• 27 فروری, 2021

تقوٰی شعار لوگوں کی جماعت کا قیام (قسط اول)

تقوٰی شعار لوگوں کی جماعت کا قیام
قسط اول

خدائے رحیم وکریم نے بنی نوع انسان کو اس کے مقصدِ پیدائش کو یاد دلاتے رہنے کے لئے انبیاء ورسل کی بعثت کا سلسلہ جاری فرما رکھا ہے۔ ہر دور میں اللہ کے فرستادوں نے بندگانِ خدا کے دلوں میں نیکی و تقوٰی کی شمعیں روشن کیں۔ آنحضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے دورِ آخرین میں احیاءِ دین کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس مسیح موعود ؑ کو مبعوث فرمایا تو آپ نے بھی بأذنِ الٰہی تقوٰی شعار لوگوں کی جماعت کے قیام کے لئے 23مارچ 1889ء کو لدھیانہ میں حضرت صوفی احمد جان صاحبؓ کے ایک چھوٹے اور سادہ سے مکان پر بیعت کا آغاز فرمایا۔ ایک ایک کر کے پہلے ہی دن چالیس خوش نصیبوں کو اس طائفۂ متقین کا حصہ بننے کی سعادت حاصل ہوئی جن میں پہلا نمبر حضرت حکیم الامت الحا ج حافظ مولانا نورالدین بھیروی ؓکا تھا۔

بیعت کی غرض

حضرت اقدس بانی ٔ سلسلہ احمدیہ ؑ نے جس بیعت کا آغاز فرمایا اس کا مقصد کسی پارٹی، جتھہ یا فرقہ بندی کا قیام نہیں تھا بلکہ تقوٰی شعار لوگوں کو ایک عظیم مقصد کے لئے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا مقصود تھا جو اللہ کے اوامر ونواہی کی پابندی کا جذبہ رکھتے ہوں تا نیکی اور تقوٰی سے معمور یہ لوگ دوسروں کے لئے کشش اور ہدایت کا نیک اور اعلیٰ نمونہ ہوں۔ اسی غرض کو بیان کرتے ہوئے آپؑ نے فرمایا:
’’یہ سلسلہ بیعت محض بمرادفراہمی طائفہ متقین یعنی تقوٰی شعار لوگوں کی جماعت کے جمع کرنے کے لئے ہے۔ تا ایسے متقیوں کا ایک بھاری گروہ دنیا پر اپنا نیک اثر ڈالے ۔۔۔ اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ان کے لئے کہ جو داخلِ سلسلہ ہو کر صبر سے منتظر رہیں گے ایسا ہی ہو گا۔ کیونکہ خدا تعالیٰ نے اس گروہ کو اپنا جلال ظاہر کرنے کے لئے اور اپنی قدرت دکھانے کے لئے پیدا کرنا اور پھر ترقی دینا چاہا ہے تادنیا میں محبتِ الٰہی اور توبہ نصوح اور پاکیزگی اور حقیقی نیکی اور امن اور صلاحیت اور بنی نوع کی ہمدردی کو پھیلاوے۔ سو یہ گروہ اس کا ایک خالص گروہ ہو گا اور وہ انہیں آپ اپنی روح سے قوت دے گا۔ اور انہیں گندی زیست سے صاف کرے گا۔ اور ان کی زندگی میں ایک پاک تبدیلی بخشے گا۔‘‘

(مجموعۂ اشتہارات جلد اول ص164-165)

تقوٰی کی راہیں

جو لوگ بیعت کر کے آپؑ کی جماعت میں شامل ہو تے توریکارڈ کے لئے آپ ان کے نام ایک رجسٹر میں درج کرواتے جس کی پیشانی پر لکھا گیا تھا:

’’بیعتِ توبہ برائے حصولِ تقوٰی و طہارت‘‘

آپ نے بیعت کرنے والوں پر واضح فرمایا کہ نجات کے لئے صرف رسمی بیعت میں داخل ہونا اور آپ کو امام سمجھ لینا ہرگز کافی نہیں ہے بلکہ نجات کے لئے ضروری ہے کہ اللہ تبارک تعالیٰ کو وحدہٗ لاشریک، آنحضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیّین اورقرآن کریم کو خاتم الکتب یقین کیا جائے۔ نیز آپ نے انہیں مقصدِ بیعت یعنی تقوٰی کی راہوں پر گامزن کرنے کے لئے ارکانِ دین پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا:
’’سو اے وے تمام لوگو! جو اپنے تئیں میری جماعت شمار کرتے ہو۔ آسمان پر تم اس وقت میری جماعت شمار کئے جاؤ گے جب سچ مچ تقوٰی کی راہوں پر قدم مارو گے۔ سو اپنی پنجوقتہ نمازوں کو ایسے خوف اور حضور سے ادا کرو کہ گویا تم خدا تعالیٰ کو دیکھتے ہو۔ اور اپنے روزوں کو خدا کے لئے صدق کے ساتھ پورے کرو۔ ہر ایک جو زکوٰۃ کے لائق ہے وہ زکوٰۃ دے اور جس پر حج فرض ہوچکا ہے اور کوئی مانع نہیں وہ حج کرے۔ نیکی کو سنوار کر ادا کرو اور بدی کو بیزار ہو کر ترک کرو۔ یقیناً یاد رکھو کہ کوئی عمل خدا تک نہیں پہنچ سکتا جو تقوٰی سے خالی ہو۔ ہر ایک نیکی کی جڑ تقوٰی ہے۔ جس عمل میں یہ جڑ ضائع نہیں ہو گی وہ عمل بھی ضائع نہیں ہو گا۔ ضرور ہے کہ انواع رنج و مصیبت سے تمہارا امتحان بھی ہو جیسا کہ پہلے مومنوں کے امتحان ہوئے۔ سو خبر دار رہو ایسا نہ ہو کہ ٹھوکر کھاؤ۔ زمین تمہاراکچھ بھی بگاڑ نہیں سکتی اگر تمہارا آسمان سے پختہ تعلق ہو۔ جب کبھی تم اپنا نقصان کرو گے تو اپنے ہاتھوں سے، نہ دشمن کے ہاتھوں سے۔ اگر تمہاری زمینی عزت ساری جاتی رہے تو خدا تمہیں ایک لازوال عزت آسمان پر دے گا۔ سو تم اُس کو مت چھوڑو۔ اور ضرور ہے کہ تم دکھ دیئے جاؤ اور اپنی کئی امیدوں سے بے نصیب کئے جاؤ۔ سو ان صورتوں سے تم دلگیر مت ہو۔ کیونکہ تمہارا خدا تمہیں آزماتا ہے کہ تم اس کی راہ میں ثابت قدم ہو یا نہیں۔ اگر تم چاہتے ہو کہ آسمان پر فرشتے بھی تمہاری تعریف کریں تو تم ماریں کھاؤ اور خوش رہو۔ اور گالیاں سنو اور شکر کرو۔ اور ناکامیاں دیکھو اور پیوند مت توڑو۔ تم خدا کی آخری جماعت ہو سو وہ عملِ نیک دکھلاؤ جو اپنے کمال میں انتہائی درجہ پر ہو۔‘‘

(کشتیٔ نوح، روحانی خزائن جلد 19 ص 15)

حضرت اقدس مسیح موعودؑ کا یہ بھی طریق تھا کہ بیعت لینے کے بعد آپ صبر اور نیکی کی نصائح فرمایا کرتے تھے جس کا ایک نمونہ پیش ہے:
’’فتنہ کی کوئی بات نہ کرو،شر نہ پھیلاؤ، گالی پر صبر کرو، کسی کا مقابلہ نہ کرو، جو مقابلہ کرے اس سے بھی سلوک اور نیکی کے ساتھ پیش آؤ۔شیریں بیانی کا عمدہ نمونہ دکھلاؤ۔ سچے دل سے ہر ایک حکم کی اطاعت کرو کہ خدا راضی ہو جائے اور دشمن بھی جان لے کہ اب بیعت کر کے یہ شخص وہ نہیں رہا جو پہلے تھا۔ مقدمات میں سچی گواہی دو۔ اس سلسلہ میں داخل ہونے والے کو چاہئے کہ پورے دل، پوری ہمت اور ساری جان سے راستی کا پابند ہو جائے۔‘‘

(تاریخِ احمدیت جلد اول ص343)

بدی کے مقابلہ میں صبر

اللہ کے فرستادوں اور ان کے ماننے والوں سے دشمنانِ حق ٹھٹھاوہنسی کرتے اور انہیں استہزاء کا نشانہ بناتے ہیں۔ ایسا اس تسلسل سے ہوتا آرہا ہے کہ اب یہ صداقت کی ایک علامت بن چکا ہےکیونکہ کوئی بھی تو اللہ والا دنیا داروں کے شر سے محفوط نہ رہ سکا۔ جماعتِ احمدیہ کا بھی آغاز ہوتے ہی ہر طرف سے استہزاء، ہنسی، ٹھٹھا اور ایذارسانی وتکفیر بازی کا بازار گرم ہو گیا اور بیعت کی سعادت حاصل کرنے والے طرح طرح سے ستائے جانے لگے اور ان کا جینا دوبھر کر دیا گیا۔ ایسے حالات میں ضرورت تھی کہ امامِ وقت کی طرف سے اس نوزائیدہ جماعت کی رہنمائی کی جائے۔ چنانچہ آپؑ نے اپنی جماعت کے احباب کو نصیحۃً فرمایا:؎

گالیان سُن کر دعا دو، پاکے دُکھ آرام دو
کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھاؤ انکسار

’’میں اپنی جماعت کو چند لفظ بطور نصیحت کہتا ہوں کہ وہ طریقِ تقوٰی پر پنجہ مار کر یاوہ گوئی کے مقابلہ پریاوہ گوئی نہ کریں اور گالیوں کے مقابلہ پر گالیاں نہ دیں۔ وہ بہت کچھ ٹھٹھا اور ہنسی سنیں گے جیسا کہ وہ سن رہے ہیں۔ مگر چاہیے کہ وہ خاموش رہیں اور تقوٰی اور نیک بختی کے ساتھ خدائے تعالیٰ کے فیصلہ کی طرف نظر رکھیں۔ اگر وہ چاہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی نظر میں قابلِ تائید ہوں تو صلاح اور تقوٰی اور صبر کو ہاتھ سے نہ دیں ۔۔۔۔ ضرور ہے کہ نیک عمل اور راستبازی اور تقوٰی میں آگے قدم رکھو کہ خدا ان کوجو تقوٰی اختیار کرتے ہیں، ضائع نہیں کرتا ۔۔۔۔ سو اے دوستو! یقیناً سمجھو کہ متّقی کبھی برباد نہیں کیا جاتا۔ جب دو فریق آپس میں دشمنی کرتے ہیں اور خصومت کو انتہا تک پہنچاتے ہیں تو وہ فریق جو خدا تعالیٰ کی نظر میں متّقی اور پرہیز گار ہوتا ہے آسمان سے اس کے لئے مدد نازل ہوتی ہے۔ اور اس طرح پرآسمانی فیصلہ سے مذہبی جھگڑے اِنفصال پاتے ہیں۔ دیکھو ہمارے سیّد و مولیٰ نبیّنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیسی کمزوری کی حالت میں مکہ میں ظاہر ہوئے تھے اور ان دنوں میں ابو جہل وغیرہ کفار کا کیا عروج تھا۔ اور لاکھوں آدمی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنِ جانی ہو گئے تھے۔ تو پھر کیا چیز تھی جس نے انجامکار ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح اور ظفر بخشی۔ یقینا سمجھو کہ یہی راستبازی اور صدق اور پاک باطنی اور سچائی تھی۔ سو بھائیو! اس پر قدم مارو اور اس گھر میں بہت زور کے ساتھ داخل ہو۔ پھر عنقریب دیکھ لو گے کہ خدا تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا۔ وہ خدا جو آنکھوں سے پوشیدہ مگر سب چیزوں سے زیاد ہ چمک رہا ہے، جس کے جلال سے فرشتے بھی ڈرتے ہیں، وہ شوخی اور چالاکی کو پسند نہیں کرتا اور ڈرنے والوں پر رحم کرتا ہے۔ سو اس سے ڈرو اور ہر ایک بات سمجھ کر کہو۔ تم اس کی جماعت ہو جن کو اس نے نیکی کا نمونہ دکھانے کے لئے چنا ہے۔ سو جو شخص بدی نہیں چھوڑتا اوراس کے لب جھوٹ سے اور اس کا دل ناپاک خیالات سے پرہیز نہیں کرتا وہ اس جماعت سے کاٹاجائے گا۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات جلد دوم ص246-242)

تقوٰی، تدبیر اور دعا سے حاصل ہوتا ہے

سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود ؑنے صرف تقوٰی کی راہوں پر قدم مارنے کی تلقین کو کافی نہیں سمجھا بلکہ تقوٰی کی تعریف اور اس کے حصول کے ذرائع کی طرف رہنمائی کرتے ہوئے مضمون کو نہایت آسان فرما دیا جس سے منزلِ مقصود واضح ہو گئی۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں:
’’تقوٰی تو یہ ہے کہ باریک در باریک بلیدگی سے بچے اور اس کے حصول کا یہ طریق ہے کہ انسان ایسی کامل تدبیر کرے کہ گناہ کے کنارہ تک نہ پہنچے۔ اور پھر نری تدبیر ہی کو کافی نہ سمجھے بلکہ ایسی دعا کرے جو اس کا حق ہے کہ گداز ہو جاوے۔ بیٹھ کر، سجدہ میں، رکوع میں، قیام میں اور تہجد میں، غرض ہر حالت اور ہر وقت اسی فکر و دعا میں لگا رہے کہ اللہ تعالیٰ گناہ اور معصیت کی خباثت سے نجات بخشے۔ اس سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں ہے کہ انسان گناہ اور معصیت سے محفوظ اور معصوم ہو جاوے اور خدا تعالیٰ کی نظر میں راست باز اور صادق ٹھہر جاوے۔

لیکن یہ نعمت نہ تو نری تدبیر سے حاصل ہوتی ہے اور نہ نری دعا سے۔ بلکہ یہ دعا اورتدبیر دونوں کے کامل اتحاد سے حاصل ہو سکتی ہے۔ جوشخص نری دعا ہی کرتا ہے اور تدبیر نہیں کرتا وہ شخص گناہ کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کو آزماتا ہے۔ ایسا ہی جو نری تدبیر کرتا ہے اور دعا نہیں کرتا وہ بھی شوخی کرتا ہے اور خدا تعالیٰ سے استغنا ظاہر کر کے اپنی تجویز اور تدبیر اور زورِ بازو سے نیکی حاصل کرنا چاہتا ہے لیکن مومن اور سچے مسلمان کا یہ شیوہ نہیں، وہ تدبیر اور دعا دونوں سے کام لیتا ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد سوم ص 680)

نیز متقی بننے کے واسطے چند مزید اوامر ونواہی کی پابندی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا
’’متقی بننے کے واسطے یہ ضروری ہے کہ بعد اس کے کہ موٹی باتوں جیسے زنا، چوری، تلفِ حقوق، ریا، عُجب، حقارت، بخل کے ترک میں پکا ہو تو اخلاقِ رذیلہ سے پرہیز کرکے ان کے بالمقابل اخلاقِ فاضلہ میں ترقی کرے۔ لوگوں سے مروّت، خوش خلقی، ہمدردی سے پیش آوے۔ خدا تعالیٰ کے ساتھ سچی وفا اور صدق دکھاوے۔ خدمات کے مقامِ محمود تلاش کرے۔ ان باتوں سے انسان متقی کہلاتا ہے۔ اور جو لوگ ان باتوں کے جامع ہوتے ہیں وہی اصل متقی ہوتے ہیں۔ یعنی اگر ایک ایک خُلق فرداً فرداًکسی میں ہوں تو اسے متقی نہ کہیں گے جب تک بحیثیت مجموعی اخلاقِ فاضلہ اس میں نہ ہوں۔‘‘

(ملفوظات جلد دوم ص680)

خدا سے ڈرتے رہو

سیدنا حضرت بانی سلسلہ احمدیہ جو مخلوق کا اس کے خالق اور معبودِ حقیقی سے تعلق جوڑنے کے لئے مبعوث ہوئے تھے، آپ نے اپنے ماننے والوں کو صرف خدا سے ڈرنے اور اسی سے لَو لگانے کی تلقین کی اوران پر آشکار فرما دیا کہ دنیا اور دنیا کی لعنتیں بے حقیقت اور عارضی ہیں جو مؤمنین کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتیں۔چنانچہ آپ خوفِ خدا کی نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’خدا سے ڈرتے رہو اور تقوٰی اختیار کرو اور مخلوق کی پرستش نہ کرو اور اپنے مولیٰ کی طرف منقطع ہو جاؤ اور دنیا سے دل برداشتہ رہو اور اسی کے ہو جاؤ اور اسی کے لئے زندگی بسر کرو اور اسی کے لئے ہر ایک ناپاکی اور گناہ سے نفرت کرو کیونکہ وہ پاک ہے۔چاہئے کہ ہر صبح تمہارے لئے گواہی دے کہ تم نے تقوٰی سے رات بسر کی اور ہر ایک شام تمہارے لئے گواہی دے کہ تم نے ڈرتے ڈرتے دن بسر کیا۔دنیا کی لعنتوں سے مت ڈرو کہ وہ دھویں کی طرح دیکھتے دیکھتے غائب ہو جاتی ہیں اور وہ دن کو رات نہیں کر سکتیں۔ بلکہ خدا کی لعنت سے ڈرو جو آسمان سے نازل ہوتی ہے، اور جس پر پڑتی ہے اُس کی دونوں جہانوں میں بیخ کنی کر جاتی ہے۔‘‘

(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد19 ص12)

جماعت متقی بن جائے

سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود ؑکا بیعت لینے کا مقصد ہی تقوٰی شعار لوگوں کی جماعت قائم کرنا تھا۔ اس لئے آپ دن رات اس مقصد کے حصول کی فکر میں رہتے تھے کہ کس طرح آپ کے ذریعہ قائم ہونے والی جماعت تقوٰی و پارسائی پر قائم ہو جائے۔ اس کے لئے آپ نے درد مندانہ دعائیں کیں، درس وتدریس، وعظ ونصیحت اور اپنے عملی نمونہ سے مثالیں قائم کیں تا آپ کے متبعین آپ کے قول وفعل کو دیکھتے ہوئے آسانی کے ساتھ تقوٰی اللہ پر گامزن ہو جائیں اور دورِ حاضر میں دینی ذمہ داریوں کو اُٹھانے کے قابل ہو سکیں۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں:
’’اس سے میرے دل میں بڑا درد پیدا ہوتا ہے کہ میں کیا کروں کہ ہماری جماعت سچا تقوٰی و طہارت اختیار کر لے۔ میں اتنی دعا کرتا ہوں کہ دعا کرتے کرتے ضعف کا غلبہ ہو جاتا ہے اور بعض اوقات غشی اور ہلاکت تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ جبتک کوئی جماعت خدا تعالیٰ کی نگاہ میں متقی نہ بن جائے، خدا تعالیٰ کی نصرت اُس کے شاملِ حال نہیں ہو سکتی۔ تقوٰی خلاصہ ہے تمام صحفِ مقدسہ اور توریت و انجیل کی تعلیمات کا۔قرآن کریم نے ایک ہی لفظ میں خدا تعالیٰ کی عظیم الشان مرضی اور پوری رضا کا اظہار کر دیا ہے۔میں اس فکر میں بھی ہوں کہ اپنی جماعت میں سے سچّے متقیوں، دین کو دنیا پر مقدم کرنے والوں اور منقطعین ا لیٰ اللہ کو الگ کروں اور بعض دینی کام ان کے سپرد کروں۔ اور پھر میں دنیا کے ہم و غم میں مبتلا رہنے والوں اور رات دن مردار دنیا ہی کی طلب میں جان کھپانے والوں کی کچھ پرواہ نہ کروں گا۔‘‘

(ملفوظات جلد اول ص200)

تقوٰی و طہارت میں ترقی کا جائزہ

ایک بار تقوٰی کے حاصل ہو جانے پر مطمئن ہو کر بیٹھ نہیں جانا چاہئے بلکہ اپنے تقوٰی و طہارت کا جائزہ لیتے رہنا چاہئے، تا اس روحانی حالت میں ترقی ہوتی رہے۔ جس کا اندازہ احوال کے جائزہ سے ہوتا ہے۔ انسان کا حال اس کے تقوٰی کا آئینہ ہوتا ہے۔ اسی محاسبہءِ نفس کی طرف توجہ دلاتے ہوئے سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں:
’’ہمیشہ دیکھنا چاہئے کہ ہم نے تقوٰی و طہارت میں کہاں تک ترقی کی ہے۔ اس کا معیار قرآن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے متقی کے نشانوں میں ایک یہ بھی نشان رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ متقی کو مکروہاتِ دنیا سے آزاد کر کے اس کے کاموں کا خود متکفل ہو جاتا ہے۔جیسا کہ فرمایا: وَمَنْ ْیَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجاًo وَّ یَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَایَحْتَسِبُo (الطلاق: 3۔4) جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، اللہ تعالیٰ ہر ایک مصیبت میں اس کے لئے راستہ مخلصی کا نکال دیتا ہے اور اس کے لئے ایسے روزی کے سامان پیدا کر دیتا ہے کہ اس کے علم وگمان میں نہ ہوں۔ یعنی یہ بھی ایک علامت متقی کی ہے کہ اللہ تعالیٰ متقی کو نابکار ضرورتوں کا محتاج نہیں کرتا۔ مثلاً ایک دوکاندار خیال کرتا ہے کہ دروغگوئی کے سوا اُس کا کام نہیں چل سکتا اس لئے دروغگوئی سے باز نہیں آتا اور جھوٹ بولنے کے لئے وہ مجبوری ظاہر کرتا ہے۔ لیکن یہ امر ہر گز سچ نہیں۔ خدا تعالیٰ متقی کا خود محافظ ہو جاتا اور اسے ایسے مواقع سے بچا لیتاہے جو خلافِ حق پر مجبور کرنے والے ہوں۔ یاد رکھو جب اللہ تعالیٰ کو کسی نے چھوڑا تو خدا نے اسے چھوڑ دیا۔ جب رحمان نے چھوڑ دیا تو ضرور شیطان اپنا رشتہ جوڑے گا۔‘‘

(ملفوظات جلد اول ص8)

(جاری ہے)

(از ابن الشریف)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 فروری 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 11 فروری 2021