• 20 جون, 2021

حضرت ذوالفقار علی خان گوہر رامپوری رضی اللہ عنہ

تعارف صحابہ کرام ؓ
حضرت ذوالفقار علی خان گوہر رامپوری رضی اللہ عنہ

حضرت ذوالفقار علی خان گوہر صاحب رضی اللہ عنہ ولد مکرم عبدالعلی خان صاحب اگست 1869ء میں رامپور ضلع مراد آباد (یو پی۔ انڈیا) میں پیدا ہوئے، آپ کا خاندان ریاست رامپور میں اعلیٰ عہدوں پر فائز تھا، نواب کلب علی خان صاحب کے زمانہ میں ریاست کے اکثر کام اسی خاندان کے ہی سپرد تھے۔ آپ کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں، آپ بر صغیر ہند و پاک کے مشہور سیاسی لیڈر مولانا شوکت علی اور مولانا محمد علی جوہر (المعروف بہ علی برادران) کے بڑے بھائی تھے۔

تعلیم کے ساتھ ابتدائی عمر میں ہی آپ کو لکھنے لکھانے اور شعر کہنے کا شوق پیدا ہوگیا تھا، 1884ء سے ہی اخبارات میں مضامین اور ناولوں کے ترجمے کیا کرتے تھے، آپ کے اس ذوق کی وجہ سے ہی ایک وکیل کنج بہاری لال صاحب نے اپنے اخبار ’’نسیم ہند‘‘ کی تمام تر ذمہ داری آپ کو سونپ دی، اس اخبار کی تیاری کے لیے بعض دیگر اخبارات کی خبروں اور اقتباسات کو دیکھنا ہوتا تھا جو دفتر میں آتے تھے، انھی اخبارات میں ’’ریاض الاخبار‘‘ گورکھپور بھی تھا۔ 1888ء میں اسی ’ریاض الاخبار‘ میں آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا خط بنام الیگزنڈر رسل ویب سفیر امریکہ مقیم فلپائن پڑھا جس کے مطالعہ کے بارے میں آپ کہتے ہیں کہ ’’اس کے تسخیر کرنے والے، دل پر چوٹ لگانے والے مضامین نے مبہوت و محو کر لیا۔‘‘

اس سے قبل آپ زمانہ ظہور امام مہدی کے متعلق سن چکے تھے چنانچہ آپ بیان کرتے ہیں کہ 1884ء میں جب کہ میں سکول میں پڑھتا تھا، ایک رات کو تاروں کے ٹوٹنے کا غیر معمولی نظارہ دیکھنے میں آیا، رات کے ایک لمبے حصہ میں تارے ٹوٹتے رہے اور اس کثرت سے ٹوٹے کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ تیروں کی بارش ہو رہی ہے۔ ایک حصہ تاروں کا ٹوٹ کر ایک طرف جاتا اور دوسرا دوسری طرف۔ اور ایسا نظر آتا کہ گویا فضا میں تاروں کی ایک جنگ جاری ہے ۔۔۔ اپنے پیر و مرشد قبلہ علامہ مولوی ارشاد حسین صاحب (سے ذکر کیا) تو انھوں نے فرمایا کہ ظہور حضرت امام مہدی علیہ السلام ہوگیا ہے، یہ اسی کی علامت ہے۔

(سیرت المہدی جلد دوم حصہ چہارم روایت نمبر1001۔ نظارت نشر و اشاعت قادیان۔ اگست 2008ء)

بعد ازاں جب آپ نے ملازمت شروع کی تو ملازمت کے دوران سلسلہ احمدیہ کے ایک مخلص بزرگ حضرت مولوی تفضل حسین صاحب رضی اللہ عنہ (بیعت: اپریل 1889ء۔ وفات: 3؍نومبر 1904ء) سے ملاقات ہوئی جن کی پاکیزہ صحبت نے آپ پر بہت اثر کیا، انھوں نے ہی آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصنیف لطیف ازالہ اوہام دی جس کے مطالعہ سے تسکین ہوئی اور بالآخر 1900ء میں بیعت کا خط لکھ دیا اور 1904ء میں پہلی مرتبہ بمقام گورداسپور حضرت اقدس علیہ السلام کی زیارت کی۔ اپنی بیعت کا پس منظر بیان کرتے ہوئے آپ تحریر فرماتے ہیں:
’’….. حضرت تفضل حسین صاحب رضی اللہ عنہ سے ملاقات۔ ایک سادہ مزاج انسان، لباس صاف مگر سادہ، سانولا رنگ، چھریرہ جسم متین چہرہ تشریف لائے، ایڈیٹر صاحب ’’البشیر‘‘ نے مجھ سے ان کا تعارف مستہزانہ لب و لہجہ میں کرایا ’’آپ قادیانی ہیں تفضل حسین صاحب شکوہ آباد ضلع مین پوری میں تحصیلدار ہیں‘‘۔ میں پہلے تو معمولی طریق سے کھڑے ہوکر مصافحہ کر کے خاموش بے تعلق سا بیٹھ گیا تھا مگر اس تعارف کے بعد میں کھڑا ہوا اور پھر نہایت ادب سے مصافحہ کیا اور عرض کیا ’’حضرت مرزا صاحب کا احترام میرے دل میں کافی ہے، عین سعادت ہے کہ آپ کی زیارت نصیب ہوئی۔ ایڈیٹر صاحب کا چہرہ حیرت کی تصویر تھا، منہ کھلا ہوا اور لب خشک، مجھے گھبرائی ہوئی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے …. مولوی تفضل حسین صاحب مرحوم و مغفور رضی اللہ عنہ حضرت کے بہت پرانے صحابی تھے اور ان کا عشق سلسلہ کے ساتھ مجنونانہ رنگ رکھتا تھا، حضرت اقدس علی گڑھ ان کی وجہ سے تشریف فرما ہوئے تھے جو اس زمانہ میں کم نظر آتا تھا بہت ہی محبت سے مجھ سے ملے اور فرمایا میرا گھر اسی شہر میں ہے کوئی شے درکار ہو تو منگوا لیا کرنا، وہ وقت گذر گیا پھر ان سے ملاقات عرصہ تک نہ ہو سکی۔

دوبار ہ ملاقات: 1900ء میں اکتوبر میں تار پر حکم پہنچنے پر بھونگاؤں تحصیل میں نائب تحصیلدار ہو کر تین ماہ کے لیے گیا، تحصیلدار مولوی تفضل حسین صاحب تھے ہم دونوں کو جو خوشی حاصل ہوئی وہ ہر احمدی اندازہ کر سکتا ہے۔ تحصیل بہت بڑی تھی بارہ تحصیلوں سے حدود ملتے۔ تین سال میں 6 ماہ کے لیے دو تحصیلدار دو نائب تحصیلدار رہتے تھے اب صرف ہم دو تھے ان کے پاس مقدمات کی یہ کثرت تھی کہ ساٹھ ساٹھ فیصلے روزانہ لکھ کر سنا دیتے تھے تحصیل کا سارا کام مجھ پر چھوڑ دیا تھا میں نے خدا کے فضل سے تین ماہ میں مالگذاری سب بے باق کرادی اور تمام عملے کا معائنہ کرکے ان کو درست کر دیا رشوت کا بازار سرد پڑ گیا …. میری مدت نومبر کے آخیر میں ختم ہوتی تھی مگر تحصیل میں چارج لیتے ہی بعد وقت کچہری تحصیلدار صاحب مرحوم نے ازالہ اوہام مجھے دیا اور کہا کہ ہمیں پڑھ کر سناؤ میں ان کے مردانہ نشست میں رہتا تھا کیونکہ تنہا تھا میرے لیے جو مکان تھا اُسے میں نے استعمال نہیں کیا، ازالہ اوہام دو تین دن میں ختم کردی یہ پہلی تصنیف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کی تھی جو میری نظر سے گذری ….. ازالہ اوہام کے مطالعہ نے تسکین کردی اور بیعت کا سوال دل میں فورًا پیدا ہو گیا میں نے استخارہ کیا ….. اب میں نے قصبہ بھوگاؤں میں تبلیغ شروع کر دی شرفائے قصبہ کہنے لگے کہ تحصیلدار صاحب کے ماتحت لوگ محض ان کے خوش رکھنے کے لیے عقیدت بدل لیتے ہیں بعد میں پھر ویسے ہی ہو جاتے ہیں اور ایک حکیم صاحب کی نظیر بھی پیش کی جو اٹاوہ کے تھے اور بعد میں فرخ آباد جا کر سلسلہ کے مخالف ہو گئے، میں نے اس کے جواب مناسب دیے لیکن میں نے ایسا محسوس کیا کہ یہ اثر ان پر غالب ہے، استدلال کا جواب وہ کبھی نہ دے سکے بعض لوگ متاثر تھے ….. ایک دن تحصیلدار صاحب (مراد حضرت تفضل حسین صاحب۔ ناقل) مرحوم و مغفور نے فرمایا کہ بیعت کا خط کیوں نہیں بھیج دیتے ہو میں نے کہا کہ میں تو بیعت کر چکا ہوں مبلغ بنا ہوا ہوں رسمی خط ابھی نہیں بھیجا ہے۔ کسی مصلحت سے فرمایا یہ تو نفاق ہے مجھے اس لفظ سے بہت تکلیف ہوئی میں نے کہا کہ آپ اپنے عہدہ سے ناجائز فائدہ نہ اٹھائیں میری حالت کو نفاق سے اگر کوئی دوسرا تعبیر کرتا تو بہت سخت جواب پاتا یہ کہہ کر میں اٹھ کھڑا ہوا اور اپنا اسباب ان کی مردانہ نشست سے اٹھا کر اپنے مکان میں رکھ لیا دوسرے دن صبح ہی کو انھوں نے معذرت کا پرچہ لکھا اور معافی کی خواہش کی میں نے ان کے محسن ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے ادب و احترام سابق کو پیش کیا وہ میرے پاس فورًا آگئے اور زبانی عذر کرنے لگے میں نے وجہ عدم تحریر خط بیعت ہنوز ان سے مخفی رکھی۔ میں نے اسی شب میں کہ صبح اس تحصیل کو چھوڑ رہا تھا ایک چو ورقہ خط اپنے مفصل حال کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کو لکھا اور عرض کیا کہ میرا ایمان ہے کہ حضور کا دعویٰ بر حق اور صحیح ہے …. حضور اقدس علیہ الف الف صلوٰۃ و السلام نے قبولیت بیعت کا اظہار فرمایا ….. یہ خط لکھ کر مولوی صاحب مرحوم کو جو ۷ میل کے فاصلہ پر مصروف تحقیقات سرکاری تھے، دے دیا اور عرض کیا کہ اس نے بیعت کو بدنام ہونے سے بچانا تھا …. یہ بیعت کا پروانہ آغاز دسمبر 1900ء میں ملا تھا 1904ء میں گورداسپور دوران مقدمہ کرم دین میں حضور علیہ السلام کی دست بوسی اور زیارت نصیب ہوئی …..‘‘

( الحکم 7 اکتوبر 1934ء صفحہ11,12)

آپ کی بیعت کا اندراج اخبار الحکم میں یوں درج ہے:
’’بیعت …… ذوالفقار علی صاحب رام پور قائمقام نائب تحصیلدار بھونگاؤں ضلع مین پوری‘‘

(الحکم 10دسمبر 1900ء صفحہ6 کالم3)

آپ اپنی ملازمت کے سلسلے میں تقریبًا 1902ء میں تبادلہ ہوکر میرٹھ آئے اور کچھ سال میرٹھ میں گزارے۔ 1904ء میں آپ اپنی دسمبر کی تعطیلات میں میرٹھ سے قادیان حاضر ہوئے۔ اخبار بدر آپ کی آمد کے بارے میں لکھتا ہے:
’’میرے مکرم دوست خان صاحب ذوالفقار علی خان صاحب نائب تحصیلدار میرٹھ جو کہ دسمبر کی تعطیلات میں تشریف لائے ہوئے تھے ان کی زبانی یہ خبر سن کر کمال خوشی ہوئی کہ آپ نے گورداسپور میں حضرت اقدس سے ملاقات کرنے کے بعد واپس جاکر میرٹھ میں باقاعدہ انجمن قائم کی اور ایک امدادی چندہ کھولا جس میں ایک معقول رقم جمع رہا کرے گی اور جس کے ذریعہ سے وقتی اور فوری ضرورتیں خاص انجمن کی سر انجام دی جاویں گی اور نیز یہ کہ قادیانی ضرورتوں کے متعلق اگر کسی فوری امداد کی ضرورت ہوا کرے گی تو اس کا ایک حصہ ارسال کیا جاسکے گا۔ جہاں تک ہم دیکھتے ہیں یہ بہت عمدہ تجویز ہے ….. کیا اچھا ہو کہ دوسرے مقام کی احمدی جماعتیں بھی اس طرح باقاعدہ انتظام چندوں وغیرہ کا رکھیں۔‘‘

(بدر یکم جنوری 1905ء صفحہ11 کالم1)

حضرت خان ذوالفقار علی خان صاحب رضی اللہ عنہ نہایت ہی مخلص اور فدائی وجود تھے۔ حضرت اقدس علیہ السلام اور سلسلہ احمدیہ سے آپ کو والہانہ محبت تھی۔جہاں حضور علیہ السلام کی تحریکات اور سلسلہ کی ضروریات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا جذبہ تھا وہاں خود بھی اس سلسلہ کی تعمیر و ترقی کے لیے سوچتے رہتے اور اپنی تجاویز دیگر احمدی احباب تک پہنچاتے رہتے۔ سلسلہ احمدیہ کے لیے آپ کے دل میں ایک غیرت تھی جس کا اظہار ساری زندگی آپ کی طرف سے ہوتا رہا۔ جب جناب خواجہ کمال الدین صاحب اورجناب مولوی محمد علی صاحب نے رسالہ ریویو آف ریلیجنز کی اشاعت بڑھانے کے لیے ایک غیر احمدی ایڈیٹر کی تجویز سے موافق ہونے کا خیال کیا کہ اس رسالے سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام نکال دیا جائے تو جہاں دیگر احمدی احباب نے اس ظلم کو برداشت نہ کرنے کا اظہار کیا وہاں حضرت خان صاحبؓ نے بھی ریویو آف ریلیجنز میں اس غیر احمدی شراکت پر اپنی غیرت کا اظہار کرتے ہوئے ایک دردمندانہ مضمون لکھا۔ اس مضمون کےکچھ حصے پیش خدمت ہیں:
’’….. ان تمام امور پر کامل غور کرنے کے بعد بھی میں طیار نہیں ہوں کہ بحیثیت احمدی ہونے کے اس رائے کو مان لوں جب تک خود حضرت امام علیہ السلام قطعی منظوری نہ دیں۔ ریویو ہمارا پرچہ ہے۔ ہم خدا کے دین کے انصار ہیں۔ ہماری جانیں، دولتیں اس کام کے لیے حاضر ہیں …..

….. صابون مصالح لگا کر کسی تالاب میں کپڑے کو ڈال دو۔چھ مہینے تک پڑا رہ کر گل تو جائے گا مگر صاف نہ ہوگا۔ صاف کرنے کے لیے غسال کی ضرورت ہے۔ جب مُزَکیّ کے ذکر کو آپ اس حصہ سے علیحدہ رکھنا چاہتے ہیں جو بلاد غیر میں جاوے گا تو پھر کیا فائدہ اسلام کو پہنچا؟ …..

میں امید کرتا ہوں کہ میرے بھائی خواجہ کمال الدین صاحب اس پر غور کریں گے اور پبلک احمدی کی تسکین کے لیے کچھ مزید تجویز سوچیں ورنہ یہ ظلم ہے کہ ہم سے توقع کی جائے کہ ہم اپنے آقا سے دور رہ کر خوش رہ سکیں۔ 25 سال سے ہم کو وابستگی سکھائی جا رہی ہے۔ اب ہم سے کہا جاتا ہے دور باش۔ میں سچ کہتا ہوں کہ موت زیادہ اچھی ہے اس سے کہ ہم مسیح موعودؑ کے ذکر کو اپنے سے دور کر دیں…..‘‘

(بدر 16مارچ 1906ء صفحہ8،7)

ایک مرتبہ ایک صاحب نیاز احمد میرٹھی نے ماہنامہ ’’عصر جدید‘‘ میرٹھ میں چھپنے والے ایک مضمون ’’پیری مریدی‘‘ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق بعض جملے کسے۔ چنانچہ حضرت خان صاحبؓ نے احمدیت کے لیے غیرت کے جذبے میں فوراً اس کا جواب ’’کھلی چٹھی بنام نیاز احمد صاحب میرٹھی‘‘ نامی مضمون میں دیا۔

(بدر 26 اپریل 1906ء صفحہ7،6)

اس سے چند ماہ قبل آپ نے اسی رسالہ ’’عصر جدید‘‘ ماہ اگست میں ایڈیٹر خواجہ غلام الثقلین صاحب کے ایک مخالفانہ مضمون کا بھی اخبار الحکم میں پانچ صفحاتی کافی شافی جواب دیا۔

(الحکم 17؍اکتوبر 1905ء صفحہ8-4)

اسی طرح آپ نے لنگر خانہ کے مصارف کے متعلق ایک مضمون میں اپنے آٹھ روپے ماہوار اس مد میں وعدہ کا ذکر کر کے احمدی جماعت کو دل کھول کر اس میں حصہ ڈالنے کی اپیل کی اور لکھا:
’’امید ہے کہ قوم اپنے حوصلہ سے پورا کام لے کر امام معصوم علیہ السلام کی رُوح کو راحت پہنچا کر ابدی راحتوں کا خزانہ اللہ تعالیٰ سے لے گی۔‘‘

(بدر 15 نومبر 1906ء صفحہ5,6)

1908ء کے اوائل میں آپ کی تعیناتی ریاست رامپور میں محکمہ آبکاری پر بعہدہ سپرنٹنڈنٹ ہوئی جہاں آپ کے مراسم والیٔ ریاست جناب نواب سید حامد علی خان صاحب (1875ء تا 1930ء) کے ساتھ ہوئے۔ اس تعلق کی وجہ سے نواب صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ہی حضور علیہ السلام سے کچھ دلچسپی پیدا ہوئی (گو کہ حضرت اقدسؑ کی وفات کے بعد نواب صاحب کا رویہ بدل گیا)۔ نواب آف رامپور کے حوالے سے حضرت اقدس علیہ السلام کا آپ کےنام ایک خط ذیل میں درج کیا جاتا ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہٗ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم

از لاہور السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ

آپ کا خط مجھ کو لاہور میں ملا۔ میری طبیعت علیل تھی اور میرے گھر کے لوگوں کی طبیعت مجھ سے زیادہ علیل ہوگئی تھی اس لئے تبدیل آب وہوا کے لئے ہم لاہور میں آگئے۔ صاحبزادہ افتخار احمد کو میں نے تاکید کردی تھی کہ وہ نواب صاحب اور آپ کے خط کی رسید بھیج دیں یعنی اب آپ کے خط کے جواب میں خواجہ کمال الدین صاحب کو کہا تھا کہ تار بھیج دیں مگر اب میں نے مناسب سمجھا کہ خود آپ کو اس بات سے اطلاع دوں کہ اب تو میں بیمار ہوں اور اگر میں بیمار بھی نہ ہوتا تب بھی اس بات کو پسند نہ کرتا کہ دہلی جیسے شہر میں جس کا میں پہلے تجربہ کر چکا ہوں، جاؤں اور اس جگہ نواب صاحب کی ملاقات کروں۔ شاید آپ کو معلوم نہیں ہوگا کہ ایک دفعہ میرے جانے پر عوام نے شور برپا کیا تھا اور ہزار ہا جاہلوں کا اس قدر ہجوم تھا کہ قریب تھا کہ کسی کو قتل کر دیتے۔ سو اگرچہ میں ان کی پروا نہیں کرتا مگر ایسی شور انگیز جگہ پر میں مناسب نہیں دیکھتا کہ نواب صاحب کی ملاقات ہو بلکہ میرے دل میں ایک خیال آیا ہے اور میں جانتا ہوں کہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور وہ یہ کہ جب تک خدا تعالیٰ نواب صاحب کی نسبت اور ان کی بہبودیٔ دین و دنیا کے متعلق وہ خدائے قادر کوئی میری دعا قبول نہ کرے اور اس سے مجھ کو اطلاع نہ دے تب تک نہ ملاقات ضروری ہے اور نہ باہم خط و کتابت کی کچھ حاجت ہے۔ اور اگر جناب الٰہی میں میری کچھ عزت ہے تو میں امید رکھتا ہوں کہ وہ میری دعا قبول کر کے کوئی امر ظاہر کرے گا جو بطور نشان کے ہوگا اور انسان میں سچا اتحاد اور سچا تعلق تبھی پیدا ہو سکتا ہے کہ جب وہ خدا کی طرف سے کچھ دیکھ بھی لے ورنہ صرف حسن ظن کس کام کا ہے۔اس کو معدوم کرنے والے بہت پیدا ہو جاتے ہیں۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ جیسا کہ آپ بار بار لکھتے ہیں نواب صاحب شریف اور سعید اور نیک فطرت انسان ہیں مگر پھر بھی وہ عالم الغیب تو نہیں۔ انسان کثرت رائے سے متاثر بھی ہو سکتا ہے۔ اس لئے میں نے یہ قرار دیا ہے اور اپنے ذمہ عہد کر لیا ہے کہ موسم گرما کے نکلنے کے بعد جس میں اکثر میری طبیعت خراب رہتی ہے، نواب صاحب کی بہبودیٔ دارَین کے لئے ایک خاص توجہ کروں گا اور بعض وجوہ سے میں مناسب دیکھتا ہوں، جن کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں کہ اس وقت تک کہ میں توجہ کروں اور اس سے اطلاع بھی دیا جاؤں، سلسلہ خط و کتابت باہمی کا قطعاً بند رہے اور نہ ملاقات کا کوئی ارادہ ہو اور نہ نواب صاحب کی طرف سے میرا کچھ ذکر ہو، مجھ کو قطعاً فراموش کر دیں۔ اور اگر کوئی سب و شتم یا استہزا سے پیش آئے اور کہے کہ اس کے جواب سے بھی در گذر کی جائے اور جیسا کہ مَیں نے عہد کیا ہے اگر سردی کے موسم تک میری زندگی ہوئی یا گرمی کے ایام میں ہی خدا نے مجھے طاقت دے دی تو میں انشاء اللہ العزیز اس عہد کو پورا کروں گا اور نواب صاحب نے جو اپنے اخلاص و محبت سے کچھ بھیجنے کا ارادہ کیا ہے، یہ ان کے اخلاص اور محبت کا نشان ہے اور میں شکریہ کرتا ہوں مگر میرے نزدیک یہ بھی مصلحت کے بر خلاف کیا۔

(الفضل 26اکتوبر 1943ء صفحہ3)

اس خط کے 26 دنوں بعد حضرت اقدس علیہ السلام کی وفات ہوگئی۔ بہرحال آپؓ نواب صاحب رامپور کے جلیسوں میں سے تھے اور احمدیت کا ذکر گاہے بگاہے ہوتا رہتا تھا۔ خلافت اولیٰ کے زمانہ میں ہی نواب صاحب رامپور نے آپؓ کو کربلائے معلی اور نجف کی طرف بھجوایا تاکہ آپ راستے کے حالات وغیرہ کی معلومات لے کر آئیں کیونکہ نواب صاحب خود ان مقامات مقدسہ کی زیارت کے لیے جانے کا ارادہ رکھتے تھے۔ چنانچہ آپؓ ایک طویل سفر کے بعد 3 اگست 1913ء کو واپس تشریف لائے۔

(پیغام صلح 5 اگست 1913ء صفحہ4 کالم3)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان وایقان کے متعلق آپؓ کا حال اوپر بیان ہوچکا ہے۔ خلافت کے متعلق ایمان میں بھی وہی مضبوطی اور اخلاص تھا اسی وجہ سے خلافت ثانیہ کے قیام کے موقع پر آپ نے کسی تردّد کے بغیر فوراً بیعت کر لی اور اپنا بیعت نامہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھجواتے ہوئے لکھا :
’’اس غم جان فرسا میں اگر کچھ تسکین ہے تو یہ ہے کہ آپ کے دست مقدس و مبارک پر بیعت کرتا ہوں۔ اگر ساری جماعت آپ کو چھوڑ دیتی تو تب بھی الحمد للہ یہ عاجز بیعت کرتا۔ مولوی محمد علی صاحب کو میری رائے میں کچھ شکوک ہیں۔وہ خود بھی غور کریں گے تو اپنی رائے کی غلطی کو محسوس کریں گے۔ حضرت مسیح موعودؑ کی زندگی میں صدر انجمن تھی پھر جانشینی کیا معنیٰ! وہی جانشینی خلیفۃ المسیح کے عہد میں رہی وہی عہد ثانی میں رہے گی۔‘‘

(الفضل 21؍مارچ 1914ء صفحہ5)

پھر تا دمِ حیات آپ خلافت کے ساتھ نہایت اخلاص و وفا اور اطاعت وفرمانبرداری کے ساتھ وابستہ رہے۔ جماعت احمدیہ کی ترقی میں ہمیشہ کوشاں رہتے تھے۔ 1918ء میں جب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ انفلونزا کے شدید حملہ کی وجہ سے تشویشناک حالت تک علیل ہوگئے تو اکتوبر 1918ء میں اپنی وصیت بھی لکھ دی جس میں اپنے بعد انتخاب خلافت کے لیے گیارہ افراد پر مشتمل ایک کمیٹی نامزد فرما دی جس میں حضرت ذوالفقار علی خان صاحبؓ بھی شامل تھے۔

(ماخوزازبحوالہ تاریخ احمدیت جلد4 صفحہ211)

یہی وہ سال تھا جس میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے جماعت کو وقف زندگی کی تحریک فرمائی تو حضرت خان صاحبؓ نے بھی زندگی وقف کرکے قادیان ہجرت کرنے کا ارادہ کرلیا۔ آپ 1920ء کے اواخر میں مستقل طور پر ہجرت کر کے قادیان آگئے۔ قادیان میں آپ نے ایڈیشنل سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ، ناظر امور عامہ اور ناظر اعلیٰ اور سیکرٹری بیرونی تبلیغی مشن تحریک جدید وغیرہ جیسے اہم عہدوں پر خدمت کی توفیق پائی۔ آپ کو کئی اہم مواقع پر اعلیٰ سطح کے جماعتی وفود میں شمولیت کا اعزاز حاصل ہوا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی کتاب ’’تحفہ شہزادہ ویلز‘‘ جب پرنس آف ویلز کو تحفۃً دی گئی تو اس کے جواب میں پرنس آف ویلز کے چیف سیکرٹری G F D Montmorency نے حضرت خان صاحبؓ ایڈیشنل سیکرٹری جماعت احمدیہ کے نام شکریہ کا خط لکھا۔

(الفضل 6؍مارچ 1922ء صفحہ2،1)

1924ء میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ یورپ جانے والے رفقاء میں آپ کو بھی شامل ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ 1930ء میں ریاست رامپور کی درخواست پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے آپؓ کو جماعتی خدمات سے سبکدوش کر کے ریاست رامپور جانے کا ارشاد فرمایا۔ رامپور میں تقریباً پانچ سال کام کرنے کے بعد آپ دوبارہ قادیان حاضر ہوگئے۔

حضرت گوہر صاحبؓ شعائر اسلام کا نہایت احترام رکھتے تھے اور ان کی پابندی کا بھی ہر دم خیال رکھتے تھے۔ دینی شعائر کے استہزاء کے موقع پر عدم برداشت کا اظہار بھی آپ جرأت کے ساتھ کیا کرتے تھے اور اپنی غیرت ایمانی اور جوش دینی کا ثبوت دیتے۔ اس کی ایک مثال کا ذکر ہندوستان کے مشہور اخبار نویس جناب عبدالماجد دریابادی صاحب نے کیا ہے۔وہ لکھتے ہیں:
’’مئی 1928ء کا ذکر ہے کہ مولانا محمد علی کی منجھلی صاحبزادی کا عقد دہلی میں تھا۔اس تقریب میں یہ بھی آئے ہوئے تھے۔ ایک روز دوپہر کی تنہائی میں دو معزز مہمانوں نے مسائل اسلامی پر کچھ طنز و تمسخر شروع کیا (دونوں بیرسٹر تھے) اور لا مذہب نہیں بلکہ اچھے خاصے مسلمان اور ایک صاحب ماشاءاللہ ابھی موجود ہیں۔ مخاطب ’’سچ‘‘ (سابق صدق) کا ایڈیٹر تھا لیکن قبل اس کے کہ وہ کچھ بھی بول سکے ایک اور صاحب نے جو اس وسیع کمرے کے کسی گوشے میں لیٹے ہوئے تھے کڑک کر ایک ایک اعتراض کا جواب دینا شروع کر دیا اور وہ جوابات اتنے کافی بلکہ شافی نکلے کہ مخاطب اصلی کو بولنے کی ضرورت ہی نہ پڑی۔ یہ نصرت اسلام میں تقریر کر ڈالنے والے بھی ذوالفقار علی خان تھے۔ اس جوش دینی و حرارت ایمانی رکھنے والے سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ نرمی اور رأفت کا معاملہ فرمائیں اور اس کی لغزشوں کو سرے سے در گذر فرمائیں۔‘‘

(بحوالہ تاریخ احمدیت جلد5 صفحہ18۔ خلافت ثانیہ کا پندرھواں سال)

جیسا کہ شروع میں ذکر ہوا ہےکہ آپؓ نظم و نثر میں نہایت عمدہ لکھنے والے تھے۔سلسلہ کے لٹریچر میں آپ کے لکھے گئے مضامین موجود ہیں۔ شعر بھی بہت خوبصورت کہتے تھے۔ شاعری میں داؔغ دہلوی کی شاگردی بھی پائی۔ جماعتی اخبارات کے علاوہ برصغیر کے دیگر اخبارات و رسائل میں بھی آپ کا کلام شائع ہوتا، مثلاً معروف رسالہ ماہنامہ ’’مخزن‘‘ لاہور میں آپ کی خوبصورت نظم ’’رخصت شباب‘‘ شائع ہوئی:

الفراق اے صحبت بزمِ نشاط
اب نہیں دل میں وہ جوش انبساط
وہ جوانی کی اُمنگیں اب کہاں
وہ محبت کی ترنگیں اب کہاں
ہو نہ جس میں فکر کچھ انجام کا
وہ شبابِ وقت پھر کس کام کا

(ماہنامہ ’’مخزن‘‘ لاہور مئی 1904ء صفحہ49-47)

اسی مخزن رسالے میں 1904ء میں آپ کی ایک نظم جو آپ نے اپنے بیٹے مکرم عبدالرحمٰن ظفرصاحب کی وفات پر لکھی، شائع شدہ ہے۔ جماعتی لٹریچر میں خاص طور پر اخبار الفضل آپ کی نظموں سے مزین ہے۔ آپ کا مجموعہ کلام ’’کلام گوہر‘‘ کے نام سے طبع شدہ ہے۔

حضرت خان ذوالفقار علی خان صاحب گوہر رضی اللہ عنہ نے 26فروری 1954ء بمقام لاہور وفات پائی اور بوجہ موصی (وصیت نمبر 75) ہونے کے بہشتی مقبرہ ربوہ کے قطعۂ صحابہ میں دفن ہوئے۔ آپ نے چار شادیاں کیں۔1905ء میں آپ کی پہلی بیوی محترمہ نایاب بیگم صاحبہ (یہ شادی 1884ء میں ہوئی) نے میرٹھ میں وفات پائی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تعزیت نامہ لکھوایا:
’’صبر کریں، موت کا سلسلہ دنیا میں لگا ہوا ہے، صبر کے ساتھ اجر ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد چہارم صفحہ302)

اس اہلیہ سے آپ کے پانچ بچے تھےجن میں حضرت حاجی ممتاز علی خان صاحب درویش قادیان (وفات: 1954ء) مکرم ہادی علی خان صاحب، مکرم عبداللہ رضا علی خان صاحب، مکرم عبدالرحمٰن ظفر خان صاحب، مکرم محمد یحیٰ خان صاحب۔

دوسری بیوی محترمہ عائشہ بیگم صاحبہ (وفات :1907ء) تھیں۔ ان سے اولاد میں مکرم محمد عیسیٰ خان صاحب، مکرم محمد اسماعیل خان صاحب اور محترمہ امۃ اللہ سلیمہ بیگم صاحبہ اہلیہ کرنل اوصاف علی خان صاحب آف مالیر کوٹلہ تھیں۔

تیسری بیوی حضرت کلثوم کبریٰ صاحبہؓ (وفات:31دسمبر 1929ء۔ مدفون بہشتی مقبرہ قادیان) تھیں جن سے تین بچے مکرم پروفیسر حبیب اللہ خان صاحب، محترمہ زبیدہ بیگم صاحبہ اہلیہ محترم مولانا حکیم خلیل احمد مونگھیری صاحب اور مکرم مولانا عبدالمالک خان صاحب مبلغ سلسلہ و ناظر اصلاح و ارشاد مرکزیہ تھے۔

آپؓ کی چوتھی بیوی محترمہ کلثوم صغریٰ صاحبہ (وفات: 12ستمبر 1960ء۔ مدفون بہشتی مقبرہ ربوہ) تھیں جن سے اولاد میں مکرم عبدالمنان صاحب، مکرمہ زلیخا بانو صاحبہ، مکرمہ زکیہ بیگم صاحبہ، مکرمہ سعیدہ بیگم صاحبہ، مکرمہ محمودہ بیگم صاحبہ، مکرم صادق علی خان صاحب، مکرمہ صدیقہ بیگم صاحبہ، مکرمہ مبارکہ بیگم صاحبہ، مکرم محمد اسحاق خان صاحب، مکرم عبدالرحمان خان صاحب، مکرمہ رشیدہ بیگم صاحبہ اور مکرمہ راضیہ بیگم صاحبہ تھیں۔

اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان سے آپ کی اولاد دنیا کے مختلف ممالک میں پھیلی ہوئی ہے اور سلسلہ احمدیہ کی خدمت میں مصروف عمل ہے۔ اللہ تعالیٰ خلافت کے ساتھ وابستگی اور خدمتِ دین کا جذبہ آئندہ آنے والی نسلوں میں بھی قائم رکھے اور ہمیں بھی ان صحابہ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے۔آمین۔

(غلام مصباح بلوچ ۔ کینیڈا)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 9 جون 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 جون 2021