• 20 ستمبر, 2020

اولاد کو دین سکھانے اور دین سے منسلک رکھنے کے لئے کوشش

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
اولاد کو دین سکھانے اور دین سے منسلک رکھنے کے لئے، ان کی دینی تربیت کی طرف کم از کم اتنی کوشش تو انسان کی ہو جتنی دنیاوی کوششیں ہوتی ہیں۔ دنیا کی طرف زیادہ کوشش ہوتی ہے اور دین کی طرف بہت کم کوشش۔ اسی وجہ سے پھر بعض لوگوں کو ابتلاء بھی آتے ہیں۔ مشکلات میں بھی پڑتے ہیں۔ پھر آپؑ فرماتے ہیں کہ لوگوں کو اولاد کی خواہش ہوتی ہے لیکن ہوتا یہ ہے کہ ’’بعض اوقات صاحب جائیداد لوگوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ کوئی اولاد ہو جاوے جو اس جائیداد کی وارث ہو‘‘۔ گویا کہ اولاد کی خواہش صرف جائیداد کے لئے ہے تا کہ جائیداد غیروں کے ہاتھ میں نہ چلی جاوے۔ آپ فرماتے ہیں ’’مگر وہ نہیں جانتے کہ جب مر گئے تو شرکاء کون اور اولاد کون؟ سبھی غیر بن جاتے ہیں۔‘‘ پھر فرمایا کہ ’’اولاد کے لئے اگر خواہش ہو تو اس غرض سے ہو کہ وہ خادمِ دین ہو۔‘‘

(ماخوذ از ملفوظات جلد8 صفحہ110۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پھر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہمیں یہ بھی دعا سکھائی کہ وَاَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْکَ وَاِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ (الاحقاف: 16) کہ میرے لئے میری ذریّت کی بھی اصلاح کر دے۔ یقیناً مَیں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور بلا شبہ مَیں فرمانبرداروں میں سے ہوں۔ یہاں اولاد کی اصلاح کرنے کی دعا کی ہے تو ساتھ اس بات کا بھی اقرار کیا ہے کہ میں تیری طرف رجوع کرنے والوں اور فرمانبرداروں میں سے بنوں یا ہوں۔ پس اولاد کے لئے جب دعا ہو تو اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل اور اللہ تعالیٰ کی کامل فرمانبرداری ضروری ہے تبھی دعا قبول ہوتی ہے۔ پس ماں کی بھی اور باپ کی بھی بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ بچوں کی اصلاح کے لئے، ان کی تربیت کے لئے مستقل اللہ تعالیٰ سے اپنی اولاد کی بہتری کے لئے دعا مانگتے رہیں اور اپنے نمونے اولاد کے لئے قائم کریں۔ اگر اپنے نمونے اس تعلیم کے خلاف ہیں جو اللہ تعالیٰ نے دی ہے، اگر اپنے نمونے اس نصیحت کے خلاف ہیں جو ماں باپ بچوں کو کرتے ہیں تو پھر اصلاح کی دعا میں نیک نیتی بھی نہیں ہوتی۔ اور جب اس طرح کا عمل نہ ہو تو پھر یہ شکوہ بھی غلط ہے کہ ہم نے اپنی اولاد کے لئے بہت دعا کی تھی لیکن پھر بھی وہ بگڑ گئی یا ہمیں ابتلاء میں ڈال دیا۔

پھر اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ایک بڑی جامع دعا بیان فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو شیطان کے حملوں سے بچنا چاہتے ہیں اور بچتے ہیں، جو رحمان خدا کے بندے بننا چاہتے ہیں ان کی جو بعض خصوصیات ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ یہ دعا کرتے ہیں کہ رَبَّنَا ھَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعْیُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا (الفرقان:75) کہ اے ہمارے رب ہمیں اپنے جیون ساتھیوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا کر اور ہمیں متقیوں کا امام بنا دے۔ یہ دعا اولاد کے لئے اور اپنے جیون ساتھیوں کے لئے مَردوں کو بھی کرنی چاہئے اور عورتوں کو بھی۔ جب عورت اور مردنیک اور صالح اولاد کی خواہش رکھتے ہوئے دعا کرتے ہیں تو پھر اولاد کی پیدائش کے بعد بھی ان کے کام ختم نہیں ہو جاتے بلکہ ماں بھی اور باپ بھی، بیوی بھی اور خاوند بھی اپنے اپنے دائرے میں نگران اور امام ہیں۔ اور یہ حق اسی وقت ادا ہو گا جب خود بھی تقویٰ پر چلنے والے ہوں گے اور بچوں کے لئے دعا کرنے والے ہوں گے اور اپنے اعمال کو بھی دیکھنے والے ہوں گے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس آیت کے حوالے سے بڑی تفصیل سے بیان فرمایا ہے۔ آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ: ’’نکاح سے ایک اور غرض بھی ہے جس کی طرف قرآن کریم میں یعنی سورۃ الفرقان میں اشارہ ہے اور وہ یہ ہے وَالَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا ھَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعْیُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا (الفرقان:75) یعنی مومن وہ ہیں جو یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے خدا! ہمیں اپنی بیویوں کے بارے میں اور فرزندوں کے بارے میں دل کی ٹھنڈک عطا کر اور ایسا کر کہ ہماری بیویاں اور ہمارے فرزندنیک بخت ہوں اور ہم ان کے پیش رَو ہوں۔‘‘

(آریہ دھرم، روحانی خزائن جلد10 صفحہ23) (خطبہ جمعہ 14؍ جولائی 2017ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 9 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 ستمبر 2020