• 23 ستمبر, 2021

درخت پر طوطا اور گاؤں کے بچے

’’چڑیا‘‘ والی نظم تو کھڑے کھڑے شاید پانچ منٹ میں آپ نے کہی تھی اور متین کو یاد کروا کے سنی بھی۔کچھ عرصے کے بعد ایک دن آئے تو ایک کاغذ پر اپنے ہاتھ سے ’’طوطے‘‘ پر ایک نظم لکھی ہوئی تھی۔ کہنے لگے لو میں تمہارے لیے نظم لکھ کر لایا ہوں یاد کر لو۔ متین کو طوطا پالنے کا بچپن میں بہت شوق تھا۔ یہ نظم بھی درج ذیل کرتی ہوں۔ یہ حضور کے اپنے ہاتھ سے لکھی ہوئی میرے پاس محفوظ ہے۔

پیارے طوطے بھولے بھالے
ہم ہیں تیرے چاہنے والے
تیرا سبز لباس غضب ہے
کیا ہی پھبن ہے، کیسی چھب ہے
اوپر لال سی جاکٹ ہے
سج کر بیٹھا ہے بن گہنے
جب بیٹھا ہو پیڑ کے اوپر
کھیل رہے ہو پر پھیلا کر
اس کی سبزی تجھ کو چھپائے
رنگ ترا اس سے مل جائے
کیوں بیٹھا ہے پیڑ پہ جا کر
بیٹھ ہمارے پاس تو آکر
تجھ کو ہم چوری ڈالیں گے
پیارو محبت سے پالیں گے
بیر اور گنے لائیں گے ہم
تجھ کو خوب کھلائیں گے ہم
پنجرہ اک اچھا سا بنا کر
رکھیں گے تجھے اس میں چھپا کر
میٹھے بول سکھائیں گے ہم
تجھ کو خوب پڑھائیں گے ہم
بیٹھ کے تیری باتیں سنیں گے
تجھ سے کوئی کام نہ لیں گے
اچھے طوطے گر نہیں آتا
اپنا نام تو ہم کو بتا جا
طوطا بولا نام ہمارا
میٹھو ہے، کیوں ہے ناں پیارا؟
یہ کہتے ہی پر پھیلا کر
تول کے دم اور چونچ دبا کر
اڑگیا طوطا شور مچا کر
چھپ گیا وہ بادل میں جاکر

(سوانح فضل عمر جلد پنجم صفحہ393)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 9 اگست 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 اگست 2021