• 19 اپریل, 2021

تری قُربت کی کوشش ،بندگی معلوم ہوتی ہے

تری قُربت کی کوشش ،بندگی معلوم ہوتی ہے
وصالِ یار میں ہی زندگی معلوم ہوتی ہے
جو گزرے ایک لمحہ بھی ،تری یادوں سے دُوری پر
مُجھے ہر اس گھڑی میں بے کلی معلوم ہوتی ہے
تغزّل ہو، تبسّم ہو ترے آنے کی خوشبو ہو
مرا یوں چونک جانا عاشقی معلوم ہوتی ہے
ہوئی روشن ترے دم سے مرے افکار کی دُنیا
وگرنہ سوچ کی ساری کجی معلوم ہوتی ہے
رواں دُنیا ، ہیں گردش میں سبھی افلاک کے باسی
ٹھہر جاؤں اگر میں، سر کشی معلوم ہوتی ہے
مُجھے تو امتحاں لگتی ہے ساری زندگی پیارے
اسے یہ زندگی کیوں دل لگی معلوم ہوتی ہے
غمِ ہجراں، شبِ تاریک ہے اور میری تنہائی
یہ سجدہ ریز ہو نے کی گھڑی معلوم ہوتی ہے
بہاروں میں خزاں کے پھول کب تک کھلتے رہتے ہیں
جو شبنم ہے گُلوں پر عارضی معلوم ہوتی ہے
تجھے طارق کہاں تک زندگی نے آزمانا ہے
کہ اب جاتی تری افسردگی معلوم ہوتی ہے

(ڈاکٹر طارق انور باجوہ۔ لندن)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 مارچ 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 11 مارچ 2021