• 20 جون, 2021

دوسروں پر عیب نہ لگاؤ

’’ایک چھوٹی سی کتاب میں لکھا دیکھا ہے کہ ایک بادشاہ قرآن لکھا کرتا تھا ۔ ایک مُلّاں نے کہا کہ یہ آیت غلط لکھی ہے۔ بادشاہ نے اُس وقت اس آیت پر دائرہ کھینچ دیا کہ اس کو کاٹ دیا جائے گا۔ جب وہ چلا گیا تو اس دائرہ کو کاٹ دیا۔ جب بادشاہ سے پوچھا کہ ایسا کیوں کیاتو اس نے کہا کہ دراصل وہ غلطی پر تھا مگر مَیں نے اس وقت دائرہ کھینچ دیا کہ اس کی دلجوئی ہو جاوے۔

یہ بڑی رعونت کی جڑ اور بیماری ہے کہ دوسرے کی خطا پکڑ کر اشتہار دے دیا جاوے۔ ایسے امور سے نفس خراب ہو جاتا ہے اس سے پرہیز کرنا چاہئے۔ غرض یہ سب امور تقویٰ میں داخل ہیں اور اندرونی بیرونی امور میں تقویٰ سے کام لینے والا فرشتوں میں داخل کیا جاتا ہے کیونکہ اس میں کوئی سرکشی باقی نہیں رہ جاتی ۔ تقویٰ حاصل کرو کیونکہ تقویٰ کے بعد ہی خدا تعالیٰ کی برکتیں آتی ہیں۔ متقی دنیا کی بلاؤں سے بچایا جاتا ہے۔ خدا ان کا پردہ پوش ہو جاتا ہے۔ جب تک یہ طریق اختیار نہ کیا جاوے کچھ فائدہ نہیں۔ ایسے لوگ میری بیعت سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ فائدہ ہو بھی تو کس طرح جبکہ ایک ظلم تو اندر ہی رہا۔ اگر وہی جوش، رعونت، تکبر، عُجب، ریاکاری، سریع الغضب ہونا باقی ہے جو دوسروں میں بھی ہے تو پھر فرق ہی کیا ہے؟ سعید اگر ایک ہی ہو اور وہ سارے گاؤں میں ایک ہی ہو تو لوگ کرامت کی طرح اس سے متأثر ہوں گے۔ نیک انسان جو اللہ تعالیٰ سے ڈر کر نیکی اختیار کرتا ہے اس میں ایک ربّانی رعب ہوتا ہے اور دلوں میں پڑ جاتا ہے کہ یہ باخدا ہے۔ یہ بالکل سچی بات ہے کہ جو خداتعالیٰ کی طرف سے آتا ہے خدا تعالیٰ اپنی عظمت سے اس کو حصہ دیتا ہے اور یہی طریق نیک بختی کا ہے۔

پس یاد رکھو کہ چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھائیوں کو دکھ دینا ٹھیک نہیں ہے۔ آنحضرتﷺ جمیع اخلاق کے مُتَمِّمْ ہیں۔ اور اس وقت خدا تعالیٰ نے آخری نمونہ آپؐ کے اخلاق کا قائم کیا ہے۔ اس وقت بھی اگر وہی درندگی رہی تو پھر سخت افسوس اور کم نصیبی ہے ۔ پس دوسروں پر عیب نہ لگاؤ کیونکہ بعض اوقات انسان دوسروں پر عیب لگا کر خود اس میں گرفتار ہو جاتا ہے اگر وہ عیب اس میں نہیں۔ لیکن اگر وہ عیب سچ مچ اس میں ہے تو اس کا معاملہ پھر خداتعالیٰ سے ہے۔ بہت سے آدمیوں کی عادت ہوتی ہے کہ اپنے بھائیوں پر معاً ناپاک الزام لگا دیتے ہیں۔ ان باتوں سے پرہیز کرو۔ بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچاؤ اور اپنے بھائیوں سے ہمدردی، ہمسایوں سے نیک سلوک کرو اور اپنے بھائیوں سے نیک معاشرت کرو اور سب سے پہلے شرک سے بچو کہ یہ تقویٰ کی ابتدائی اینٹ ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد سوم صفحہ 571 تا 573 ۔ ایڈیشن 1988)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 9 جون 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 جون 2021