• 27 فروری, 2021

نِعْمَ الْمَوْلٰى وَنِعْمَ النَّصِيرُ

نِعْمَ الْمَوْلٰى وَنِعْمَ النَّصِيرُ

ہمارے پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ نے سال 2021 کے پہلے روز خطبہ جمعہ مسجد مبارک میں ارشاد فرمایا اور اپنے سابقہ خطبات کے تسلسل میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی سیرت و شمائل بیان فرمائے۔اس خطبہ کے آخر میں حضور انور ایّدہ اللہ تعالیٰ نے احبابِ جماعت کو سالِ نوپر مبارکباد دے کر بعض نہایت ہی ضروری امور کی طرف نہ صرف توجہ دلائی بلکہ نصائح کرتے ہوئے بہت زیادہ دعاؤں کی طرف توجہ دلائی۔ پیارے حضور کے اس تاریخی حصّہ کو قارئین الفضل کے لئے اپنی زبان میں پیش کیا جا رہا ہے۔

حضور فرماتے ہیں:
’’آج نئے سال کا پہلا دن ہے اور پہلا جمعہ ہے۔ دعا کریں کہ یہ سال جماعت کے لئے دنیا کے لئے ، انسانیت کے لئے بابرکت ہو۔ ہم بھی اپنا فرض ادا کرتے ہوئے پہلے سے بڑھ کر خدا تعالیٰ کی طرف جھکنے والے اور اپنی عبادتوں کے معیار بڑھانے والے ہوں۔ اور دنیا والے بھی اپنی پیدائش کے مقصد کو سمجھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے والے بن جائیں۔ اور ایک دوسرے کے حقوق پامال کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کے حُکموں پر چلتے ہوئے ایک دوسرے کے حق ادا کرنے والے بن جائیں۔ ورنہ پھر اللہ تعالیٰ اپنے رنگ میں دنیا والوں کو ان کے فرائض کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ کاش کہ ہم اور دنیا کے تمام لوگ اس اہم نکتے کو سمجھ جائیں۔ اور اپنی دنیا اور عاقبت سنوار سکیں۔ گزشتہ ایک سال سے ہم ایک نہایت خطرناک وبائی مرض کا سامنا کر رہے ہیں۔ اور دنیا کا کوئی ملک بھی اس وبا سے باہر نہیں ہے۔ کہیں کم اور کہیں زیادہ ۔لیکن لگتا ہے کہ اکثریت دنیا کی اس بات کی طرف توجہ نہیں دینا چاہتی ۔کہ کہیں یہ وبا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں اپنے حقوق و فرائض کی طرف توجہ دلانے کے لئے نہ ہو۔یہ ہمیں سوچنا چاہیئے ۔ یہ تو نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہلانا چاہتا ہے۔ بتانا چاہتا ہے۔ توجہ دلانا چاہتا ہے۔ اس حساب سے کسی کی اس طرف سوچ نہیں۔

چند ماہ پہلے میں نے بہت سے سربراہانِ حکومت کو اس طرف توجہ دلانے کے لئے خطوط لکھے تھے اور COVID کے حوالے سے سمجھانے کی کوشش کی تھی۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے الفاظ میں اِس طرف توجہ دلائی تھی۔کہ یہ آفات خدا تعالیٰ کی طرف سے اپنے حقوق و فرائض بھولنے اور ادا نہ کرنے بلکہ ظلم میں بڑھنے کی وجہ سے آتی ہیں۔ اس لئے توجہ کریں۔ بعض سربراہان نے جواب بھی دئیے لیکن دنیا داری والے ان کےجواب تھے کہ ہم بھی یہی چاہتے ہیں ۔ دنیا کی نظر والی باتیں کیں۔ دین والی بات نہیں کی۔ خدا کا خانہ جو بیچ میں تھا بہت بڑامیں نے بیان کیا تھا اس کو ذکر ہی نہیں کیا۔ اور ضرور ایسا ہونا چاہیئے۔ لیکن یہ لوگ نہ اپنی حالتوں کو بدلنے کی طرف عملی قدم اٹھانا چاہتے ہیں ۔ نہ قوم کے ہمدرد بن کر قوم کو اصل مقصد کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں۔ یہ جاننے کے باوجود ،کہ اس وبا کے بعد کے اثرات بہت خطرناک ہونگے۔ یہ ہر دنیا کےلیڈر کو پتہ ہے ۔ ہر عقلمند انسان کو پتہ ہے۔ ہر تجزیہ نگار کو یہ پتہ ہے۔ لیکن اس کے باوجود اصل حل کی طرف توجہ نہیں ہے۔ صرف دنیا کی جو کوششیں ہیں اُسی کی طرف توجہ ہے۔‘‘

حضور نے تسلسل میں فرمایا:
’’اس بیماری سے، نہ صرف انفرادی طور پر ہر فرد معاشی لحاظ سے کمزور ہو رہا ہے ۔ صحت کے لحاظ سے جو ہو رہے ہیں وہ تو ہو رہے ہیں، جو متاثرین ہیں، لیکن عمومی طور پر ہر ایک معاشی لحاظ سے متاثر بھی ہو رہا ہے ، بلکہ بڑی بڑی امیر حکومتوں کی معیشتوں کی بھی ،معیشتیں جوہیں، اُنکی بھی کمریں ٹوٹ رہی ہیں۔ دنیا داروں کے پاس اسکا صرف ایک حل ہے، کہ دوسرے چھوٹے ملکوں کی معیشتوں پر قبضہ کیا جائے۔ ان کو کسی طرح اپنے جال میں پھنسایا جائے۔ اپنے دام میں لایا جائے۔ اور پھر بہانے بہانے سے انکی دولتوں پر قبضہ کیا جائے۔ اس کے لئےبلاک بنیں گے۔ اور بن رہے ہیں۔ سرد جنگ دوبارہ شروع ہوجائے گی ، اور اب کہا جانے لگا ہے کہ شروع ہو گئی ہے، ایک طرح سے، اور کوئی بعید نہیں کہ اصل ہتھیاروں کی جنگ بھی ہو جائے ۔ جو نہایت خوفناک جنگ ہو گی۔ پھر ایک اور گہرے کنویں میں گر جائیں گے یہ لوگ۔ غریب ملک تو پہلے بھی پسے ہوئے ہیں۔ امیر ملکوں کے عوام بھی پسیں گے اور بڑی خوفناک حد تک پسیں گے۔ پس ا س سے پہلے کہ دنیا اس حالت کو پہنچے ہمیں اپنا فرض ادا کرتے ہوئے دنیا کو ہوشیار کرنا چاہیئے۔‘‘

حضور نے فرمایا:
’’پس یہ سال مبارک بادوں کا سال اُس وقت بنے گا جب ہم اپنے فرائض کو اِس نہج پر ادا کرنے والے ہونگے، کہ لوگوں کو سمجھائیں ، دنیا کو سمجھائیں، اور ظاہر ہے یہ سب کرنے کے لئے ہمیں اپنی حالتوں کے بھی جائزے لینے ہونگے۔ ہم جو زمانے کے امام مسیح موعود اور مہدی موعودکو ماننے والے ہیں کیا ہماری اپنی حالتیں ایسی ہو چکی ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرنے کے ساتھ خالصتاً للہ اُسکے بندوں کے حقوق بھی ادا کرنے والے ہیں۔ یا ابھی ہمیں اپنی اصلاح کرنے اور ایک دوسرے سے پیار و محبت کے جذبات کو غیر معمولی معیاروں تک لانے کی ضرورت ہے۔ پس ہر احمدی کو غور کرنا چاہیئے کہ اِس کے سپرد ایک بہت بڑا کام کیا گیا ہے۔ اور اُسکے سر انجام دینے کے لئے پہلے اپنے اندر پیار اور محبت اور بھائی چارے کی فضا کو پیدا کریں۔ اپنے معاشرے میں، احمدی معاشرے میں، اور پھر دُنیا کو اس جھنڈے کے نیچے لائیں جو حضرت محمد رسول اللہ ﷺنے بلند کیا تھا اور جو اللہ تعالیٰ کی توحید کا جھنڈا ہے۔ تبھی ہم اپنی بیعت کے مقصد میں کامیاب ہو سکتے ہیں، تبھی ہم بیعت کا حق ادا کرنے والے بن سکتے ہیں، تبھی ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ہو سکتے ہیں۔ اور تبھی ہم نئے سال کی مبارک باد دینے کے اور لینے کے مستحق قرار دیئے جا سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ اور ہر احمدی مرد ، عورت ، جوان ، بچہ ، بوڑھا اس بات کو سمجھتے ہوئے یہ عہد کرے کہ اس سال میں نے دنیا میں ایک انقلاب پیدا کرنے کے لئے اپنی تمام تر صلاحیّتوں کو استعمال کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ اِس کی ہر ایک احمدی کو توفیق عطا فرمائے۔‘‘

حضور نے مزید فرمایا:
’’آجکل پاکستان کے احمدیوں کے لئے ، اور الجزائر کے احمدیوں کے لئے دعا کی طرف بھی میں توجہ دلا رہا ہوں۔ ان کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔ پاکستان میں بعض جگہ مولوی اور سرکاری اہلکار ظلموں پر اُترے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے ناقابلِ اصلاح لوگوں کی جلد پکڑ کے سامان کرے۔ اللہ تعالیٰ کے تو علم میں ہے۔ کہ کن کی اصلاح ہونی ہے اور کن کی نہیں ہونی ۔ جن کی نہیں ہونی تو پھر انکی جلد پکڑ کے سامان پیدا فرمائے۔ توہین رسالت کے جس قانون کے تحت یہ لوگ احمدیوں پر ظلم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور احمدیوں کو اپنی تربیت کے لئے بھی ، جو ہمارے بعض ذرائع ہیں، ہر ذریعے پر پابندی لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اُن سے اسکو اللہ تعالیٰ جلد دور فرمائے اور ہمیں اُ سے نجات دلائے۔ اصل میں تو رحمت اللعالمین کے نام کو یہ بدنام کرنے والے لوگ ہیں۔ احمدی تو ناموسِ رسالت ﷺ کے لئے اپنی جانیں قربان کرنے والے ہیں۔ آج دنیا کو محمد رسول اللہ ﷺکے جھنڈے کے نیچے لانے والے سب سے زیادہ ،کام بلکہ حقیقی کام احمدی کر رہے ہیں۔ بلکہ کہنا چاہیئے ،کہ اگر کوئی یہ کام کر رہا ہے تو وہ صرف احمدی ہیں۔ پس یہ دنیادار دنیاوی حکومت اور دولت کے بل بوتے پر ہم پر ظلم تو کر سکتے ہیں ، لیکن یہ یاد رکھیں کہ ہم اُس خد اکو ماننے والے ہیں جو نِعْمَ الْمَوْلٰى وَنِعْمَ النَّصِيْرُ ہے۔ وہ خدا ہے جو نِعْمَ الْمَوْلٰى ہے اور نِعْمَ النَّصِيْرُ ہے۔ یقیناً اس کی مدد آتی ہے اور ضرور آتی ہے۔ اور اُس وقت پھر ان دنیا داروں اور اپنے زعم میں طاقت اور ثروت رکھنے والے جو لوگ ہیں، انکی پھر خاک بھی نظر نہیں آتی، جب اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت آتی ہے۔ پس ہمارا کام ہے کہ دعاؤں سے اپنی عبادتوں کو مزید سجائیں ، اور اگر ہم یہ کر لیں گے تو پھر ہی ہم کامیاب ہیں۔ الجزائر کے بارہ میں میں نے کہا تھا کہ سب کو بری کر دیا گیا ہے، ایک کورٹ نے سب کو بری کیا تھا، ایک عدالت نے، دوسرے نے بھی معمولی جرمانہ کر کے تقریباً ساروں کو فارغ کر دیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھی وہاں ابھی کچھ لوگ ہیں جو اسیر ہیں، جیل میں۔اُنکے لئے بھی دعا کریں کہ انکے لئے رہائی کے جلد سامان ہوں۔ پاکستان کے اسیروں کی رہائی کے لئے بھی دعا کریں۔ ہماری خوشیاں چاہے وہ سال کے شروع کی ہوں یا عید کی، اصل تو اُس وقت ہونگی جب ہم دنیا میں ہر طرف اللہ تعالیٰ کی توحید کا جھنڈا لہرانے والے بنیں گے، جسے لے کر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ آئے تھے۔ خوشیاں اسی وقت ہونگی جب انسانیت ، انسانی قدروں کو پہچاننے والی بنے گی۔ جب آپس کی نفرتیں محبتوں میں بدل جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ اِس خوشی کے سامان بھی ہمیں جلد پہنچائے۔ مسلم اُمّہ کو بھی عقل دے۔ کہ وہ آنے والے مسیح موعود مہدی موعود کو مان لے۔ دنیا کو بھی عقل دے کہ اللہ تعالیٰ اور اسکے بندوں کے حقوق ادا کرنے کی طرف توجہ دینے والے ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہر ملک میں ہر احمدی کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ اور یہ سال ہر احمدی کے لئے، ہر انسان کے لئے رحمتوں اور برکتوں کا سامان بن کر آئے، کا سال بن کر آئے، اور جو کوتاہیاں اور کمیاں گزشتہ سالوں میں ہم سے ہو گئیں جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث بنیں ،یا ہمیں بعض انعاموں سے محروم رکھنے کا باعث بنیں، ان سے اللہ تعالیٰ ہمیں بچائے اور اپنے انعاموں کا اور فضلوں کا وارث بنائے اور ہم حقیقی مومن بن جائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان دعاؤں کی بھی توفیق عطا فرمائے۔‘‘ آمین۔

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 9 فروری 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 فروری 2021