• 6 اگست, 2021

امام الزمان، حکم و عدل مَیں ہوں

ایسے وقت میں مَیں ظاہر ہوا ہوں کہ جب کہ اسلامی عقیدے اختلافات سے بھر گئے تھے اور کوئی عقیدہ اختلاف سے خالی نہ تھا۔ ایسا ہی مسیح ؑکے نزول کے بارے میں نہایت غلط خیال پھیل گئے تھے اور اس عقیدے میں بھی اختلاف کا یہ حال تھا کہ کوئی حضرت عیسیٰ کی حیات کا قائل تھا اور کوئی موت کا۔ اور کوئی جسمانی نزول مانتا تھا اور کوئی بروزی نزول کا معتقد تھا۔ اور کوئی دمشق میں ان کو اتاررہا تھا اور کوئی مکہ میں اور کوئی بیت المقدس میں اور کوئی اسلامی لشکر میں اور کوئی خیال کرتا تھا کہ ہندوستان میں اتریں گے۔ پس یہ تمام مختلف رائیں اور مختلف قول ایک فیصلہ کرنے والے حَکَمْ کو چاہتے تھے۔ سو وہ حَکَمْ میں ہوں۔ میں روحانی طورپر کسر صلیب کے لئے اور نیز اختلافات کے دور کرنے کیلئے بھیجا گیا ہوں۔ ان ہی دونوں امروں نے تقاضا کیا کہ میں بھیجا جاؤں۔ میرے لئے ضروری نہیں تھا کہ میں اپنی حقیّت کی کوئی اور دلیل پیش کروں کیونکہ ضرورت خود دلیل ہے لیکن پھر بھی میری تائید میں خدا تعالیٰ نے کئی نشان ظاہر کئے ہیں۔ اور میں جیسا کہ اور اختلافات میں فیصلہ کرنے کے لئے حَکَمْ ہوں ایسا ہی وفات حیات کے جھگڑے میں بھی حَکَمْ ہوں۔ اور میں امام مالک ؒ اور ابن حزم ؒ اور معتزلہ کے قول کو مسیح کی وفات کے بارے میں صحیح قرار دیتا ہوں اور دوسرے اہلسنت کو غلطی کا مرتکب سمجھتا ہوں۔ سو میں بحیثیت حَکَمْ ہونے کے ان جھگڑا کرنیوالوں میں یہ حکم صادر کرتا ہوں کہ نزول کے اجمالی معنوں میں یہ گروہ اہلسنت کا سچا ہے کیونکہ مسیح کا بروزی طور پر نزول ہونا ضروری تھا ہاں نزول کی کیفیت بیان کرنے میں ان لوگوں نے غلطی کھائی ہے۔ نزول صفت بروزی تھا نہ کہ حقیقی۔ اور مسیح کی وفات کے مسئلہ میں معتزلہ اور امام مالک اور ابن حزم وغیرہ ہمکلام ان کے سچے ہیں کیونکہ بموجب نص صریح آیت کریمہ یعنی آیت فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡ کے مسیح کا عیسائیوں کے بگڑنے سے پہلے وفات پانا ضروری تھا۔ یہ میری طرف سے بطور حَکَمْ کے فیصلہ ہے۔ اب جو شخص میرے فیصلہ کو قبول نہیں کرتا وہ اس کو قبول نہیں کرتا جس نے مجھے حَکَمْ مقرر فرمایاہے۔

(ضرورۃ الامام، روحانی خزائن جلد13صفحہ 495تا 496)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 9 جولائی 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 جولائی 2021