• 20 ستمبر, 2020

سکون آدمی کا، خود کی جستجو ٹھہرا

کبھی تو وصل کبھی ہجر رو برو ٹھہرا
پر عشق دونوں زمانوں میں سرخرو ٹھہرا

محبتوں کا شجر ایسا با ثمر نکلا
بہار میں بھی خزاں میں بھی خوبرو ٹھہرا

نہ آبگینوں میں پایا نہ ناز نینوں میں
سکون آدمی کا، خود کی جستجو ٹھہرا

رہینِ لفظ نہیں ہے وہ شاعرِ کم گو
کہ جس کا مشغلہ جذبوں سے گفتگو ٹھہرا

ظفؔرنے جب بھی پڑھا اپنے دل کے نقشے کو
تو ذرّہ ذرّہ وہ عالم سا ہوبہو ٹھہرا

(مربی مقبول احمد ظفر مرحوم)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 9 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 ستمبر 2020