• 18 جولائی, 2024

انجام بخیر

جب بھی بچپن میں جلسہ سالانہ کے ایام کے دوران ربوہ کی پاک بستی میں جانے کا موقع ملتا تو روحانی سکون تو اس بستی کا خاصہ تھا ہی لیکن ساتھ ہی وہ درویش صفت، سادہ لوح، عاجزی کے پیکر فرشتہ بزرگ صالحین کی صحبت بھی میسر آجاتی۔ایک عجیب طمانیت قلب سےمالا مال تھےوہ پاک وجود جو ان کے چہرے سے عیاں ہوتا۔ اباجان جب بھی ہماری ان بزرگوں سے ملاقات کروانے لے جاتے تو سب میں ایک ہی خاص بات دیکھنے کو ملتی۔ وہ سب بزرگ ہستیاں انجام بخیر کے لئے دعا کرتی اور کرواتیں۔بیٹا ہمارے انجام بخیر کی دعا کیا کرو۔ ہم دعا کے لئے ان بزرگوں کو خطوط لکھتے تو جوابی خط میں ایک آخری فقرہ ضرور لکھا ہوتا۔ہمارےانجام بخیر کی دعا کیا کریں۔اس زمانے میں میں تو اس فقرے کی سمجھ نہیں آتی تھی کہ یہ آخر خدا کے اتنے پیارے نیک بزرگ ہم بچے ان کو اپنی دنیاوی امتحانات میں کامیابی کے لئے دعا کی درخواست کرتے ہیں یہ ہم سے انجام بخیر کی دعا کیوں کرواتے ہیں۔ اب عمر کے اس دور میں پہنچ کر ان بزرگوں کے وہ الفاظ یاد آئے اور یہ راز کھلاکہ اصل دعا تو ہے ہی یہی۔ انجام بخیر کی دعا۔ ہماری ساری زندگی کی دعاؤں کا نچوڑ۔

کسی نے حضور انور کے ساتھہ ہالینڈ کے خدام کی ورچوئل ملاقات مورخہ 30اگست 2020ء کا ویڈیو کلپ بھیجا۔جس میں ایک خادم نے سوال کیا کہ ہمیں کس طرح معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ ہم سے راضی ہے۔ حضور انور نے جو جواب دیا اس کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کا مقصد انسانوں کو حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے کی طرف توجہ دلانا ہے۔ جب یہ دونوں کام ہم بغیر کسی غرض کے کرلیں گے تو سمجھیں کہ خدا ہم سے راضی ہو رہا ہے۔ پھر یہ دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ان نیکیوں کو مستقل بجا لانے کی توفیق عطا فرمائے۔ یہ عارضی نیکیاں نہ ہوں اس کا انجام بخیر بھی ہو۔ زندگی کے آخری وقت تک یہ نیکیاں کرتے رہیں۔ بہت سے انسان آخری عمر میں یہ نیکیاں چھوڑ بیٹھتے ہیں اور ان کی تمام عمر بھر کی کمائی ہوئی نیکیاں بھی ضائع ہوجاتی ہیں۔ ہمارا کام ہے ان نیکیوں کو مستقل مزاجی سے ادا کرتے رہیں اور انجام بخیر کی دعا کرتے رہیں۔ حضور انور نے جو یہ نصیحت فرمائی ہے آج کے ابتلاؤں کے دور میں اس پر عمل کرنے سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ آخر میں کس کروٹ گریں گے۔

ثبات قدم

اب حضرت اقدس محمد ﷺ جو تمام انسانوں کے لئے ثبات کا نمونہ تھےآپ ﷺ کے عجز و انکسا ر کا یہ عالم ہے کہ ا کثر یہ دعا مانگا کرتے تھے کہ اے خدا! مجھے ثبات بخشنا

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا تعجب سے پوچھا کرتی تھیں کہ
یارسول اللہ ! آپ یہ دعا کیوں مانگتے ہیں۔ آپ نےہاتھ کی انگلیوں سے اشارہ کر کے فرمایا دیکھو دل خدا تعالیٰ کی دو انگلیوں کے درمیان میں ہے۔ جب چاہے ان کو یوں پلٹ دے اور جب چاہے یوں پلٹ دے۔

کسی انسان کا کسی بھی چیز پر کوئی اختیار نہیں ہے۔

حقیقی مالک صرف اللہ ہے جس کے قبضہ قدرت میں ہمارا دل بھی ہے۔جب وہ دل بدل دے تو انسان ایک لمحہ میں کچھ کاکچھ ہو جاتا ہے

بڑے بڑے نیک بزرگ انسان بھی بعض دفعہ مرتد اور ناشکرے ہو کر مرتے ہیں اور اس کے برعکس ساری عمر گناہوں میں زندگی گزارنے والے انسانوں کا دل خدا تعالیٰ اس طرح بدل دیتا ہے کہ ان کی زندگی میں انقلاب برپا ہو جاتا ہے اور یہ انقلاب ان کی ساری بدیوں کو یوں کھاجاتا ہے کہ کبھی ان کا وجود ہی نہ رہا ہو۔گویا ایک قیامت صغری ٰ تھی جو ان کے دلوں میں برپا ہوئی۔پہلےسارے اعمال مٹ جاتے ہیں اور ایک نیا وجود ابھرتا ہے۔

حضور انور نے سال نو کے آغاز پر جو دعائیں کرنے کی تحریک فرمائی ان دعاؤں میں یہی پیغام ہے کہ ثبات قدم کی فکر کی جائے۔

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ہَدَیْتَنَا وَہَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً اِنَّکَ اَنْتَ الْوَہَّابُ۔

(آل عمران: 9)

اے ہمارے رب! ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ ہونے دے بعد اس کے کہ تُو ہمیں ہدایت دے چکا ہو اور ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا کر۔ یقیناً تو ہی بہت عطا کرنے والا ہے۔ پھر یہ بھی دعا پڑھیں

رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَاِسْرَافَنَا فِیْٓ اَمْرِنَا وَثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ۔

(آل عمران:148)

کہ اے ہمارے رب! ہمارے گناہ بخش دے اور اپنے معاملے میں ہماری زیادتی بھی اور ہمارے قدموں کو ثبات بخش اور ہمیں کافر قوم کے خلاف نصرت عطا کر۔

تقریر حضرت مسیح موعودؑ

جو کہ آپ نے29؍دسمبر 1904ء کو سالانہ جلسہ کی تقریب پر بعد نماز ظہر مسجد اقصیٰ میں فرمائی

خاتمہ بالخیر ہو

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ
’’میری طرف سے اپنی جماعت کو بار بار وہی نصیحت ہے جو میں پہلے بھی کئی دفعہ کر چکا ہوں کہ عمر چونکہ تھوڑی اور عظیم الشّان کام درپیش ہے اس لئے کوشش کرنی چاہیئے کہ خاتمہ بالخیر ہو جاوے‘‘

(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 197)

تقسیم عمر

’’خاتمہ بالخیر ایسا امر ہے کہ اس کی راہ میں بہت سے کانٹے ہیں۔ جب انسان دنیا میں آتا ہے تو کچھ زمانہ اس کا بے ہوشی میں گذر جاتا ہے۔ یہ بے ہوشی کا زمانہ وہ ہے جبکہ وہ بچّہ ہوتا ہے اور اس کو دنیا اور اس کے حالات سے کوئی خبر نہیں ہوتی۔ اس کے بعد جب ہوش سنبھالتا ہے تو ایک ایسا زمانہ آتا ہے کہ وہ بے ہوشی تو نہیں ہوتی۔ جو بچپن میں تھی لیکن جوانی کی ایک مستی ہوتی ہے جو اس ہوش کے دنوں میں بھی بے ہوشی پیدا کر دیتی ہے اور کچھ ایسا از خود رفتہ ہوجاتا ہے کہ نفس امّارہ غالب آجاتا ہے۔ اس کے بعد پھر تیسرا زمانہ آتا ہےکہ علم کے بعد پھر لا علمی آجاتی ہے اور حواس میں اور دوسرے قویٰ میں فتور آنے لگتا ہے۔ یہ پیرانہ سالی کا زمانہ ہے۔ بہت سے لوگ اس زمانہ میں بالکل حواس باختہ ہو جاتے ہیں اور قویٰ بیکار ہو جاتے ہیں۔ اکثر لوگوں میں جنوں کا مادہ پیدا ہو جاتا ہے۔ ایسے بہت سے خاندان ہیں کہ ان میں 60 یا 70 سال کے بعد انسان کے حواس میں فتور آجاتا ہے۔ غرض اگر ایسا نہ بھی ہو تو بھی قویٰ کی کمزوری اور طاقتوں کے ضائع ہو جانے سے انسان ہوش میں بے ہوش ہوتا ہے اور ضعف وتکاہل اپنا اثر کرنے لگتا ہے۔ انسان کی عمر کی تقسیم انہیں تین زمانوں پر ہے اور یہ تینوں ہی خطرات اور مشکلات میں ہیں۔ پس اندازہ کرو کہ خاتمہ بالخیر کے لئے کس قدر مشکل مرحلہ ہے۔‘‘

آپ علیہ السلام نے خاتمہ بالخیر کے حصول کے ذرائع بھی ہمیں اسی تقریر میں بتائے۔اور ان مشکل مراحل سے گذرنے کا حل بھی۔

آپ فرماتے ہیں

اوّل تدبیر کرو

’’اس مقصد کے حاصل کرنے کے واسطے (جیسا کہ میں پہلے کئی مرتبہ بیان کر چکا ہوں) اول ضروری ہے کہ انسان دیدہ دانستہ اپنے آپ کو گناہ کے گڑھے میں نہ ڈالے ورنہ وہ ضرور ہلاک ہو گا۔ جوشخص دیدہ دانستہ بد راہ اختیار کرتا ہے یا کنوئیں میں گرتا ہے اور زہر کھاتا ہے وہ یقینا ہلاک ہو گا۔ ایسا شخص نہ دنیا کے نزدیک اور نہ اﷲ تعالیٰ کے نزدیک قابلِ رحم ٹھہرسکتا ہے اس لئے یہ ضروری اور بہت ضروری ہے خصوصاً ہماری جماعت کے لئے (جس کو اﷲ تعالیٰ نمونہ کے طور پر انتخاب کرتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ آنے والی نسلوں کے لئے ایک نمونہ ٹھہرے) کہ جہانتک ممکن ہے بد صحبتوں اور بد عادتوں سے پرہیز کریں۔ اور اپنے آپ کو نیکی کی طرف لگائیں۔ اس مقصد کے حاصل کرنے کے واسطے جہانتک تدبیر کا حق ہے تدبیر کرنی چاہیئے اور کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرنا چاہیئے۔

یاد رکھو تدبیر بھی ایک مخفی عبادت ہے اس کو حقیر مت سمجھو۔ اسی سے وہ راہ کھُل جاتی ہے جو بدیوں سے نجات پانے کی راہ ہے۔ جو لوگ بدیوں سے بچنے کی تجویز اور تدبیر نہیں کرتے ہیں وہ گویا بدیوں پر راضی ہو جاتے ہیں اور اس طرح پر خدا تعالیٰ اُن سے الگ ہو جاتا ہے۔

میں سچ کہتا ہوں کہ جب انسان نفس امارہ کے پنجہ میں گرفتار ہونے کے باوجود بھی تدبیروں میں لگا ہوا ہوتا ہے تو اس کا نفس امّارہ خد اتعالیٰ کے نزدیک لوّامہ ہو جاتا ہے اور ایسی قابلِ قدر تبدیلی پا لیتا ہے کہ یا تو وہ امّارہ تھا جو لعنت کے قابل تھا اور یا تدبیر اور تجویز کرنے سے وہی قابلِ لعنت نفس امّارہ نفس لوّامہ ہو جاتا ہے جس کو یہ شرف حاصل ہے کہ خدا تعالیٰ بھی اس کی قسم کھاتا ہے۔ یہ کوئی چھوٹا شرف نہیں ہے۔ پس حقیقی تقویٰ اور طہارت کے حاصل کرنے کے واسطے اوّل یہ ضروری شرط ہے کہ جہاں تک بس چلے اور ممکن ہو تدبیر کرو اور بدی سے بچنے کی کوشِش کرو۔ بد عادتوں اور بد صحبتوں کو ترک کر دو۔ ان مقامات کو چھوڑ دو جو اس قسم کی تحریکوں کا موجب ہو سکیں جس قدر دنیا میں تدبیر کی راہ کھُلی ہے اس قدر کوشش کرو اور اس سے نہ تھکو نہ ہٹو۔‘‘

دُوسرا طریق دُعا ہے

’’دوسرا طریق حقیقی پاکیزگی کے حاصل کرنے اور خاتمہ بالخیر کے لئے جو خدا تعالیٰ نے سکھایا ہے وہ دعا ہے اس لئے جس قدر ہو سکے دُعا کرو۔ یہ طریق بھی اعلیٰ درجہ کا مجرّب اور مفید ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے خود وعدہ فرمایا ہے۔ اُدْعُونِی اَسْتَجِبْ لَکُم۔

(المومن:61)

تم مجھ سے دعا کرو میں تمہارے لئے قبول کروں گا۔ دعا ہی ایک ایسی چیز ہے جس کے ساتھ مسلمانوں کو فخر کرنا چاہیئے۔ دوسری قوموں کو دعا کی کوئی قدر نہیں اور نہ انہیں اس پاک طریق پر کوئی فخر اور ناز ہو سکتاہے۔‘‘

تیسرا پہلو صحبت صادقین ہے

’’تیسرا پہلو جو قرآن سے ثابت ہے وہ صحبت صادقین ہے۔ چنانچہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کُونُوا مَعَ الصّٰدِقِینَ

(التوبہ: 119)

یعنی صادقوں کے ساتھ رہو۔ صادقوں کی صحبت میں ایک خاص اثر ہوتا ہے۔ ان کا نور صدق و استقلال دُوسروں پر اثر ڈالتا ہے اور اُن کی کمزوریوں کو دُور کرنے میں مدد دیتا ہے۔

یہ تین ذریعے ہیں جو ایمان کو شیطان کے حملوں سے محفوظ رکھتے ہیں اور اُسے طاقت دیتے ہیں اور جب تک ان ذرائع سے انسان فائدہ نہیں اُٹھاتا اس وقت تک اندیشہ رہتا ہے کہ شیطان اس پر حملہ کر کے اس کے متاعِ ایمان کو چھین نہ لے جاوے اسی لئے بہت بڑی ضرورت اس امر کی ہے کہ مضبوطی کے ساتھ اپنے قدم کو رکھا جاوے اور ہر طرح سے شیطانی حملوں سے احتیاط کی جاوے۔ جو شخص ان تینوں ہتھیاروں سے اپنے آپ کو مسلح نہیں کرتا ہے مجھے اندیشہ ہے کہ وہ کسی اتفاقی حملہ سے نقصان اُٹھاوے۔‘‘

(ملفوظات جلد7 صفحہ269 ایڈیشن 1984ء)

حرف آخر

ان بزرگوں ہستیوں کا جن کا ذکر خاکسار نے آغاز میں کیا جو ہر وقت انجام بخیر کی دعائیں مانگتے ہوئے نفس مطمئنہ لئے اس دنیا سے رخصت ہوئے۔یہی وہ دعائیں تھیں جس کے طفیل خدا تعالیٰ کے فضل سے ان کا یہ نیک انجام ہوا کہ خدا تعالیٰ ان سے راضی ہوا اور وہ خدا تعالیٰ سے راضی ہوئے۔ کاش کہ ایسا انجام ہمیں بھی نصیب ہو۔اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو۔ آمین

(خالد محمود شرما۔کینیڈا)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 مارچ 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ