• 20 ستمبر, 2020

ہستی باری تعالیٰ

تبرکات

(حضرت میر محمد اسحاق صاحبؓ)

(قسط نمبر 2)

پچھلے نمبر میں میں نے اپنے لیکچر کے پہلے حصہ کے نوٹ لکھے تھے اور وہ ذرائع بتائے تھے جس سے ہم کسی بات کو ثابت کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد میں وہ اعتراض لکھتا ہوں جو ہستی باری تعالیٰ کے عقیدہ پر عام طور پر دہریوں کی طرف سے کئے جاتے ہیں اور ساتھ ہی ان کے جوابات بھی ہدیہ ناظرین کرتا ہوں۔

اعتراض اوّل

چونکہ خدا نظر نہیں آتا اس لئے معلوم ہوا کہ اس کا وجود وہم ہی وہم ہے۔ ورنہ اگر واقعہ میں کوئی وجود ہوتا تو ہمیں نظر آتا۔

جواب نمبر 1۔ دنیا میں بہت سی ایسی چیزیں ہیں جو نظر نہیں آتیں اور پھر بھی وہ موجود ہیں۔ جیسے ہوا، روح اور زمانہ اور دہریہ بھی ان چیزوں کے وجود کے مقر (معترف) ہیں۔

جواب دوم۔ اگر خدا لوگوں کو نظر بھی آیا کرتا تب بھی اس کو ہر شخص تسلیم نہ کرتا۔ مثلاً جو لوگ آنکھوں سے بے بہرہ ہیں اور اندھے ہیں وہ کس طرح خدا کو مانتے؟ ہم دہریوں سے پوچھتے ہیں کہ اگر تمہارے مقرر کردہ معیار کے مطابق خدا ان ظاہری آنکھوں سے لوگوں کو نظر آیا کرتا۔ تو جو اندھے ہیں وہ نہ دیکھ سکتے اور اس پر وہ تم سے سوال کرتے کہ چونکہ ہمیں خدا نظر نہیں آتا اس لئے اسے نہیں مانتے تو بتاؤ تم ان اندھوں کو کیا جواب دیتے۔ یقینا تم انہیں یہی کہتے کہ گو خدا تمہیں نظر نہیں آتا لیکن وہ ضرور موجود ہے کیونکہ ہم خدا کے افعال اور ان کے نتائج سے اس کا وجود ثابت کرتے ہیں۔ پس یہی جواب ہم دہریوں کو دیتے ہیں کہ تمہیں وہ نظر نہیں آتا لیکن تب بھی وہ موجود ہے اس کے افعال اور ان کے نتائج سے اس کا وجود ثابت ہوتا ہے غرض کہ اگر دہریوں کے اصول کے مطابق خدا ان ظاہری آنکھوں سے نظر بھی آیا کرتا تب بھی سب مخلوق اسے تسلیم کرتی کیونکہ اندھے نابینا اور موتیا بند والے اور طرح طرح کے امراض چشم میں گرفتار اسے دیکھ نہ سکتے؟ اس لئے معلوم ہوا کہ آنکھوں سے نظر آنا ایک ایسا امر نہیں جس سے ساری دنیا کی تشفی ہو سکتی؟

جواب سوم۔ اگر وہ ان آنکھوں سے نظر آ جاوے اور سب لوگ اس جاہ و جلال والی ہستی کا مشاہدہ کر لیں تو پھر دین کا کارخانہ ہی باطل ہو جاوے اور ایمان بالغیب پر جو ثواب مقرر ہیں وہ ضائع ہو جاویں۔

ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ ان آنکھوں سے وہی چیز نظر آتی ہے جو کسی خاص سمت پر واقع ہو اور محدود ہو۔ خدا تعالیٰ کی ہستی تو سمتوں سے پاک ہے کیونکہ سمتیں اور جگہیں تو اس کی مخلوق ہیں اور یہ کس طرح ہو سکتا ہے مخلوق اپنے خالق کا احاطہ کر لے۔ سو چونکہ خدا سمتوں کا یہی خالق ہے۔ اس لئے وہ سمتوں سے بھی پاک ہے اور جب وہ سمتوں سے پاک ہوا تو آنکھ اسے دیکھ نہیں سکتی۔ کیونکہ آنکھ تو اسے ہی دیکھ سکتی ہے جو کسی خاص سمت میں ہو۔ علاوہ ازیں جب اس کو آنکھ نے دیکھا اور اس کا احاطہ کیا تو وہ محدود ثابت ہوا اور محدود ہونا ایک نقص ہے اور خدا نقصوں سے پاک ہے اس لئے بھی ناممکن ہے کہ وہ ان آنکھوں سے نظر آوے۔ سچ ہے لَا تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ ز وَھُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَ (الانعام:104)

اعتراض دوم

اگر خدا کا کوئی وجود ہے اور واقعہ میں ایک ایسی ہستی ہے جو ہماری خالق اور رازق ہے اور اسی نے نبیوں کو الہام سے اپنے قوانین اور شریعتوں سے اطلاع دی تو چاہئے تھا کہ مذاہب میں اختلاف نہ ہوتا۔ بلکہ سب مذہب آپس میں متفق ہوتے کیونکہ ان کا اُتارنے والا ایک مانا جاتا ہے۔ لیکن چونکہ مذاہب میں بجائے اتفاق کے اختلاف ہے اس لئے معلوم ہوا کہ الہام وغیرہ وہم ہے۔ اور خدا کا واقعہ میں کوئی وجود نہیں۔

جواب اول۔ مذاہب میں اختلاف ہونے کی وجہ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ان کا بھیجنے والا کوئی نہیں کیونکہ مذہب اور شریعت لوگوں کے لئے بطور نسخے کے ہوتے ہیں۔ جس طرح ایک ہی طبیب مختلف بیماروں کی حالت کے مطابق مختلف نسخے تجویز کرتا ہے اسی طرح خداتعالیٰ تو ایک ہی ہے لیکن چونکہ لوگوں کی حالتیں مختلف ہیں اس لئے ان کے لئے نسخے بھی مختلف تجویز کئے گئے۔ مثلاً بنی اسرائیل ایک وقت فرعون اور اس کی قوم کی حکومت کے ماتحت ان کے ظلموں کی وجہ سے ایسے بے غیرت ہو گئے تھے کہ ان میں غیرت اور خودداری اور عزت کا نام بھی باقی نہیں رہاتھا اور کسی سے ظلم کا بدلہ لینے کی ان میں ہمت نہ تھی۔ اس وقت خدا نے ایک نسخہ بھیجا اس میں درج تھا کہ تم ہر شرارت کا انتقام لو۔ کان کے بدلے کان، ناک کے بدلے ناک، آنکھ کے بدلے آنکھ غرض اس طرح پُرزور تحریکوں سے ان میں جوش انتقام پیدا کیا۔ پھر جب 14 سو برس کا لمبا عرصہ گزر گیا اور حضرت عیسٰیؑ کا وقت آیا اس وقت یہودی نہایت انتقام گیر اور کینہ توز ہو گئے تھے اس لئے ان کے لئے جو نسخہ آیا اس میں درج تھا کہ اگر کوئی شخص تیرے داہنے گال پر تھپڑ مارے تو بایاں گال بھی اس کے آگے کر دے۔ اس کے بعد جب ایسے وسائل پیدا ہونے لگے اور وہ زمانہ آ گیا کہ دنیا کے لوگ دوردراز ملکوں سے آ کر آپس میں ملنے لگے تب ایک مکمل نسخہ آیا جس کی موجودگی میں کسی اور نسخہ کی ضرورت نہ رہی۔ اس میں نسخہ لکھنے والے حکیم مطلق نے کہا کہ انتقام کے موقع پر انتقام لو اور جہاں عفو کا موقع ہو وہاں عفو سے کام لو۔ غرض مذاہب میں اختلاف سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ وہ ایک سرچشمہ سے نہیں نکلے بلکہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ لوگوں کی طبیعتوں اور حالتوں میں اختلاف ہے۔ تبھی طبیب نے مختلف مریضوں کے لئے مختلف نسخے تجویز کئے۔ ایک طبیب کے پاس ایک ایسا شخص آئے جسے قبض کی شکایت ہو گی تو وہ طبیب نسخہ میں وہ دوائیاں تجویز کرے گا کہ جو قبض کشا ہوں۔ اس کے بعد جب اسہال کا مریض آوے گا تب وہی طبیب نسخہ میں ایسی دوائیاں تجویز کرے گا جو قبض پیدا کرنے والی ہوں گی۔ کیا ان دو مختلف نسخوں کو دیکھ کر کوئی دہریہ یہ کہے گا کہ ان کا لکھنے والا ایک نہیں ہو سکتا۔ ہرگز نہیں بلکہ وہ کہے گا کہ لکھنے والا تو ایک ہی ہے لیکن مریض دو ہیں۔ اس طرح ہم بھی کہتے ہیں بھیجنے والا ایک ہی ہے لیکن نسخوں میں اختلاف اس لئے ہے کہ قوموں کی حالتیں مختلف ہیں۔ اگر غور سے دیکھا جاوے اور چھان بین کی جاوے تو دنیا میں جس قدر مذاہب ہیں اصل میں وہ سب آپس میں متفق ہیں اور سب ایک اصول پر مجتمع ہیں اور جو اختلاف ہم کو نظر آتا ہے وہ بعد میں آنے والوں کی ملاوٹ اور تحریف کا نتیجہ ہے۔ حضرت موسٰیؑ بھی توحید لے کر آئے اور حضرت عیسٰیؑ بھی خدا منوانے کے لئے دنیا میں تشریف لائے۔یہ صرف پولوس کی مہربانی تھی کہ تثلیث اور کفارہ اور الوہیت کا عقیدہ گھڑا۔ ورنہ نص انجیل سے یہ باتیں ثابت نہیں ہوتیں۔ ان کے بعد اسلام آیا۔ وہ دونوں مذہبوں کا مصداق بن کر آیا۔ غرض تمام مذہب آپس میں متفق ہیں اور اصول کے لحاظ سے بالکل ایک ہیں ہاں اگر فروع میں کہیں کہیں کوئی فرق نظر آتا ہے تو وہ قوموں کی حالتوں کی تبدیلی کی وجہ سے ہے۔

اعتراض سوم

اگر کوئی خدا ہوتا تو دنیا میں یہ تفرقہ نہ ہوتا کہ کوئی غریب ہے اور کوئی امیر۔ کوئی مریض ہے اور کوئی تندرست۔ کوئی کمزور اور کوئی طاقتور؟

جواب اول۔ یہ اعتراض تو ایسا ہے جیسا کہ کوئی شخص کہے ہندوستان کا کوئی حاکم نہیں کیونکہ یہاں تفرقہ ہے۔ کوئی ڈپٹی کمشنر ہے۔ کوئی لیفٹیننٹ گورنر اور کوئی گورنر۔ کیا یہ استدلال کسی صحیح العقل انسان کی طرف سے ہو سکتا ہے۔ ہرگز نہیں۔

جواب دوم۔ اصل میں تفرقہ کے بانی چند آدمی ہی ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سورج چاند، ہوا، پانی وغیرہ تمام چیزیں جن پر زندگی کا مدار ہے سب کو یکساں طور پر دی ہیں اور پھر ترقی کرنے کے اصول اور قوانین مقرر کر دیئے ہیں۔ ایک شخص ان قانونوں پر عمل کرتا ہے وہ ترقی کر جاتا ہے دوسرا شخص غفلت سے کام لیتا ہے وہ ان قواعد پر عمل پیرا نہیں ہوتا اور اس طور پر ترقی سے محروم رہ جاتا ہے۔ اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسا کہ گورنمنٹ نے سکول اور کالج کھولے ہوئے ہیں اور عام اجازت دی ہوئی ہے کہ جو شخص چاہے وہ ان میں داخل ہو جائے۔ اب ایک شخص اپنے بیٹے کو مدرسہ میں داخل کراتا ہے اور تعلیم وغیرہ کی نگرانی کرتا ہے۔ اس بات کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس کا لڑکا ایک مدت مقررہ کے بعد ایم۔ اے ہو جاتا ہے۔ لیکن ایک دوسرا شخص باوجود گورنمنٹ کے اعلان کے سستی کرتا ہے اور اپنے لڑکے کو سکول میں داخل نہیں کراتا اور آوارہ پھرنے دیتا ہے۔ اس کا یہ نتیجہ ہو گا کہ اس کے پڑھنے کی عمر گزر جائے گی اور وہ ایم۔ اے نہ ہو سکے گا۔ اب ان دونوں شخصوں کی حالتوں میں تفرقہ ہے لیکن اس تفرقہ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ گورنمنٹ کا کوئی قصور ہے۔ بلکہ سراسر قصور اس دوسرے غفلت کرنے والے شخص کا ہے۔ اسی طرح اگر دنیا میں لوگوں کی حالتوں میں تفرقہ ہے تو اس کے یہ معنے نہیں کہ کوئی ایک خالق نہیں یا یہ کہ وہ بخیل اور ظالم ہے بلکہ اس تفرقہ کے ذمہ وار سراسر انسان ہیں۔

تیسرا جواب۔دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک افسر کے ماتحت مختلف ملازم ہوتے ہیں۔ پھر کچھ ان میں سے اعلیٰ، کچھ ادنیٰ، پھر کوئی کسی کام پر اور کوئی کسی کام پر۔ اگر ایک باورچی خانہ کا داروغہ ہے تو دوسرا باغ کا مالی۔ اسی طرح اس کے اصطبل میں مختلف جانور ہوں گے۔ ایک دس ہزار کا گھوڑا تو ایک دس بیس روپیہ کا گھاس لادنے والا گدھا۔ لیکن باوجود ان مختلف حیثیتوں کے اور باوجود ایسے بیّن تفرقہ کے پھر ان کا مالک ایک ہی ہے۔ اسی طرح اگر مخلوقات میں تفرقہ ہو تو خالق اور مالک کے ایک ہونے میں کوئی کلام نہیں ہو سکتا۔ پھر دیکھو ایک ہی درخت ہے اس میں مختلف چیزیں ہیں۔ پتے ہیں، پھول ہیں، پھل ہیں، شاخیں ہیں، ڈالیاں ہیں، لکڑی ہے، لیکن باوجود ان تفرقوں کے وہ درخت ایک ہی ہے۔

اعتراض چہارم

جو لوگ خدا کے وجود کا اقرار کرتے ہیں وہ بھی گناہ کرتے ہیں اور بہت سے ایسے لوگ جو خدا کے وجود کے منکر ہیں وہ نسبتاً بہت سے ایسے لوگوں کے جو خدا کی ہستی کے قائل ہیں زیادہ نیک ہیں۔ اگر خدا ہے تو اس کے قائل کیوں گناہ سے نہیں بچتے۔

جواب اوّل۔ اگر نافرمانی سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ خدا نہیں ہے تو یہ تو ایسی بات ہوئی جیسے کوئی شخص کہے کہ چونکہ ہندوستان میں بہت سے لوگ چوری کرتے اور ڈاکے مارتے ہیں اس لئے معلوم ہوا کہ ہندوستان میں کوئی حاکم نہیں ہے یا یہ کہ چوری کرنے والے لوگوں کے نزدیک ہند میں کوئی حاکم نہیں حالانکہ یہ بات بالبداہت غلط ہے۔ دنیا میں چوری کرنے والے چوری کرتے ہیں اور وہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ فلاں شخص ہمارا حاکم ہے اور فلاں شخص اس ملک کا بادشاہ ہے لیکن پھر حرص طمع کی وجہ سے وہ چوری کرتے ہیں اسی طرح بہت سے لوگ گناہ کرتے ہیں تو اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ خدا کی ہستی نہیں۔

جواب دوم۔ یہ کہنا کہ خدا پر ایمان لا کر لوگ گناہ کرتے ہیں یہ بالکل غلط ہے۔ منہ سے کہنا کہ ہم خدا کو مانتے ہیں یہ اور بات ہے۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ واقعہ میں ان کے دل میں بھی ایمان ہے اس لئے اگر ایسا شخص جو منہ سے کہتا ہے کہ میں خدا کو مانتا ہوں اور پھر وہ صریحاً نافرمانی کرتا ہے تو واقعہ میں اس کے دل میں حقیقی اور کامل ایمان نہیں بلکہ اس کے ایمان میں ضعف ہے۔

جواب سوم۔ یہ کہنا کہ بہت سے دہریہ نیک ہیں حالانکہ وہ خدا کو نہیں مانتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ خدا کوئی نہیں ایک بالکل غلط استدلال ہے کیونکہ جس طرح ہم یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ خداتعالیٰ اپنے بندوں کی ہدایت کیلئے الہام نازل کرتا ہے اسی طرح ہمارا مذہب ہے کہ اس نے بندوں کی فطرت میں ایک حد تک نیکی کا وجود رکھا ہے۔ سو جو دہریئے نیک ہیں وہ بھی خدا کے فضل سے۔ کیونکہ نیکی کا تخم ان کی فطرت میں اس نے اپنے ہاتھ سے بویا۔

جواب چہارم۔ یہ کہنا کہ دہریئے بھی نیک ہوتے ہیں ایک غلط بات ہے۔ کیونکہ نیکی کہتے ہیں بادشاہ ملک اور حاکم وقت کے قوانین پر چلنے کو۔ تو جو شخص سرے سے مقنن اور بادشاہ کا ہی منکر اور اس سے باغی ہو وہ کس طرح نیک کہلا سکتا ہے اور اسے کس طرح قوانین پر چلنے والا کہیں گے۔

کیا ایک ہندوستانی جو وائسرائے اور جارج پنجم کو تسلیم نہ کرے اور ان سے باغی ہو۔ اس کے متعلق ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ قوانین مروّجہ اور قواعد سلطنت کا بڑا فرمانبردار ہے۔ ہرگز نہیں۔ اسی طرح جو شخص خالق رازق ہی سے باغی ہو وہ بظاہر ہزار نیک کام کرے کبھی نیک کہلانے کا مستحق نہیں۔

اعتراض پنجم

اگر خدا ہے تو کہاں ہے؟ اور کب سے ہے؟

جواب اوّل۔ یہ سوال ہی مہمل ہے۔ کیونکہ کب زمانہ کا نام ہے اور کہاں مکان کا اور زمانہ اور مکان تو خود دونوں مخلوق چیزیں ہیں وہ خدا پر حاوی کس طرح ہو سکتی ہیں۔ تو جبکہ مکان اور زمانہ خود حادث ہیں تو ان میں قدیم کا محدود ہونا محال ہے۔

جواب دوم۔ اسی طرح ہم دہریوں سے پوچھتے ہیں کہ دنیا کب سے ہے اگر وہ کہیں کہ قدیم سے تو ہم کہیں گے کہ خدا بھی قدیم سے۔ اگر وہ کہیں گے کہ دنیا فلاں زمانہ سے ہے تو ہم کہیں گے کہ بس تم نے اقرار کر لیا کہ دنیا قدیم سے نہیں بلکہ حادث ہے تو بتاؤ اس حادث کا محدث کون ہے؟

(الفضل قادیان 31جنوری 1915)

٭…٭…٭

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 9 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 ستمبر 2020