• 27 فروری, 2021

تبلیغ میں پریس اور میڈیا سے کس طرح کام لیا جاسکتا ہے (قسط 22)

تبلیغ میں پریس اور میڈیا سے کس طرح کام لیا جاسکتا ہے
ذاتی تجربات کی روشنی میں (قسط 22)

’الانتشار العربی‘ نے عربی سیکشن میں جماعت احمدیہ کی طرف سے تمام علاقہ کے مسلمانوں کو عیدالاضحیہ پر عیدمبارک کا پیغام شائع کیا۔ 29 دسمبر 2005ء صفحہ 19 پر مسجد بیت الحمید کا فون نمبر بھی درج ہے۔

’الانتشار العربی‘۔ اپنے 29 دسمبر 2005ء صفحہ 22 پر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبہ جمعہ کا خلاصہ عربی زبان میں شائع کرتا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ یہ خطبہ جمعہ مسجد بیت الفتوح لندن سے دیا گیا اور ایم ٹی اے کے ذریعہ تمام دنیا کے احمدیوں نے سنا۔ خطبہ جمعہ میں حضرت مرزا مسرور احمد جو امام جماعت احمدیہ عالمگیر ہیں نے آیات کریمہ أَوْفُوا الْكَيْلَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُخْسِرِينَ (26:182) کی تشریح میں پورا پورا تول، امانت اور اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی طرف توجہ دلائی۔ آپ نے سورۃ الاعراف کی آیت 86 بھی اس ضمن میں تلاوت فرمائی۔ اخبار نے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبہ جمعہ سے حدیث بھی نقل کی کہ اس شخص کا کوئی ایمان نہیں جو امانت کی حفاظت نہیں کرتا اور جو شخص بدعہدی کرتا ہے اس کا کوئی دین نہیں۔ اس ضمن میں اخبار نے حضور کے خطبہ سے صحابہ کرام آنحضرت ﷺ کے بارہ میں بھی لکھا۔ حضور نے فرمایا کہ ہمیں صحیح اسلام پر عمل کرنا چاہئے اور صحیح اسلامی تعلیمات کا پرچار کرنا چاہئے ورنہ ہمارے عمل ہماری تعلیم کے برعکس ہوں گے۔ آپ نے تمام احباب جماعت احمدیہ کو تلقین کی کہ اپنے لین دین کے تعلقات کو صحیح کریں۔ اور آپ نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بہتر رنگ میں اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق دے۔

اخبار نے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی تصویر بھی شائع کی جس کے نیچے لکھا ہوا ہے: ’’حضرت مرزا مسرور احمد ،عالمگیر جماعت اسلامیہ احمدیہ کے امام۔ ‘‘

’الانتشار العربی‘ نے اپنے 29 دسمبر 2005ء کی اشاعت میں عربی میں مندرجہ بالا خبر کو شائع کیا کہ احمدی مسلمان نوجوانوں نے ایوارڈ حاصل کیا۔

اس خبر میں بھی ایک تصویر دکھائی گئی ہے۔ جس میں نوجوان ٹرافی تھامے ہوئے ہیں۔ خبر کے آخر میں ہیومینیٹی فرسٹ کا تعارف اور ان کی ویب سائٹ بھی درج ہے۔ نیز جماعت احمدیہ مسجد بیت الحمید کا فون نمبر اور 1-800-WHY-ISLAM کا نمبر بھی درج ہے۔ خبر کے آخر میں خاکسار کا تعارف بھی ہے کہ امام شمشاد ناصر نے اسلام احمدیت کی خدمت کے لئے اپنی زندگی وقف کی ہوئی ہے اور امریکہ آنے سے قبل انہوں نے پاکستان، گھانا اور سیرالیون میں بھی خدمات بجا لائی ہیں۔

انڈیا ویسٹ نے اپنی اشاعت 30 دسمبر 2005ء صفحہ 16B پر اس عنوان سے خبر دی کہ

مسلم نوجوانوں نے خدمت کا ایوارڈ جیتا۔

اس خبر میں ایک تصویر بھی شائع کی گئی ہے جس میں جماعت احمدیہ چینو کے نوجوان اپنے ہاتھ میں ٹرافی لئے ہوئے ہیں جو انہوں نے واشنگٹن ڈی سی کے اجتماع میں حاصل کی تھی۔ تصویر میں چوہدری عبدالاحد صاحب اور خاکسار (سید شمشاد احمد ناصر مشنری لاس اینجلس بھی ہیں) اخبار نے لکھا کہ جماعت احمدیہ لاس اینجلس ایسٹ کے خدام نے نومبر میں ہونے والے سالانہ اجتماع کے موقعہ پر رفاہی کاموں میں اول آنے پر ٹرافی جیتی۔ اس ضمن میں یاد رہے کہ اخبار نے لکھا کہ یہ 60 مجالس کا مقابلہ تھا۔ انہوں نے 300 سے زائد غرباء (بے گھر) لوگوں کے لئے خوراک اکٹھی کر کے تقسیم کی۔ جماعت احمدیہ کے نوجوان ایک اور پروگرام میں بھی شامل ہوتے ہیں جس کا کام سڑکوں کی صفائی ہے۔ اس کے علاوہ دیواروں سے نازیبا اشتہار اور عبارتیں بھی انہوں نے صاف کی ہیں۔ لوکل تقریب میں امام شمشاد ناصر نے خدام کو خراج تحسین پیش کیا کہ اس قسم کی خدمات سے لوکل کمیونٹیز کے ساتھ بہتر روابط مستحکم ہوں گے۔ ہر شخص اس بات کو مدنظر رکھے کہ اس کے ہمسایہ میں کوئی بھی رات کو بھوکا نہ سوئے۔

’الاخبار عربی‘ نے اپنے انگریزی سیکشن میں اس عنوان سے ہماری خبر دی ’’احمدیہ کمیونٹی کا 20 واں سالانہ جلسہ‘‘

احمدیہ مسلم کمیونٹی آف چینو کیلیفورنیا آپ کو دعوت دیتی ہے کہ آپ ان کے 20 ویں جلسہ سالانہ میں جو 23تا25 دسمبر کو فیئر پلیکس پومو نا میں ہو رہا ہے شرکت کریں۔ اخبار لکھتا ہے کہ اس سال اس جلسہ میں ویسٹ کوسٹ سے قریباً 800 افراد کی آمد متوقع ہے۔ اور ایک خاص سیشن مہمانوں کے لئے بھی ہو گا۔ سیشن کے بعد مہمانوں کے لئے ڈنر بھی ہو گا اور ان کے سوالوں کے جواب بھی دیئے جائیں گے۔ احمدیہ مسلم کمیونٹی آپ کی شرکت سے عزت محسوس کرے گی۔ آخر میں فون نمبر درج ہے۔

’نیوز ایشیا‘ نے اپنی اشاعت کے سیکشن B پر جماعت احمدیہ کی خبر دیتے ہوئے عنوان لگایا: ’’احمدیہ جماعت نے زلزلہ کے متاثرین کے لئے مدد کرنے کا عہد کیا ہے۔‘‘

یہ خبر اخبار کے فرنٹ پیج پر آئی ہے جس کا بقیہ B2 پر ہے۔ خبر میں ہے کہ جماعت احمدیہ عالمگیر کے امام حضرت مرزا مسرور احمد جو کہ اس وقت لندن میں ہیں نے زلزلہ سے متاثرین (پاکستان، انڈیا، افغانستان) کے لئے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری دعائیں متاثرہ افراد اور ان کے خاندان کے لئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کےاحمدی اس تکلیف میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے صدر پاکستان اور پاکستان کے دیگر حکام بالا کو خطوط لکھے ہیں جن میں زلزلہ سے متاثرین افراد اور لواحقین کے لئے مدد کا یقین دلایا ہے۔ اور کہا ہے کہ متاثرین کے لئے اس وقت رہائش کا سب سےبڑا مسئلہ ہے اور جماعت احمدیہ اس کے لئے بھرپور کوشش کر رہی ہے اور حکومت کو اس سلسلہ میں مدد فراہم کر رہی ہے اور اس کے لئے ٹینٹ حاصل کئے جارہے ہیں۔ بہت سے ٹینٹ یوکے اور چائنا سے بھجوائے جا چکے ہیں اور مزید کا انتظام کیا جارہا ہے۔ اسی طرح ہیومینیٹی فرسٹ کے تحت ڈاکٹروں کی ٹیم بھی یوکے سے جا چکی ہے۔ اور امریکہ سے ٹیم جانے کے لئے تیار ہے ۔ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جہاں جن ملکوں میں ہیومینیٹی فرسٹ نہیں ہے وہاں وہ پاکستان کے سفارتخانوں میں جا کر معاونت کریں۔

پاکستان ٹائمز نے اپنی اشاعت میں خاکسار کا ایک مضمون بعنوان ’’قرآن کریم کے محاسن و فضائل اور برکات‘‘ کی تیسری قسط ¼ صفحہ پر شائع کی۔ اس قسط میں خاکسار نے ’’تاثیر قرآن‘‘ کی مثالیں پیش کیں۔ جیسے حضرت عمر کا قبول اسلام۔ اسی طرح ایک اور مثال جس کا ذکر حضرت خلیفۃ اول نے درس القرآن میں زیر آیت يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا (طه 106) کے تحت بیان فرمائی ہے۔

ایک اور مثال جو حضرت مسیح موعودؑ نے ملفوظات میں ابوالخیر یہودی کی بیان فرمائی کہ وہ ایک کوچے سے گزر رہا تھا جبکہ اس نے ایک شخص سے یہ آیت سنی أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُّتْرَكُوْٓا أَنْ يَّقُولُوْٓا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ (العنْكبوت 3) اگرچہ وہ یہودی تھا لیکن یہ آیت سن کر رونے لگا۔ رات کو خواب میں آنحضرت ﷺ تشریف لائے اور فرمایا کہ اے ابوالخیر تعجب ہے کہ تیرے جیسا فضل و کمال والا انسان مسلمان نہ ہو۔ اگلے دن وہ مسلمان ہو گیا۔

ایک مثال حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی والدہ کی ہے کہ انہوں نے قرآن مجید کا پڑھنا کبھی قضاء نہ کیا۔

حضرت ابوبکر صدیقؓ کا، کہ آپ بڑی رقت کے ساتھ تلاوت فرماتے تھے۔ مکہ کے لوگ خصوصاً عورتیں اور بچے آپ کی تلاوت سے متاثر ہوتے تھے۔ پس ہمیں بھی قرآن مجید طوطے کی طرح نہ پڑھنا چاہئے بلکہ سوچ سمجھ کر تا ہمیں قیامت کے دن آنحضرت ﷺ کی شفاعت نصیب ہو۔ آخر میں مسجد بیت الحمید کا ایڈریس اور فون نمبر درج ہے۔

’الانتشار العربی‘ نے اپنی دسمبر 2005ء کی اشاعت میں نصف صفحہ سے زائد پر ہمارے ویسٹ کوسٹ کے جلسہ سالانہ کی خبر شائع کی ہے۔ جس میں دو تصاویر بھی شائع ہوئی ہیٍں۔ اخبار نے لکھا کہ جماعت احمدیہ اسلامیہ کا سالانہ جلسہ 23تا25 دسمبر 2005ء کو فیئر پلیکس میں ہوا، اس میں قریباً ایک ہزار سے زائد لوگ شامل ہوئے۔ اس جلسہ میں سی آٹل سان فرانسسکو، سین ہوزے، طوسان، فی نکس، سین ڈی آگو، واشنگٹن، نیوجرسی، ٹکساس، میری لینڈ اور اوہایو سے احباب شامل ہوئے۔

ڈاکٹر نسیم رحمت اللہ نے سیشن کی صدارت کی اور حاضرین کو خوش آمدید کہا۔ امام شمشاد ناصر آف مسجد بیت الحمید نے اس موقع پر بتایا کہ جلسہ کا مقصد روحانیت میں زیادتی اور آپس میں باہم محبت و پیار اور بھائی چارہ کی فضا قائم کرنا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جماعت احمدیہ کے بانی ہندوستان میں 19 ویں صدی میں ظاہر ہوئے اور ان کے آنے کے بارے میں پہلے سے ہی آنحضرت ﷺ کی پیشگوئیوں میں خبر موجود تھی۔ اور ہمارا ماٹو یہ ہے کہ محبت سب سے اور نفرت کسی سے نہیں۔

امام شمشاد نے مزید بتایا کہ ہمیں دنیا میں امن قائم کرنے کے لئے عدل و انصاف سے کام لینا ہو گا۔ بغیر عدل اور انصاف کے امن ممکن نہیں ہے۔ امریکہ کے TVچینل ABC کو انٹرویو دیتے ہوئے امام نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ جماعت احمدیہ تشدد اور نفرت پر یقین نہیں رکھتی بلکہ اسلام کی صحیح تعلیم پر عمل کرنے والی جماعت احمدیہ ہے جو قرآن کے احکامات کے مطابق عمل کرتی ہے اور سنت رسول ﷺ کی پیروی کرتی ہے اور جماعت کے قیام سے لے کر اب تک جماعت احمدیہ یہی تعلیم دے رہی ہے کہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ حسن سلوک کرو اور دوستوں کےساتھ بھی تواضع سے پیش آؤ۔اور اپنے ہمسائیوں کےساتھ بھی حسن سلوک کرو اور یہ ہمیں اس لئے بھی کرنا چاہئے کہ اس زمانے میں ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مانا ہے۔

جلسہ پر دوسرے مقررین نے بھی تقاریر کیں۔ جن میں مکرم جمیل محمد صاحب نے محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیںکےموضوع پرجبکہ مکرم منعم نعیم صاحب نے انسانیت کی خدمت کے موضوع پر تقریر کی۔

جلسہ کے موقع پر نیشنل سیکرٹری مال مکرم ملک مبارک صاحب اور ان کے معاون مکرم منصور مبشر صاحب نے ایک اجلاس میں مالی نظام کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔

سیکرٹری تعلیم القرآن مکرم ظہیر الدین منصور صاحب نے قرآن کریم کی عظمت اور برکات پر تقریر کی۔ مکرم ڈاکٹرنسیم رحمت اللہ صاحب نے جو نیشنل سیکرٹری آڈیو ویڈیو ہیں، نے بھی تقریر کی جس میں انہوں نے انٹرنیٹ کے صحیح استعمال اور جماعت کی ویب سائٹ الاسلام کے بارہ میں بھی لوگوں کو آگاہی دی۔ اس موقعہ پر مکرم عاصم انصاری صاحب، مکرم وسیم احمدصاحب، مکرم رضا احدصاحب، مکرم عبدالرحیم شیخ صاحب اور مکرم ہارون شکورصاحب نے نظمیں بھی پڑھیں۔

اس موقعہ پر ایک مہمان پادری نے تقریر کرتے ہوئے امام شمشاد کے بارہ میں بتایا کہ انہوں نے ہمارے درمیان بھائی چارہ قائم کیا ہے اور تعلقات کو استوار کیا ہے جس سے ایک دوسرے کو سمجھنے میں مدد ملی ہے اور یہ تعلقات ہمارے لئے مستقبل میں مزید بہتری پیدا کریں گے۔ چیف پولیس نے اس موقعہ پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ امام شمشاد ناصر نے اس علاقہ میں مذہبی اور سیاسی لوگوں کے درمیان افہام و تفہیم اور احترام کی فضا قائم کی ہے۔ ہم اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ امن اور محبت کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔

جلسہ کے اختتام پر مبلغ مکرم داؤد حنیف صاحب نے ان سب احباب کا شکریہ ادا کیا جو اجتماع میں شامل ہوئے اور جنہوں نے تقاریر کیں۔ آخر میں مزید معلومات کے لئے مسجد کا پتہ اور فون نمبر دیا گیا ہے ۔

جن دو تصاویر کا ذکر کیا گیا ہےان میں سے ایک میں سٹیج پر مکرم مونس چوہدری صاحب دائیں طرف (ناظم پروگرام) درمیان میں مکرم امام داؤد حنیف صاحب مشنری انچارج اور مکرم ڈاکٹر نسیم رحمت اللہ صاحب نائب امیر امریکہ ہیںجبکہ پوڈیم پر خاکسار تقریر کر رہا ہے۔ دوسری تصویر میں جلسہ کے سامعین تشریف فرما ہیں۔

الانتشار العربی نے اپنی اشاعت میں ایک تصویر کے ساتھ فی نکس ایروزونا میں عید ملن پارٹی کی خبر دی جس میں خاکسار کے ساتھ وہاں کی جماعت کے افراد بیٹھے ہیں۔ خبر میں انہوں نے لکھا کہ اس موقعہ پر امام نے احباب کو ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی اور بعد میں سوالوں کے جواب دیئے۔ خدام نے اس عید ملن پارٹی کا انتظام کیا تھا جس کے انچارج مکرم منیب احمدصاحب تھے۔

پاکستان پوسٹ نے اپنی اشاعت میں خاکسار کی تصویر کے ساتھ خاکسار کے مضمون قرآن کریم کے محاسن و فضائل و برکات نصف صفحے پر شائع کیا ہے۔ یہ اس مضمون کی پہلی قسط ہے۔ خاکسار نے اس مضمون میں عبادات کے بارے میں بتایا کہ اس کے کیا معانی ہیں؟ اور اس کی کیا غرض وغایت ہے؟ اور آیت قرآنی وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ إِلَّا نُوْحِيْٓ إِلَيْهِ أَنَّهُ لَٓا إِلٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُوْنِ (الأنبياء:26) کا ترجمہ اور تشریح بیان کی ہے۔ اور بتایا ہے کہ اسلام میں مذہب کے معاملہ میں کوئی جبر نہیں ۔ یہ معاملہ انسان اور خداتعالیٰ کے درمیان ہے۔ اسلام کوئی بھی مذہب اختیار کرنے کی کھلی اجازت دیتا ہے جیسے کہ لَااِکْرَاہَ فِیْ الدِّیْنِ میں ارشاد ہے۔

مضمون میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ کسی کو زبردستی مسلمان نہیں بنانا چاہئے۔ ایک واقعہ بھی لکھا ہے کہ ایک جنگ کے موقعہ پر ایک شخص نے لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھ لیا تھا مگر ایک مسلمان نے اسے قتل کر دیا۔ آنحضرت ﷺ کوجب اس بات کی اطلاع ملی تو آپ نے افسوس کا اظہار فرمایا اور کہا کہ کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا؟

اس کے بعداحادیث نبویہ ﷺ سے لاالٰہ الا اللہ کی اہمیت کو بیان کیا گیا ہے۔ پاکستان پوسٹ نے یہ مضمون ’’اسلامی صفحہ‘‘ کے عنوان میں شائع کیا ہے۔

جیسا کہ گزشتہ رپورٹس سے ظاہر ہو گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کےفضل سے لاس اینجلس کیلیفورنیا میں اور ایروزونا سٹیٹ اور نواڈا سٹیٹ میں پریس کے ساتھ رابطوں کا خاص موقع میسر آیا اور اسلام اور احمدیت کا حقیقی پیغام ہر ایک طبقہ تک پہنچانے کی توفیق ملی۔ ہماری خبروں، اشتہارات اور مضامین کے آخر میں مسجد بیت الحمید کا نام نمایاں طور پر لکھا جاتا تھا اور پھر مسجد کا فون نمبر اور ہماری ویب سائٹ کا Link بھی درج ہوتا تھا جس کے نتیجہ میں سارے ملک سے ہمیں روزانہ فون کالز آتی تھیں۔ ہمارا ایک اور ٹول فری نمبر 1-800 WHY ISLAM۔ بھی ہے۔

اس کی فون کالز بھی خاکسار کو آتی تھیں۔ خاکسا رکے علاوہ مکرم محمد عبدالغفار صاحب (امریکن) بھی فون پر سوالات کے جوابات دیتے تھے۔ الغرض خداتعالیٰ کے فضل سے پریس کے ذریعہ بہت سارے علاقوں میں احمدیت یعنی حقیقی اسلام کا پیغام پہنچا۔ الحمد للہ علیٰ ذالک۔ اب مَیں اخبارات سے ان خبروں کی قدرے تفصیل پیش کرتا ہوں کہ 2006ء میں ہمارے پروگراموں کی پریس میں کیا کوریج آئی۔

نیوز ایشیانے اپنی اشاعت 4 جنوری 2006ء کےصفحہ B-1 فرنٹ پیج پر ہمارے ویسٹ کوسٹ کے جلسہ سالانہ کی خبر قریباً پورے صفحہ پر دو بڑی تصاویرکے ساتھ دی۔ ایک تصویر میں مکرم مولانا داؤد حنیف صاحب (مشنری انچارج) صدارت کر رہے ہیں اور آپ کے دائیں طرف مکرم ڈاکٹر نسیم رحمت اللہ صاحب نائب امیر امریکہ تشریف رکھتے ہیں اور بائیں جانب مکرم مونس چوہدری صاحب بیٹھے ہیں۔ دوسری تصاویر جلسہ کےسامعین کی ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ قریباً ایک ہزار کے قریب احمدی مسلمان پومونا فیئرپلیکس میں اپنے 20 ویں جلسہ سالانہ کے لئے اکٹھے ہوئے جو 25دسمبر 2005ء کو منعقد ہوا تھا۔ جماعت احمدیہ کی پریس ریلیز کے مطابق یہ جلسہ 23تا25 دسمبر 2005ء کومنعقد ہوا جس میں ایک ہزار کے لگ بھگ حاضری تھی۔

ویسٹ کوسٹ کے قریباً تمام علاقوں مثلاً سی آٹل، سان فراسسکو، سین ہوزے، طوسان، فی نکس اور سین ڈی آگو سے لوگ شامل ہوئے تھے اور ان کے علاوہ گورنمنٹ کے آفیشلز، مذہبی لیڈرز اور ان کے ماننے والے بھی کثیر تعداد میں شریک تھے۔

ویسٹ کوسٹ کے علاوہ جماعت احمدیہ کے افراد واشنگٹن ڈی سی، نیوجرسی، ٹیکساس، میری لینڈ اور اوہایو سٹیٹ سے بھی شامل ہوئے۔
ایک سیشن میں نائب امیر مکرم ڈاکٹر نسیم رحمت اللہ صاحب نے حاضرین کو خوش آمدید کیا اور حاضرین کو جلسہ میں شامل ہو کر اپنی ذمہ داریوں کو اد اکرنے کی طرف توجہ دلائی۔

امام شمشاد ناصر آف مسجد بیت الحمید جو کہ جلسہ کے نظام میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، نے بتایا کہ جلسہ کا مقصد اپنی روحانیت کو بڑھانا اور مذہبی کمیونٹیز کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنا اور باہم تعارف بڑھانا ہے۔

اخبار نے جماعت احمدیہ کا تعارف لکھتے ہوئے بتایا کہ جماعت احمدیہ کا عقیدہ ہے کہ 19 ویں صدی میں ہندوستان میں پیدا ہونے والے حضرت مرزا غلام احمدصاحبؑ نے اس فرقہ کی بنیاد رکھی۔ احمدیوں کا عقیدہ ہے کہ آپؑ مسیح موعود اور امام مہدی ہیں جن کے آنے کی خبر قرآن و احادیث میں پائی جاتی ہے۔

امام شمشاد نے کہا کہ ہم لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی کوشش کرتے ہیں تا ایک دوسرے کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملے۔ ہمارا ماٹو ہے ’’محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں۔‘‘

امام شمشاد نے اپنی تقریر میں خاص طور پر یہ بات بیان کی کہ جماعت احمدیہ کے ممبران کو ہر قسم کے فساد سے دور رہنا چاہئے جیسا کہ بانیٔ جماعت کی تعلیم ہے۔ ABC کو حال ہی میں دیئے گئے ایک انٹرویو میں امام شمشاد نے کہا کہ ہمارا ان لوگوں سے کوئی تعلق نہیں ہے جو معصوم لوگوں کو بموں سے اڑا رہے ہیںیاخود کش بمبار حملے کر رہے ہیں۔ا مام شمشاد نے مزید بتایا کہ خدا کے فضل سے جماعت احمدیہ دوسروں سے ممتاز فرقہ ہے جو کسی قسم کی بھی دہشت گردی کے خلاف ہے اور اس کی مذمت کرتی ہے، ہم قرآن کریم اور بانی ٔاسلام حضرت محمد (ﷺ) کی صحیح تعلیمات پر گامزن ہیں۔

امام شمشاد نے مزید بتایا کہ جماعت احمدیہ کے قیام سے لے کر آج تک احمدیہ جماعت امن سے رہنے والی اور امن قائم کرنے والی جماعت ہے۔ ہم اس بات کی تعلیم دے رہے ہیں کہ ہم اپنی فیمیلیز کے ساتھ، اپنے ہمسایوں کے ساتھ، اپنے مذہبی لیڈروں کےساتھ بلا امتیاز رنگ ونسل امن کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ ہم یہ اسی وقت کر سکتے ہیں جب ہم حضرت مسیح موعود ؑکو مانیں اور آپ کی تعلیم کو سمجھیں اور اس پر عمل کریں جو کہ عین قرآن کریم کی تعلیمات کے مطابق ہے۔ حضرت مسیح موعودؑاس زمانے میں اصلاح خلق اور قرآن کریم کی غلط تشریحات کی تصحیح کرنے آئے ہیں۔

جلسہ سالانہ میں اور بھی بہت سے مقررین نے تقاریر کیں۔ مکرم جمیل محمدصاحب نے محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں کے عنوان پرخطاب کیا۔ مکرم منعم نعیم صاحب جو ہیومینیٹی فرسٹ کے امریکہ میں چیئرمین ہیں، نے بھی تفصیل کے ساتھ مساعی کا ذکر کیا کہ اس وقت کہاں کہاں جماعت نے بے لوث خدمات کی ہیں۔ جیسے کہ کشمیر میں زلزلہ کے موقعہ پر اور پھرسیلاب زدگان کی مدد اور گیانا میں بھی بےلوث خدمت کی ہے۔

اخبار نے مزید لکھا کہ جلسہ کے موقعہ پر نیشنل عاملہ کے ممبران بھی کافی تعداد میں موجود تھے۔ جن میں مکرم ملک مبارک صاحب نیشنل سیکرٹری مال اور ان کے اسسٹنٹ مکرم منصور مظفر صاحب شامل ہیں۔ مکرم ڈاکٹر ظہیر الدین منصور احمد صاحب نیشنل سیکرٹری تعلیم القرآن نے جلسہ سالانہ کے موقع پر قرآن کی اہمیت وبرکات پر تقریر کی۔

مکرم خالد عطاء صاحب نیشنل سیکرٹری نے اللہ تعالیٰ کی صفت مجیب پر تقریر کی۔ مکرم ڈاکٹر نسیم رحمت اللہ صاحب جو کہ نیشنل سیکرٹری سمعی و بصری بھی ہیں اورالاسلام ویب سائٹ کے انچارج بھی، انہوں نے ویب سائٹ کا تعارف کروایا اور بتایا کہ اس سے کس طرح سب فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔ اس وقت تک اس ویب سائٹ میں جو جو چیزیں تھیں ان کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ خصوصاً قرآن کریم اور ان کے تراجم کے بارے میں۔ جلسہ سالانہ کے موقعہ پر مکرم عاصم انصاری صاحب، مکرم وسیم احمدصاحب، مکرم ریاض احمدصاحب، مکرم شیخ عبدالرحیم صاحب اور مکرم ہارون شکور صاحب نے نظمیں بھی پڑھیں۔

جلسہ سالانہ کے موقعہ پر گورنمنٹ کے آفیشلز اور مذہبی لیڈروں نے بھی تقاریر کیں جن میں خصوصیت کے ساتھ کرِک مُور، یونائیٹڈ چرچ آف کرائسٹ نے اپنی تقریر میں امام شمشاد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم خوش قسمت ہیں کہ ساؤتھ کیلیفورنیا میں آپ جیسا مسلمانوں کا لیڈر ہے اور اس سے ہم اپنے تعلقات کے علاوہ دوسرے مذاہب کے ساتھ بھی تعلقات استوار کر سکتے ہیں۔

چینو چیف پولیس Mr. Eugene J. Hernand نے کہا کہ میں امام شمشاد کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اپنی ہر قسم کی خدمات ہماری کمیونٹی کے لئے آفر کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذہب تو یہی سکھاتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کا احترام کریں اور ایسی باتیں تلاش کریں جو ہمیں ایک ہونے اور متحد ہونے میں ممد و معاون ہو۔

چینو کے میئر Mr. Glem Dumcam نے 20 ویں جلسہ سالانہ کے موقعہ پر کونٹی ایگزیکٹو کی طرف سے Plaque پیش کی۔ اختتامی خطاب میں مکرم داؤد حنیف صاحب نائب امیر جماعت احمدیہ امریکہ نے سب حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔

انڈیا ویسٹ نے اپنی 6 جنوری 2006ء کی اشاعت میں دو تصاویر کے ساتھ ویسٹ کوسٹ کے 20 ویں جلسہ سالانہ کی خبر دی ہے۔ ایک تصویر میں سٹیج پر مکرم داؤد حنیف صاحب صدارت کر رہے ہیں۔ آپ کے دائیں جانب مکرم ڈاکٹر نسیم رحمت اللہ صاحب نائب امیر اور دوسری طرف افسر جلسہ گاہ مکرم مونس چوہدری صاحب ہیں۔ خاکسار (سید شمشاد احمد ناصر) پوڈیم پر تقریر کر رہا ہے۔ جبکہ دوسری تصویر سامعین کی ہے۔

اخبار نے لکھا کہ مسلمان بین المذاہب کانفرنس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ اخبار نے اپنے سٹاف رپورٹر کے حوالہ سے لکھا ہے کہ جلسہ سالانہ کے موقع پر مقررین نے یہ پیغام دیا ہے کہ ہمیں اپنی روحانیت بڑھانی چاہئے اور بین المذاہب تعلقات کو فروغ دینا چاہئے۔ احمدیہ مسلم کنونشن میں ایک ہزار کے لگ بھگ حاضری تھی۔ مقامی لوگوں کے علاوہ حکومتی سطح کے آفیشلز اور عموماً سارے ملک سے ہی لوگ اکٹھے ہوئے تھے۔

تقریر میں امام شمشاد آف مسجد بیت الحمید نے کہا کہ ہم اپنی پوری کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ تمام لوگ ایک دوسرے سے قریب آئیں اور بین المذاہب احترام پیدا ہو۔ اس سے بہتر طور پر ایک دوسرے کو سمجھنے میں مدد ملے گی اور عالمی سطح پر امن قائم ہو گا۔

اپنے ممبران کو امام شمشاد نے تقریر میں کہا کہ ہمیں عمدہ اخلاق کا مظاہرہ کرنا چاہئےکیونکہ ہم دوسرے مسلمان فرقوں سے الگ ہیں اور ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ہم دہشت گردی اور فساد پر بالکل یقین نہیں رکھتے اور ہم قرآن کی تعلیمات کے مطابق عمل کرتے ہیں۔

اخبار نے الاسلام ویب سائٹ کا بھی تعارف دیااور ہیومینیٹی فرسٹ کا بھی۔ اخبار نے لکھا کہ چینو کے میئر نے اس موقع پر کونٹی ایگزیکٹو کی طرف سے Plaque بھی جماعت کو دی۔ اس موقعہ پر مکرم عاصم انصاری صاحب، مکرم وسیم احمدصاحب، مکرم ریاض احمدصاحب، مکرم شیخ عبدالرحیم صاحب اور مکرم ہارون شکورصاحب نے نظمیں بھی پڑھیں۔

چینو چیمپئن نے اپنی اشاعت 7 جنوری 2006ء کےصفحہ D-6 (بروز ہفتہ) میں ہمارے ویسٹ کوسٹ کے جلسہ سالانہ کی خبر دیتے ہوئے لکھتاہے کہ چینو کے امام نے جلسہ سالانہ کا اہتمام کیاجس میں ایک ہزار کے قریب لوگ مختلف مقامات سے شامل ہوئے۔ یہ جلسہ 23 تا25 دسمبر 2005ء کو منعقدہوا۔ اس موقعہ پر امام شمشاد نے کہا کہ ہماری ہر ممکن کوشش ہے کہ ہم سب لوگوں کو اکٹھا کریں تا ایک دوسرے کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملے۔ اس سے ہم عالمی امن قائم کر سکیں گے۔ جلسہ کے موقع پر دیگر مقررین نےبھی تقاریر کیں جس میں خصوصیت کے ساتھ مکرم منعم نعیم صاحب ہیں جو امریکہ میں ہیومینیٹی فرسٹ کے چیئرمین ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر میں تفصیل کے ساتھ ہیومینیٹی فرسٹ کے ذریعہ ہونے والی خدمات کو بیان کیا۔

اس موقعہ پر چینو کے چیف پولیس نے امام شمشاد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیں ہر قسم کی مدد اور تعاون کی آفر کی ہے۔ اسی طرح چینو کے میئر نے کونٹی کی طرف سے Plaque بھی جماعت احمدیہ کو پیش کی۔

ڈیلی بلٹن نے اپنی 13 جنوری 2006ء کی اشاعت میں میسن سٹاک سٹل کے حوالہ سے ہماری عیدالاضحیہ کی مختصراً خبر شائع کی ہے۔ خبر کا عنوان ہے:

’’سینکڑوں لوگوں نے چینو کی مسجد میں عید منائی‘‘

اخبار نے لکھا کہ 600 سے زائد لوگ مسجد بیت الحمید میں عید منانے کے لئے اکٹھے ہوئے جو کہ مسلمانوں کا ایک بہت اہم مذہبی فریضہ ہے۔ امام شمشاد نے نماز عید پڑھائی اور خطبہ دیا جس میں حج کے بارہ میں اور اس موقعہ پر قربانیوں کی اہمیت کو بیان کیا۔ امام نے مزید بتایا کہ حج بھی ایک اہم اسلامی رکن ہے اور ہر وہ شخص جس کو موقع ملے حج ضرور کرے۔

الاخبار نے 19 جنوری 2006ء کےصفحہ 16 پر اپنے عربی سیکشن میں ایک تصویر کے ساتھ جماعت کی خبر دی ہے۔ تصویر میں مسجد بیت الحمید میں بیٹھے لوگ عید کا خطبہ سن رہے ہیںجبکہ خاکسار خطبہ دے رہا ہے۔

خبر کا عنوان ہے کہ احمدی مسلمان عیدالاضحیہ منانے کے لئے جمع ہوئے ہیں اور امام شمشاد کا چینو مسجد میں خطبہ سن رہے ہیں۔ اس پروگرام میں 600 لوگ شریک ہوئے ہیں۔

اخبار نے مزید لکھا کہ امام شمشاد نے اپنے خطبہ عید میں بتایا کہ ہم مسلمان سال میں دو عیدیں مناتے ہیں۔ عیدالفطر اللہ تعالیٰ کے شکرانےکے طور پر ہوتی ہے اور عیدالاضحیہ قربانی کی عیدکہلاتی ہے۔ جو حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی قربانی کی یاد میں منائی جاتی ہے۔ اس موقعہ پر لوگ جانوروں کی قربانی بھی کرتے ہیں جس سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں بھی خدا کی راہ میں ہر قربانی کے لئے تیار رہنا چاہئے۔

اس موقعہ پر امام شمشاد نے خصوصاً وقت کی قربانی، مال کی قربانی پیش کرنے اور بچوں کی تربیت کی طرف توجہ دلائی۔

الانتشار العربی نے اپنی اشاعت 19 جنوری 2006ء میں نصف صفحہ سے زائد پر حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبہ جمعہ 30 ستمبر 2005ء کا خلاصہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی تصویر کے ساتھ شائع کیا۔

یہ خطبہ جمعہ حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ننسپیٹ ہالینڈ میں ارشاد فرمایا تھا۔ اخبار نے حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبہ کے چنداقتباس لکھے ہیں جن میں حضور نے آیت: وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَآ إِلَى اللّٰهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَّقَالَ إِنَّنِيْ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ (فصلت:34) کی روشنی میں نصائح فرمائی ہیں۔

حضور نے فرمایا کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ تم لوگ جو ایمان لائے ہو اور دین کی کچھ سمجھ بوجھ رکھتے ہو اور یہ دعویٰ کرتے ہو کہ مسلمان ہو گئے ہو۔ اگر تم حقیقت میں مسلمان ہو اور نام کے مسلمان نہیں بلکہ کامل فرمانبرداری اور اطاعت کا جذبہ رکھتے ہوئےاور تم نے اسلام قبول کیا ہے تو یاد رکھو کہ تم پر کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور ان میں سے ایک ذمہ داری تبلیغ دین بھی ہے۔ اور تبلیغ بھی اس وقت فائدہ مند ہوگی اوراسی وقت اس کوپھل لگیں گے جب تمہارے عمل بھی نیک ہوں گے۔

پس ایک احمدی جس نے اس زمانے کے امام اور حکم و عدل کو اس لئے مانا ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ کے حکموں پر عمل کرے اور اس لئے مانا ہے کہ آج خدا تک پہنچے کا راستہ حضرت مسیح موعودؑ نے ہی دکھایا ہے تو یہ حکم ماننا پڑے گا کہ آنحضرت ﷺ کا پیغام تمام دنیا کو پہنچانا ہے۔ کیونکہ آپؐ کو قرآن کریم میں سراج منیر قرار دیا گیا ہے۔ تم دنیا میں جو بات بھی کرتے ہو ان میں سب سے زیادہ پیاری بات یہ ہے کہ دوسروں کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاؤ۔ لیکن یہ بات بھی مدنظر رہے کہ تمہاری یہ تبلیغ اسی وقت مؤثر رہے گی جب تمہارے اعمال اللہ اور اس کے رسول کے حکموں کے مطابق ہوں گے۔ ہو سکتا ہے کہ تمہاری باتیں سن کر کوئی وقتی طور پر اثر لے لے لیکن اگر تمہارے اندر آکر تمہارے اعمال دیکھے اور وہ اعمال ایسے نہ ہوں جیسے خدا اوراس کے رسول کے حکم کے مطابق ہونے چاہئیں تو ہو سکتا ہے اس کو دھکا لگے۔ امام (جماعت احمدیہ) نے کہا کہ اس سفر میں (ہالینڈمیں) اس بات کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ یہاں کے کچھ لوگ شدت پسند بھی ہیں لیکن یہ بہت تھوڑے ہیں۔ یہاں بہت بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو دین سے دلچسپی رکھتی ہے اور اسلام کے بارے میں بھی سننا چاہتی ہے۔ یہاں بہت سی اکثریت شریف النفس لوگوں کی ہے۔ یہاں پر باہر کے ممالک سے بھی لوگ آکر آباد ہوئے ہیں آپ تبلیغ کا پروگرام بنائیں اور ان میں جا کر تبلیغ کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کے عمل بھی ان کو متاثر کرنے والے ہوں اور انہیں اسلام و احمدیت کا پیغام پہنچائیں اور مجھے امید ہے کہ یہاں پر ایسے تبلیغ کے مواقع میسر آسکتے ہیں۔ بعض اوقات ہم سمجھتے ہیں کہ کسی وقت بک سٹال لگا لیا اور یہی تبلیغ کا ذریعہ ہے۔ یہ بھی ایک ذریعہ ہے تبلیغ کا، لیکن اس کے علاوہ بھی اور بھی بہت سے راستے ہیں، مثلاً دیہاتوں میں رابطے بڑھائیں، پھر عرب وغیرہ جو یہاں مختلف جگہوں سے اور ملکوں سے آکر آباد ہوئے ان کےپاس جائیں۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں جو ہمارے طلباء ہیں وہ سیمینار کریں۔

فرمایا: پھر اپ کے نیک نمونے، آپ کی شرافت، آپ کا اللہ تعالیٰ سے تعلق جب ان لوگوں پر ظاہر ہو گا تو تبلیغ کے زیادہ میدان کھلیں گے۔ جب ایک لگن کے ساتھ اور صبر کےساتھ تبلیغی رابطہ کریں گے اور لوگوں تک پہنچائیں گے، اپنے عملوں سے ان پر ایک نیک اثر بھی قائم کریں گے اور سب سے بڑھ کر دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ نیک نتائج بھی پیدا فرمائے گا۔

حضور نے فرمایا کہ ہمارے قافلے کے کئی افراد سے بھی لوگوں نے اسلام کے بارے میں معلومات لی ہیں اور ویب سائٹ کا پوچھا ہے۔ فرمایا:
ہمارا کام تو اللہ تعالیٰ کی باتوں کو، نیک اور پاکیزہ باتوں کو لوگوں تک پہنچانا ہے اور اپنے آپ کو پاک رکھتے ہوئے اپنے عملوں کے معیاروں کو اونچا کرتے ہوئے، دعاؤں کے ساتھ یہ پیغام پہنچانا ہے۔ آگے اللہ تعالیٰ برکت ڈالنے والا ہے جو نیک فطرت ہو گا وہ آئے گا۔ ان شاء اللہ۔ ہدایت دنیا تو اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔

فرمایا: آج اسلام پر ہر طرف سے حملے ہو رہے ہیں اور بدقسمتی سے مسلمان کہلانے والوں کی غلطیوں کی وجہ سے ہورہے ہیں۔ آج اگر اسلام کی خوبصورت تصویر کو کوئی پیش کر سکتا ہے تو وہ احمدی ہی ہیں۔ آج اگرہم نے بھی اپنی ذمہ داریوں کو نہ سمجھا اور نہ ادا کیا تو پھر ہم بھی اللہ تعالیٰ کے فرمانبرداروں میں شمار نہیں ہو سکتے۔

امام ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہم کو اپنی ذمہ داریاں سمجھنے کی توفیق دے۔

اس خطبہ کے خلاصہ کے آخر پر ہماری جماعت کی ویب سائٹ کا حوالہ درج ہے۔ نیز مسجد چینو کا فون نمبر اور خاکسار کے نام کے ساتھ کہ اگر مزید معلومات حاصل کرنی ہوں تو اس نمبرپرکال کر سکتے ہیں۔

انڈیا ویسٹ نے اپنی اشاعت 20 جنوری 2006ء صفحہ C-34 پر ہماری یہ خبر دی۔

’’مسلمان عیدالاضحیہ منا رہے ہیں‘‘ اخبار نے خبر کے ساتھ دو تصاویر بھی دیں ایک تصویر میں بتایا گیا کہ خطبہ عید اور نماز کے بعد لوگ مسجد کے باہر اکٹھے ایک دوسرے کو مل رہے ہیں۔ دوسری تصویر میں خاکسار عید کا خطبہ دے رہا ہے اور سامعین سامنے بیٹھے ہیں۔

خبر میں لکھا ہے کہ حج کا اختتام مکہ میں ہوا ہے۔ اس کی یاد میں مسجد بیت الحمید میں 600 سے زائد لوگ عیدالاضحیہ منانے کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں۔

اخبار نے حج کے بارہ میں اور عید الاضحیہ کے بارہ میں تفصیل دی ہے اور پھر لکھا ہے کہ امام شمشاد نے اپنے خطبہ عید میں لوگوں کو نصیحت کی کہ وہ حضرت ابراہیم ؑکی قربانی کا نمونہ سامنے رکھتے ہوئے اپنے بچوں کی تربیت کریں تا وہ خداتعالیٰ کی رضا کو ہر وقت مقدم رکھنے والے ہوں۔ اور اس عید کے موقعہ پر ہمیں زیادہ سے زیادہ محروم اور ضرورتمندوں کا خیال رکھنا چاہئے اور اسلامی تعلیمات کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانا چاہئے۔

(باقی آئندہ بدھ ان شاء اللہ)

(از مولانا سید شمشاد احمد ناصر ۔ امریکہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 9 فروری 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 فروری 2021