• 29 نومبر, 2020

اسلامی بھائی چارے کی تعلیم

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
ایک مومن کو جس میں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ ہے، اس بھائی چارے کی تعلیم کو اپنے اوپر مکمل طور پر لاگو کرنے اور دنیا میں پھیلانے کے لئے یہ حکم دیا گیا ہے۔ یہی وہ حکم ہے جس سے دنیا میں ایک دوسرے سے پیار محبت اور ایک دوسرے سے برادری کا تعلق قائم ہو سکتا ہے۔ ورنہ جتنی چاہیں یہ سلامتی کونسلیں بنا لیں وہ قوموں کی بے چینی اس لئے دور نہیں کر سکتیں کہ طاقتوروں نے اپنے اختیارات دوسروں سے زیادہ رکھے ہوئے ہیں۔ پس دنیا کی سلامتی کی ضمانت اسی و قت دی جا سکتی ہے، دنیا کی بے چینی اسی و قت دور کی جا سکتی ہے جب قومی برتری کے جھوٹے اور ظالمانہ تصور کا خاتمہ ہو جائے گا۔ یہ بے چینی اس وقت تک دور نہیں ہو سکتی جب تک نسلی اور قومی برتری کے تکبر دل و دماغ سے نہیں نکلتے۔ دنیا میں سلامتی اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتی جب تک یہ نسل، قوم اور ملک کی برتری کا احساس رکھنے والوں اور حکومتوں کے دماغوں میں یہ بات راسخ نہیں ہو جاتی کہ ہم آدم کی اولاد ہیں اور ہمارا وجود بھی قانون قدرت کے تحت مرد اور عوت کے ملاپ کا نتیجہ ہے اور ہم بحیثیت انسان خدا کی نظر میں برابر ہیں۔ اللہ کی نظر میں اگر کوئی اعلیٰ ہے تو تقویٰ کی بنا پر اور تقویٰ کا معیار کس کا اعلیٰ ہے یہ صرف خدا کو پتہ ہے۔ کوئی اپنے تقویٰ کے معیار کو خود Judge کرنے والا نہیں ہے۔ خود اس معیار کو دیکھنے والا نہیں ہے، پرکھنے والا نہیں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہاری حیثیت، تمہار ادوسرے انسان سے اعلیٰ اور برتر ہونا اس کا کوئی تعلق نہ تمہاری نسل سے ہے نہ تمہاری قوم سے، نہ تمہارے رنگ سے ہے، نہ تمہاری دولت سے ہے، نہ تمہارے اپنے معاشرے میں اعلیٰ مقام سے ہے۔ نہ کسی قوم کا اعلیٰ ہونا، کمزور لوگوں پراس کے حکومت کرنے سے ہے۔ دنیا کی نظر میں تو ان دنیاوی طاقتوں اور حکومتوں کا مقام ہو گا لیکن خداتعالیٰ کی نظر میں نہیں۔ اور جو چیز خداتعالیٰ کی نظر میں قابل قبول نہ ہو وہ بظاہر ان نیک مقاصد کے حصول میں ہی کامیاب نہیں ہوسکتی جس کے لئے وہ استعمال کی جا رہی ہے۔ اسلام کہتا ہے کہ تمام انسان جو ہیں ایک خاندان ہیں اور جب ایک خاندان بن کر رہیں گے تو پھر اس طرح ایک دوسرے کی سلامتی کا بھی خیال رکھیں گے جس طرح ایک خاندان کے افراد، ایسے خاندان کے افراد جن میں آپس میں پیار و محبت ہووہ رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں قبیلوں اور قوموں کا صرف یہ تصور دیا ہے کہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ یہ پاکستانی ہے، یہ انگریز ہے، یہ جرمن ہے، یہ افریقن ہے۔ ورنہ بحیثیت انسان تم انسان ہو۔ اور جو امیر کے جذبات ہیں، وہی غریب کے جذبات ہیں۔ جو یورپین کے جذبات ہیں، وہی افریقن کے جذبات ہیں۔ جو مشرق کے رہنے والوں کے جذبات ہیں وہی مغرب کے رہنے والوں کے جذبات ہیں۔ پس ایک دسرے کے جذبات کا خیال رکھو۔ اگر جذبات کا خیال رکھو گے تو سلامتی میں رہو گے۔ پس ہر قوم میں اللہ تعالیٰ نے جو خصوصیت رکھی ہیں، ہر قوم کی اپنی اپنی خصوصیات ہوتی ہیں، ان سے فائدہ اٹھاؤ تاکہ دائمی پیار و محبت کو قائم رکھ سکو۔

پس اسلام کے نزدیک پائیدار سلامتی کے لئے یہی معیار ہے ورنہ جیسا کہ مَیں نے کہا جتنی بھی سلامتی کونسلیں بن جائیں، جتنی بھی تنظیمیں بن جائیں وہ کبھی بھی پائیدار امن و سلامتی قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتیں۔ اور یہ قرآنی تعلیم پہلے صرف تعلیم کی حد تک ہی نہیں رہی بلکہ آنحضرتﷺ نے اپنی زندگی میں اس پر عمل کیا۔ غریبوں سے لاڈ کیا، غلاموں سے پیار کیا، محروموں کو ان کے حق دلوائے، ان کو معاشرے میں مقام دلوایا۔ حضرت بلالؓ جو ایک افریقن غلام تھے وہ آزاد کروادئیے گئے تھے۔ لیکن اس وقت کوئی قومی حیثیت ان کی معاشرے میں نہیں تھی۔ لیکن آنحضرتﷺ کے سلوک نے ان کو وہ مقام عطا فرمایا کہ حضرت عمر ؓ نے بھی ان کو سیدنا بلال کے نام سے پکارا۔ پس یہ ہیں سلامتی کے معیار قائم کرنے کے طریق۔

پھر حجۃ الوداع کے موقع پر آنحضرتﷺ نے کھول کر بیان فرما دیا کہ تم سب آدم کی اولاد ہو اس لئے نہ عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت ہے نہ عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت ہے۔ اسی طرح رنگ نسل بھی تمہاری بڑائی کا ذریعہ نہیں ہیں۔ پس یہ خوبصورت معاشرہ تھا جو آنحضرتﷺ نے پیدا کیا اور یہی معاشرہ ہے جو آج مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت نے آنحضرتﷺ کے حکم کے تحت قائم کرنا ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے بین الاقوامی سلامتی کے لئے حکم دیا ہے جو کہ ان لوگوں کا منہ بند کرنے کے لئے بھی کافی ہے (ان کے لئے تسلی بخش جواب ہونا چاہئے) جو یہ کہتے ہیں کہ اسلام تلوار سے پھیلا اور تشدد کا حکم دیتا ہے۔ بلکہ اس کے الٹ اللہ تعالیٰ تویہ حکم دیتا ہے کہ جو تمہیں تنگ نہیں کر رہے، جو تم سے جنگ نہیں کر رہے (بعض احکامات کے ماتحت جنگ کی مجبوری بھی تھی۔ وہ تفصیل تو یہاں بیان نہیں ہو سکتی) جنہوں نے تمہارے خلاف تلوار نہیں اٹھائی تونہ صرف یہ کہ ان سے کسی قسم کی سختی نہیں کرنی بلکہ ان سے نیکی کرو، ان پر احسان کرو، ان کے معاملات میں انصاف کے تمام تقاضے پورے کرو۔ چاہے وہ عیسائی ہے یا یہودی ہے یا کوئی بھی ہو۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ: ’’بے شک ان پر احسان کرو، ان سے ہمدردی کرو انصاف کرو کہ خداایسے لوگوں سے پیار کرتا ہے‘‘۔

(نورالقرآن۔ روحانی خزائن جلد9 نمبر2 صفحہ435)

(خطبہ جمعہ 22؍ جون 2007ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 9 نومبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 نومبر 2020