• 4 مئی, 2024

بنیادی مسائل کے جوابات (قسط 21)

بنیادی مسائل کے جوابات
قسط 21

سوال:۔ ایک مربی صاحب نےحضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا ہے کہ حضور ﷺ کو زہر دینے والی عورت کے بارہ میں حضور نے اپنے ایک خطبہ جمعہ میں فرمایا ہے کہ حضورﷺ نے اسے معاف کر دیا تھا جبکہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے اسے قتل کروا دیا تھا، اس بارہ میں مزید راہنمائی کی درخواست ہے۔ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 20 فروری 2020ء میں اس بارہ میں مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:۔

جواب:۔ اس مسئلہ میں علماء حدیث میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ لیکن زیادہ مستند اور ثقہ کتب احادیث میں بیان احادیث کے مطابق یہی مسلک درست ہے کہ اس عورت کے حضورﷺ کے قتل کی کھلی کھلی سازش کرنے کے باوجود حضور ﷺ نے اسے معاف فرما دیا تھا۔ اور باوجود اس کے کہ اس زہر کی کاٹ آخری عمر تک آپ کے گلے میں محسوس ہوتی رہی لیکن آپ ﷺ نے اپنی خاطر اس عورت کو کوئی سزا نہیں دی۔جبکہ دنیا میں زمانہ قدیم میں بھی اور آج کے ترقی یافتہ زمانہ میں بھی کسی بادشاہ یا سربراہ حکومت کے قتل کی صرف منصوبہ بندی پر موت کی سزائیں دی جاتی ہیں۔

بعض محدثین نے اس اختلاف کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ حضورﷺ نے پہلے اس عورت کو کوئی سزا نہیں دی تھی لیکن جب حضرت بشر بن براءؓ کی اس زہر آلودہ گوشت کے کھانے سے وفات ہو گئی تو آپ ﷺ نے قصاص کے طور پر اس عورت کو قتل کر وا دیا۔ اگر یہ توجیہہ درست بھی ہو تو حضور ﷺ کی سیرت کا یہ پہلو جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان فرمایا ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی ذات کیلئے کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا، اس واقعہ میں بھی بہت نمایاں طور پر سامنے آتا ہے۔

سوال:۔ ایک خاتون نےحضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا ہے کہ بچے اکثر سوال کرتے ہیں کہ جب ہم اپنی مرضی سے پیدا نہیں ہوئے تو خدا تعالیٰ کے احکامات کی پیروی ہم پر کیوں لازم ہے؟ نیز لکھا کہ دعائے قنوت میں جو یہ فقرہ ہے کہ ’’ہم چھوڑتے ہیں تیرے نافرمان کو‘‘ تو کیا اس مراد نافرمان اولاد اور افراد جماعت بھی ہو سکتے ہیں؟ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 04 فروری 2020ء میں ان سوالات کا درج ذیل جواب عطاء فرمایا۔ حضور نے فرمایا:۔

جواب:۔ اللہ تعالیٰ ایک بچہ کو اس کے والدین کی خواہش کے مطابق پیدا کرتا ہے۔ پھر والدین کو نصیحت کرتا ہے کہ اولاد کے نیک اور صالح ہونے کیلئے دعا کرو اور اس غرض کیلئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں دعا بھی سکھائی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات قرار دیکر اسے سوچنے کیلئے ذہن اورزندگی گزارنے کیلئے مختلف صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ پھر اسے اچھے اور بُرے کی پہچان کروا کر آزاد چھوڑ دیا اور اسے کہا کہ اگر اس دنیا کی عارضی زندگی میں اچھے کام کرو گے تو آخرت کی دائمی زندگی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والے مختلف قسم کے انعامات کے وارث قرار پاؤ گے لیکن اگر بُرے کام کرو گے تو شیطان کے قبضہ میں چلے جاؤ گےجس کی وجہ سے ایک تو قسما قسم کے ان انعامات سے محروم رہو گے اور دوسرا شیطان کے نقش قدم پر چلنے کی وجہ سے جن روحانی بیماریوں کا شکار ہو گےان کے علاج کیلئے اخروی زندگی کی جہنم میں جو کہ وہاں کا ہسپتال ہے طرح طرح کے تکلیف دہ علاجوں سے گزارنا پڑے گا۔قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ اور شیطان کے جس مقالمہ کو ہمارے لئے بیان کیا ہے اس میں بھی یہی مضمون ہے کہ جب شیطان نے اللہ تعالیٰ سے کہا کہ میں انسانوں کو تیری راہ سے بہکاؤں گا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرے بندے تیری بات ہرگز نہیں مانیں گے اور میں اپنے ان بندوں کو جنت جیسے انعامات سے نوازوں گا اور جو تیری بات مانیں گے تو میں ان سے جہنم کو بھروں گا۔

پس اب یہ ہر انسان کا فرض ہے کہ وہ خود سوچے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پیروی کر کے اس کے انعامات کا وارث بننا ہے یا شیطان کی راہ اختیار کر کے جہنم کی سزاؤں کا حقدار بننا ہے۔

جہاں تک دعائے قنوت کے فقرہ کا تعلق ہے تو اس سے مراد وہ فاسق و فاجر کفار ہیں جنہوں نے منافقت اور دھوکہ کے ساتھ مسلمانوں کا قتل و غارت کیا اور انہیں طرح طرح کے نقصان پہنچائے۔ چنانچہ بئر معونہ اور رجیع جیسے واقعات کے بعد ہی حضور ﷺ نے قنوت فرمایا۔ پس والدین کی نافرمان اولاد یا نظام جماعت سے انتظامی سزا پانے والے افراد جماعت اس سے مراد نہیں ہو سکتے۔

البتہ انتظامی سزا پانے والے ایسے افراد جماعت جن پر ان سزاؤں کا بظاہر کوئی اثر نہیں ہوتا، ان کی جھوٹی اناؤں نے انہیں اپنے قبضہ میں لیا ہوتا ہے اور وہ بھول جاتے ہیں کہ نظام جماعت کی اطاعت کرنی ہے۔ ایسے لوگوں کو اس سزا کا احساس دلانے کیلئے باقی افراد جماعت کا فرض بنتا ہے کہ ان کے ساتھ مجلسوں میں نہ بیٹھیں، انہیں اپنی دعوتوں میں نہ بلائیں اور نہ انہیں اپنی خوشیوں میں شامل کریں۔ کیونکہ جماعتی تعزیر ایک معاشرتی دباؤ کیلئے دی جاتی ہے۔ تاہم بیوی بچوں اور والدین کو ان کے ساتھ تعلقات رکھنے کی اس لئے اجازت دی جاتی ہے کہ وہ انہیں سمجھائیں اور نظام جماعت کا مطیع و فرمانبراد اور صحت مند فرد بنانے کی کوشش کریں۔

سوال:۔ ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے دریافت کیا کہ کیا کسی کی موت کا انجام اس کے مذہبی عقائد پر منحصر ہے؟ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 04 فروری 2020ء میں اس مسئلہ کے بارہ میں درج ذیل ارشاد فرمایا۔ حضور نے فرمایا:۔

جواب:۔ اللہ تعالیٰ انبیاء کو اس لئے مبعوث کرتا ہے کہ وہ لوگوں کو نیکی کی طرف بلائیں اور لوگ اس دنیا کی عارضی زندگی اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق گزار کر اخروی زندگی کے دائمی انعامات کے وارث بنیں اور شیطانی راستوں کو ترک کر کے اخروی عذاب سے بچیں۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ اور اس کے نبیوں پر ایمان لانا ضروری ہے۔ قرآن کریم نے اس مضمون کو مختلف جگہوں پر بیان فرمایا ہے۔

لیکن کسی کے جنت یا دوزخ میں جانے کے فیصلہ کا اختیار اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ کیونکہ وہ ہر چیز کا مالک ہے۔ اور وہ فرماتا ہے کہ میں شرک کے سوا تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہوں۔پس کسی عام انسان کو اختیار نہیں کہ وہ دوسروں کے جنت یا دوزخ میں جانے کا فتویٰ دے۔ البتہ خدا کے نبی اور فرستادے چونکہ خدا سے غیب کا علم پاتے ہیں اس لئے جب کوئی نبی یا فرستادہ کسی کے بارہ میں کوئی بات کہتا ہے تو وہ بات دراصل خدا تعالیٰ کے ہی علم پر مبنی اور عین صداقت ہوتی ہے۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ حضور ﷺ کے پاس سے ایک جنازہ گزارہ لوگوں نے مرنے والے کا ذکر خیر کیاتو آپؐ نے فرمایا اس کیلئے جنت واجب ہو گئی۔ پھر ایک دوسرا جنازہ گزار تو لوگوں نے مرنے والے کی برائیوں کا ذکر کیا تو آپؐ نے فرمایا اس کیلئے جہنم واجب ہو گئی۔ اور پھر فرمایا کہ مومن لوگ زمین پر اللہ تعالیٰ کے گواہ ہیں۔

پھر یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ رحیم و کریم ہے۔ وہ کسی کی چھوٹی سے چھوٹی نیکی کا بھی اجر ضرور اسے دیتا ہے۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ ایک صحابی نے حضورﷺ کی خدمت میں عرض کی کہ میں نے کفر کی حالت میں محض خدا تعالیٰ کے خوش کرنے کیلئے بہت کچھ مال مساکین کو دیا تھا۔ کیا اس کا ثواب بھی مجھے ملے گا؟ تو آپ ؐ نے فرمایا کہ وہی صدقات ہیں جو تجھے اسلام کی طرف کھینچ لائے ہیں۔

پس کسی کی موت پر اس کے مذہبی عقائدکی بناء پر اس کیلئے جنت یا جہنم کا فیصلہ کرنا کسی عام انسان کے اختیار میں نہیں ہے۔ یہ کام خدا تعالیٰ کا ہے یا اس کی نیابت میں اس کے نبیوں اور فرستادوں کا ہے۔

سوال:۔ ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ جلسہ جرمنی میں ایک تقریر میں دجال کو ایک شخص کی بجائے استعارہ کے طور پر پیش کیا گیا تھا لیکن گزشتہ دنوں ایک ویڈیو میں صحیح مسلم کی ایک حدیث کا ذکر تھا جس میں دجال کو ایک مجسم انسان قرار دیا گیا ہے۔ کیا یہ حدیث Authentic ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 20 فروری 2020ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطاء فرمایا۔ حضور نے فرمایا:۔

جواب:۔ دراصل آخری زمانہ میں اسلام نے جن مصائب اور فتنوں سے دوچار ہونا تھا، ان میں دجال اور یاجوج ماجوج کا خاص طور پر ذکر ملتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں مختلف پیرایوں میں ان فتنوں کا ذکر موجود ہے اور آنحضورﷺ نے بھی مختلف انداز میں ان فتنوں سے اپنی امت کو آگاہ فرمایا ہے، جس کا ذکر کئی احادیث میں بیان ہوا ہے۔ انہیں میں سے ایک حدیث صحیح مسلم کی بھی ہے جس کا آپ نے ذکر کیا ہے۔ یہ حدیث بھی اس مضمون سے تعلق رکھنے والی دیگر احادیث کی طرح کشفی نظارہ اور استعارات پر مشتمل ہے۔ اگر اس حدیث میں بیان امور حقیقت پر مبنی ہوتے تو اس راوی کے علاوہ بھی کئی اور لوگوں نے اس حدیث میں بیان اس جساسہ اور دیو ہیکل دجال کو ظاہری آنکھوں سے دیکھا ہوتا۔ پس کسی اور کا اس حدیث میں بیان امور کے بارہ میں اپنا ظاہری مشاہدہ بیان نہ کرنا ثابت کرتا ہے کہ یہ ایک کشفی نظارہ تھا۔

باقی جہاں تک دجال اور جاجوج ماجوج کی حقیقت کا تعلق ہے تو یہ ایک ہی فتنہ کے مختلف مظاہر ہیں۔ دجال اس فتنہ کے مذہبی پہلو کا نام ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ یہ گروہ آخری زمانہ میں لوگوں کے مذہبی عقائد اور مذہبی خیالات میں فساد پیدا کرے گا۔ اوراس زمانہ میں جو گروہ سیاسی حالات کو خراب کرے گا اور سیاسی امن و امان کو تباہ و برباد کرے گااس کو یاجوج ماجوج کانام دیا گیا ہے۔اور ہر دو سے مراد مغربی عیسائی اقوام کی دنیوی طاقت اور ان کا مذہبی پہلو ہے۔

لیکن اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی ﷺ کے ذریعہ ہمیں یہ خبر دی کہ جب دجال اور یاجوج ماجوج کے فتنے برپا ہوں گے اور اسلام کمزور ہو جائے گا تو اللہ تعالیٰ اسلام کی حفاظت کیلئے مسیح موعود کو مبعوث فرمائے گا۔ اس وقت مسلمانوں کے پاس مادی طاقت نہ ہو گی لیکن مسیح موعود کی جماعت دعاؤں اور تبلیغ کے ساتھ کام کرتی چلی جائے گی۔ جس کی بدولت اللہ تعالیٰ ان فتنوں کو خود ہلاک کر دے گا۔

سوال:۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ اطفال الاحمدیہ جرمنی کی Virtual ملاقات مؤرخہ 29 نومبر 2020ء میں ایک طفل کے اس سوال پر کہ آجکل کےحالات کی وجہ سے غیر مسلم، مسلمانوں سے ڈرتے ہیں۔ہم انہیں کیسے تسلی دے سکتے ہیں؟حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔

جواب:۔ ہم تو ہمیشہ سے ہی کوشش کر رہے ہیں، پچھلے کئی سالوں سے کوشش کر رہے ہیں۔ اسی لئے میں Peace Symposium بھی کرتا ہوں۔ تم لوگوں کو بھی کہتا ہوں کہ Peace Symposium کرو۔ Peace کے پمفلٹ تقسیم کرو۔ لوگوں کو بتاؤ کہ اسلام کی اصل تعلیم کیا ہے۔ اسلام کی اصل تعلیم تو پیار اور محبت کی تعلیم ہے۔ لوگوں کو بتاؤ گے تو ان کا ڈر دور ہو گا۔ ہماری کوشش جتنی زیادہ ہوگی اتنی لوگوں میں Awareness زیادہ پیدا ہوگی، لوگوں کو اسلام کے بارہ میں صحیح حالات کا علم ہو گا۔ اس لئے ہمیں یہ کوشش کرنی چاہئے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بتائیں، اپنے دوستوں کو بتائیں۔ سکول میں تمہارے دوست ہوں گے۔ ان کو بتاؤ کہ اسلام کی اصل تعلیم کیا ہے۔اصل تعلیم تو یہ ہے کہ پیار اور محبت۔ اور اسلام کسی قسم کی جنگ اور جہاد کی اجازت نہیں دیتا بلکہ اسلام نے جہاں جنگ کی اجازت دی ہے یا جہاد کی اجازت دی ہے، وہاں جب جہاد کرنے کا پہلا حکم اترا تو اللہ میاں نے قرآن کریم میں لکھا کہ تمہیں جہاد کی اس لئے اجازت دی جا رہی ہے کہ یہ لوگ تم پہ ظلم کر رہے ہیں اور اگر ان کے ظلم کو نہیں روکو گے تو پھر نہ کوئی چرچ باقی رہے گا اور نہ کوئی یہودیوں کا Synagogue باقی رہے گا، نہ کوئی ٹیمپل باقی رہے گا اور نہ کوئی مسجد باقی رہے گی۔ تو اسلام نے اگر جہاد کی اجازت دی ہے تو مذہب کو Secure کرنے کیلئے دی ہے، مذہب کو محفوظ کرنے کیلئے دی ہے۔ اسلام نے کہیں یہ اجازت نہیں دی کہ مذہب پھیلانے کیلئے تمہیں جہادکرنے اور قتل کرنے کی اجازت ہے۔ اسلا م تو کہتا ہے کہ اگر تم دیکھو کہ عیسائیوں کے چرچ پہ کوئی حملہ کر رہا ہے تو مسلمان کا فرض ہے کہ جائے اور عیسائیوں کے چرچ کو بچائے۔ اسلام کہتا ہے کہ اگر یہودیوں کے Synagogue پہ کوئی حملہ کر رہا ہے توتم جاؤ اور یہودیوں کے Synagogue کو بچاؤ۔ اسلام کہتا ہے کہ ہندؤوں کے ٹیمپل پہ کوئی حملہ کر رہا ہے تو تم جاؤ اور اس کو بچاؤ اور اس طرح تم اپنی مسجد کو بھی بچاؤ۔ اسلام تو سب کی حفاظت کرتا ہے۔ اس لئے لوگوں کو یہ کھل کے بتانا پڑے گا، اپنے دوستوں کو بتاؤ کہ قرآن کریم میں یہ لکھا ہوا ہے۔لوگوں کو یہ بتاؤ کہ یہ لوگ جو مسلمان بنے پھرتے ہیں، جو Jihadist ہیں یا جو Extremists ہیں، یہ جو شدت پسند ہیں یہ غلط باتیں پھیلا رہے ہیں یہ اسلام کی تعلیم نہیں پھیلا رہے۔ جب تم بتاؤ گے تو لوگوں کو پتہ لگ جائے گا کہ اسلام کتنا امن قائم کرنے والا اور پیار کرنے والا مذہب ہے۔ ٹھیک ہے؟

سوال:۔ اسی ملاقات میں ایک اور طفل نے عرض کیا کہ جب کوئی مسلمان فوت ہوتا ہے تو ہم اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ پڑھتے ہیں۔ اگر کوئی غیر مسلم فوت ہو تو کیا ہم اس کیلئے بھی یہ پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس سوال کے جواب میں فرمایا:۔

جواب:۔ اگر ہمیں اس کا افسوس ہے۔ یا وہ تعلق والا ہے تو ظاہر ہے اسی طرح پڑھنا ہے کہ ہم سارے اللہ کے پاس ہی جانے والے ہیں۔ جانا تو سب نے اللہ کے حضور ہی ہے۔ آگے اللہ نے ان سے کیسا سلوک کرنا ہے یہ تو اللہ بہتر جانتا ہے۔ ہو سکتا ہے کوئی غیر مسلم بھی ہو لیکن اس کی کوئی نیکی اللہ کو پسند آجائے تو اس کو اللہ تعالیٰ بخشنے کا سامان کردے۔ یا جو بھی اس سے سلوک کرنا ہے وہ کرے۔ اِنَّا لِلّٰہِ اس لئے پڑھا جاتا ہے کہ اگر کوئی بھی نقصان ہو تو اس کا مداوا کرنا، اس کو پورا کرنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ تو ہم یہ پڑھتے ہیں کہ ہم اللہ کیلئے ہیں اور اسی کی طرف ہر نقصان پہ اور ہر معاملہ میں رجوع کرتے ہیں۔ اگر ہمارا کوئی دوست ہے یا ہمارا کوئی ایسا ہمدرد ہے جس نے ہمارے ساتھ نیکی کی ہو اس پہ اگر ہم یہ دعا دیدیتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بھی اللہ کے پاس گیا اور ہم نے بھی اللہ کے پاس جانا ہے۔ اس کی وجہ سے ہمیں جو نقصان ہوا وہ اللہ تعالیٰ پورا کرے اور اس کی کسی بھی حرکت یا بات پہ کوئی نیک سلوک ہو سکتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ اس سے کردے۔ اصل چیز تو یہ ہے کہ اِنَّا لِلّٰہِ اس لئے پڑھی جاتی ہے کہ ہم اللہ سے یہ مانگتے ہیں کہ ہمارا نقصان پورا ہو جائے۔اس کے مرنے سے ہمیں جو افسوس ہے،ہمارا صدمہ ہے وہ اللہ تعالیٰ دور فرمائے کیونکہ ہم اللہ کیلئے ہیں اور ہر معاملہ میں اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ کوئی بھی نقصان ہو۔ جان کا نقصان ہو یا ما ل کا نقصان ہو یا کسی بھی قسم کا نقصان ہو۔ کسی کے مرنے پہ ضروری نہیں ہے۔ کسی کو کوئی مالی نقصان بھی ہو۔ تمہارے پیسے ضائع ہو جائیں تب بھی تم اِنَّا لِلّٰہِ پڑھتے ہو۔ اس لئے کہ ہم نے ہر معاملہ میں اللہ کی طرف ہی جانا ہے۔ کسی پر انحصار نہیں کرنا۔ تو اس لئے اِنَّا لِلّٰہِ پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ جس کو تم جانتے ہو اور وہ تمہارا قریبی ہے اور اس سے تمہیں فائدہ بھی پہنچتا ہے اس کے فوت ہونے سے تم اگر اِنَّا لِلّٰہِ پڑھ لو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ ویسے بھی ہر ایک کیلئے اللہ تعالیٰ سے رحم مانگ لینا چاہئے، سوائے اس کے کہ وہ مشرک ہو۔ مشرک یعنی شرک کرنے والا جو اللہ تعالیٰ کے مقابلہ پر شرک کرتا ہے اس کیلئے دعا نہیں کرنی۔ باقی جو مذہب کو مانتے ہیں ان کیلئے اللہ تعالیٰ سے رحم کی دعا بھی کی جاسکتی ہے۔ اس میں کوئی حرج نہیں۔

سوال:۔ اسی Virtual ملاقات مؤرخہ 29 نومبر 2020ء میں ایک اور طفل نے حضورانور کی خدمت اقدس میں عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ جب ہماری تقدیر لکھ دیتا ہے تو پھر ہم دعا کیوں کرتے ہیں، ہمیں دعا کی کیا ضرورت ہوتی ہے؟ اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:۔

جواب:۔ بعض تقدیریں ایسی ہیں جو ٹل نہیں سکتیں اور بعض تقدیریں ایسی ہیں جو ٹل جاتی ہیں۔ اس لئے ہم دعا کرتے ہیں۔ مثلاً موت ہے۔ ہر ایک نے مرنا ہے، یہ تو ثابت شدہ ہے۔ کوئی انسان ہمیشہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے۔ لیکن ایک شخص بیمار ہوتا ہے۔اورایسی حالت میں وہ پہنچ جاتا ہے جہاں ڈاکٹر جواب دیدیتے ہیں کہ مرنے کے قریب پہنچ گیا۔ لیکن ہم دعا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ دعا قبول کر لیتاہے اور اس کو اس موت کے منہ سے واپس لے آتا ہے، زندہ کر دیتا ہے۔ تو یہ اللہ تعالیٰ کی ایسی تقدیر ہے جو دعا سے ٹل گئی۔ Ultimately اس نے ایک لمبی عمر ستر سال، اسی سال، نوے سال پا کے مرنا ہی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے:۔

گر سو برس رہا ہے
آخر کو پھر جدا ہے

سو سال بھی کوئی زندہ رہے گا آخر کو مرنا ہی ہے۔ لیکن ایک ایسی عمر ہے مثلاً جوانی میں اگر کسی کی اس وقت ایسی مرنے کی حالت ہو جاتی ہے اور ہم دعا کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کو ٹال دیتا اور اس کو عمر لمبی دیدیتا ہے۔ اور کئی ایسے واقعات ہوتے ہیں۔ لوگ مجھے بھی دعا کیلئے لکھتے ہیں۔ میں ان کو جواب دیتا ہوں۔ اور اللہ کے فضل سے وہ دعا قبول بھی ہو جاتی ہے۔ لوگ بھی اپنی دعا کے واقعات لکھتے ہیں۔ انہوں نے بھی دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے دعا سے وہ نقصان جو ان کو ہونا تھا اس سے وہ ٹال دیا۔ تو اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے ہی یہ کام ہو رہا ہے۔ لیکن اگر ہم دعا نہیں کریں گے، کوشش نہیں کریں گے تو پھرجو اس تقدیر کا نتیجہ نکلنا ہے وہ نکلے گا۔اس لئےہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی جو تقدیریں ٹلنے والی ہیں وہ ٹل جائیں اور ان کے بہتر نتائج پیدا ہوجائیں۔ اللہ تعالیٰ نے دو چیزیں رکھی ہیں۔ ایک فائدہ والی، ایک نقصان والی۔ اب اگر ہم اللہ تعالیٰ کی بات مان لیتے ہیں تو ہمیں فائدہ والی تقدیر فائدہ دیدے گی۔ تو کوشش بھی کرتے ہیں اور دعا بھی کرتے ہیں۔ اور اگراللہ تعالیٰ کی بات نہیں مانتے۔ اور اس کے بارہ میں صحیح کام بھی نہیں کرتے اور دعا بھی نہیں کرتے تو اس تقدیر کا جو منفی پہلو ہے وہ ظاہر ہو جائے گا۔ تو دو تقدیریں ہوتی ہیں ایک ٹلنے والی تقدیر اور ایک نہ ٹلنے والی تقدیر۔ نہ ٹلنے والی تقدیر اللہ تعالیٰ کے فیصلے ہیں کہ یہ ہونا ہی ہونا ہے۔ اس کیلئے اللہ تعالیٰ دعا نہیں سنتا اوروہ تقدیر نہیں ٹلتی۔اور جو ٹلنے والی تقدیر ہے اس کے بارہ میں اللہ تعالیٰ دعاؤں سے، انسان کی کوشش سے اس کو ٹال دیتا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ تم دعا کرو تو تمہارا میرے سے تعلق بھی پیدا ہوگا، تمہارا مجھ پہ ایمان بھی زیادہ ہو گا اور پھر اس کے نتیجہ میں تم مزید ایمان میں اور روحانیت میں بڑھو گے اور اس سے پھر تمہیں فائدہ ہوگا۔ٹھیک ہے؟

(مرتبہ:۔ ظہیر احمد خان۔انچارج شعبہ ریکارڈ دفتر پی ایس لندن)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 9 جون 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ