• 19 مئی, 2024

آداب معاشرت (دعوت کے آداب) (قسط 12)

آداب معاشرت
دعوت کے آداب
قسط 12

پارٹیاں اور دعوتی جلسے ہماری معاشرت کا ایک اہم حصہ ہیں۔ محلہ داری کا بھی یہ اہم فريضہ ہے کہ انسان وقتاًفوقتاًدعوتوں کے سامان پیدا کرے کیونکہ آنحضرت ﷺ نے اسے محبت بڑھانے کا ذریعہ قراردیا ہے۔ دعوتی جلسوں کا قیام اسلامی تمدن پر گہرا اثر ڈالتا اور معاشرہ کی بھی احسن رنگ میں تکمیل ہوتی ہے ۔ اس لئے دین نے دعوتوں اور تقاریب کے لئے بھی آداب سکھائے تاکہ انسان ان آداب پر عمل پیرا ہو کر اپنی دعوتوں کوحقیقی رنگ میں خوشیوں کی تقاریب بنا سکے۔ دعوتوں کے آداب مندرجہ ذیل ہیں۔

جب کوئی شخص دعوت پر بلائے تو اس کی دعوت کوقبول کرنا چاہیے کیونکہ دعوت کا قبول کرنا انسان کی باہمی محبت کی علامت ہے اور آپس میں پیار کے اظہارکی نشانی ہے ۔ بِن بُلائے دعوت میں شریک نہیں ہونا چاہئے ۔ دعوت کے لغوی معنی ہی بُلانے اورپکارنے کے ہیں ۔ اگر کوئی شخص دعوت پرجاتے ہوئے ساتھ ہولے توپھر صاحب خانہ سے اس کے لئے اجازت طلب کی جائے ۔ دعوت کے لئے وقت پرجانا چاہئے ۔پہلے جاکر بیٹھنا نامناسب ہے کیونکہ اہل خانہ کو اس سے پریشانی اُٹھانی پڑتی ہے ۔ وہ آپ کو اپنی پوری توجہ اوروقت نہیں دے سکتا اور بجائے محبت بڑھنے کے مغائرت کا احساس دلوں پر غالب آنے لگتا ہے ۔ قرآنی حکم کے مطابق کہ اپنے عزیز وں اور دوستوں کو سلام کہو ۔ سلام کرنا چاہئے اور مصافحہ کرنا چاہئے ۔ سلام کہنابہت بڑی نیکی ہے اور پاکیزہ دعاہے۔ اور اخوّت دینی کے قیام کے لئے ضروری ہے کہ دعوتوں اورتقاریب میں آپس میں سلام اور مصافحہ کو رواج دیاجائے ۔

ہاتھ دھو کر اوربسم اللّٰہ پڑھ کر کھانا کھایا جائے اور کھاتے وقت صفائی کا خاص خیال رکھاجائے ۔ کھانے میں نقص نہ نکالے جائیں اور نہ ہی مذمت کی جائے ۔ رسول کریمﷺ دستر خوان پر جو کھانا آتا اگر ناپسند ہوتا تواس میں ہاتھ نہ ڈالتے لیکن اس کو بُرا نہ کہتے ۔ مُنہ میں لُقمہ ہوتو باتیں نہیں کرنی چاہئے۔کھانے کی میز پر اگر بزرگ بیٹھے ہوں توکھانے میں جلدی نہیں کرنی چاہئے بلکہ جب تک وہ کھانا شروع نہ کریں باقیوں کو کھانا شروع نہیں کرنا چاہئے۔ جب کوئی شخص کھانے کی دعوت دے اور پھر خود کسی کا م میں مشغول ہوجائے تو بُرا نہیں منانا چاہئے کہ وہ ہمارے پاس کیوں آکر نہیں بیٹھا ۔ایک میز سے، ایک دستر خوان سے کھانا دوسرے دستر خوان یا میز تک اُٹھاکر نہیں دیناچاہئے۔ کھانا آنے پر بے صبر ی ، جلدی بازی اورحرص کا مظاہر ہ نہیں کرنا چاہئے بلکہ بڑے وقارکے ساتھ مہذبانہ طریق سے کھانا کھانا چاہئے ۔ اور نہ ہی کھاتے وقت منہ سے آوازیں نکالنی چاہئیں ۔ کیونکہ اس سے دوسرے شخص کو کوفت ہوتی ہے ۔ جب کسی دعو ت میں جائیں تواپنے نزدیک اورسامنے کے کھانے سے حصہ لیناچاہئے۔ حضور اکرمﷺجوسالن سامنے ہوتا اُسی میں ہاتھ ڈالتے اِدھر اُدھر ہاتھ نہ بڑھاتے تھے اوراس سے اوروں کو بھی منع فرماتے تھے ۔ اورفرماتے کُل مِمَّایَلیکَ کہ تیرے سامنے ہے اُسے کھا۔ دعوت میں کوئی ایسی حرکت نہیں کرنی چاہئے جس سے دوسروں کو گھن آئے ۔آنحضرت ﷺ ڈکار کو ناپسند فرماتے تھے کہ اتنا زیادہ کیوں کھا جاتے ہو۔ دعوتوں میں کھانے کو ضائع نہ کریں اپنی پلیٹ میں اتنا ہی ڈالیں جتنی آپ کو کھانے کی چاہت ہے اور پھر اپنی پلیٹ کو صاف کریں اس میں کھانا نہ بچائیں۔

کھانے سے فارغ ہونے کے بعد الحمدللّٰہ پڑھنی چاہئے اور صاحب خانہ کے لئے دعا کرنی چاہئے۔ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد دیر تک وہاں نہیں بیٹھنا چاہئے بلکہ صاحب خانہ سے اجازت لے کر جلد واپس چلے جانا چاہئے ۔ صاحب خانہ جھجک کی وجہ سے تم سے واپس چلے جانے کا نہیں کہتا۔امیر لوگ جب دعوت کریں تو انہیں غریب شخص کو بھی دعوت میں لازماً بلانا چاہئے۔ رسول کریم ﷺ فرماتے تھے سب سے بدترین دعوت وہ ہے جس میں امیر لوگوں کو بلایا جائے اور غریبوں کو نظر انداز کر دیا جائے۔ (بخاری) اگر کوئی غریب شخص دعوت کرے اور وہ امراء کو بلائے تو امراء پر لازم ہے کہ وہ اس کی دعوت میں شریک ہوں۔ اگر وہ امیر ،غریب کی غربت کی وجہ سے دعوت کو ردّ کر دے تو ایسا شخص خدا اور اس کے رسول کا نافرمان شمار ہو گا۔ دعوتوں میں اپنے ہمسایوں کو بھی ضرور بلانا چاہئے ۔ انہیں اپنی خوشیوں میں ضرور شریک کرنا چاہئے۔ حضور اکرم ﷺ فرماتے ہیں کہ قرابت نوازی، حسن خلق اور خوشگوار ہمسائیگی سے بستیاں آباد ہوتی ہیں اور عمریں دراز ہوتی ہیں۔ (کنز العمال) دعوتوں میں تکلف اور اسراف سے کام نہیں لینا چاہئے ۔ کیونکہ اسراف کرنا شیخی ہے۔

پس دعوتیں خدا تعالیٰ کی برکتوں کی سبیل ہیں۔ اپنی جسمانی صحت کی حفاظت کے ساتھ ساتھ روحانی صحت کا خاص خیال رکھیں۔ حرام اور منہیات سے بچتے ہوئے ہمیشہ حلال و طیّب غذاؤں کا استعمال کریں تا اخلاق بھی پاکیزہ ہو جائیں۔

(حنیف محمود کے قلم سے)

پچھلا پڑھیں

شکریہ احباب برائےقرارداد ہائے تعزیت بر شہادت شہدائے مہدی آباد برکینا فاسو

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 11 مارچ 2023