• 6 مئی, 2021

قرآن روحانی اور جسمانی بیماریوں کے لئے شفا کا موجب ہے (قسط دوم)

قرآن روحانی اور جسمانی بیماریوں کے لئے شفا کا موجب ہے
قسط دوم

آج مجھے ’’قرآن ‘روحانی اور جسمانی بیماریوں کے لئے شفا کا موجب ہے‘‘ کا دوسرا حصہ پیش کرنا ہے ۔ اس حصہ میں ان سینکڑوں آیات اور بعض سورتوں کے حوالہ سے بتلانا ہے جن میں مختلف روحانی، نفسیاتی اور جسمانی بیماریوں کا علاج مضمر ہے۔ اگر تمام آیات اور ایسی سورتوں کے اثرات و تاثرات کو جمع کیا جائے تو یہ ایک طویل آرٹیکل بلکہ کتاب کی صورت بن جائے۔ آنحضورﷺ نے فرمایا کہ تم شفاء دینے والی دو چیزوں یعنی شہد اور قرآن کو لازم پکڑو۔

(سنن ابن ماجہ حدیث 3452)

سب سے پہلے تو تعوّذ یعنی أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْم کا ذکر کریں تو اِسے غصّہ کی دوری کا علاج قرار دیا گیا ہے۔ بُرے خواب کے شر سے بچنے کے لئے أَعُوْذُ پڑھنا بھی سنت ہے۔

(مسلم)

جہاں تک بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کا تعلق ہے۔ آنحضورﷺ نے فرمایا کہ جو اہم کام بِسْمِ اللّٰهِ کے بغیر شروع کیا جائےتو وہ بے برکت ہوتا ہے۔

(کنز العمال جلد1 صفحہ555)

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک سفر میں آپؐ بِسْمِ اللّٰهِ کی تلاوت کرتے کرتے رو پڑے۔ حتی کہ روتے روتے گر پڑے۔ ایسا 20 دفعہ ہوا پھر مجھے فرمانے لگے کہ وہ شخص کتنا نامراد ہے جس پر رحمٰن اور رحیم خدا بھی رحم نہ کرے۔

(الوفاء لابن الجوزی جلد1 صفحہ373)

نیز شیطانی خیالات اور وساوس سے بچنے کے لئے بھی بِسْمِ اللّٰهِ پڑھی جاتی ہے۔

(ابو داؤد)

سورۃ الفاتحہ

تمام بیماریوں میں سورۃ فاتحہ کا دم کرنے کی ہدایت ملتی ہے۔ آنحضورﷺ نے فرمایا سورۃ فاتحہ پڑھ کر جوچیز اللہ تعالیٰ سے مانگی جائے وہ اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے۔ (مسلم) اسی طرح بیان ہوا ہے کہ زہریلے جانوروں کے کاٹنے کی صورت میں فاتحہ پڑھ کردم کرنا چاہیے۔ شفا عطا ہوتی ہے۔ (بخاری) ابو داؤد کی ایک روایت کے مطابق جنون اور مرگی کی بیماری میں صبح شام تین تین بار سورۃ فاتحہ پڑھ کر دم کرنا چاہیے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں
’’فاتحہ میں تمام قرآن شریف کی طرح روحانی مرضوں کی شفا رکھی ہے۔‘‘

نیز فرمایا
’’فاتحہ میں ……… وہ علاج موجود ہے جو اس کے غیر میں ہرگز نہیں پایا جاتا۔‘‘

(براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد1 صفحہ406)

پھر فرمایا
’’فاتحہ میں یہ خواص ہیں کہ وہ بڑی بڑی امراض روحانی کے علاج پر مشتمل ہے ……….. سالک کے دل کو اس کے پڑھنے سے یقینی قوت بڑھتی ہے اور شک اور شبہ اور ضلالت کی بیماری سے شفا حاصل ہوتی ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد1 صفحہ399)

الغرض سورۃ فاتحہ قرآن کریم کاخلاصہ ہے۔ یہ ایک بہترین جامع کامل دعا ہے جسے ہر بیماری سے شفا اور دم کرنے والی سورت کہاجاتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن جابرؓ سے روایت ہے کہ سورۃ فاتحہ میں ہر چیز کی شفا ہے سوائے موت کے۔

(شعب الایمان جلد2 صفحہ449)

آنحضرتﷺ نے ایک دفعہ کچھ صحابہ کو ایک سفر پر روانہ فرمایا۔ جہاں اس گروہ نے پڑاؤ کیا۔ وہاں سانپ نے اس قبیلہ کے سردار کو کاٹ لیا جس کی وجہ سے اس کی طبیعت خراب ہونے لگی۔ اس قبیلہ کے لوگ صحابہ کے اس گروہ کے پاس علاج کی غرض سے آئے ۔ چنانچہ ان میں سے ایک صحابی نےسورۃ فاتحہ پڑھ کر اس سردار پر پھونکی جس کے نتیجہ میں اُسے صحت عطا ہوئی۔ جب آنحضورﷺ کو اس کا علم ہوا آپؐ بہت خوش ہوئے۔

(بخاری کتاب الاجارہ باب ما یُعطَی فی الرقیہ حدیث 2276)

سورۃ فاتحہ کو سورۃ الرقیہ یعنی شفا کا نام دیا گیا ہے۔

ضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
’’سورۃ فاتحہ شفا ہے کہ اس میں تمام ان وساوس کا رد ہے جو انسان کے دل میں دین کے بارہ میں پیدا ہوتے ہیں اور وہ رُقْیَۃ ہے کہ علاوہ دم کے طور پر استعمال ہونے کے اس کی تلاوت شیطان اور اس کی ذریت کے حملوں سے انسان کو بچاتی ہے اور دل میں ایسی قوت پیدا کرتی ہے کہ شیطان کے حملے بےضرر ہوجاتے ہیں۔‘‘

(تفسیر کبیر جلد1 صفحہ4)

سورۃ البقرہ

اس سورۃکی پہلی اور آخری آیات بھی شفا کا کام کرتی ہیں۔ سورۃ فاتحہ اور سورۃ البقرہ کی آخری آیات کو دو نور قرار دیا گیا ہے۔

(بخاری کتاب صلوۃ المسافرین، باب فضل الفاتحہ)

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ سورۃ بقرہ کی آخری دوآیات جو اللہ تعالیٰ کو بہت پیاری ہیں وہ تسکین اور شفا دیتی ہیں۔

(الاتقان فی علوم القرآن جلد2 صفحہ436)

پھر آنحضورﷺ نے فرمایا
’’اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ۔ جس گھر میں البقرہ پڑھی جاتی ہے اس میں شیطان داخل نہیں ہوتا۔‘‘

(ترمذی، ابواب فضائل الفرقان ما جاء فی فضل سورۃ البقرہ حدیث2877)

آیت الکرسی

یہ سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 256 ہے اور اس کو پڑھنے سے بندہ ہر شر اور مرض سے محفوظ رہتا ہے۔ نیز شیطانی خیالات اور وساوس سے بچنے کے لئے یہ آیت پڑھی جاتی ہے۔

حدیث میں ہے کہ آیت الکرسی قرآن کی سردار ہے۔ جس گھر میں یہ پڑھی جائے اس سے شیطان نکل بھاگتا ہے۔

(بخاری، کتاب فضائل القرآن، باب فضل سورۃ البقرہ)

بخاری کی ایک اور روایت کے مطابق رات بستر پر جانے سے قبل آیت الکرسی پڑھنے سے صبح تک شیطان پاس نہیں آتا۔

آیت الکرسی اور البقرہ کی آخری دو آیات ایسا انسان جو کسی مصیبت میں مبتلا ہو پڑھے تو اس کی مصیبت سے نجات ملتی ہے۔

(عمل الیوم و اللیلۃ جلد2 صفحہ154)

آیت الکرسی کے ساتھ قرآن کریم کی بعض دیگر آیات ملا کر پڑھنے کا ذکر احادیث میں ملتا ہے، جیسے سورۃ المومن کی ابتدائی چارآیات ھُوَ اِلَیْہِ الْمَصِیْر تک آیت الکرسی کے ساتھ ملا کر اگر صبح پڑھی جائیں تو شام تک اوراگر شام کو پڑھی جائے تو صبح تک شیطانی حملوں سے حفاظت کی جاتی ہے۔

(ترمذی، ابواب فضائل القرآن ما جاء فی فضل سورۃ البقرہ و آیۃ الکرسی حدیث 2879)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ اس حوالہ سے فرماتے ہیں
’’روحانی اور جسمانی ہر قسم کے امراض کے لئے دعاؤں کی ضرورت ہے ……… آنحضرت ﷺ نے جو یہ تلقین فرمائی ہے کہ جو یہ آیات پڑھے وہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں رہے گا تو آیات صرف پڑھنا ہی کافی نہیں بلکہ اس کے مضمون پر غور کرتے ہوئے ان باتوں کو اپنانے کی ضرورت ہے……… اگر یہ باتیں ہوں گی تو پھر انسان خدا تعالیٰ کے فضل سے اس کی حفاظت میں رہے گا۔‘‘

(خطبہ جمعہ 2 فروری 2018ء، الفضل انٹرنیشنل 23 فروری 2018ء صفحہ6-8)

معوذتین یا تینوں قُل

مختلف روایات میں ان قُل کے فضائل اور تاثیرات بیان ہوئی ہیں۔ جن کا خلاصہ یہ ہے کہ صبح و شام تین تین مرتبہ تینوں قُل یعنی آخری تین سورتیں پڑھ کر اپنے اوپر پھونک مارنی چاہیے۔ تا شیطانی وساوس سے بچا جاسکے۔بلکہ ابو داؤد نے آنحضورﷺ کا یہ ارشاد بھی نوٹ کیا ہے کہ پناہ مانگنے کی دعاؤں میں سے سب سے بہترین دُعا معوذتین ہیں۔ عیادت کرتے وقت بالخصوص مرض الموت یعنی جان کنی کے وقت مریض پر معوذتین (الفلق، الناس) پڑھنی چاہیے۔ حضرت عائشہؓ، آنحضورﷺ پر مرض الموت کے وقت معوذتین پڑھ کر آپؐ پر دم کرتی رہیں (بخاری کتاب الطب باب فی المرأۃ ترقی الرجل حدیث 5751) نظر بد سے بچنے کے لئے معوذتین پڑھ کر دم کرنا بھی سنت نبوی ہے۔

(ترمذی)

یہ سورتیں پریشانی، تشویش، تنگی و قلق اور ذہنی و نفسیاتی دباؤ کو بھی دور کرتی ہیں۔

قرآن کی تلاوت کی تاثیر سے قبول اسلام

طفیل بن عمرو الدوسی ایک مشہور شاعر تھا۔ ایک دفعہ یہ مکہ گیا تو کفار نے اس کو آنحضورﷺ کے قریب جانے اور آپؐ کی رفاقت سے دُور رہنے کے لئے بہت سبق پڑھائے حتی کہ یہ جب خانہ کعبہ میں رکھے 360 بتوں کی پرستش کے لئے گیا تو اس نے اپنے دونوں کانوں میں روئی ٹھونس لی تا آنحضورﷺ کی کوئی آواز اس کے کانوں میں داخل نہ ہو مگرجب اس نےآنحضورﷺ کوخانہ کعبہ کے قریب ہی کھڑے نماز پڑھنے میں مشغول پایا۔ طفیل الدوسی عبادت کا یہ طریق دیکھ کر فرط مسرت سے جھوم اُٹھا اور غیر ارادی طور پر آنحضورﷺ کے پاس پہنچ گیا۔ نماز کے بعد آپؐ کے پیچھےہولیا۔ گھر میں جاکر آنحضورﷺ نے سورۃ اخلاص اور الفلق اور ایک روایت کے مطابق الناس بھی تلاوت فرمائی۔ جس کاطفیل الدوسی کی طبیعت پر بہت اثر ہوا اور لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ پڑھ کر مسلمان ہوگیا۔ گویا شرک کا علاج ان سورتوں سے ہوا۔

(سیرت ابن ہشام جلد اول صفحہ382-384)

حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے دل پر قرآنی آیات ہی نے جادو کا سا اثر کیا تھا اور ان کا دل ایسی آیات کو سن کرپسیجا تھا جو اللہ تعالیٰ کی کبریت، جبروت، توحید اور تسبیح و تحمید پر مشتمل تھیں۔ جب کہ انہوں نے یہ آیات اپنی بہن فاطمہ کے منہ سے سنی تھیں اور بلند آواز سے بول اُٹھے تھے۔ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ

(ابن ہشام جلد اول صفحہ343-344)

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے متعلق بھی یہی آتا ہے کہ آپؓ نےآنحضرتﷺ سے سورۃ الذاریات کی کبریت والی آیات سُن کر قبول اسلام کی سعادت پائی تھی۔

(الاستیعاب جلد1 صفحہ573)

شاہ حبشہ نجاشی بھی حضرت رسول پاک ﷺ کے چچازاد حضرت جعفر طیّار کی زبانی سورۃ مریم اور بعض روایات میں سورۃ طہٰ کی پہلی 10 آیات کی تلاوت سُن کر مسلمان ہوا۔

(تاریخ الخمیس جلد2 صفحہ31 اور تفسیر الکشاف جز6 صفحہ305)

قرآن سُن کر شرک سے شفا پاکر اسلام قبول کرنے کے واقعات تاریخ اسلام میں بے شمار ہیں۔ مگر مضمون تمام واقعات کی تفصیل کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ تاہم چند ایک مزید جیسے مشہور شاعر قیس بن الخطیم انصاری (الاصابہ جلد5 صفحہ557) اسعد بن زرارہ (سیرت ابن ہشام جلد1 صفحہ435) شاعر قیس بن عاصم (تفسیر قرطبی جلد 17 صفحہ151) جبیر بن مطعم (مسند احمد جلد4 صفحہ83) یہودی طبیب ابو الخیر اور جنوں کا گروہ سورۃ رحمٰن کی تلاوت سُن کر مسلمان ہوا۔

(ترمذی کتاب التفسیر)

صحابہ کرامؓ پر قرآن سُن کر خشیت اور رقت طاری ہونا

جہاں کفار کے شرک کا علاج قرآن کریم سُن کرہوا اور وہ مسلمان ہوئے وہاں صحابہ رسولؐ پر قرآن کریم کی تلاوت سے خشیت، رقت اور خوف الہٰی طاری ہوتا رہا جو جسمانی اور روحانی بیماریوں کی دُوری کا موجب بنا۔ صحابہ میں سے آغاز حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کرتے ہیں۔ آپؓ کی تلاوت میں ایک درد تھا، سوز تھا۔ نہایت خوش الحانی سے تلاوت کرتے تو آپؓ کی پُرتاثیر تلاوت کو سن کر بعض لوگ فریفتہ ہوجاتے اور آپ کے پاس کھڑے ہوکر تلاوت سنتے۔ قریش نے ابن الدغنہ جس نے آپ کو پناہ دے رکھی تھی سے شکایت کی۔ مگر حضرت ابوبکرؓ نے پناہ واپس کردینے کو ترجیح دی بہ نسبت تلاوت قرآن کو چھوڑ دینے کے۔آپؓ کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہوتیں اور چہرے پر نور ہوتا۔

مشہور شاعر لبید نے شعر کہنے چھوڑ دیئے قرآن کریم کی سورۃ البقرہ کی آیت نمبر2 سُن کر اور اللہ کے ہوکر رہ گئے تھے۔

حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ جب سورۃ البقرہ کی آیت 285 لِلّٰہِ ما فِی السَّمَواَتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ نازل ہوئی تو صحابہ کرامؓ پر شدید غم کی حالت طاری ہوگئی تھی۔

(مسند احمد بن حنبل جلد5 صفحہ194)

جب آیت یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَرۡفَعُوۡۤا اَصۡوَاتَکُمۡ فَوۡقَ صَوۡتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجۡہَرُوۡا لَہٗ بِالۡقَوۡلِ (الحجرات3) نازل ہوئی تو حضرت ثابت بن قیسؓ گھر بیٹھ گئے کہ مبادا میرے بولنے سے (آپ بلند آواز تھے) میرے عمل ہی ضائع نہ ہوجائیں۔

(مسلم، کتاب الایمان)

خواجہ فضیل بن عیاض ڈاکو تھے بلکہ ڈاکوؤں کے سرغنہ تھے۔ آپ سورۃ الحدید کی آیت17 ایک قافلے کی زبانی سُن کر مسلمان ہوئے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس آیت سے دل میں سخت چوٹ لگی۔ جسم پر لرزا طاری ہوا۔ توبہ کی اور مکہ ہجرت کرکے اولیائے کبار میں شامل ہوئے۔

اَلَا بِذِکۡرِ اللّٰہِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ (الرعد29) آنحضورﷺ نے فرمایا کہ قرآن کریم پڑھنے والوں پر اللہ تعالیٰ کی سکینت نازل ہوتی ہے۔ لہذا تلاوت قرآن کرنے اور سننے سے ذہنی تناؤ کم ہوتا اور دل کی تمام بیماریوں کے لئے صحت مند علاج ہے لکھا ہے کہ یہ آیت دلوں کی شفا والے مضمون کی بھی تصدیق کرتی ہے۔ نفسیاتی امراض کا علاج بھی قرآن کریم میں ہے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ کتاب دلی شبہات کے لئے شفا ہے۔

(تفسیر کبیر جلد3 صفحہ93)

وَ اِذَا بَطَشۡتُمۡ بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِیۡنَ

(الشعراء131)

اس کا ترجمہ ہے کہ جب تم کسی کو پکڑتے ہو تو ظالموں کی طرح پکڑتے یعنی مضبوط اور زبردست بنتے ہوئے پکڑتے ہو۔

اس آیت کے حوالہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سرمہ چشم آریہ میں بحث فرمائی ہے اور قرآن کریم کی بعض آیات اور وَ اِذَا بَطَشۡتُمۡ بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِیۡنَ کے پڑھنے سے لوگوں کے بچھوؤں اور زنبور کی نیش زنی سے محفوظ رہنے کے واقعات کا ذکر فرمایا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں
«ڈاکٹر برنی آر نے اپنے سفر نامہ کشمیر میں پیر پنجال کی چڑھائی کی تقریب کےبیان پر بطور ایک عجیب حکایت کے لکھا ہے جو ترجمہ کتاب مذکور کے صفحہ 80 میں درج ہے کہ ایک جگہ پتھروں کے ہلانے جلانے سے ہم کو ایک بڑا سیاہ بچھو نظر پڑا جس کو ایک نوجوان مغل نے جو میری جان پہچان والوں میں سے تھا اٹھا کر اپنی مٹھی میں دبالیا اور پھر میرے نوکر کے اور میرے ہاتھ میں دے دیا مگر اس نے ہم میں سے کسی کو بھی نہ کاٹا۔ اس نوجوان سوار نے اس کا باعث یہ بیان کیا کہ میں نے اس پر قرآن کی ایک آیت پڑھ کر پھونک دی ہے اور اسی عمل سے اکثر بچھوؤں کو پکڑ لیتا ہوں۔»

(سرمہ چشم آریہ، روحانی خزائن جلد2 صفحہ100)

اس کے بعد حضور علیہ السلام خود اپنی نسبت فرماتے ہیں
راقم اس رسالہ نے ایک درویش کو دیکھا کہ وہ سخت گرمی کے موسم میں یہ آیت قرآنی پڑھ کر وَ اِذَا بَطَشۡتُمۡ بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِیۡنَ زنبور کو پکڑ لیتا تھا اور اس کی نیش زنی سے بکلّی محفوظ رہتا تھا۔ اور خود اس راقم کے تجربہ میں بعض تاثیرات عجیبہ آیت قرآنی کی آچکی ہیں جن سے عجائبات قدرت حضرت باری جل شانہٗ معلوم ہوتے ہیں۔«

(سرمہ چشم آریہ، روحانی خزائن جلد2 صفحہ100)

مجھے یاد ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ نے مسجد اقصیٰ میں غالباً خطبہ جمعہ یا تقریر میں اس آیت کے حوالہ سے بتایا تھا کہ یہ آیت پڑھ لینے سے بھونڈ (بھڑ) کا ڈنگ اثر نہیں رکھتا۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مندرجہ بالا تحریر اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ کی بات کا ذکر کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے فرمایا
’’اب جو واقعہ ہے اس کو ہم نے خود بچپن میں تجربہ کرکے دیکھا ہے۔ اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے خاص طور پر مجھے یہ ترکیب بتائی تھی کہ اگر یہ آیت وَ اِذَا بَطَشۡتُمۡ بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِیۡنَ پڑھ کر بھونڈ جن کے اندر ابھی ڈنک ہوتا ہے ان کو پکڑ لیا جائے تو وہ کاٹتے نہیں ہیں۔ اور میں نے بارہا ایسا کیا ہے۔ ایک دفعہ نہیں بہت مرتبہ۔ کس طرح ان بھونڈوں کو پکڑا اور انہوں نے کاٹا نہیں۔ تو یہ اللہ تعالیٰ کی آیات کے کرشمے ہیں۔ یہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بیان فرمایا ہے بالکل اسی طرح حقیقت ہے۔‘‘

(خطبہ جمعہ بارہ اپریل 2002ء)

اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ (البقرہ157)۔ کچھ کھو جانے پر نعم البدل کے حصول کے لئے یہ آیت پڑھی جاتی ہے اور یہ بات تجربہ میں آئی ہے کہ گمشدہ چیز پر اگر صدق دل سے یہ آیت پڑھی جائے تو وہ گمشدہ چیز مل جاتی ہے یا اس کا نعم البدل مل جاتا ہے۔

حضرت عمرؓ نے تو جوتی کا تسمہ ٹوٹ جانے یا گم ہوجانے پر یہ آیت تلاوت فرمائی۔

(کنز العمال جلد3 صفحہ751)

جلدی اور پرانے امراض کے لئے حضرت ایوبؑ کی دُعا اَنِّیۡ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِیۡنَ (الانبیاء 84) پڑھی جاتی ہے۔

بانجھ پن یا تولیدی امراض کے لئے حضرت زکریاؑ کی دُعا رَبِّ لَا تَذَرۡنِیۡ فَرۡدًا وَّ اَنۡتَ خَیۡرُ الۡوٰرِثِیۡنَ (الانبیاء 90) پڑھی جاتی ہے۔

افسردگی، خوف، نامیدی میں حضرت یونسؑ کی دُعا لَاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبۡحٰنَکَ ٭ۖ اِنِّیۡ کُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ (الانبیاء 88) پڑھی جاتی ہے۔

سورۃ الانعام اور شفا

حدیث ہے کہ آنحضورﷺ نے ایک بیمار پر ساری رات سورۃ الانعام کی تلاوت کی تو صبح تک اسے شفا ہوگئی۔

(الاتقان جلد2 صفحہ436)

سورۃ الکہف کی پہلی اور آخری آیات کی روزانہ تلاوت فتنہ دجال سے انسان کو محفوظ رکھتی ہیں۔

(ترمذی ،ابواب فضائل الفرقان ما جاء فی فضل سورۃ الکہف حدیث 2886)

سورۃ یٰسین اگر مرنے والے کے قریب پڑھی جائے تو اللہ تعالیٰ اس پر جان کنی آسان کردیتا ہے۔

(سبل السلام، کتاب الجنائز)

الاتقان فی علوم القرآن میں لکھا ہے کہ حضرت سعید بن جبیرؓ نے ایک دفعہ یہ سورۃ ایک مریض پر پڑھی وہ شفا پاگیا۔

پس یہ وہ قرآن کریم کی تاثیرات اور شفائیں یعنی علاج ہیں ۔ جن کی ایک جھلک اوپر پیش کی گئی ہے اور ان کو مدنظر رکھ کر رمضان میں قرآن کریم کی تلاوت کی جائے اور جہاں شفا اور علاج کا مقام آئے وہاں اللہ تعالیٰ سے اس شفا کے لئے دعائیں کرے اور اس نیکی کو اپنانے یا بدی کو ترک کرنے کا پختہ عہد بھی کرے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’خدائے قادر مطلق حیّ قیوم کے پاک کلام کی زبردست اور عجیب تاثیریں تھیں کہ جو ایک گروہ کثیر کو ہزاروں ظلمتوں سے نکال کر نور کی طرف لے آئیں بلاشبہ یہ قرآنی تاثیریں خارق عادت ہیں کیونکہ کوئی دنیا میں بطور نظیر نہیں بتلاسکتا کہ کبھی کسی کتاب نے ایسی تاثیرکی۔‘‘

(سرمہ چشم آریہ، روحانی خزائن جلد2 صفحہ77-78 حاشیہ)

حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’عرب جاہل تھے۔ خدا سے دور تھے۔ محکوم نہ تھے تو حاکم بھی نہ تھے؟ مگر جب انہوں نے قرآن کریم کا شفا بخش نسخہ استعمال کیا تو وہی جاہل دنیا کے استاد اور معلم بنے وہی وحشی متمدن دنیا کے پیش رو اور تہذیب و شائستگی کے چشمے کہلائے۔ وہ خدا سے دُور کہلانے والے خدا پرست اور خدا میں ہوکر دنیا پر ظاہر ہوئے۔ وہ جو حکومت کے نام سے بھی ناواقف تھے دنیا بھر کے مظفرو منصور اور فاتح کہلائے۔ غرض کچھ نہ تھے سب کچھ ہوگئے۔ مگر سوال یہی ہے کیونکر؟ اسی قرآن کریم بدولت اسی دستور العمل کی رہبری سے۔ پس تیرہ سو برس کا ایک مجرّب نسخہ موجود ہے جو اس قوم نے استعمال کیا جس میں کوئی خوبی نہ تھی اور خوبیوں کی وارث اور نیکیوں کی ماں بنی۔‘‘

(حقائق الفرقان جلد4 صفحہ287)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہمیں ایک جگہ نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ’’ آپؐ کی تاثیرات کا سلسلہ بند نہیں ہوا بلکہ اب تک وہ چلی جاتی ہیں۔ قرآن شریف کی تعلیم میں وہی اثر، وہی برکات اب بھی موجود ہیں‘‘۔

(ملفوظات جلد4 صفحہ630)

پس جب خدا بھی وہی قدوس ہے توجو اس کی طرف بڑھنے کی کوشش کرے وہ اس سے فیض پاتا ہے۔ اس کے رسول کی تاثیرات بھی قائم ہیں، اس کی کتاب کی تاثیریں بھی قائم ہیں، اِس زمانے میں اُس نے اپنے مسیح و مہدی کی قوت قدسی کے نظارے بھی ہمیں دکھا دئیے اور دکھا رہا ہے۔‘‘

(خطبہ جمعہ 20 اپریل 2007ء، خطبات مسرور جلد5 صفحہ164)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 9 اپریل 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 اپریل 2021