• 9 اگست, 2022

تمباکو نوشی سے کراہت

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں۔

• ’’ یہ شراب کی طرح تو نہیں ہے کہ اس سے انسان کو فسق و فجور کی طرف رغبت ہو مگر تاہم تقویٰ یہی ہے کہ اس سے نفرت اور پرہیز کرے۔ منہ میں اس سے بدبو آتی ہے اور یہ منحوس صورت ہے کہ انسان دھواں اپنے اندر داخل کرے اور پھر باہر نکالے اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں یہ ہوتا تو آپؐ اجازت نہ دیتے کہ اسے استعمال کیا جائے ایک لغو اور بے ہودہ حرکت ہے۔ ہاں مسکرات میں اسے شامل نہیں کر سکتے۔ اگر علاج کے طور پر ضرورت ہو تو منع نہیں ہے ورنہ یونہی بےجا صرف کرنا ہے۔ عمدہ تندرست آدمی وہ ہے جو کسی شئے کے سہارے زندگی بسر نہیں کرتا۔‘‘

(ملفوظات جلد سوم ص 175)

• ’’ تمباکو کے بارے میں اگرچہ شریعت نے کچھ نہیں بتایا لیکن ہم اس کومکروہ جانتے ہیں اور ہم یقین کرتے ہیں کہ اگر یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں ہوتا تو آپؐ نہ اپنے لئے اور نہ اپنے صحابہؓ کے لئے کبھی اس کو تجویز کرتے بلکہ منع کرتے۔‘‘

(ملفوظات جلد سوم ص 368)

• ’’ اس کا ترک اچھا ہے۔ ایک بدعت ہے منہ سے بوآتی ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد اول ص 538)

• ’’ انسان عادت چھوڑ سکتا ہے بشرطیکہ اس میں ایمان ہو۔ اور بہت سے ایسے آدمی دنیا میں موجود ہیں جو اپنی پرانی عادات کو چھوڑ بیٹھے ہیں دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ جو ہمیشہ سے شراب پیتے چلے آئے ہیں بڑھاپے میں آکر جبکہ عادت کا چھوڑنا خود بیمار پڑنا ہوتا ہے بلا کسی خیال کے چھوڑ بیٹھتے ہیں اور تھوڑی سی بیماری کے بعد اچھے بھی ہو جاتے ہیں۔ میں حقہ کو نہ منع کرتا اور نہ جائز قرار دیتا ہوں مگران صورتوں میں کہ انسان کو کوئی مجبوری ہو یہ ایک لغو چیز ہے اور اس سے انسان کو پرہیز کرنا چاہئے۔‘‘

(ملفوظات جلد پنجم ص 159)

• ’’ میں نے چند ایک ایسے آدمیوں کی شکایات سنی تھیں کہ وہ پنج وقت نماز میںحاضر نہیں ہوتے تھے اور بعض ایسے تھے کہ ان کی مجلسوں میں ٹھٹھے اور حقہ نوشی اور فضول گوئی کا شغل رہتا تھا۔ اور بعض کی نسبت شک کیا گیا تھا کہ وہ پرہیزگاری کے پاک اصول پر قائم نہیں ہیں۔ اس لئے میںنے بلاتوقف ان سب کو یہاں سے نکال دیا ہے تاکہ دوسروں کے ٹھوکر کھانے کا موجب نہ ہوں۔‘‘

(فتاویٰ احمدیہ جلد دوم ص 59)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 9 جنوری 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 11 جنوری 2020