• 30 نومبر, 2020

حضرت شیخ احمد سرہندی مجددالف ثانیؒ

گیارہویں صدی کے مجدد
حضرت شیخ احمد سرہندی مجددالف ثانیؒ

نام و نسب

آپ کا نام احمد، کنیت ابوالبرکات، لقب بدرالدین اور عرف امام ربانی ہے۔ والد محترم کا نام عبد الاحد تھا۔ آپ کا نسب اٹھائیس واسطوں سے خلیفۂ راشد حضرت فاروق اعظم عمر بن خطابؓ سے جاملتا ہے۔ اسی نسبت سے آپ فاروقی بھی کہلائے۔ آپ کا نسب نامہ یہ ہے:
حضرت شیخ احمد بن مخدوم عبد الاحد بن زین العابدین بن عبد الحئی بن محمد بن حبیب اللہ بن امام رفیع الدین بن نصیر الدین بن سلیمان بن یوسف بن اسحاق بن عبد اللہ بن شعیب بن احمد بن یوسف بن شہاب الدین علی فرخ شاہ بن نور الدین بن نصیر الدین بن محمود بن سلیمان بن مسعود بن عبد اللہ الواعظ الاصغر بن عبد اللہ الواعظ الاکبر بن ابو الفتح بن اسحاق بن ابراہیم بن ناصر بن حضرت عبد اللہؓ بن حضرت عمر فاروقؓ۔

خاندانی پس منظر

حضرت امام ربانیؒ کا آبائی وطن مدینہ منورہ تھا پھر وہاں سے آپ کے آباء و اجداد کابل افغانستان منتقل ہوگئے۔آٹھویں صدی ہجری میں فیروز شاہ کے دور حکومت میں آپ کے جد اعلیٰ امام رفیع الدین کابل سے ہندوستان ہجرت کرآئے۔ پہلے ’’سنّام‘‘ پھر ’’سرہند‘‘ میں سکونت اختیار کی۔ امام رفیع الدین اپنے آباء واجداد کی طرح علوم ظاہر و باطن کے جامع تھے اور بہت سے مشائخ سے استفادہ کیا ۔ اپنے زہد و تقویٰ کی بناء پر سید جلال الدین بخاری نے آپ کو اپنا امام نماز مقرر فرمایا۔

امام رفیع الدین کے صاحبزادے شیخ حبیب اللہ بھی اپنے زمانہ کے اولیاء اللہ میں سے تھے پھر ان کے بیٹے محمد اپنے والد محترم کے قابل جانشین بنے اور شیخ محمد کے فرزند شیخ عبد الحئی بھی اپنے وقت کے جید عالم اور نیک بزرگ تھے۔ شیخ عبدالحئی کے بڑے بیٹے شیخ زین العابدین اپنے والد محترم کی مسند پر بیٹھے اور علم و فضل میں مقام حاصل کیا۔حضرت امام ربانی کے والد محترم عبد الاحد بھی علم دوست انسان تھے جنہوں نےاپنے زمانہ کے معروف صاحب طریقت اور صوفیاء سے استفادۂ کمال کیا۔ غرضیکہ حضرت مجدد الف ثانی کا خاندان علوم ظاہری و باطنی کاحامل تھا۔

قبل از ولادت بشارات

حضرت امام ربانی مجدد الف ثانیؒ کی پیدائش سے متعلق مختلف بشارات کا ذکر ملتا ہے۔ بعض کے نزدیک رسول اللہﷺکی حدیث ’’يَكُونُ فِى أُمَّتِى رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ صِلَةُ يَدْخُلُ بِشَفَاعَتِهِ الْجَنَّةَ كَذَا وَكَذَا‘‘

(جمع الجوامع جزء 13 صفحہ 331، کنزالعمال جزء12صفحہ185)

کہ میری امت میں ایک ایسا شخص ہوگا جو ’’صلة (یعنی مخلوق کو خالق سے جوڑنے والا)‘‘ کہلائے گا، اس کی شفاعت سے ایسے ایسے لوگ جنت میں داخل ہونگے، کے مصداق آپ ہیں اور اس کی دلیل وہ یہ پیش کرتے ہیں کہ امام صاحب نے اپنے ایک مکتوب میں خود کو ’’صلة‘‘ قرار دیا ہے۔ چنانچہ لکھا ہے:
’’الحمدللہ الذی جعلنی صلة بین البحرین ومصلحا بین الفئتین اعمل الحمدللہ علی کل حال والصلوة والسلام علی خیر الانام و علی اخوانہ الکرام من الابیاء والملٰئکة العظام۔‘‘

کہ تمام تعریفیں اس ذات کےلیے جس نے مجھے دوسمندروں کو ملانے والا اور دو گروہوں میں صلح کرانے والا بنایا ہے اور درود و سلام ہو ہمارے آقا حضرت محمد مصطفیٰﷺ پر جو تمام مخلوقات میں سے سب سے افضل اور تمام انبیاء و ملائکہ پر بھی درود و سلام ہو۔

(مکتوبات امام ربانی دفتر دوم مکتوب نمبر6)

اس عبارت میں دو سمندروں سے مراد شریعت و طریقت کے سمندر اور دو گروہوں سے مراد علماء و صوفیاء کے گروہ مراد ہیں۔

(تذکرة مشائخ نقشبندیہ از محمد نوربخش توکلی صفحہ 265)

خاکسار نے جب اس روایت کی تخریج کی تو معلوم ہوا کہ یہ روایت ابوعبد الرحمٰن عبد اللہ بن مبارک (متوفی:181ھ) نے اپنی کتاب ’’الزھد والرقاق‘‘ میں بھی نقل کی ہے اور اس میں اس شخصیت کا پورا نام ’’صلة بن اشیم‘‘ درج کیا ہے۔

علامہ ابن سعد نے اپنی طبقات میں ’’صلة بن اشیم عدوی‘‘ کاذکر کیا ہے اور اس روایت کو انہی سے منسوب کیا ہےاور لکھا ہے کہ صلة بن اشیم کا تعلق بنو عدی سے اور کنیت ابو الصھباء تھی۔ متقی اور ثقہ عالم و فاضل تھے۔

(طبقات الکبریٰ لابن سعدجزء 7صفحہ96)

لیکن اولیاء اللہ اور بزرگان امت نے آپ کی ولادت کے متعلق متعدد پیش خبریاں دی تھیں۔ حضرت غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانیؒ ایک روز جنگل میں مراقبہ میں تھے کہ آپ نے کشفاً دیکھا ، آسمان سے ایک نور ظاہر ہوا جس نے تمام عالم کو منور کردیا اس کے ساتھ ہی آپ کو القا ہوا کہ آپ کے پانچ سو سال بعد ایک بزرگ امت میں پیدا ہوگا جو دنیا سے الحاد و زندقہ اور شرک و بدعت کو مٹادے گا اور تجدید دین محمدیؐ کرے گا اور اس کی صحبت کیمیائے سعادت ہوگی۔ اس القا کے بعد آپ نے اپنا خرقہ بطور امانت اپنے صاحبزادے سید تاج الدین عبد الرزاق کو سپرد کیا اور وصیت فرمائی کہ جب اس بزرگ کا ظہور ہو تو اس کو میری طرف سے یہ دے دینا۔ یہ امانت نسل در نسل منتقل ہوتی رہی یہانتک کہ شاہ کمالؒ کے پیر شاہ سکندرؒ نے حضرت مجدد الف ثانی کی خدمت میں پیش کیا۔

(سیرت امام ربانی مجدد الف ثانی از ابولابیان داؤد پسروری صفحہ 45)

پھر شیخ احمدجام نے بھی پیشگوئی کی کہ میرے بعد سترہ آدمی میرے ہمنام ہوں گے اور ان میں سب سے آخری شخص آنحضرت کی ہجرت کے ہزارسال بعد ظاہر ہوگا جو سب سے افضل ہوگا۔

(سیرت امام ربانی مجدد الف ثانی صفحہ 46)

اسی طرح شیخ خلیل اللہ بدخشیؒ، شیخ عبد القدوس گنگوہیؒ، شیخ سلیم چشتیؒ، شیخ نظام نارنونیؒ، شیخ عبد اللہ علاؤ الدین سہروردیؒ، علامہ عبد الرحمٰنؒ نے حضرت امام ربانیؒ کی ولادت کی پیشگوئیاں کیں۔

والد محترم کا کشف

آپ کے والد محترم عبد الاحد نے ایک روز خواب میں دیکھا کہ تمام جہان میں ظلمت پھیل گئی ہے۔ سؤر،بندر اور ریچھ لوگوں کو ہلاک کررہے ہیں۔ اسی اثناء میں ان کے سینے سے ایک نور نکلا اور اس میں ایک تخت ظاہر ہوا۔ اس تخت پر ایک شخص تکیہ لگائے بیٹھا ہے اور اس کے سامنے تمام ظالموں، زندیقوں اور ملحدوں کو بکرے کی طرح ذبح کررہے ہیں کوئی شخص بآواز بلند کہتا ہے : وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا

اس خواب کی تعبیر دریافت کرنے پرحضرت شاہ کمال کیتھلیؒ نے بعد توجہ بتایا کہ شیخ عبد الاحد کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوگا جس سے الحاد و بدعت کی تاریکی دور ہوگی۔

(تذکرہ مشائخ نقشبندیہ از محمد نور بخش توکلی صفحہ 252-253)

اسی طرح شاہی منجمین نے بھی آپ کی ولادت کے بارہ میں پیشگوئی کی۔

ولادت باسعادت

بشارات کے مطابق آپ کی ولادت 14 شوال971ھ بمطابق 16 مئی 1564ء شب جمعہ شہر سرہند ضلع پٹیالہ، پنجاب، ہندوستان میں ہوئی۔

تحصیل علم

حضرت امام ربانیؒ نے اوائل عمر میں ہی قرآن کریم حفظ کرلیا اور اپنے عالم و فاضل والد محترم سے علوم عقلیہ و نقلیہ حاصل کیے۔ اس کے بعد سیالکوٹ میں مولانا کمال کشمیریؒ سے اکتساب فیض کیا اور کتب حدیث شیخ خوارزمی کے شاگرد علامہ یعقوب کشمیری سے پڑھ کرسند حاصل کی۔ پھر قاضی بہلول بدخشانی سے تفسیر واحدی، اسباب النزول، تفسیر بسیط و وسیط، تفسیر بیضاوی، منہاج الوصول، صحیح بخاری مع متعلقات ثلاثیات، الادب المفرد، مشکوة المصابیح، ترمذی مع شمائل اور جامع صغیر و قصیدہ بردہ پڑھا اور انہوں نے آپ کو حدیث مسلسل ’’ارحمو امن فی الارض یرحمکم من فی السماء‘‘ کے ساتھ مشکوة المصابیح کی اجازت دی۔ اس اجازت کی آپ کو اس قدرخوشی ہوئی کہ آپ فرماتے تھے کہ ’’یوں محسوس ہوتا ہے جیسے مجھے طبقۂ محدثین میں داخل کرلیا گیا ہے۔‘‘

(مشائخ نقشبندیہ از نفیس احمد صباحی صفحہ478)

سترہ سال کی عمر تک آپ تمام مروجہ علوم و فنون میں ماہر ہوچکے تھے۔

(سیرت حضرت امام ربانی صفحہ58-59)

درس و تدریس

تحصیل علم کے بعد آپ نےاپنے والد محترم کے شاگردوں کو پڑھانا شروع کردیا۔ مختلف ممالک سے آنیوالے طلباء کو علم حدیث اور تفسیر کا صبح و شام درس دیتے۔اسی زمانہ میں عربی و فارسی میں آپ نے متعدد رسالے تحریر کیے جن میں رسالہ تہلیلہ، رسالہ اثبات نبوت، رسالہ ردّ شیعہ شامل ہیں۔

(تذکرہ مشائخ نقشبندیہ صفحہ254)

سفرآگرہ

آگرہ جس کا پرانا نام اکبر آباد تھااور مغل بادشاہ جلال الدین محمداکبر کا دارالحکومت تھا۔ وہاں کے علماء و فضلاء کی شہرت کا سن کر حضرت مجدد الف ثانیؒ کے دل میں ملاقات کا شوق پیدا ہوا چنانچہ آپ نے آگرہ کے لیے رخت سفر باندھا اور وہاں جاپہنچے۔ وہاں کے علماء آپ کی علمی قابلیت سے بہت متاثر ہوئے اور ملاقات کےلیے خود حاضر ہونے لگے۔ درس و تدریس کا سلسلہ شروع ہوگیا او ر طلباء آپ سے حدیث و تفسیر کی کتب کی سند حاصل کرنے لگے۔

اسی دوران شیخ سلیم چشتیؒ کے ایک خلیفہ آپ سے ملاقات کےلیے آئے اور بغور دیکھنے کے بعد کہا کہ میں نے آپ کو خواب میں دیکھا تھا اور لوگوں کو بتایا کہ یہی وہ شخص ہے جس کے بارہ میں اکثر اولیائے امت نے خبر دی تھی لیکن ابھی ان کے ظہور کا وقت نہیں آیا۔

(سیرت حضرت امام ربانیؒ صفحہ60)

ابوالفضل علامی سے مناظرہ

اکبر بادشاہ کے نورَتنوں میں سے دو بھائی ابوالفضل علامی اور فیضی بھی تھے۔جن کی مجلس میں حضرت امام ربانیؒ تشریف لے جایا کرتے تھے۔ ایک روز ابوالفضل علامی نے علوم فلسفہ اور فلسفیوں کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دئیے ۔جس پر حضرت امام ربانیؒ نے امام غزالی کی کتاب المنقذ من الضلال کی روشنی میں جواب دیا کہ جتنے بھی علوم فلاسفہ ،طب و علم نجوم و ہیئت وغیرہ ہیں سب انبیاء گزشتہ کی کتب و تعلیمات و کلمات سے سرقہ ہیں اور جو علوم خود ان کی طبائع کا نتیجہ ہیں مثلا حساب ریاضی وغیرہ دین کے معاملہ میں قریباً بے فائدہ ہیں۔ جس پر ابو الفضل نے امام غزالی کے متعلق بے ادبی سے کلام کیا جس پر آپ خفا ہوئے اور اس کی مجلس میں آنا بند کر دیا۔ پھر اس نے آپ کی خدمت میں ایک شخص بھیجااور معافی مانگ کر واپس بلایا۔

(تذکرہ مشائخ نقشبندیہ صفحہ255)

فیضی کی تفسیر بے نقط میں معاونت

شیخ مبارک ناگوری کے بیٹے فیضی جو ابوالفضل علامی کے بھائی تھے وہ تفسیر بے نقط (مواطع الالہام) لکھ رہے تھے کہ امام ربانیؒ اس کے ہاں ایک روز تشریف لے گئے وہ آپ کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور کہا کہ خوب موقع پر آئے ہیں ایک مقام پر تاویل و تفسیر حروف غیر معجمہ میں دشواری درپیش ہے میں نے بہت کوشش کی ہے لیکن کوئی عبارت نہیں سوجھ رہی یہ سن کر حضرت امام ربانیؒ نے قلم اٹھا کر اس صفحہ کے مطالب کثیرہ حروف بے نقط کمال بلاغت میں تحریر فرمادئیے جس سے فیضی آپ کی علمی قابلیت کا معترف ہوگیا۔

(تذکرہ مشایخ نقشبندیہ از محمد نوربخش توکلی صفحہ256)

وطن واپسی اور شادی

آگرہ میں آپ ایک عرصہ تک قیام پذیر رہے۔ آپ کے والد محترم آپ کی محبت میں ملاقات کے لیے وہیں تشریف لے آئے ۔پھر اپنے والد محترم کی خواہش پر وطن واپسی کا قصد کیا۔راستہ میں تھانیسر کے رئیس شیخ سلطان کی صاحبزادی سے آپ کی شادی ہوئی جس کے بعد آپ کی مالی حالت بہت اچھی ہوگئی آپ نے اپنی نئی حویلی کے ساتھ ایک نئی مسجد تعمیر کروائی۔

(سیرت امام ربانی مجددالف ثانی از ابو البیان داؤد پسروری صفحہ63)

حج بیت اللہ کا قصد اور سفر دہلی

حضرت امام ربانیؒ کو حج بیت اللہ اور زیارت روضۂ رسولﷺ کی بہت خواہش تھی لیکن والد محترم کی خدمت کی وجہ سے آپ نہیں جاپارہے تھے۔ والد محترم کی وفات کے بعد 1008ھ میں آپ نے زیارت مکہ و مدینہ کا عزم مصمم کیا اورتنہا سفر پر روانہ ہوئے۔جب آپ دہلی پہنچے تو وہاں حضرت خواجہ بیرنگ باقی باللہؒ کے مرید علامہ حسن کاشمیری سے ملاقات ہوئی جنہوں نے خواجہ صاحب موصوف کے کمالات کا ذکر کرکے ان سے ملاقات کی آپ کوتحریک کی۔چنانچہ آپ نے خواجہ صاحب سے ملاقات کے لیے دہلی میں چند روز قیام کرنے کی ٹھانی۔

ملاقات و بیعت حضرت خواجہ باقی باللہؒ

حضرت خواجہ باقی باللہؒ سلسلہ نقشبندیہ کے فردیگانہ اور صاحب کمالات تھے۔آپ کو ہندوستان آنے سے قبل خواب میں بتادیا گیا تھا کہ ہندوستان کا ایک مرد خدا آپ کی تربیت میں آئے گا اور آپ کے باطنی فیوض سے فائدہ اٹھائے گا۔چنانچہ جب حضرت امام ربانی ؒکی آپ سے ملاقات ہوئی تو خواجہ صاحب نے فوراً پہچان لیا اور خانقاہ میں چند روز قیام کے لیے کہا آپ نے وہاں ایک ہفتہ قیام کا وعدہ کیا جو بڑھتا بڑھتا تین ہفتے تک جاپہنچا ۔کچھ دن گزرتے ہی حضرت امام صاحب نے حضرت خواجہ باقی باللہ کی بیعت بھی کرلی۔

(سیرت امام ربانی مجددالف ثانی صفحہ70)

پھر حضرت خواجہ صاحب موصوف نے آپ کی قابلیت اور جوہرکو دیکھ کر آپ کو1009ھ میں خلعت خلافت عطا کی اور اپنے چند معتبر اصحاب کے ہمراہ سرہند روانہ کیا۔

گوشہ نشینی اور زیارت رسولﷺ

سرہند واپس آکر آپ نے گوشہ نشینی اختیار کرلی۔پھر رفتہ رفتہ کچھ وقت حلقہ احباب میں بیٹھنے لگے۔10ربیع الاول 1010 ھ بروز جمعہ صبح کے وقت آپ حلقہ احباب میں بیٹھے تھے کہ حالت کشف میں دیکھا کہ رسول اللہﷺ اولیاء اللہ کی ایک جماعت کے ساتھ تشریف لائے اور اپنے دست مبارک سے آپ کو ایک نہایت خلعت فاخرہ پہنائی اور فرمایا کہ یہ تجدید الف ثانی کی خلعت ہے۔

(سیرت امام ربانی مجددالف ثانی از ابو البیان داؤد پسروری صفحہ75)

اسی طرح اسی سال ایک روز نماز ظہر کے بعد آپ نے ایک اعلیٰ درجہ کی نور خلعت اپنے اوپر دیکھی اور ساتھ القا ہوا کہ یہ قیومیت کی خلعت ہے جو رسول اللہﷺ کے کمال اتباع کے نتیجہ میں آپ کو عطا کی گئی ہے۔

سفر دہلی و لاہور

حضرت امام ربانی مجددالف ثانیؒ نے اپنی تجدید کے دوسرے سال حضر ت خواجہ باقی باللہؒ سے دہلی جاکر ملاقات کی اور اکتساب فیض کے بعد دوبارہ سرہند واپس گئے اور کچھ عرصہ قیام کے بعد لاہور تشریف لے گئے اور وہاں کے علماء و صوفیاء نے آپ سے ملاقات کی اور آپ کے حلقہ ارادت میں شامل ہوئے اور فیض حاصل کرنے لگے۔ قیام لاہور کے دوران25 جمادی الثانی 1012ھ کو خواجہ باقی باللہؒ کا وصال ہوگیا۔ جس پر آپ فوراً دہلی پہنچے اور خواجہ صاحب کے پسماندگان سے تعزیت کی۔

تجدیدی کارنامے

حضرت امام ربانی مجدد الف ثانیؒ کے وقت ہندوستان میں مغل بادشاہ جلال الدین محمد اکبر کی حکومت تھی۔ بادشاہ کے درباری علمائےسوء نے اسکے ذہن میں یہ بات ڈال دی کہ اسلامی شریعت پرایک ہزار سال مکمل ہوگیا ہے۔ پچھلے ایک ہزار سال میں دین کی تعلیمات اور احکامات پرانے ہوگئے ہیں۔ اب دین کی نئی تعبیر اور نئے فکری ڈھانچے کی ضرورت ہے۔ اور یہ کام صرف بادشاہ وقت جو تمام اختیارات کا مالک اور مجتہد اعظم کی حیثیت رکھتا ہے، ہی کرسکتا ہے۔ چنانچہ اکبر نے دین الٰہی کے نام سے نیا دین بنا ڈالا۔ جس میں غیر شرعی احکام بھی شامل کردئیے گئے۔ چنانچہ وہ دور مختلف خرافات اور رسومات کا مجموعہ تھا۔اکبر بادشاہ کی غیر اسلامی حرکات کے نتیجہ میں اسلام خطرہ سے دوچار تھا۔ بدعات کا ہر طرف دور دورہ تھا۔ غیر شرعی احکامات یعنی سورج کی پرستش، سور اور شراب کی حلت، دوسری شادی کی حرمت وغیرہ نافذ کیے جارہے تھے۔

ایسے پر آشوب دور میں آپ نے تجدید دین کا بیڑا اٹھایا اور ایک مخلص داعی الی اللہ اور مبلغ اسلام کے طور پر آپ نے نہایت حکمت اور مصلحت سے اسلام کی ڈوبتی ناؤ کو سہارا دیا۔ اکبر کے دور حکومت میں آپ نے اصلاح دین کا کام حکمت اور رازداری سے کیا اور اپنی تبلیغی سرگرمیوں کو خفیہ رکھا۔ مکتوبات کے ذریعہ سے اعیان حکومت کو ان غیر شرعی حرکات سے مجتنب رہنے کی طرف توجہ دلاتے رہے۔ اور خودساختہ دین الٰہی کے خلاف قلمی و لسانی جہاد کیا۔

اصلاح جہانگیر

اکبر کی وفات کے بعد جہانگیر کے تخت نشین ہونے پر حضرت مجدد الف ثانیؒ نے بھی اپنی تبلیغ اور اصلاحی کوششوں کا کھل کھلم آغاز کردیا۔ اکبر کے تیار کردہ دین الہٰی کو شاہی دربار کی حمایت حاصل تھی چنانچہ آپ نے وزراء و امراء اور اعیان حکومت کو مکتوبات لکھ کر انہیں اس نام نہاد دین الہٰی سے برگشتہ ہونے اور اسلام کی حقیقت کو جاننے کی طرف مائل کیا۔چنانچہ آپ نے جہانگیر بادشاہ کے مشیران خاص اور معاونین خصوصی کو مکتوبات لکھ کر اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ بادشاہ کی اسلامی تعلیمات کے مطابق ذہن سازی کریں اور انہیں شریعت اسلامی کے متعلق آگاہ کریں چنانچہ سیر صدر جہاں،خان جہاں اور شیخ فریدی بخاری وغیرہ نے اس سلسلہ میں کافی معاونت کی۔ جس کے نتیجہ میں ایک روز خود جہانگیر نے کہا کہ ایک مجلس قائم کی جائے جو شریعت کے معاملات میں مشورہ دیا کرے۔ اس ضمن میں حضرت مجدد الف ثانیؒ نے شیخ فریدی بخاری کو مکتو ب لکھا کہ اس مجلس میں ایسے متقی اور نیک علماء شامل کیے جائیں جنہیں دولت و طاقت کا نشہ نہ ہو ۔اگر علمائے سوء شامل کر دئیے تو بجائے اصلاح دین کے اس میں مزیدخرابیاں پیدا ہوتی چلی جائیں گی۔

(ملخص مکتوب نمبر47، مکتوبات امام ربانی)

چنانچہ ایسا ہی ہوا اور نیک ،متقی علماء پر ایک شرعی مجلس قائم کردی گئی۔ اور جہانگیر بھی اسلای تعلیمات کی طرف مائل ہونے لگا اور اصلاح دین اسلام کی طرف راغب ہوا۔

سازش اور قید

اکبر کے نام نہاد دین الہٰی سے علمائے سوء کی روزی روٹی چلتی تھی جب حضرت مجددالف ثانیؒ کی انتھک کوششوں سےجہانگیر نے امور شرعیہ کے لیے مجلس قائم کی اور اس میں حضرت امام ربانی کی کوششوں سے نیک علماء شامل ہوئے تو علمائے سوء کو جان کے لالے پڑگئے۔ انہوں نے جہانگیر کے کانوں میں یہ بات ڈالی کہ سرہند کا ایک شیخ زادہ خود کو حضرت ابوبکر صدیقؓ سے برتر اور افضل سمجھتا ہے اور اس کے متعدد کفریہ دعاوی ہیں۔ نیز آپ کی مقبولیت بادشاہت کےلیے خطرہ قرار دیا۔چنانچہ جہانگیر نے دربار میں طلب کیا اور آپ نے تمام اعتراضات کے تسلی بخش جوابات دئیے اور مکمل وضاحت پیش کی تو بادشاہ مطمئن ہوگیا لیکن ایک وزیر نے بادشاہ کو کہا کہ آنجناب حاکم وقت ظل الٰہی اور خلیفة اللہ ہیں لیکن حضرت امام صاحب نے سجدہ تعظیمی تو دور ،مناسب طریقہ پر آپ کی عزت افزائی بھی نہیں کی ۔جس پر آپ نے فرمایا کہ یہ پیشانی غیراللہ کے سامنے ہرگز نہیں جھکے گی۔ اس پر بادشاہ سلامت ناراض ہوگئے اور آپ کو 1018ھ میں قلعہ گوالیار میں اسیر کردیا۔

قید سے رہائی

ایک سال تک آپ وہاں اسیر رہے اور دوران قید قیدیوں کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کراتے رہے اور اشاعت اسلام میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا۔نتیجةً قیدیوں کی کثیر تعداد نے اسلام قبول کرلیا۔ اس صورتحال کو دیکھ کر آپ کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ آپ نے اپنی رہائی کے لیے کچھ شرائط رکھیں کہ دین الہٰی کے غیر شرعی اصول کالعدم قرار دئیے جائیں اور اسلامی شریعت نافذ کی جائے ،سجدہ تعظیمی ختم کردیا جائے، گائے کے ذبیحہ کی اجازت دی جائے، مسمار مساجد کی از سر نو تعمیر کی جائے، ہر شہر اور قصبہ میں مدارس و مکتب قائم کیے جائیں، کفار پر جزیہ مقرر ہو وغیرہ۔ جہانگیر بادشاہ نے یہ تمام شرائط قبول کیں اور آپ آزاد ہوئے۔

(تذکرہ مشائخ عظام از ڈاکٹر محمد عاصم اعظمی صفحہ 386تا388)

علماء کی اصلاح

اکبر کے دور حکومت میں علماء و صوفیاء نے بادشاہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے درباری مزاج کے مطابق اسلامی تعلیمات میں یونانی فلسفہ اور ہندوستانی تصورات اور مشرقی رسم و رواج کی آمیزش کردی جس سے اسلامی تعلیمات اور اسلامی تصور تصوف کی اصل روح مٹ گئی اور ایسے عجیب و غریب طریقے وضع ہوگئے جن کا دین و عقل سے دور دور کا کوئی تعلق نہ تھا اور محض حصول جاہ و حشمت کا ذریعہ تھے۔حضرت مجدد الف ثانیؒ نے علماء و صوفیاء کی اصلاح کا بھی بیڑا اٹھایا اور اپنے مکتوبات و تقاریر و خطابات کے ذریعہ ان کو اسلام کی حقیقی تعلیم سے روشناس کرایا اور ان کو توجہ دلائی کہ حقیقی بادشاہ کی خوشنودی حاصل کرو نہ کہ دنیاوی بادشاہوں کے غلام بنو۔آپ نے نیک اور متقی علماء کو ایوان حکومت میں رسائی دلائی جس سے بادشاہ کو بھی اسلام سے رغبت محسوس ہوئی اور وہ دین اکبری سے برگشتہ ہوا اور اپنے والد کے بنائے گئے دین الٰہی کومکمل ختم کردیا۔

صوفیاء کی رہنمائی

پھر آپؒ نےصوفیاء کو شریعت و طریقت کی راہوں پر گامزن کرایا اور انہیں اسلامی تصوف سے بہرہ ور کیا ۔فنا،بقا اور لقا کی حقیقت ان پر آشکار کی۔آپ نے صوفیاء کو فرائض و سنن کی ادائیگی کی طرف توجہ دلائی کہ محض اذکار و وظائف ہی کافی نہیں اعمال صالحہ اور فرائض و سنن ادا کرنے بھی ضروری ہیں۔آپ نے صوفیاء کو توجہ دلائی کہ ایک فرض نماز باجماعت ادا کرنا ان کے ہزار چلوں سے بہتر ہے۔

(مکتوب نمبر 260،مکتوبات امام ربانی)

اسی طرح آپ نے صوفیاء کو تلقین کی کہ اپنے مریدوں کو منع کریں کہ وہ آپ کو سجدہ نہ کریں کیونکہ معبود حقیقی کو ہی سجدہ کرنا جائز ہے۔ نیز آپ نے انہیں اپنی مجالس میں تصوف اور فقہ کی کتابیں پڑھنے کی طرف توجہ دلائی۔

(مکتوب نمبر 229،مکتوبات امام ربانی)

علمی مقام و مرتبہ

حضرت مجدد الف ثانی ؒکو اللہ تعالیٰ نے متعدد علوم ظاہری سے نوازا تھا۔ آپ علمائے راسخین میں سے تھے۔قرآنی علوم میں بھی آپ طاق تھے۔ آپ نے شیخ بدیع الدین کے نام اپنے مکتوب میں متشابہات قرآنی اور رموز مقطعات پر سیر حاصل بحث کی۔ آپ ایک عظیم محدث، مجتہد اور متکلم بھی تھے۔ آپ نے اپنی علمی استعدادوں سے خوب فائدہ اٹھایا اور سینکڑوں شاگردوں کو اپنے علم و فضل سے سیراب کیا۔ آپ نے مختلف ممالک میں اپنے مریدوں کو اصلاح و ارشاد کے کام کے لیے بھجوایا۔

تصانیف

حضرت مجدد الف ثانیؒ نے اپنی تصنیفات سے بھی تجدید دین کا حق ادا کیا۔ آپ کی شہرۂ آفاق تصنیف ’’مکتوبات امام ربانیؒ‘‘ ہے جس کا اردو اور عربی ترجمہ بھی ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ متعدد رسائل و کتب بھی تالیف فرمائیں جن میں مبدء ومعاد، معارف لدنیہ، اثبات النبوة، مکاشفات غیبیہ، تعلیقات عوارف، آداب المریدین، رسالہ در مسئلہ وحدت الوجود، رد الرفضہ، رسالہ مقصود الصالحین، رسالہ جذب و سلوک، رسالہ تہلیلہ، اثبات و ثبوت، شرح رباعیات، رسالہ در علم حدیث وغیرہ شامل ہیں۔

محبت رسولﷺ

حضرت مجددالف ثانیؒ کو رسول اللہﷺ سے بے حد محبت تھی۔ ایک دفعہ اپنے حلقہ احباب میں فرمایا:

محبت آنسرور بہ نہجے مسولی شدہ است
کہ حق سبحانہ و تعالیٰ را بواسطہ آں دوست

یعنی سرورکائناتﷺ کی محبت اس طرح غالب آگئی ہے کہ میں حق سبحانہ و تعالیٰ کو اس لیے دوست رکھتا ہوں کہ وہ محمد مصطفیٰﷺ کا رب ہے۔

(تذکرة مشائخ نقشبندیہ از نور بخش توکلی صفحہ276)

وفات

حضرت امام ربانی مجددالف ثانیؒ کو اپنی وفات کے بارہ میں قبل از وقت ہی اطلاع ہوگئی تھی۔ 1032ھ میں آپ اجمیر میں تھے کہ ایک روز فرمایا: آثار بتلاتے ہیں کہ اب کوچ کا زمانہ قریب ہے۔ چنانچہ آپ نے حضرت خواجہ محمد معصومؒ کو اپنا جانشین مقرر کیا اور واپس سرہند آگئے۔ سرہند میں آپ نے تبتل اختیار کرلیا اور تنہائی میں خدا تعالیٰ کی عبادت میں مصروف ہوگئے۔ 1033ھ کی عید الاضحی کی نماز ادا کرنے کے بعد مختصر تقریر کی جس میں آپ نے لوگوں کو بتادیا کہ آپ عنقریب دنیا سے رخصت ہونے والے ہیں اور فرمایا کہ آثار مجھے بتلارہے ہیں کہ میری عمر نبیﷺ کی سنت کے مطابق تریسٹھ سال ہوگی۔ اب تریسٹھواں سال ختم ہونے کو ہے میں عنقریب تم لوگوں سے جدا ہوجاؤں گا اور اپنے مولیٰ کا دیدار حاصل کروں گا۔‘‘

(سیرت امام ربانی مجددالف ثانی از ابو البیان داؤد پسروری صفحہ145)

اس کے کچھ عرصہ بعد آپ کو ضیق النفس (دمہ) کا دورہ ہوا۔ 12 محرم 1034ھ کو آپ اپنے والد اور اپنے جداعلیٰ حضرت امام رفیع الدین کے مزاروں پر تشریف لے گئے اور دعائے مغفرت کی۔ آپ کا مرض دن بدن بڑھتا گیا۔ 13 صفر بوقت عصر آپ کو شدید بخار ہوگیا۔ دوران مرض بھی نماز باجماعت ادا کرتے رہے۔ اور رفع تکلیف کے لیے صدقات و خیرات بھی کرتے رہے۔ 23صفر کو کچھ افاقہ بھی ہوگیا لیکن پھر بخار عود آیا۔29 صفر 1034ھ بروز بدھ بوقت اشراق بعمر تریسٹھ سال اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ اناللہ و انا الیہ راجعون

آپ کی نماز جنازہ آپ کے صاحبزادے خواجہ محمد سعید نے پڑھائی۔ حضرت مجدد الف ثانیؒ کے ساتھ صاحبزادے اور تین صاحبزادیاں تھیں۔

(باسل احمد بشارت)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 9 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 اکتوبر 2020