• بدھ 19 فروری 2020   (25 جمادى الآخرة 1441)

خشک میوہ جات اور ان کے فوائد

اخروٹ، پستہ اور مونگ پھلی کے اجزاء اور ان کا استعمال

اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے بے شمار نعمتیں پیدا کی ہیں، ان میں خشک میوے بہت اہم ہیں جو موسم سرما میں قدرت کا انمول تحفہ ہیں۔ ان میں ایسی قوت اور صحت بخش اجزاءشامل ہوتے ہیں جو ہمارے جسم کو قوت و طاقت فراہم کرتے ہیں۔ خشک میوہ جات کے فوائد بے شمار ہیں۔ یہاں ہم چند میووں کے فوائد پیش کر رہے ہیں جن سے فائدہ اٹھا کر جسمانی کمزوری کو دور کرکے قوت حاصل کی جا سکتی ہے بلکہ کئی بیماریوں سے بچا بھی جا سکتاہے۔

اخروٹ

سردیوں میں چونکہ پانی کم پیا جاتا ہے ، اس لئے اکثر لوگ قبض کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اخروٹ ایک اچھا قبض کشا ثابت ہوتا ہے چونکہ اس میں کئی قسم کے حیاتین اورمعدنی نمک بھی ہوتے ہیں اس لئے اسے استعمال کرکے جسمانی عضلات کو خوب اچھا بنا سکتے ہیں۔ اخروٹ کو دانتوں اور مسوڑھوں کے لئے بھی مفید سمجھا جاتا ہے۔ اخروٹ جگر کے مریضوں کے لئے بھی مفید ہے۔

ایک سو گرام اخروٹ کی گری میں 15گرام پروٹین 6/16گرام نشاستہ، 1/2ملی گرام فولاد، 380 ملی گرام فاسفورس ، 225 ملی گرام پوٹاشیم اور حیاتین ’ الف اور ب‘‘ کے علاوہ حیاتین ’’ج‘‘ بھی ہوتا ہے۔ اخروٹ کا بھنا ہوا مغز یا گری خشک کھانسی کے لئے مفید ہوتی ہے۔ سردیوںمیں اخروٹ کے استعمال سے بدن میں گرمی اورتوانائی پیدا ہوتی ہے۔ اخروٹ کا حلوہ بھی بنایا جاتا ہے جس کی ترکیب حسب ذیل ہے۔

اشیاء:۔ اخروٹ آدھا کلو ،شکر آدھا کلو، کھویا ایک پاؤ، زعفران دو ماشہ ، کیوڑہ چار چمچے۔

ترکیب:۔ پہلے اخروٹ کی گری کو اچھی طرح صاف کرکے سل پر پیس لیں۔ چینی میں ایک پاؤ پانی ڈال کر قوام تیار کر لیں۔ اب گھی میں الائچی دانے ڈال کر کڑ کڑائیں اور اس میں پسے ہوئے اخروٹ ڈال کر بھونیں اور جب بُھن جائیں اور یہ خوشبو دینے لگیں تو اس میں کھویا ڈال کر پھر بھونیں۔ اب اس میں چینی کا قوام ڈال دیں اور چمچہ چلاتے رہیں ، جب خشک ہو جائے تو زعفران کیوڑے میں پیس کر ملا دیں اور جب حلوہ گھی چھوڑے تو اتار لیں۔لذیذ حلوہ تیار ہے۔

پستہ

ایک نہایت خوش ذائقہ مغز ہے۔ پستہ تاثیر میں گرم اور تر ہے۔ جدید سائنسی تحقیق کے مطابق سو گرام پستے میں 2.9 گرام پروٹین 8.0 گرام فیٹ، 3گرام کاربو ہائیڈریٹ (نشاستہ) 88 کیلوریز اور حیاتین ’’الف‘‘ اور ’’ب‘‘ بھی ہوتا ہے اور دیگر غذائی اجزاء کی مناسب مقدار پائی جاتی ہے۔ پستے میں سب سے زیادہ مقدار Fats کی پائی جاتی ہے جو جسمانی نشوونما جلد کی صحت اور وٹامنز کے انجذاب میں معاون ہے۔ تاہم Fats کا کم مقدار میں استعمال صحت بخش ہے جبکہ اسے جو جسمانی خلیوں اور پٹھوں کی نشوونما ، جلد کی صحت کے لئے ضروری ہے۔ اس میں 88کیلوریز ہوتی ہیں جو توانائی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔

اپنے بیش قدر غذائی اجزا ء کی بدولت پستہ دل و دماغ کو قوت دیتا ہے۔ اس کے استعمال سے جسم توانا اور دانت و مسوڑھے مضبوط ہوتے ہیں۔ یہ حافظے کو تیز کرتا ہے۔ چونکہ پستہ قلب اور دماغ کے لئے طاقتور ہوتا ہے اس لئے اسے طب کی دواؤں میں بھی شامل کیا جاتا ہے۔ پستہ گردوں کے لئے بھی مفید ہے۔ جگر کی اصلاح کے لئے، دل کی گھبراہٹ اور خفقان وغیرہ کی کیفیات سے نجات کے لئے بھی اکسیر کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس چھوٹے سے مغز میں قدرت نے قوت کے خزانے چھپا رکھے ہیں۔ پستے کا حلوہ بھی بنایا جاتا ہے۔ اسے بلڈ پریشر کی کمی کے شکار افراد کے لئے بہت مفید قرار دیا جاتا ہے۔ اس کی ترکیب حسب ذیل ہے۔

اجزاء :۔ پستہ 50 گرام، چینی ایک پاؤ (دو کپ)، الائچی پیس لیں آٹھ عدد، انڈے تین عدد، گھی ایک پاؤ، کھویا ایک پاؤ، لونگ دو عدد، بادام 25گرام، زعفران یا کیوڑہ، کشمش حسب ذائقہ۔

ترکیب:۔ پستے کو پیس لیں۔ دو کپ پانی میں چینی ڈال کر شیرہ تیار کر لیں۔ ایک برتن میں گھی گرم کرکے لونگ الائچی ڈال کر ہلکا سا بھونیں پھر پستے ڈال دیں۔ انڈے پھینٹ کر تیار رکھیں وہ بھی پستے میں ڈال دیں ، اسی پستے والے برتن میں جب شیرہ جذب ہو جائے تو ساتھ ساتھ چمچہ چلائیں۔نیچے لگنے نہ پائے، پھر زعفران کیوڑہ ڈال کر اتار لیں۔ اب پلیٹ میں نکال کر اوپر سے بادام اور کشمش ڈالیں اور چاندی کا ورق لگا کر گرم گرم نوش فرمائیں۔

مونگ پھلی

اکثر مغزیات درختوں کے خشک پھل ہوتے ہیں جنہیں قدرت مضبوط خول اور چھلکوں میں بند کر دیتی ہے۔ مونگ پھلی جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے یہ ایک پھلی کے بیج ہوتے ہیں جو زمین کے اندر پید اہوتی ہے۔ اسی لئے لوگ اسے انگریزی میں ’’گراؤنڈنٹ‘‘ بھی کہتے ہیں۔ مونگ پھلی کا شمار اب مغزیات میں ہونے لگا ہے اور اس کی کاشت پاکستان میں بھی خوب ہونے لگی ہے۔ ویسے یہ سب سے زیادہ امریکہ میں کاشت ہوتی ہے اور کھائی جاتی ہے۔ یہاں 1890ء میں شہر سینٹ لوئی کے ایک ڈاکٹر نے اسے پیس کر اس میں نمک مرچ وغیرہ ملا کر ایک گاڑھی سی چٹنی تیار کی۔ جو ’’ پی نٹ بٹر‘‘ (مونگ پھلی کا مکھن) کہلائی اور اس وقت سے امریکہ میں اس کا استعمال بڑھتا ہی چلا گیا۔ امریکی توس اور بن پر اسے لگا کر مزے لے کر کھاتے ہیں۔ ہمارے یہاں مونگ پھلی کو زیادہ تر بھون کر تل کریا ابال کر کھایا جاتا ہے یا پھر اس کی مٹھائیاں بنائی جاتی ہیں ۔ جاڑوں میں گرم مونگ پھلی کھانے کا مزا ہی کچھ اور ہے۔

ایک سوگرام مونگ پھلی میں 26/9 گرام پروٹین 559 حرارے، 74 گرام کیلشیم 1/9 ملی گرام فولاد، حیاتین ’’ب‘‘ (تھایامین) اعشاریہ تین ملی گرام، رائبو فلاوین اور نایاسین کے علاوہ حیاتین ’’ہ‘‘ (ای) بھی ہوتا ہے۔ مونگ پھلی مقوی اعصاب ہوتی ہے۔ اس کے غذائی اجزاء سے جسم توانا ہوتا ہے۔ دبلے پن سے نجات اور وزن میں اضافے کے خواہشمندوں کے لئے اس کا استعمال بہت مفید ثابت ہوتا ہے ۔ لہٰذا موٹے افراد کو اس کا استعمال احتیاط سے کرنا چاہئے کیونکہ اس کے تیل کی کثرت سے وزن بڑھ سکتا ہے۔ مونگ پھلی بلڈپریشر کی کمی اور کمزوری کے شکار افراد کے لئے بھی بہت مفید ہوتی ہے۔

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 9 جنوری 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 11 جنوری 2020