• 1 اکتوبر, 2020

تدبیر اور توکل

تدبیر اور توکل پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ذکر کرتے ہوئے فر مایا کہ :
فِي السَّمَاءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ (الذاريات :23) سے ایک نادان دھوکا کھاتا ہے اور تدابیر کے سلسلہ کو باطل کرتا ہے حالانکہ سورۃ جمعہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ (الجمعة 11) کہ تم زمین میں منتشر ہو جاؤ اور خدا کے فضل کی تلاش کرو۔ یہ ایک بہت ہی نازک معاملہ ہے کہ ایک طرف تدابیر کی رعایت ہو اور دوسری طرف توکل بھی پورا ہو۔اور اس کے اندر شیطان کو وساوس کا بڑا موقعہ ملتا ہے(بعض لوگ ٹھوکر کھا کر اسباب پرست ہوجاتے ہیں اور بعض خداتعالیٰ کے عطا کردہ قویٰ کو بیکار محض خیال کرنے لگ جاتے ہیں) آنحضرت ﷺ جب جنگ کو جاتے تو تیاری کرتے۔ گھوڑے، ہتھیار بھی ساتھ لیتے بلکہ آپ بعض اوقات دو دو زرہ پہن کر جاتے۔تلوار بھی کمر سے لٹکاتے حالانکہ ادھر خدا تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تھا: وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ (المائدة 68) بلکہ ایک دفعہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تجویز فر مایا کہ اگر شکست ہو تو آپ کو جلد مدینہ پہنچا دیا جا وے اصل بات یہ ہے کہ قوی الا یمان کی نظر استغناء ِالہٰی پرہوتی ہے اور اسے خوف ہوتاہے کہ خدا کے وعدوں میں کو ئی ایسی منفی شرط نہ ہو جس کا اسے علم نہ ہو جو لوگ تد ابیرکے سلسلہ کو بالکل باطل ٹھہراتے ہیں ان میں ایک زہر یلا مادہ ہو تا ہے۔ ان کا خیال یہ ہو تا ہے کہ اگر بلا آوے تو دیدہ دانستہ اس کے آگے جاپڑیں اور جس قدر پیشہ والے اور اہل حرفت ہیں وہ سب کچھ چھوڑچھاڑ کر ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاویں۔

(ملفوظات جلد سوم صفحہ 604، 605)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 9 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 ستمبر 2020