• 16 جنوری, 2021

جو اسلام کی تعلیم ہے اس پر عمل کرنا ہے

ایک روایت میں آتا ہے آپؐ نے فرمایاکہ اس ذات کی قسم کہ جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں کہلا سکتا جب تک میں اسے اپنے والد اور اولاد سے زیادہ پیارا نہ ہو جاؤں (بخاری کتاب الایمان ) تو یہ معیار بتایا ہے دنیاوی رشتوں کی مثال دے کر کہ صرف پیروی کا دعویٰ ہی نہیں کرنا بلکہ یہ جو دنیاوی رشتے ہیں، والدین اور بچے، ان سب سے زیادہ مَیں تمہارا پیارا بنوں۔ مجھے تم سب سے زیادہ پیار کرنے والے بنو۔ صحابہ نے جن میں بچے بھی تھے بوڑھے بھی تھے جو ان بھی تھے انہوں نے اسی طرح قربانیاں دی ہیں اور اسی طرح پیار کیا ہے۔ بچوں نے اپنے والدین کو چھوڑنا گوارا کر لیا مگر آپ کا در نہ چھوڑا۔ پس آج ہمیں بھی وہی مثالیں قائم کرنی ہیں، ان شاء اللہ۔ جس طرح آپؐ نے فرمایا، جو اسلام کی تعلیم ہے، اس کو مانناہے، اس پر عمل کرنا ہے اور دنیا کی کوئی پرواہ نہیں کرنی۔ آپؐ کے لئے جو غیرت اور محبت اور عشق ہمارے دلوں میں ہونا چاہئے اس کے مقابلے میں ہر دوسری چیز اور ہر دوسرا رشتہ اور ہر قسم کی غیرت جو بھی ہو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہونی چاہئے۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو آنحضرتﷺ کی اتنی غیرت تھی کہ آپ معمولی سی زیادتی بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ آپ کو ایسی باتیں سن کر جس قدر غم اور تکلیف پہنچتی تھی وہ ناقابل بیان ہے۔ آپ ایسے شخص کی شکل بھی دیکھنا گوارا نہیں کرتے تھے جس نے آنحضرتﷺ کے متعلق کوئی نازیبا بات کی ہو۔ اور جب عیسائی مشنریوں نے آنحضرتﷺ کے خلاف بعض بہتان گھڑے اس زمانے میں تو آپ کی انتہائی کرب اور تکلیف کی کیفیت ہوتی تھی۔

(خطبہ جمعہ 10؍ دسمبر 2004ء بحوالہ alislam.org)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 9 جنوری 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 11 جنوری 2021