• 20 جون, 2021

فدیہ عارضی مریض بھی دے سکتے ہیں

پس فدیہ عارضی مریض بھی دے سکتے ہیں اور پھر سفر ختم ہونے پر، صحت ہونے پر روزہ رکھنا بھی ضروری ہے۔ یہ دونوں چیزیں اس سے ثابت ہوتی ہیں۔ آپؑ نے فرمایا کہ جو صحت پا کر روزے رکھنے کے قابل ہو جاتے ہیں ان کے لیے صرف فدیہ کا خیال کرنا اباحت کا دروازہ کھولنا ہے۔ جو ایسی صحت ہے جو صحت رمضان کے بعد پالی یا رمضان میں بیمار ہوئے تو بعد میں صحت یاب ہو گئے۔ اگر وہ صرف یہی کہہ دیں کہ ہم نے رمضان میں روزے نہیں رکھے اور فدیہ دے دیا تھا۔ تو یہ تو اباحت کا دروازہ کھولنا ہے۔ بلاوجہ کی اجازت کے راستے کھولنا ہے۔ غلط بدعتیں پیدا کرنا ہے۔ اگر رمضان میں فدیہ دے بھی دیا ہے تب بھی رمضان کے بعد پھر روزے رکھنے ضروری ہیں۔ سال کے دوران کسی وقت بھی رکھے جا سکتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ ہاں مستقل مریض، دودھ پلانے والی عورتیں، حاملہ عورتیں جو ہیں ان کے لیے اس حالت میں کہ اس پر سال گزر جائے صرف فدیہ ہی کافی ہوتا ہے لیکن فدیے کے ساتھ اس مہینے میں عبادتوں اور ذکر الٰہی اور دوسری نیکیوں کو جاری رکھنا ضروری ہے۔ یہ نہیں کہ فدیہ دے دیا تو ہر چیز سے ہم فارغ ہو گئے۔ اگر روزے نہ بھی رکھ رہے ہوں اور فدیہ دے دیں اور باقی نیکیاں جاری رکھیں تویہ بھی رمضان کا فیض پانے والے ہوں گے۔ صرف فدیہ دے کر نمازوں کو بھول جانا اور دوسری نیکیوں کو بھول جانا یہ صرف مومن نہیں بنا دیتا، حقیقی مومن نہیں بنا دیتا، رمضان کی برکات میں حصہ دار نہیں بنا دیتا۔

(ماخوذ از ملفوظات جلد9 صفحہ433)

پھر اللہ تعالیٰ اس آیت میں یہ فرماتا ہے کہ جو بھی نیکی تم پوری فرمانبرداری سے کرتے ہو دل نہیں بھی چاہ رہا ہو تو کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بہتر نتائج پیداکرے گا۔ بعض کے نزدیک فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا کا یہ بھی مطلب ہے کہ کوئی کام نفلی طور پر بھی تم کرتے ہو تو یہ بھی تمہارے لیے بہتر ہے۔ دونوں مطلب اس کے ہیں یعنی نفلی طور پہ زائد فدیہ دے دیا یا ایک کے بجائے دو مسکینوں کو کھلا دیا یا پتا ہونے کے باوجود کہ آج روزہ کسی وجہ سے نہیں رکھ سکا کل رکھ لوں گا پھر بھی فدیہ دے دیا تو یہ زائدنیکی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارے لیے بہتر ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہیں نیکیوں کے اجر دیتا ہے خواہ وہ اپنے پر بوجھ ڈال کر کی جائیں یا نفلی نیکیاں کی جائیں، خوشی سے کی جائیں۔ اس آیت کے آخر میں پھر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ تمہارے لیے روزے رکھنا ہر لحاظ سے تمہارے لیے بہتر ہے۔

(خطبہ جمعہ 10مئی 2019)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 8 مئی 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 مئی 2021