• 29 ستمبر, 2020

توکّل کی اعلیٰ ترین مثالیں تو حضرت اقدس محمد مصطفیﷺ نے ہی رقم فرمائی ہیں

توکّل کی اعلیٰ ترین مثالیں تو حضرت اقدس محمد مصطفیﷺ نے ہی رقم فرمائی ہیں اور کیوں نہ ہو،آپ ہی تو انسان کامل تھے۔ اور ساتھ ہی امت کو بھی سبق دے دیا کہ میری پیروی کرو گے، خداسے دل لگاؤ گے، اس کی ذات پر ایمان اور یقین پیدا کرو گے تو تمہیں بھی ضائع نہیں کرے گا۔ اور اپنے پر توکّل کرنے کے نتیجہ میں وہ تمہیں بھی اپنے حصار عافیت میں لے لے گا۔

آنحضرتﷺ کے توکل کے بارہ میں بعض احادیث میں یہاں بیان کرتاہوں۔ یہ بچپن سے ہم سنتے آرہے ہیں لیکن جب بھی پڑھیں ایمان میں ایک نئی تازگی پیدا ہوتی ہے اور ایمان مزید بڑھتاہے۔

وہ واقعہ یاد کریں جب سفر طائف سے واپسی پر رسول اللہؐ نے کچھ روز نخلہ میں قیام فرمایا۔ زید بن حارثہؓ نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ !اب آپ مکہ میں کیسے داخل ہوں گے جبکہ وہ آپ کو نکال چکے ہیں ۔ رسول اللہﷺ نے کس شان سے، توکل سے جواب دیا کہ اے زید تم دیکھوگے کہ اللہ ضرور کوئی راہ نکال دے گا اور اللہ اپنے دین کا مدد گارہے۔وہ اپنے نبی کو غالب کرکے رہے گا۔ چنانچہ نبی کریمؐ نے سرداران قریش کو پیغام بھجوائے کہ آپ کواپنی پناہ میں لے کر مکہ میں داخل کرنے کا انتظام کریں ۔ کئی سرداروں نے انکار کردیا بالآخر مکہ کے ایک شریف سردار مطعم بن عدی نے آپ کو اپنی پناہ میں مکہ میں داخل کرنے کا اعلان کیا۔ پھر آخر کار جب مظالم حد سے زیادہ بڑھ گئے اورمکہ سے ہجرت کا وقت آیا تو کمال وقار سے آپؐ نے وہاں سے ہجرت فرمائی۔ غار میں پناہ کے وقت دشمن جب سر پر آ ن پہنچاتو پھربھی کس شان سے اللہ تعالیٰ پرتوکل کرتے ہوئے اس کے وعدوں پر یقین کرتے ہوئے آ پ نے فرمایا۔حضرت ابوبکرؓ اس بارہ میں روایت کرتے ہیں کہ مَیں رسول کریمﷺ کے ساتھ غار میں تھا۔مَیں نے اپنا سراٹھا کر نظر کی توتعاقب کرنے والوں کے پاؤں دیکھے۔اس پر مَیں نے رسول کریمﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ اگر کوئی نظر نیچے کرے گا تو ہمیں دیکھ لے گا۔ آپؐ نے فرمایا : چپ اے ابوبکر!ہم دو ہیں اور ہمارے ساتھ تیسرا خداہے۔ تو یہ ہے وہ توکل کا اعلیٰ معیار جو صر ف اور صرف رسو ل کریمﷺ کی زندگی میں ہمیں نظر آتے ہیں ۔ اور پھر آپ دیکھیں جب غار سے نکل کر سفر شروع کیا توکیا شان استغنا تھی اورکس قدر اللہ تعالیٰ کی ذات پر توکل تھا۔

حضرت ابوبکرؓ کی روایت ہے کہ سفر ہجرت کے دور ان جب سراقہ گھوڑے پر سوار تعاقب کرتے ہوئے ہمارے قریب پہنچ گیا تو مَیں نے عرض کیا یارسول اللہ! اب تو پکڑنے والے بالکل سر پر آ پہنچے اور مَیں اپنے لئے نہیں بلکہ آپ کی خاطر فکر مند ہوں۔ آپؐ نے فرمایا لَاتَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا۔ کہ غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔چنانچہ اسی وقت آپ کی دعاسے سراقہ کا گھوڑا زمین میں دھنس گیا اور وہ آپ کی خدمت میں امان کا طالب ہوا۔ اس وقت آپؐ نے سراقہ کے حق میں یہ عظیم الشان پیشگوئی فرمائی کہ سراقہ اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب کسریٰ کے کنگن تمہارے ہاتھوں میں پہنائے جائیں گے۔ اور یہ پیشگوئی بھی بڑی شان سے بعد میں پوری ہوئی۔

پھر وہ شان بھی دیکھیں جب آپ دشمن سے صرف ایک فٹ کے فاصلہ پر تھے اور نہتے تھے اور دشمن تلوار تانے کھڑا تھا لیکن کوئی خوف نہیں۔ کیسا ایمان، کیسا یقین اور کیسا توکل ہے خدا کی ذات پر۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ 15 اگست 2003)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 9 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 ستمبر 2020