ نےاجمالاً اس کے جرم کا ذکر کیا جس پر یہ لوگ ڈرکر خاموش ہو گئے۔

اس کے بعد آنحضرت ﷺ نےفرمایا کہ تمہیں چاہئے کہ آئندہ کے لئے ہی امن اور تعاون کے ساتھ رہو اورعداوت اور فتنہ و فساد کا بیج نہ بوؤ۔ چنانچہ یہود کی رضا مندی کے ساتھ آئندہ کے لئے ایک نیا معاہدہ لکھا گیا اور یہود نے مسلمانوں کے ساتھ امن و امان سے رہنے اور فتنہ و فساد سے بچنے کا از سر نو وعدہ کیا۔ اگر کعب مجرم نہ ہوتا تو یہودی کبھی اتنی آسانی سےنیا معاہدہ نہ کرتےاور اس کے قتل پر خاموش بھی نہ رہتے۔

تاریخ میں کسی جگہ یہ مذکور نہیں کہ یہودیوں نے اس کے بعد کبھی بھی کعب بن اشرف کے قتل کا ذکر کر کے مسلمانوں پر الزام عائد کیا ہو ۔ کیونکہ ان کے دل محسوس کرتے تھے کہ کعب اپنی مستحق سزا کو پہنچا ہے۔

حضور انور نے فرمایا : کیا آج کل مہذب کہلانے والے ملکوں میں بغاوت اور عہد شکنی، اشتعال جنگ اور سازشِ قتل کے جرموں میں مجرموں کو قتل کی سزا نہیں دی جاتی ؟ کعب کے قتل کے طریق کے بارہ میں حضرت مرزا بشیر احمدؓ لکھتے ہیں کہ عرب میں اس وقت باقاعدہ کوئی سلطنت نہ تھی بلکہ ہر شخص اور ہر قبیلہ آزاد اور خود مختارتھا۔ ایسی صورت میں وہ کون سی عدالت تھی جہاں کعب کے خلاف مقدمہ دائر کر کے باقاعدہ قتل کا حکم حاصل کیا جاتا؟ کیا یہود کے پاس اس کی شکایت کی جاتی جن کا وہ سردار تھا اور جو خود مسلمانوں کے خلا ف غدّاری کر چکے تھے اور آئے دن فتنے کھڑے کرتے رہتے تھے۔ کیا مکہ کے قریش کے سامنے مقدمہ پیش کیا جاتا جو مسلمانوں کے خون کے پیاسے تھے یا دوسرے قبائل سے داد رسی چاہی جاتی جو مدینہ پر چھاپا مارنے کی تیاری کر چکے تھے ۔مرزا بشیر احمد ؓ لکھتے ہیں کہ پھر سوچو کہ مسلمانو ں کے لئے سوائے اس کے وہ کون سا راستہ کھلا تھا کہ جب ایک شخص کی اشتعال انگیزی اور تحریک جنگ اور فتنہ پردازی اور سازش قتل کی وجہ سے اس کی زندگی کو اپنے اور ملک کے امن کے لئے خطرناک پاتے تو خود حفاظتی کے خیال سے موقع پا کر اسے خود قتل کر دیتے۔ کیونکہ یہ بہت بہتر ہے کہ ایک شریر اور مفسد آدمی قتل ہو جائے بجائے اس کے کہ بہت سے پُر امن شہریوں کی جان خطرے میں پڑے اور ملک کا امن برباد ہو ۔ فرمایا:معاہدے کی رُو سے آپ ﷺ اس جمہوری سلطنت کے صدر قرار پائے تھے جو مدینہ میں قائم ہوئی تھی اور آپ ﷺ کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ جملہ تنازعات اورامور سیاسی میں جو فیصلہ مناسب خیا ل کریں صادر فرمائیں۔ پس آپؐ نے ملک کے امن کے مفاد میں کعب کی فتنہ پردازی کی وجہ سے اسے واجب القتل قرار دیا۔ پس اس فیصلہ قتل پر کوئی اعتراض کی گنجائش نہیں ہے۔

حضور انور نے فرمایا:یہ اعتراض کہ اس موقع پر آنحضرت ﷺ نے جھوٹ اور فریب کی اجازت دی۔ سو یہ غلط ہے اور صحیح روایت اس کی مکذب ہے۔ نبیﷺ نے قطعاً جھوٹ اور غلط بیانی کی اجازت نہیں دی۔بلکہ بخاری کی روایت کے بموجب جب محمد بن مسلمہؓ نے آپؐ سے دریافت کیا کہ کعب بن اشرف کو قتل کرنے کے لئے توکوئی بات کہنے پڑے گی تو آپ ﷺ نے جواب میں صرف اس قدر فرمایا کہ ہاں اور اس سے زیادہ اس موقع پر آپؐ کی طرف سے یا محمد بن مسلمہ ؓکی طرف سے قطعاً کوئی تشریح یا توضیح نہیں ہوئی۔آنحضرت ﷺ کا صرف یہ مطلب تھا کہ محمد بن مسلمہ ؓ اور ان کے ساتھی جو کعب کے مکان پر جا کر اُسے باہر لائیں گے تو اس موقع پر لازماً اُسےکوئی ایسی بات کہنی ہو گی جس کے نتیجے میں کعب رضامندی اور خاموشی کے ساتھ گھر سے نکل کر ان کے ساتھ آجاوے اور اس میں ہر گز کوئی قباحت نہیں ہے ،آخر جنگ کے دوران جاسوس وغیرہ جو اپنے فرائض ادا کرتے ہیں تو ان کو بھی اس قسم کی باتیں کہنے کی ضرورت پڑتی ہے جن پر کبھی کسی عقلمند کو کوئی اعتراض نہیں ہوا ۔پس آنحضرتﷺ کادامن تو بہرحال پاک ہے۔باقی رہا محمد بن مسلمہ وغیرہ کا معاملہ جنہوں نے وہاں جا کر عملاً اس قسم کی باتیں کیں ۔سو ان کی گفتگو میں بھی درحقیقت کوئی بات خلاف ِاخلاق نہیں۔ انہوں نے حقیقتاً کوئی غلط بیانی نہیں کی ، البتہ اپنے مشن کی غرض و غایت کو مدنظر رکھتےہوئےکچھ ذو معنی الفاظ ضروراستعمال کئے جن کے بغیر چارہ نہیں تھا۔

حضور انور نے فرمایا: اب یہ سوال بھی بعضوں نے اٹھایا کہ کیا جنگ میں جھوٹ بولنا اوردھوکہ دینا جائز ہے؟ فرمایا: بعض روایتوں میں یہ مذکور ہوا ہے کہ آنحضرت ﷺ فرمایا کرتے تھےکہ اَلْحَرْبُ خُدْعَۃٌ یعنی جنگ تو ایک دھوکہ ہےاور اس سے نتیجہ یہ نکالا جاتا ہے کہ نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ کی طرف سے جنگ میں دھوکے کی اجازت تھی حالانکہ اول تو اَلْحَرْبُ خُدْعَۃٌ کے یہ معنی نہیں ہیں کہ جنگ میں دھوکہ کرنا جائزہے بلکہ اس کےمعنی صرف یہ ہیں کہ جنگ خود ایک دھوکہ ہے۔یعنی جنگ کے نتیجے کے متعلق کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کیا ہو گا ۔ اس بات کی تصدیق اس طرح سے ہوتی ہے کہ حدیث میں یہ روایت دو طرح سے مروری ہے کہ اَلْحَرْبُ خُدْعَۃٌ اور دوسری میں ہے کہ نبیﷺ نے جنگ کا نام دھوکہ رکھا تھا۔ اور دونوں کے ملانے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ آپ ؐ کا منشاء نہیں تھا کہ جنگ میں دھوکہ کرنا جائز ہے بلکہ یہ تھا کہ جنگ خود ایک دھوکہ دینے والی چیز ہے لیکن اگر ضرور اس کے یہی معنی کئے جائیں کہ جنگ میں دھوکہ جائز ہے تو پھر بھی یقیناً اس جگہ دھوکہ سے جنگ کی تدبیر اور حیلہ مراد ہے۔ جھوٹ اور فریب ہر گز مراد نہیں ہے اگر یہی معنی ہیں تو جنگی حکمت اور چال مراد ہے جھوٹ اور فریب نہیں ہے۔ کیونکہ اس جگہ خُدْعَۃٌ کے معنی داؤ پیچ اور تدبیر جنگ کے ہیں، جھوٹ اور فریب کےنہیں ہیں۔ پس مطلب یہ ہے کہ جنگ میں اپنے دشمن کو کسی حیلے اور تدبیر سے غافل کر کے قابو میں لے آنا یا مغلوب کر لینا منع نہیں ہے ۔

نبیﷺ کسی مہم پر جاتے تو اپنا منزل مقصود ظاہر نہیں فرماتے تھے اور اگر جنوب کی طرف جانا مقصو د ہوتا تو شمال کی طرف جا کر پھر جنوب کی طرف جاتے ۔ دشمن کو غافل کرنے کے لئے میدان جنگ سے پیچھے ہٹتے اور اچانک حملہ کرتے تھے اور یہ سب صورتیں خُدْعَۃٌ کی ہیں جنہیں جنگ میں جائز قرار دیا گیا ہے اور اب بھی جائز سمجھا جاتا ہے۔ لیکن یہ کہ جھوٹ اور غدّاری وغیرہ سے کام لیا جائے، اس سے اسلام نہایت سختی کے ساتھ منع کرتا ہے۔ الغرض جنگ میں جس قسم کے خُدْعَۃٌ کی اجازت دی گئی ہے وہ حقیقی دھوکہ اور جھوٹ نہیں ہے بلکہ اس سے وہ جنگی تدابیر مراد ہیں جو جنگ میں دشمن کو غافل کرنے یا اس کو مغلوب کر نے کے لئے اختیارکی جاتی ہیں اور جو بعض صورتوں میں ظاہری طور پر جھوٹ اور دھوکے کے مشابہ تو سمجھی جا سکتی ہیں مگر وہ حقیقتاً جھوٹ نہیں ہوتیں۔ کعب بن اشرف کے قتل کے بارے میں فرمایا کہ روایت میں صرف ایک قتل کا حکم ہے۔اس لئے یہ عام حکم نہیں تھا۔ حضور انور نے فرمایا باقی ذکر ان شاء اللہ آئندہ ہوگا ۔

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 8 فروری 2020

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ