• 20 ستمبر, 2020

حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی عمر کے متعلق جدید تحقیق

حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی عمر کے متعلق جدید تحقیق
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق قارئین
’’اس کے مطابق درستی کر لیں‘‘

ضروری نوٹ:۔ روزنامہ ’’گلدستہ علم وادب‘‘ لندن کی مورخہ 13جنوری 2020ء کی اشاعت میں حضرت حکیم الامت مولوی نور الدین خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کی سیرت و سوانح پر ایک مضمون شائع ہوا۔ جس میں جماعت احمدیہ میں شائع شدہ کتب کے مطابق حضورؓ کی عمر 74 سال اور آپ کی پیدائش 1841ء درج تھی۔ یہ مضمون سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کی نظروں سے گزرا تو آپ نے جماعت کے ایک ادارہ کو تحقیق کرنے کی ہدایت فرمائی۔ اس ادارہ کے انچارج صاحب نے حضور کی خدمت میں ایک طویل تحقیق پیش کی۔ جس پر مکرم منیر احمد جاوید پرائیویٹ سیکرٹری لندن نے مکرم ایڈیٹر صاحب گلدستہ کے نام خط میں لکھا۔

’’ان کی تحقیق اور دفتر وصیت کا ریکارڈ حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی عمر کے بارہ میں یہ کہتا ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی عمر بوقت وفات 80 برس تھی اور اس طرح منصب خلافت پر فائز ہونے کے وقت آپ کی عمر 74 برس قرار پائے گی۔ اگر اس سے آپؓ کا سن پیدائش نکالا جائے تو وہ 1834ء بنے گا۔‘‘

اس خط کے آخر میں تحریر تھا کہ
حضور انور نے فرمایا ہے کہ

’’اس کے مطابق درستی کر لیں جزاکم اللّٰہ احسن الجزاء‘‘

چنانچہ اس ہدایت پر “ایک ضروری تصحیح” کے عنوان پر درج بالا الفاظ گلدستہ علم و ادب کی اشاعت 28فروری 2020ء میں طبع کر دی گئی تھی۔

ایڈیٹر صاحب گلدستہ نے حضور انور سے درخواست کی کہ اس کی تفصیلی تحقیق اگر ادارہ کو مل جائے تو جماعت کے مصنفین، محققین اور ادیبوں کے استفادہ اور افادہ عام کے لئے گلدستہ کی زینت بنایا جا سکتا ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ازراہ شفقت وہ تفصیلی تحقیق مہیا فرمانے کے احکام صادر فرمائے۔ اس دوران حضور انور کی ایک خصوصی ہدایت پر ’’روزنامہ گلدستہ‘‘، ’’روزنامہ الفضل‘‘ لندن آن لائن میں ضم ہو گیا۔

لہٰذا اس تحقیق کو افادہ عام کیلئے اخبار ہٰذا میں شائع کیا جا رہا ہے۔ حضور کی ہدایت کے مطابق قارئین
’’اس کے مطابق درستی کر لیں۔‘‘

(ایڈیٹر)

گلدستہ علم و ادب لندن میں حضرت خلیفۃالمسیح الاول رضی اللہ عنہ کے بارے میں لکھا گیا کہ ’’27 مئی 1908ء کو جبکہ آپ کی عمر 67 سال تھی خلیفہ منتخب ہوئے۔‘‘ اس بارے میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ارشاد فرمایا ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی عمر کے بارے میں مکمل تحقیق کر کے مطلع کریں کہ آپ کی پیدائش کا سن کیا تھا اور خلیفہ بننے پر نیز وفات کے وقت آپ کی عمر کتنی تھی؟حسب ارشاد اس سلسلہ میں جو رپورٹ حضور انور کی خدمت اقدس میں پیش کی گئی افادہ عام کے لئے شائع کی جاتی ہے۔

اکثروپیشتر کتب میں حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کی تاریخ پیدائش 1841ء بیان کی جاتی ہے۔ اور اس حساب سے خلیفہ بننے پر آپ کی عمر67 سال اور بوقت وفات 73سال بنتی ہے۔ جبکہ آپؓ کے مزارمبارک کے کتبہ پرعمر بوقت وفات 80سال لکھی ہوئی ہے۔ آپؓ کی وفات 13 مارچ 1914ء کو ہوئی اور اگراس وقت آپ کی عمر 80سال تھی تو آپ کی تاریخ پیدائش 1834ء بنتی ہے۔ اور اگر یہ تاریخ پیدائش مانی جائے تو 1908ء میں خلیفہ بننے پرآپ کی عمر 74سال ہوگی۔

اس وقت تک کی جوتحقیق اس امر کے متعلق کی گئی ہے اس کے مطابق کم وبیش ہر جگہ حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی تاریخ پیدائش 1841ء لکھی گئی ہے ۔یا اندازے سے عمر کا بیان ہے: مثلاً

  • مرقاۃ الیقین فی حیات نورالدینؓ:حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے اپنی سوانح عمری اپنی زندگی میں مکرم اکبر شاہ خان نجیب آبادی کو لکھوائی تھی جو ’’مرقات الیقین فی حیات نور الدیؓن‘‘ کے نام سے شائع ہوئی تھی۔ اس میں حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ اپنی پیدائش کا ذکر کرتے ہوئے بیان فرماتے ہیں کہ ’’1258ھ یا 1841ء یا سمت 98 بکرمی کے قریب میرا تولد کا زمانہ ہے۔‘‘

(مرقات الیقین فی حیات نور الدین از اکبر شاہ خان نجیب آبادی صفحہ 73 شائع کردہ نظارت نشرواشاعت قادیان ،سن اشاعت فروری 2002ء) اس کاپہلاایڈیشن 1912ء میں شائع ہوا۔

  • حیات نورؓ: جو عبد القادر سوداگر مل صاحب کی تحریر کردہ کتاب ہے۔ اس میں آپ نے حضرت خلیفۃالمسیح الاولؓ کی پیدائش کے ذکر میں تحریر کیا ہے کہ ’’آپ 1258ھ یا 1841ء یا 1898سم کے قریب بھیرہ ضلع شاہ پور میں پیدا ہوئے۔‘‘ لیکن تاریخ پیدائش کے سن کے تعین میں مصنف نے نیچے حاشیہ میں درج ذیل نوٹ دیا ہے۔ ’’1258ھ 12فروری 1842ء کو شروع ہوا اور 31جنوری 1843ء کو ختم ہوا۔ اس لئے حضور کا سن پیدائش 1841ء کی بجائے 1842ء سمجھنا چاہئے‘‘

(حیات نور مصنفہ عبد القادر سابق سوداگر مل صفحہ2 شائع کردہ نظارت نشر واشاعت قادیان سن اشاعت 2003ء)

  • تاریخ احمدیت جلد سوم :میں مولانا دوست محمد شاہد صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح الاول ؓ کی تاریخ پیدائش کے بارے میں تحریر کیا ہے کہ ’’امیر المومنین خلیفۃ المسیح االاول مولانا نور الدین ؓ …… جو پنجاب کے سکھ راجہ شیر سنگھ کے عہد حکومت میں 1258ھ یا 1841 ء یا 1898 سمت کے قریب بھیرہ کے محلہ (محلہ معماراں) میں تولد ہوئے۔‘‘

(تاریخ احمدیت جلد سوم صفحہ 16)

تاہم مولانا دوست محمد شاہد صاحب نے تاریخ احمدیت کے حواشی ابواب میں تحریر کیا ہے کہ ’’مرقاة الیقین کے مطابق سن عیسوی 1842ء اور 1898 سمت کے مطابق 1841 کا سال بنتا ہے۔‘‘

(تاریخ احمدیت جلد سوم صفحہ50 شائع کردہ نظارت نشر واشاعت قادیان سن اشاعت 2007ء)

Hadhrat Maulawi Nur-ud-Din ra Khalifatul Masih I :

  • حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب ؓنے حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی سوانح حیات انگریزی میں تحریر فرمائی اس میں بھی حضرت خلیفۃ المسیح الاول مولوی نور الدینؓ کی پیدائش کا سال 1841 تحریر فرمایا ہے۔ آپؓ لکھتے ہیں ۔

Hadhrat Maulawi Nur-ud-Din (ra) was born at Bhera, in the district of Shahpur, Punjab, in 1841.

(Hadhrat Maulawi Nur-ud-Din (ra) Khalifatul Masih I by Muhammad Zafrulla Khan ra page: 1, Islam International Publications Limited 2006)

  • سوانح حضرت خلیفۃ المسیح الاول از رضیہ درد صاحبہ: شائع کردہ مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان ص 3 پر لکھاہے کہ ’’آپ کااصل نام نورالدین تھا۔ 1841ء کے قریب بھیرہ کے محلہ معماراں میں پیدا ہوئے۔‘‘
  • بیاض نور الدین: مرتبہ حکیم مفتی فضل الرحمن صاحب جوکہ شاہدولہ گیٹ گجرات سے شائع ہوئی ۔اس کے صفحہ 13 پر حضرت حکیم الامۃ کی اجمالی خودنوشت طبی سوانح عمری کے عنوان سے آپ ؓ کی تاریخ پیدائش 1841ء سن درج ہے۔
  • سید حسنات احمد صاحب کی کتاب

Hakeem Noor-ud-Deen
جوکہ پہلی بار الاسلام انٹرنیشنل پبلیکیشنز لمیٹڈ کے زیراہتمام 2003ء میں شائع ہوئی۔ اس کے باب 2 میں 1841ء درج ہے ۔

  • Life of Ahmad: حضرت مولانا عبدالرحیم درد صاحبؓ کی تصنیف جوکہ اصل میں حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی سوانح پرمشتمل کتاب ہے۔ اور الاسلام انٹرنیشنل پبلیکشنز لمیٹڈ کے زیراہتمام 2008ء میں شائع ہوئی اس کے صفحہ 150 کے حاشیہ میں 1841ء تاریخ پیدائش درج ہے ۔
  • اخبار بدر قادیان: 3اگست 1911ء کے صفحہ 4 پر امیرنا نورالدین کے عنوان کے تحت 1841ء تاریخ پیدائش درج ہے ۔
  • حضرت مولاناحکیم نورالدین بھیرویؒ (احوال وآثار): پنجاب یونیورسٹی لاہورسے 1980ء میں ایم اے تاریخ کے سلسلہ میں یہ تحقیقی مقالہ لکھاگیا۔ مقالہ نگار محمد ادریس صاحب ہیں۔ اس کی مکمل فوٹوکاپی ریسرچ سیل کی لائبریری میں موجود ہے۔ اس میں بھی تاریخ پیدائش 1841ء درج ہے۔ گو کہ مقالہ نگار نے اس ضمن میں سلسلہ احمدیہ کے لٹریچر کو ہی مآخذ بنایا ہے ۔
  • نزہۃ الخواطر: الاعلام بمن فی تاریخ الہند من الاعلام یعنی نزھۃ الخواطر وبھجۃ المسامع والنواظر، اس کے مصنف مولانا سید عبدالحئ بن فخرالدین الحسنی ہیں۔ اس کی جلد8 خاص طورپر ہندوستان کے علماء کے حالات زندگی پرمشتمل ہے۔ اوریہ کتاب مکتبہ دارعرفات رائے بریلی ہندوستان سے شائع ہوئی ہے۔ اس کے صفحہ 534 پر نمبر شمار 539 کی ذیل میں الحکیم نورالدین بھیروی کے عنوان کے تحت آپ کی تاریخ پیدائش 1258ھ دی گئی ہے۔

(جو 1842 یا 1843ء بنتی ہے)

  • چودھویں صدی کے علمائے برصغیر: یہ مذکورہ بالا کتاب نزہۃ الخواطر جلد8 کا ہی اردوترجمہ ہے۔ جو انوار الحق قاسمی صاحب نے کیا ہے اور دارالاشاعت کراچی پاکستان سے 2004ء میں شائع ہوئی ہے ۔اس میں 1258ھ تاریخ پیدائش درج ہے ۔
  • تذکرۂ علمائے ہندوستان: برصغیر میں اٹھارہویں اورانیسویں صدی کے ایک ہزارمشاہیر علماء مشائخ اور ادباء کا 125برس قدیم اور مستند قلمی تذکرہ ،سیدمحمدحسین بدایونی کی تصنیف اور ڈاکٹر خوشتر نورانی کی تحقیق وتدوین، دارالنعمان پبلشرز نے شائع کی ہے ۔اس کے صفحہ 394 پر 649 نمبر شمار کے تحت مولانا نورالدین قادیانی کے نام سے حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کاذکرکرتے ہوئے 1841ء تاریخ پیدائش درج ہے ۔ اب کچھ ان مآخذ کا ذکر کیا جاتا ہے جہاں سن پیدائش تو مذکور نہیں ہے البتہ آپؓ کی عمر کاذکرہے ۔ان میں سب سے پہلے
  • کتاب البریہ: روحانی خزائن جلد 13 میں موجود اس کتاب میں حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام نے ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کے مقدمہ کی گویا پوری مثل کودرج فرمایا ہے۔ اور عدالتی کارروائی ہونے کے اعتبار سے یہ ایک سرکاری دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس مقدمہ میں 13؍اگست 1897ء کو آپ ؓ کا ایک بیان ریکارڈ کیا گیا۔ جو کہ اس کتاب کے ص242 پر موجودہے۔ اس کے شروع میں لکھا ہوا ہے کہ ’’بیان مولوی نورالدین گواہ استغاثہ باقرارصالح……ولدغلام رسول ساکن بھیرہ ضلع شاہ پور قوم قریشی عمر 50 سال…
  • ردّ قادیانیت اور سُنّی صحافت: اس کتاب کے مصنف محمدثاقب رضاقادری ہیں۔ اس کتاب کی جلد اول جس کا ناشر مکتبہ اعلیٰ حضرت پاکستان ہے۔ 2014ء میں شائع ہوئی۔ اوریہ جلدہفت روزہ سراج الاخبار جہلم 1885ء تا 1917ء کی فائلز میں موجود قادیانیت کے محاسبہ پرشائع شدہ مضامین شامل اشاعت کئے گئے ہیں۔ اس جلد میں مقدمہ کرم دین جہلمی کی وہ رودادبھی ہے جوکہ سراج الاخبارمیں انہیں دنوں شائع ہوتی رہی ۔اس کتاب کے صفحہ 510 پر حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کا بیان ہے جس میں حضورؓ نے عدالت میں اپنی عمر 65سال بیان فرمائی ہے۔ واضح رہے کہ یہ بیان ستمبر 1904ء میں ہوا تھا۔
  • خطبات نورؓ: مجموعہ خطبات حضرت حکیم مولوی نورالدین خلیفۃ المسیح الاولؓ ،اس کے صفحہ 415 پرایک خطبہ عیدالفطر 15؍اکتوبر 1909ء کاہے ۔ اور بدرجلد8 نمبر 52، کے 21؍اکتوبر 1909ء صفحہ 9 تا 12 پرشائع ہواہے۔ اس میں حضورؓ بیان فرماتے ہیں کہ ’’میں جو کچھ کہتا ہوں صاف صاف کہتا ہوں۔ میں منافق نہیں ۔جو کچھ میری عمر ہے وہ آجکل کی عمروں کے مطابق انتہائی زمانہ ہے۔ ستر برس سے تجاوز ہے۔‘‘
  • اخباربدرقادیان: 4 اگست 1910ءکے بدر (نمبر40 جلد9 ص 7کالم 2) میں حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کاایک خط کسی شیعہ دوست کے نام شائع ہواہے۔ اس میں حضورؓ لکھتے ہیں کہ ’’ہم کو تحقیق ہمیشہ مدنظر ہے اور اب میری عمر ستر70 سے متجاوز ہے۔‘‘
  • ارشادات نور: جلد دوم شائع کردہ نظارت اشاعت پاکستان، ص222 پر بھی اسی خط کاحوالہ دیتے ہوئے یہ لکھاہواہے کہ اور اب میری عمر ستر 70 سے متجاوز ہے۔
  • حقائق الفرقان جلد3: اس کے صفحہ 58 پر سورۃ مریم کی تفسیر میں فرمایا: ’’وَهَنَ الْعَظْمُ۔ لکھا ہے کہ ستر سے کچھ زیادہ عمر ہوگئی تھی ۔بس میری عمر کے برابرہوں گے۔‘‘

ضمیمہ اخباربدرقادیان 30اپریل /5مئی 1910ء

  • ریکارڈ دفتربہشتی مقبرہ ربوہ: اس کے ریکارڈ میں جوکوائف درج ہیں ان کے مطابق حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب خلیفۃ المسیح الاول ؓ ولدحضرت حافظ غلام رسول صاحب، قوم قریشی فاروقی، سکونت قادیان عمر 80سال، تاریخ وفات 13مارچ 1914ء 15ربیع الثانی، 1332ھ، تاریخ تدفین 14 مارچ 1914ء 16ربیع الثانی 1332ہجری، وصیت نمبر109
  • عبارت کتبہ مزارمبارک: بہشتی مقبرہ قادیان میں مزارمبارک (قطعہ نمبر2 حصہ نمبر1 مقبرہ نمبر8) کے کتبہ پر جو عبارت درج ہے اس کے مطابق: ’’چھ 6سال خلافت کر کے بعمر 80سال بروزجمعۃ المبارک مورخہ 15ربیع الثانی 1332ھ مطابق 13مارچ 1914ء از دار فانی بعالم جاودانی رحلت فرمود۔‘‘ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔

مذکورہ بالایہ 21 ایسے مقامات ہیں جہاں حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی عمر کا تذکرہ موجودہے ۔ان میں سے 13 جگہ پرسن پیدائش درج ہے اور 8 جگہ پراس طرح ذکر ہے کہ آپؓ کی عمر کے بارہ میں اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ جہاں سن پیدائش کا ذکر ہے اس حساب سے آپ ؓ کی عمر بوقت انتخاب خلافت 67 سال اور بوقت وفات 73 سال بنتی ہے۔ اور جہاں عمروں کا اندازہ ہے وہاں زیادہ سے زیادہ آپ ؓ کی عمر بوقت خلافت 74سال اور بوقت وفات 80سال بنتی ہے

اور خاکسار کے نزدیک یہ زیادہ درست ہے ۔

تفصیلی تجزیہ کیا جائے تو صورت حال یہ سامنے آتی ہے ۔

اگر دیکھا جائے تو تاریخ پیدائش کاسن سب سے پہلی مرتبہ ’’مرقاۃ الیقین‘‘ میں شائع ہوا۔ یایوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ ’’مرقاۃ الیقین‘‘ کے ریفرینس سے شائع ہوا۔ کیونکہ یہ سن ابتداء ’’مرقاۃ الیقین‘‘ کے حوالہ سے ہی ہمیں ملتا ہے۔ البتہ مرقاۃ کا کچھ حصہ پہلے الحکم اخبار میں بھی شائع ہوچکا تھا۔اس لئے یہ کہا جاسکتاہے کہ سب سے پہلی باریہ سن پیدائش الحکم میں شائع ہوالیکن دراصل وہ مرقاۃ کے مسودے کی ہی اشاعت تھی اور جلد بعد ہی ’’مرقاۃ الیقین‘‘ کتابی صورت میں شائع ہوگئی۔ اور یوں سب سے پہلا ماخذ مرقاۃ ہی ہے۔

س کے علاوہ باقی جس نے بھی تاریخ پیدائش کاسن بتایا ہے وہ دراصل اسی کی نقل ہے ۔الگ سے اپنی تحقیق کاک سی نے نہ حوالہ دیانہ کوئی تفصیل بیان کی۔

دوسراسوال یہ پیداہوتاہے کہ کیا ’’مرقاۃ الیقین‘‘ حرف بحرف حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی لکھوائی ہوئی ہے یا زبانی بیان فرمائی ہوئی ہے۔؟ ہر چندکہ ایک عمومی تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ حضورؓ نے یہ کتاب لکھوائی ہوگی ۔جیساکہ کتاب کے دیباچہ میں مصنف لکھتے ہیں کہ ’’میں پنسل کاغذ لے کر حاضر ہوتا، آپ کام کرتے کرتے مجھ کومنتظر بیٹھا ہوا دیکھ کرفرماتے۔ اچھاتم بھی کچھ لکھ لو۔آپ فرماتے جاتے اورمیں لکھتاجاتا۔

باوجود اس کے کہ میں محض خدائے تعالیٰ کے فضل وکرم سے اکثرلیکچراروں کے لیکچر بآسانی حرف بحرف لکھ سکتاہوں، بڑی مستعدی اور پوری ہمت کوکام میں لا کر آپ کے تمام الفاظ قلمبند کرسکا ہوں۔ اس سے ہرشخص سمجھ سکتاہےکہ آپ کس روانی اور طلاقت کے ساتھ تقریرفرماتے ہوں گے ۔لیکن جب اپنی جائے قیام پرآکراس پنسل کے شکستہ لکھے ہوئے کو صاف کرتا تو مجھ کو یاد نہیں کہ عبارت کوچست اوردرست بنانے کے لئے کہیں کسی فقرہ میں کوئی تغیروتبدّل کرناپڑاہو۔ بس آپ کی زبان سے نکلا ہوا ایک ایک حرف اپنی اصلی حالت میں لکھ دیاہے۔‘‘ (ص27) لیکن خاکساراس بارہ میں ذرا محتاط رائے رکھتاہے۔ خاکسارکے نزدیک حضورؓ اپنے سوانح زبانی بیان فرماتے ہوں گے اور اکبرخان صاحب جواس کے بعدمیں مصنف بنے یہ قلم برداشتہ لکھتے جاتے ہوں گے ۔ لیکن یہ تصورکہ ’’مرقاۃ الیقین‘‘ حضورؓ نے حرف بحرف اورلفظ بہ لفظ لکھوائی تھی وہ درست نہیں ہے۔ اوراگریہ لفظ بہ لفظ لکھوائی مان بھی لی جائے اور یہ بھی تصور کر لیا جائے کہ تاریخ پیدائش کاسن حضورؓ نے خودہی لکھوایا تھا تویہ کہناپڑے گا یہ تواریخ تخمیناً اور اندازاً تھیں۔ جیسا کہ سن ہجری اور سن عیسوی کاباہم فرق بھی ظاہر کرتا ہے۔

اور ’’مرقاۃ الیقین‘‘ میں جوسن پیدائش درج ہے اس میں ساتھ ہی ایک فقرہ ہے جس پرکسی مؤرخ اور مصنف کا شاید دھیان نہیں گیا اور وہ یہ کہ حضورؓ فرماتے ہیں کہ ’’1258ھ یا 1841ء یا سمت 98بکرمی کے قریب میرا تولد کا زمانہ ہے۔‘‘ یعنی حضورؓ خود اس سن کو حتمی اور یقینی قرار نہیں دے رہے بلکہ اس کے قریب قرار دے رہے ہیں۔

اس تمہید کے بعد خاکسار عرض کرتاہے کہ حضورؓ کی تاریخ پیدائش کاسن ایساحتمی سن پیدائش قرارنہیں دیاجاسکتا کہ گویا کوئی دستاویزی ثبوت مصنف کے پاس تھا کہ جس میں حضورؓ کی تاریخ پیدائش کاسن لکھا ہوا تھا۔بلکہ یہ ایک تخمینہ ہوسکتاہے اور خاکسارکے نزدیک بہت حدتک ممکن ہے کہ حضورؓ نے جواندازاً عمربتائی اس کاسن پیدائش مصنف نے بعدمیں سنین کی صورت میں تبدیل کرکے کتاب میں لکھ دیاہو۔یا حضورؓ نے ہی اندازاً لکھوایا ہو۔

اس کی دلیل یہ ہے کہ سن عیسوی کے ساتھ سن ہجری بھی درج ہے ۔اورسن ہجری کواگرعیسوی میں تبدیل کیاجائے تووہ سن عیسوی کے مطابق نہیں بنتابلکہ ایک یادوسال کافرق ڈال دیتا ہے۔ تقویم سن عیسوی و ہجری کی کتب میں جب 1258 ہجری کا سال دیکھا جائے تو 1258 ہجری کا سال فروری 1842 سے شروع ہوتا ہے اور جنوری 1843 میں ختم ہوتا ہے۔

(التوفیقات الالہامیہ فی مقارنة التواریخ الھجریۃ بالسنین الافرنکیة وا لقبطیۃ از اللواء محمد مختار باشا صفحہ 1300، المؤسسۃ العربیۃ اللدراسات والنشر ، الطبعۃ الاولی 1980ء)
(تقویم عمری از معراج الدین عمر صاحب صفحہ 123-122)
(تقویم ہجری و عیسوی مرتبہ ابو النصر محمد خالدی ایم اے، صفحہ 63۔انجمن ترقی اردو کراچی پاکستان، طبع پنجم 2013)

اب اگرواقعی کوئی دستاویزی ثبوت ہوتایعنی کسی سند یا سرٹیفیکیٹ یاسرکاری کاغذات پرتاریخ پیدائش سنین میں لکھی ہوتی تو سن عیسوی اور سن ہجری کایہ فرق نہ ہوتا۔کیونکہ سن عیسوی 1841ء کے مطابق سن ہجری 1258ھ نہیں ہوسکتا، کیونکہ 1258ھ فروری 1842ء سے شروع ہوتاہے اور جنوری 1843ء میں ختم ہوتاہے ۔ یوں سن ہجری کے پیش نظر آپؓ کی تاریخ پیدائش فروری 1942ء سے جنوری 1943ء بنے گی۔ بہرحال یہ دونوں سن آپس میں مطابقت نہیں رکھتے ۔

  • دوسری دلیل کہ یہ سن عیسوی حتمی نہیں ہوسکتا وہ قرائن ہیں کہ انہیں دنوں میں جب یہ مرقاۃ لکھوائی جارہی تھی۔ (واضح رہے کہ مرقاۃ کاپہلاایڈیشن 1912ء میں شائع ہوا ہے اور 1907ء کے الحکم میں کچھ ابتدائی اقساط “حضرت حکیم الامت کی اجمالی خودنوشت سوانح عمری” کے عنوان سے شائع ہوتی رہیں۔) تو انہیں دنوں حضورؓ جب اپنی عمر بتاتے ہیں تو وہ اس سن عیسوی سے مطابقت نہیں رکھتی ۔ مثلاً 1909ءمیں آپ ؓ اپنی عمربتاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ستر70برس سے متجاوزہے۔ جبکہ اگرسن 1841ء کو دیکھا جائے توآپ کی عمر68برس بنتی ہے۔ اب 68کو 70برس کے قریب توکہاجاسکتاہے۔ستر70سے متجاوز نہیں۔ 70سے متجاوزتبھی کہا جاسکتاہے کہ جب 70برس سے عمر اوپر گزرچکی ہو۔خواہ تین چاربرس ہی کیوں نہ ہوں۔اب اگر حضورؓ کواپنی تاریخ پیدائش کامعین سن یادتھا۔توسن کے حساب سے عمربتائی جاسکتی تھی۔جبکہ آپ ایک دفعہ نہیں بلکہ کئی بار بیان فرمارہے ہیں ۔اور ایک بارخط میں آپ لکھ رہے ہیں کہ میری عمرستربرس سے متجاوزہے ۔آپ ؓ کااپنی عمرکواس اندازمیں بیان کرنا یہ بتاتاہے کہ حضورؓ کی تاریخ پیدائش کاسن کوئی معین سن نہ تھا۔

اوراس کی مزیدتائیدعدالت میں دئیے جانے والے ان دوبیانوں سے بھی ہوتی ہے جوآپ نے ہنری مارٹن کلارک کے مقدمہ اور کرم دین کے مقدمہ میں دیا تھا۔ کلارک کامقدمہ 1897ء میں ہوا۔ اور13؍اگست 1897ء میں آپ نے اپنے بیان میں عمر 50سال بتائی۔جبکہ اگرسن آپ کو یاد تھا تو معین عمر56 سال بنتی ہے وہ لکھوانی چاہئے تھی۔ پھرکرم دین کے مقدمہ میں ستمبر 1904ء میں آپ کابیان ہوااس میں عمر65سال بتائی۔ حالانکہ چندسال پہلے 1897ء میں پچاس سال بتاچکے تھے تو گیارہ سال بعد عمرمیں 15سال کااضافہ ہوگیا۔ یہ امورمزید تائید ہیں اس بات کی حضورؓ کے سامنے اپنی تاریخ پیدائش کے حوالہ سے کوئی معین سن نہیں تھا۔موٹے اندازے تھے جواس زمانہ بطورخاص کئے جایاکرتے تھے اورعمروں کاحساب اسی طریق سے چلتاتھا۔
دوسری طرف جب آپ ؓ کی وفات ہوتی ہے تو وفات رجسٹر پر اور کتبہ پر جو عمر لکھی جاتی ہے وہ 80 سال ہے۔ اب جب سن پیدائش شائع بھی ہوچکاتھا، ‘‘مرقاۃ الیقین‘‘ بھی شائع ہوچکی تھی تو کیوں اس کے حساب سے عمر نہیں لکھی گئی جوکہ 73برس بنتی تھی۔ بلکہ وہاں 80سال لکھی گئی۔ اور وفات کے موقع پربالعموم کوئی قریبی جاننے والا عمر لکھواتا ہے یادفتری طورپر بہت جانچ پڑتال کے بعد عمرلکھی جاتی ہے اور یہاں تو فوت ہونے والا کوئی عام فردبھی نہیں تھا۔ایک معروف ہستی تھی اور سب سے بڑھ کرخلیفۃ المسیح جیسی بزرگ شخصیت تھی ۔تواس پہلو سے اس وقت احتیاط اور حساب کتاب کے تمام پہلو مدنظر رکھ کرہی یہ عمرلکھی گئی ہوگی ۔

مذکورہ بالا ساری بحث کاخلاصہ یہ ہے کہ خاکسارکے نزدیک کوئی عمربھی حتمی بیان نہیں ہوئی ۔ سب اندازے ہیں جیساکہ اس زمانے کادستورتھا۔ البتہ مرقاۃ الیقین میں جوسن پیدائش مذکورہے وہ براہ راست حضرت خلیفۃ المسیح الاول ؓ کی طرف منسوب ہے اور حضورؓ کی زندگی میں شائع ہواتھا۔ لیکن وہ بھی معین سن کے ساتھ نہیں بلکہ 1841ء کے قریب کے کسی سن کی طرف اشارہ ہے۔ لیکن دوسری طرف بہشتی مقبرہ کاریکارڈ ہے جس میں عمر80سال کابیان ہے ۔جواس سے پہلے ابھی تک لٹریچرمیں بیان شدہ نہیں ملا۔اورجوبوقت وفات عین ممکن ہے کہ حضورؓ کی اولاد نے بیان کی ہو یا کسی بہت قریبی نے کسی زیادہ ٹھوس شہادت کی بناء پر لکھوائی ہواور جسے مرقاۃ الیقین کی موجودگی میں درست تسلیم کرکے لکھاگیاہو۔ پھرحضرت مصلح موعودؓ جیسی شخصیت جسے حضرت خلیفۃ المسیح الاول ؓ سے محبت وعقیدت بھی تھی وہ بیسیوں مرتبہ کیاہزاروں باربہشتی مقبرہ جاتے ہوں گے، مزارپردعاکے لئے رکتے بھی ہوں گے۔ حضرت مرزا بشیراحمدصاحب ؓ جیسے عالم ومحقق بھی موجود تھے۔ جوالفضل تک میں معمولی سی غلطی پرفوری تصحیح وتردیدشائع کروادیاکرتے تھے۔حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی اولاد بھی موجودتھی۔ اورتواورخودمرقاۃ کامصنف بھی وہیں کہیں تھا۔یہ سب کہہ سکتے تھے کہ الحکم اور مرقاۃ میں توسن پیدائش 1841ء لکھاہواہے اور آپ کی عمر صرف 73برس بنتی ہے۔مزار پر 80سال کیوں لکھی ہے ۔ ؟

خاکسارکی ادنیٰ رائے میں توزیادہ قرین قیاس ہے کہ دفتربہشتی مقبرہ کے ریکارڈ کومستند تسلیم کرتے ہوئے ہم حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی عمربوقت وفات 80برس کوہی تسلیم کریں اوراس طرح خلافت کے وقت آپ کی عمر 74برس قراردی جائے گی۔اور اگرسن پیدائش اس سے نکالاجائے تو 1834ء بنے گا۔ اور اگر مرقاۃ کی تاریخ کو درست تسلیم کیاجائے جس کے شواہد اوپربیان ہوچکے ہیں تو پھرکتبہ کی عبارت میں عمرکی تصحیح ہوجانا مناسب امرمعلوم ہوتاہے۔ تاکہ آئندہ آنے والے محقق اورمؤرخ ومصنف کے لئے سہولت ہوجائے۔

واللّٰہ اعلم بالصواب

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 9 اپریل 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 11 اپریل 2020