• 21 مئی, 2022

تبلیغ میں پریس اور میڈیا سے کس طرح کام لیا جاسکتا ہے (قسط 44)

تبلیغ میں پریس اور میڈیا سے کس طرح کام لیا جاسکتا ہے
ذاتی تجربات کی روشنی میں
قسط 44

جماعت احمدیہ کے امام سیدنا حضرت مرزا مسرور احمد صاحب جماعت کے لوگوں کو قرآنی تعلیمات اور رسول خدا کے اسوہ مبارکہ پر چلنے کی تاکید فرمائی ہے کہ احباب صبر کریں اور دعائیں کریں، ’’یہی ہماری فتح کے دو بڑے ہتھیار ہیں‘‘

آپ نے یہ بھی فرمایا کہ دشمن احمدیت اسی تاک میں تھا کہ ہم بھی دوسرے لوگوں کی طرح اس بہیمانہ اور وحشیانہ بربریت پر سڑکوں پر نکل آئیں گے، لوٹ مار کریں گے، حکومت کے خلاف نعرے لگائیں، ٹریفک جام کر دیں گے اور سڑکوں پر ٹائر جلائیں گے۔ ان اقدام سے یقیناً حکومت اور عوام دنوں نے متاثر ہونا تھا جس سے حکومت کو ہمارے خلاف ایک اور بہانہ مل جانا تھا۔

لیکن خداتعالیٰ کے قائم کردہ نظام اور خلافت احمدیہ کے سایہ کے نیچے جماعت کا ہر فرد اپنے امام کے اشارہ پر چلنا سعادت سمجھتا ہے اور اس کے لئے بڑی سے بڑی قربانی کے لئے بھی دریغ نہیں کرتا۔ پس جماعت کے افراد کا صبر کا نمونہ اور دعاؤں کی تلقین نے زخمی دلوں پر مرہم کا کام کیا اور درحقیقت یہی ہمارا ردعمل ہے جو آج بھی ہے اور کل کو بھی یہی ہو گا۔ آپ کو یہ سن کر حیرت ہو گی کہ سانحہ لاہور کے فوراً بعد ہی جب ہمارے خلاف مزید نعرے لگائے گئے اور ہمیں واجب القتل قرار دیا گیا تو نارووال کے علاقہ میں ایک اور احمدی کو قتل کر دیا گیا اور جب اس کا بیٹا اسے بچانے کے لئے آیا تو اسے بھی شدید زخمی کیا گیا۔

خاکسار نے لکھا کہ مختلف لوگوں کے پاس مختلف اس کے حل ہوں گے لیکن میرے پاس اس کا ایک حل ہے کاش یہ بات سب کے دل میں اتر جائے کہ
خدا را مولوی کو اپنی گردن سے اتار دیں۔ خصوصاً حکومت پاکستان کو چاہئے کہ مولوی کو اپنی گردن سے اتار دے۔ مذہب اور سیاست کو الگ الگ رکھیں۔ جب تک یہ نہ ہو گا ملک میں بدامنی اور دہشت گردی رہے گی۔

ہمارے ملک میں 1974ء میں آئین میں جو تبدیلی کر کے جماعت کو ناٹ مسلم قرار دیا گیا یہ صریحاً ظلم اور قرآنی احکام کی خلاف ورزی ہے۔ اسلام تو لَاۤ اِکۡرَاہَ فِی الدِّیۡنِ کہہ کر ہر ایک کو مذہب کی کھلی اجازت دیتا ہے۔ کسی سیاسی لیڈر، حکومت کو خدا نے یہ اختیار نہیں دیا کہ وہ کسی کے مذہب کے معاملے میں دخل اندازی کرے یہ معاملہ بندے اور خدا کے درمیان ہے۔

آخر میں خاکسار نے لکھا کہ
ہم تو محبت کے سفیر ہیں۔ ہم سب کو یہ بات پہنچانا چاہتے ہیں کہ ہم محبت اور پیار اور امن کی تعلیم دیتے ہیں کیونکہ یہی اسلام کی تعلیم ہے اور یہی ہمارے پیارے رسول ﷺ کی تعلیم ہے اور یہی آپ کا اسوہ حسنہ تھا۔ اسی وجہ سے جماعت احمدیہ کا بچہ بچہ یہ آواز بلند کرتا ہے۔

محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں

خاکسار اس وقت ایک اخبار ہفت روزہ پاکستان ایکسپریس کا ایک مضمون بھی یہاں نقل کرتا ہے جو اس عنوان سے ہے۔ ’’ہم سب منافق ہیں‘‘ یہ مضمون مذکورہ بالا اخبار کی 11 جون 2010ء صفحہ 3-4 کی اشاعت میں ہے جو بات خاکسار نے اپنے مضمون میں لکھی ہے بعنوان ’’محبت کے سفیروں سے ایسا سلوک‘‘ اس کی تصدیق بھی اس مضمون سے بخوبی ہوتی ہے۔

اپنے لوگوں اور اپنی قوم کے بارے میں منفی باتیں کرنا اچھا نہیں لگتا لیکن کیا کیجئے، اپنے لوگ اور اپنوں کی طرف سے بار بار ہمیں چیلنج ملتاہے۔ لاہور کے دو مقامات پر دہشت گردوں نے جس طرح درجنوں احمدیوں کو قتل کیا ہے اس پر کچھ وقفے کے لئے قوم تو ششدر دکھائی دی سوائے سنگ دل مولویوں کے۔

ہم نے اس واردات کے اگلے دن کے پاکستانی اخبار غور سے پڑھے کہ شاید کسی بڑے بریلوی، وہابی، دیوبندی یا اہل حدیث مولوی کی طرف سے اس واقع کی مذمت کی گئی ہے۔ نفرت پھیلانے اور فرقوں کو باہم لڑانے والے تنگ نظر اردو اخباروں میں ہمیں قاضی حسین احمد، سید منور حسن، مولانا فضل الرحمٰن، مولانا سمیع الحق، حضرت علامہ طاہر القادری اور مولانا منیب الرحمن سمیت صف اول کے کسی مولوی کا کوئی بیان ہمیں دکھائی نہیں دیا۔ چند مولویوں کا ایک مشترکہ بیان جماعت اسلامی کے اخبار ’’امت‘‘ میں تھا کہ ’’ان لوگوں‘‘ کے شدید باہمی اختلافات ہیں، ہو سکتا ہے کہ ’’ان‘‘ ہی کے ایک گروہ نے دوسرے گروہ پر حملہ کیا۔ ایک اور خبر میں ایک ’’عبادت گاہ‘‘ کے بارے میں شہید ہوتے ہوں گے وغیرہ وغیرہ۔ تاہم ان کی خاموشی سے ہمیں تاثر ملا کہ دہشت گردوں کی کھیپیں برآمد کرنے والے ان مولویوں کو سانپ سونگھ گیا ہے۔

بحیثیت وزیراعلیٰ شہباز شریف نے کچھ ’’اں، اوں‘‘ کی۔ ہلاک ہونے ولاے مظلوم انسانوں کو انہوں نے شہید بھی نہیں کہا۔ انہوں نے جس انداز میں اظہار ہمدردی کیا اس سے لگتا تھا کہ حبیب جالب اور فیض کی شاعری دریافت کرنے والا یہ سیاستدان خوفزادہ ہے اور ایک مخصوص طبقے کو ناراض نہیں کرنا چاہتا۔ ایک صاحب نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف ہلاک شدگان کو ’’شہید‘‘ قرار نہیں دے سکتا تھا تو کم از کم انہیں ’’جاں بحق‘‘ ہونے والے تو کہہ سکتا تھا۔ شریف برادران کے رویے سے ان کی مخفی ابن الوقتی کا پردہ چاک ہو رہا تھا۔ یہ دیکھتے ہوئے چند دن بعد بڑے ’’شریف‘‘ بھائی نے ’’احمدیوں‘‘ کو اپنا بھائی قرار دے کر ان کے ساتھ اپنی ہمدردی کا اظہار کیا جس پر بعض احمدی حضرات کو تو سکون آگیا لیکن انتہا پسند مولویوں نے گلے پھاڑ پھاڑ کر نواز شریف کے خلاف مذمتی بیانات داغنے شروع کر دیئے۔ یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔

ٹیلی ویژن پر خبریں پڑھنے والے اور اخبارات میں خبریں لکھنے والے مظلوم ہلاک شدگان کو ’’شہید‘‘ اور ان کی عبادت گاہ کو ’’مسجد‘‘ قرار دیتے ہوئے گھبرا رہے تھے۔ ہمارے لئے یہ رویہ حیران کن تھا اس لئے کہ موجودہ حکومت تو دعویٰ کرتی ہے کہ اس کے دور میں میڈیا آزاد ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر میڈیا آزاد ہے تو سارا میڈیا ایک ہی زبان کیوں بول رہا تھا؟ ’’عبادت‘‘ کے دوران قتل کئے جانے والوں کے ساتھ ہمدردی کے اظہار کا یہ حیران کن طریقہ تھا چنانچہ اس یک زبانی کی وجہ معلوم کی گئی۔ پتا چلا کہ تعزیرات پاکستان کے ضیاء الحق کے نافذ کردہ بعض احمقانہ قوانین کے تحت وہ اگر ’’شہید‘‘ اور ’’مسجد‘‘ جیسے الفاظ استعمال کرتے تو قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے جس کی سزا قید اور جرمانہ ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے اقتدار کی خاطر اگر مولویوں کے ساتھ سمجھوتہ کیا تھا تو ضیاء الحق نے بھی اپنے اقتدار کو طول دینے کی غرض سے پوری قوم کو اپنے قانون کے ذریعے منافق بنا کر چھوڑ دیا۔ نام نہاد صاف ستھرے اور شفاف انسانوں کی سرزمین پاکستان سے ان دنوں جو سڑاند ابھر رہی ہے ساری دنیا اس پر انگشت بدنداں ہے۔

ڈبل یا سنگل ایجنٹ خالد خواجہ کی ہلاکت پر افسوس کرنے والے، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی معصومیت کی قسمیں کھانے والے، گوانتاناموبے یا ابو غریب کےقیدیوں کے ساتھ بدسلوکی پر ہمدردی کا اظہار کرنے والے، فیس بک کی ناپاک جسارت پر غصے میں اپنے ہی املاک کو نذر آتش کرنے والے تقریباً ایک سو افراد کے بہیمانہ قتل پر اس طرح خاموش تھے جیسے جو کچھ ہوا، درست ہوا ہو۔ ہم نے اس سانحے کے بعد ردعمل کا تماشہ دیکھا تو اپنی قوم کی مجموعی ذہنی کیفیت کا کچھ کچھ اندازہ ہوا۔ دہشت گردی کی اس واردات میں اجتماعی قتل کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں مذہبی منافرت کی بنیاد پر قتل کرنے والی یہی ایک تنظیم ہے؟ جب مغرب میں مسلمانوں کی پروفائلنگ ہوتی ہے برقعے پر پابندی عائد کی جاتی ہے اور مساجد پر مینار تعمیر کرنے کی مخالفت کی جاتی ہے تو مسلمان چیخ اٹھتے ہیں۔ پاکستان میں ایک نیم تعلیم یافتہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین پورے ایک گروہ کو واجب القتل قرار دیتا ہے اور اس خطبے کے نتیجے میں انسانی خدمات کرنے والے ڈاکٹرقتل کر دیئےجاتے ہیں تو نہ قانون حرکت میں آتا ہے اور نہ ہی قوم اس ظلم پر احتجاج کرتی ہے۔

ایک آدھ آواز اگر کسی کونے سے احتجاج کی بلند ہو جائے گی تو آواز لگانے والا بھی مرتد قرار پاتا ہے۔ یہ مذاق اگر کسی فرد گروہ یا طاقت کو فائدہ پہنچانے کے لئے جاری رکھا گیا تو ہمارے خیال میں اسے اب بند ہو جانا چاہئے کیونکہ ضیاء الحق کو جہنم واصل ہوئے تین عشرے ہو چکے ہیں۔ ہم بار بار کہنے کے لئے تیار ہیں کہ جب مذہب کو ریاست پر مسلط کرو گے تو جنونی ہی پیدا ہوں گے۔ انگور کی بیل میں سیب نہیں لگتے۔ پاکستان میں انتہاء پسندی ختم کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ مذہب کو دوبارہ انفرادی ضرورت قرار دیا جائے اور ریاست کو سیکولر بنیادوں پر چلایا جائے تب ہی پاکستان ایک جدید فلاحی ریاست بن کر اقوام عالم میں روشن خیال اور اعتدال پسند ملک بن کر ابھر سکتا ہے۔ بصورت دیگر مسالک اور مذاہب کے درمیان اختلافات ہمیں اس خانہ جنگی کی طرف لے جائیں گے جس کی تمنا، خواہش اور کوشش بعض عالمی طاقتیں کر رہی ہیں۔‘‘

پاکستان جرنل نے اپنی 11 جون 2010ء صفحہ 14 کی اشاعت میں خاکسار کے مضمون بعنوان ’’محبت کے سفیروں کے ساتھ یہ سلوک‘‘ میری لینڈ کے ایک احمدی دوست خالد سولنگی صاحب کی تصویر کے ساتھ شائع کیا۔ یہ دوست امریکہ کے تھے اور ان دنوں لاہور میں تھے جہاں احمدیوں پر ہونے والے حملے میں جاں بحق ہو گئے۔ یہ اخبار ہیوسٹن ٹیکساس سے نکلتا ہے۔

نفس مضمون بالکل وہی ہے جو اس سے قبل دوسرے اخبار کے حوالہ سے اوپر درج ہو چکا ہے۔

انڈیا پوسٹ نے اپنی اشاعت 11 جون 2010ء صفحہ 22 پر پورے صفحہ پر دو بڑی تصاویر کے ساتھ ہماری خبر شائع کی ہے۔ یہ خبر لاہور میں جماعت احمدیہ کی 2 مساجد پر دہشت گردی کے بہیمانہ حملے کے بارے میں۔

تصاویر میں ایک تصویر مسجد کے ساتھ والی جگہ دکھائی گئی ہے جہاں بموں کے حملہ کی وجہ سے گاڑیاں اور عمارتیں منہدم ہو رہی ہیں اور لوگ سہمے ہوئے ہیں۔ دوسری تصویر میں ایدھی کے ورکرز ایک شخص کو سٹریچر پر لے جاتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں جو انہیں ہسپتال لے جارہےہیں۔

خبر میں تفصیل کے ساتھ لاہور میں دو احمدی مساجد پر وحشیانہ اور سفاکانہ حملے کی تفصیل ہے۔

نیویارک عوام نے اپنی اشاعت 11 جون 2010ء میں ہماری خبر اس شہ سرخی کے ساتھ شائع کی

’’جماعت احمدیہ کی 2 مساجد پر لاہور میں دہشت گردوں کا حملہ‘‘

قریباً 96 افراد راہِ مولیٰ میں قربان ہو گئے اور ایک سو سے زائد زخمی

’’دنیا کا کوئی دہشت گرد دنیا کی کوئی طاقت یا حکومت جماعت کی ترقی میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتی۔‘‘ امام شمشاد احمد ناصر

یہ اخبار نیویارک سے نکلتا ہے اور یہاں پر بہت سارے مسلمان، پاکستان اور انڈین نیز بنگلہ دیشی کمیونٹیز ہیں جو اردو اخبارات کو کثرت سے پڑھتی ہیں۔

اس اخبار نے ہماری مندرجہ بالا خبر کو تفصیل کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ چینو (نیوز ڈیسک) مسجد بیت الحمید میں جماعت احمدیہ کے ممبران سے خطاب کرتے ہوئے یہاں کے مبلغ اور مشنری امام سید شمشاد احمد ناصر نے لاہور میں احمدیہ مساجد پر حملہ کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ لاہور میں ان کی دو مساجد پر دہشت گردوں نے حملہ احمدیت کی مخالفت میں کیا ہے۔

ایک لمبے عرصہ سے یہ لوگ جماعت کے افراد کو قتل کرنے کی دھمکیاں بھی دے رہے تھے۔ جس کا حکومت یا پاکستان اور ذمہ دار افراد کو قبل ازیں نوٹس بھی دیا جاتا رہا۔ لیکن افسوس ہے کہ حکومت نے اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی، بلکہ جائے حادثہ پر پولیس بہت دیر سے پہنچی اور پھر کوئی خاص جرأت کا مظاہرہ بھی نہیں کیا۔ تفصیلات بیان کرتے ہوئے امام شمشاد نے کہا کہ ہمیں مذہبی منافرت کا نشانہ 1974ء سے بنایا جارہا ہے۔ جبکہ پاکستان کی قومی اسمبلی نے جماعت احمدیہ کو قانونی طور پر غیرمسلم قرار دیا۔ اس کے بعد ڈکٹیٹر ضیاء الحق نے مشہور بدنام زمانہ آرڈیننس XX 1984ء میں جاری کیا جس کے تحت احمدیوں کو اسلامی اصطلاحات استعمال کرنے سے منع کر دیا گیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آئے دن احمدیہ جماعت کے افراد ظلم و تشدد کا نشانہ بنتے چلے آرہے ہیں۔ سینکڑوں افراد اب بھی جیلوں میں ہیں اس کے ساتھ ساتھ افراد جماعت کی ٹارگٹ کلنگ بھی جاری ہے۔ جماعت کے ذمہ دار افراد اور پڑھے لکھے افراد اور اسی طرح وہ افراد جو عوام کی بے لوث خدمات بجا لارہے ہیں جیسے ڈاکٹرز، اساتذہ کرام کو بھی مذہبی تعصب اور نفرت کا نشانہ بنا کر مخالفین احمدیت، قتل کرتے چلے آرہے ہیں۔

امام شمشاد نے مزید بتایا کہ ان قتل کے واقعات کے پیچھے اور احمدیوں کے جیلوں میں ڈالے جانے کا بڑا سبب وہی آرڈیننس اور قانون ہے جس کے تحت ہر شخص اس غیرانسانی قانون کی ننگی تلوار کو لے کر ہمارا سر کاٹ سکتا ہے اور جس سے ہماری جماعت کے لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جارہاہے۔ اگرچہ ایسے واقعات دوسروں کے ساتھ بھی ہو رہے ہیں لیکن ہمارے ساتھ اس غیرانسانی سلوک کی وجہ حکومتی قانون ہے جو 1974ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے پاس کیا اور تشدد کرنے والوں کو اس قانون کی پشت پناہی حاصل ہے۔ جب تک یہ قانون نہیں بدلا جائے گا یہ تشدد اس طور پر جاری رہے گا۔

امام شمشاد نے بتایا کہ گزشتہ جمعہ کو جب یہ واقعہ ہوا تھا عین اسی وقت جماعت احمدیہ عالمگیر کے سربراہ اور روحانی پیشوا مرزا مسرور احمد نے جماعت کے تمام افراد کو جو دنیا کے 195 ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں صبر اور دعائیں کرنے کی تلقین کی۔ امام جماعت احمدیہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان میں جماعت کے خلاف حالات بہت خراب ہیں اور اس کی وجہ صرف حکومتی قانون ہے جس کی پشت پناہی میں مخالفین احمدیت، احمدیوں پر ظلم کرتے چلے آرہے ہیں۔ امام جماعت احمدیہ نے واضح کیا کہ جماعت احمدیہ مکمل طور پر پرامن جماعت ہے اور اس سانحہ کی وجہ سے وہ کوئی ایسا ردعمل نہیں دکھائے گی جو اسلام کی تعلیم کے خلاف ہو یا حکومتی قانون کے خلاف ہو۔ ہم نے اپنا معاملہ خداتعالیٰ کی عدالت میں پیش کیا ہے۔ اس لئے تمام ممبران جماعت صبر کا نمونہ دکھائیں اور دعاؤں پر زور دیں۔‘‘

ڈیلی بلٹن نے اپنی اشاعت 14 جون 2010ء صفحہ A9 پر خاکسار کا مضمون انگریزی زبان میں شائع کیا۔ جس کا عنوان اخبار نے خود یہ لگایا۔

Voilence Sanctioned by Pakistan

دہشت گردی کی پشت پناہی حکومت پاکستان کر رہی ہے

یہ دراصل خاکسار کا وہ مضمون ہے جو اس سے قبل اردو اخبارات میں شائع ہوا تھا۔ جس کا عنوان ہے ’’محبت کے سفیروں کے ساتھ یہ سلوک‘‘ اس مضمون میں چونکہ 1974ء میں پاکستان کی اسمبلی کا احمدیوں کے خلاف قانون پاس کرنا کہ وہ سیاسی اغراض کی خاطر غیرمسلم ہیں اور پھر 1984ء میں جنرل ضیاء کے XX آرڈیننس کی وجہ سے جس سے احمدیوں کو ان کے تمام بنیادی حقوق سے محروم کر دیا گیا اور خلاف ورزی پر قید اور جرمانوں کی سزا ہے۔ نیز اس قانون کی وجہ سے دہشت گردوں کے ہاتھ میں جماعت احمدیہ کے خلاف ایک ننگی تلوار مل گئی ہے۔ جس کی وجہ سے وہ جب چاہیں احمدیوں کو قتل کر دیں۔ اس قانون کی وجہ سے اخبار نے مندرجہ بالا ہیڈ لائن لگائی ہے۔

الانتشار العربی نے جو کہ عربی اخبار ہے اپنے انگریزی سیشن میں خاکسار کا مضمون بعنوان

How the Ambassaders of Love Treated. By Imam Shamshad Nasir

’’محبت کے سفیروں کے ساتھ یہ سلوک‘‘ خاکسا رکی تصویر کے ساتھ شائع کیا ہے۔ نفس مضمون وہی ہے جو اوپر گزر چکا ہے۔

الاخبار نے اپنی عربی سیکشن کی 17 جون 2010ء صفحہ 18 کی اشاعت میں عربی زبان میں خاکسار کے مضمون کا خلاصہ شائع کیا ہے جو کہ سانحہ لاہور سے متعلق ہے۔ جس کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔

الاخبار نے اپنی اشاعت 17 جون 2010ء صفحہ 18 پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر کےساتھ اس عنوان سے مضمون شائع کیا ہے۔

امام (المہدی) مرزا غلام احمد کی اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت

اس مضمون میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی عربی تصانیف سے تحریرات شامل اشاعت ہیں جن میں آپ نے شرح و بسط کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات، وَحْدَہٗ لَاشَرِیْک ہونے اور خداتعالیٰ سے محبت کے بارے میں ہے۔ آخر میں عربی زبان میں چند اشعار بھی اسی مضمون پر دلالت کرتے ہیں۔ مسجد بیت الحمید کا ایڈریس اور فون نمبر بھی درج ہے۔

دی انڈین ایکسپریس نے اپنی اشاعت 18 جون 2010ء صفحہ17 پر قریباً پورے صفحہ پر دو بڑی تصاویر کے ساتھ سانحہ لاہور کی خبر شائع کی ہے۔

ایک بڑی تصویر میں جماعت احمدیہ لاس اینجلس کے احباب بیٹھے ہیں۔ جبکہ دوسری تصویر مسجد بیت الحمید کی ہے۔ اس خبر کی شہ سرخی یہ ہے:

چینو کی مسجد میں احمدی احباب سانحہ لاہور کی وجہ سے افسردہ اور غم زدہ ہیں۔

خبر کی تفصیل قریباً وہی ہے جو اس سے پہلے دیگر اخبارات کے حوالے سے اوپر گزر چکی ہے۔

اس خبر میں بھی حضور انور کی جماعت کو ہدایت کہ صبر اور دعاؤں سے کام لیں کو بیان کیا گیا ہے۔

نیویارک عوام نے اپنی اشاعت 18 جون 2010ء صفحہ 14 پر خاکسار کا مضمون بعنوان ’’وطن عزیز میں جاہلیت کا عروج‘‘ خاکسار کی تصویر کے ساتھ شائع کیا ہے۔

خاکسار نے اس مضمون میں لکھا:
’’جاہلیت بہت بری چیز ہے جس سے انسان تاریکی ہی میں رہتا ہے اسی لئے علم کو نور کہا گیا ہے۔ وطن عزیز میں جاہلیت اس عروج پر پہنچ چکی ہے کہ یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ کس طرح ہمارے اہل وطن اس سے باہر نکل سکتے ہیں۔

اخبارات میں کالم نویس بھی اس بات کو بار بار پیش کر رہے ہیں لیکن کوئی بات بھی دلوں پر اثر نہیں کر رہی۔ اس جہالت کی ایک تازہ مثال سنئے! یہ مثال روزنامہ جنگ 5جون 2010ء کی اشاعت میں ہے
اسلام آباد (عمر چیمہ) لاہور میں حالیہ دہشت گردی کے دوران زندہ بچ جانے والے حملہ آور عبداللہ کو اس کے ماسٹر مائنڈز نے یہ ذہن نشین کرایا تھا کہ خاکوں کے معاملے کے پیچھے قادیانی ملوث ہیں اور مثالی سزا کے مستحق ہیں اور اسے اپنے دیگر ساتھیوں کےساتھ ’’مشن‘‘ پر بھیجا گیا تھا۔‘‘

یہ جہالت کی انتہاء ہے۔ یہ جماعت احمدیہ پر سراسر جھوٹا اور ناپاک الزام ہے کہ جماعت احمدیہ کے افراد نَعُوْذُ بِاللّٰہِ، نَعُوْذُ بِاللّٰہِ، خاکوں کے کیس میں ملوث ہیں۔ بالفاظ دیگر یہ بتایا گیا کہ احمدی حضرات رسول خدا ﷺ کی توہین کرتے ہیں۔ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ۔ بلکہ میں تو یہ دعا لکھ رہا ہوں کہ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ اَنْ اَکُوْنَ مِنَ الْجَاہِلِیْنَ۔

یہ تو صرف ایک عبداللہ پکڑا گیا اور اس نے یہ بات ظاہر کر دی، پتہ نہیں کتنے اور عبداللہ ہوں گے جن کے دل میں انتقام کی آگ بھڑک رہی ہو گی اور وہ بھی یہی سمجھتے ہوں گے کہ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ احمدی حضرات رسول اللہ ﷺ کی ہتک کرتے ہیں۔

اس لئے یہ عاجز بانی جماعت احمدیہ کی تحریرات سے کچھ پیش کرے گا تاکہ کسی طرح جہالت کو دور کیا جا سکے اور اس خیال کی تردید ہو سکے کہ احمدی آنحضرت ﷺ سے کس طرح پیار اور محبت رکھتے ہیں۔

اور آپؐ پر اپنے آپ کو کس طرح فدا کرنے پر تیار ہیں۔ احمدیوں سے بڑھ کر کون ناموسِ رسالت دکھائے گا؟

عبداللہ پر یہ بات خوب واضح ہو چکی ہو گی کہ جب انہوں نے گرنیڈ پھینکے اور بموں سے حملہ کیا اس وقت ہماری مساجد کے لیڈروں سے انہوں نے ضرور یہ آواز سنی ہو گی کہ:

سب درود شریف پڑھیں اور پھر عبداللہ نے سب احمدی حضرات کے مونہوں سے درود شریف بھی سنا ہو گا۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰٓ اٰلِ مُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَسَلِّمْ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔

کیا نَعُوْذُ بِاللّٰہِ رسولؐ کی ہتک کرنے والے اور خاکوں میں ملوث لوگ آپ پر درود شریف پڑھتے ہیں؟

چند اقتباسات حضرت مسیح موعود ؑ کی تحریرات سے

1۔ ’’جو لوگ ناحق خدا سے بے خوف ہو کر ہمارے بزرگ نبی حضرت محمد مصطفیٰ کو برے الفاظ سے یاد کرتے ہیں اور آپ پر ناپاک تہمتیں لگاتے اور بدزبانی سے باز نہیں آتے۔ ان سے ہم کیونکر صلح کر لیں؟‘‘

2 ’’ہم جب انصاف کی نظر سے دیکھتے ہیں تو تمام سلسلہ نبوت میں اعلیٰ درجہ کا جواں مرد نبیؐ صرف ایک مرد کو جانتے ہیں یعنی وہی نبیوں کا سردار، رسولوں کا فخر، تمام مرسلوں کا سرتاج جس کا نام محمد مصطفیٰ اور احمد مجتبیٰ ﷺ ہے۔ جس کے زیر سایہ دس دن چلنے سے وہ روشنی ملتی ہے جو پہلے اس کے ہزار برس تک نہیں مل سکتی تھی۔‘‘

3۔ فرمایا: ’’اگر یہ لوگ ہمارے بچوں کو ہماری آنکھوں کے سامنے قتل کرتے اور ہمارے جانی اور دلی عزیزوں کو جو دنیا کے عزیز ہیں ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالتے اور ہمیں بڑی ذلت سے جان سے مارتے اور ہمارے تمام اموال پر قبضہ کر لیتے تو وَاللّٰہِ ثُمَّ وَاللّٰہِ ہمیں رنج نہ ہوتا اور اس قدر کبھی دل نہ دکھتا جو ان گالیوں اور توہین سے جو ہمارے رسول کریمؐ کی گئی دکھا۔‘‘

خاکسار نے مضمون کے آخر میں 1974ء میں بننے والی قانون جس میں جماعت احمدیہ کو غیرمسلم اقلیت قرار دیا کا ذکر کیا ہے۔ جس کی وجہ سے حکومتی کارندے، پولیس اور مولوی حضرات جماعت کے خلاف مقدمات درج کراتے ہیں۔ لیکن جیسا کہ امام جماعت احمدیہ نے بارہا فرمایا ہے کہ ہم اپنا معاملہ خدا پر چھوڑتے ہیں۔ خداتعالیٰ خود ان کو عبرت ناک سزا دے گا اور جماعت کی ترقی میں یہ قوانین کوئی رکاوٹ نہیں ڈال سکیں گے۔

اصل بات یہ ہے کہ کیا کسی حکومت اور اسمبلی کو کسی کے مذہب میں دخل اندازی کی اجازت ہے؟ کیا ہمیں حکومت سے اپنے مسلمان ہونے کا سرٹیفکیٹ چاہئے۔ پھر قومی اسمبلی کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ بھٹو حکومت کے بارے میں ضیاء نے قرطاس ابیض شائع کیا تھا وہ پڑھ لیں۔

پاکستان ایکسپریس نے اپنی اشاعت 18 جون 2010ء صفحہ 11 پر 2 تصاویر کے ساتھ خاکسار کا مضمون بعنوان ’’محبت کے سفیروں کے ساتھ یہ سلوک‘‘ شائع کیا ہے۔ ایک تصویر لاہور کی احمدیہ مسجد پر حملہ کی ہے دوسری میں کچھ پولیس کے افراد کارروائی کرتے نظر آرہے ہیں۔ نفس مضمون وہی ہے جو اس سے قبل دوسرے اخبارات کے حوالہ سے اوپر گزر چکا ہے۔

پاکستان لنک میں 18 جون 2010ء کی اشاعت صفحہ 7 پر ایک تجزیہ نگار محترمہ ڈاکٹر مہ جبیں اسلام صاحبہ نے ایک مضمون لکھا ہے۔ اس میں ایک تصویر بھی شامل اشاعت ہے جس میں سانحہ کے مقتولین کی تدفین ہو رہی ہے۔

اس مضمون کا عنوان ہے Are we Unjust People

کیا ہم ناانصاف لوگ ہیں۔ مصنفہ محترمہ نے یہ مضمون تولیدو اوہایو سے لکھا ہے۔ وہ لکھتی ہیں:

’’کیا ہم ناانصاف لوگ ہیں؟‘‘

سو سے زائد احمدیوں کا دوران عبادت قتل پر پاکستانی قوم کا احتجاج، افراد کی خاموشی، بہت ہی کم اور جلد بھول جانے والا تھا۔ صرف چند دن بعد اسرائیل میں 20 کارکنان کا قتل ہوا تو پوری پاکستانی قوم آگ بگولہ ہو گئی۔ پولیس پر پتھراؤ، گاڑیوں اور جائیدادوں کا جلاؤ ہوا۔ کراچی میں احتجاجی لوگوں میں مکمل پردہ دار خواتین کے ساتھ بچے بھی پولیس کی واٹر (پانی والی) توپوں اور لاٹھیوں کا سامنا کر رہے تھے۔ کیا تصویر کے اس رخ میں واقعی کوئی غلطی ہے یا صرف میری رائے ہے۔

مجھے حیرانگی ہوتی ہے کہ خبریں پڑھنے والے، احمدیوں کی مساجد کو عبادت گاہ کیوں بولتے ہیں؟ ایک اشارہ ملا اور غور کیا اور سمجھا کہ صرف اور صرف نفرت۔ ایک احمدی کو مسلمان بولنا اور ان کی عبادت گاہوں کو مساجد بولنا ایک صحافی کو احمقانہ توہینِ رسالت کے قانون کے تحت لاتا ہے۔

احمدیوں کو قانونی طور پر غیرمسلم قرار دینے والا حاکم ذوالفقار علی بھٹو تھا۔ اس نے یہ واضح طور پر اپنے سیاسی مفادات کو حاصل کرنے کے لئے کیا اور پھر سعودی عرب اس میں معاون و مددگار بنا۔

بھٹو کی تحریک کی سیاسی مصلحت 1974ء میں واضح ہوئی۔ اگریہ بدعت اور کفر تھا تو بنیادی حقوق کا خوف پیدا ہونے لگ گیا۔

یہ پاکستان جیسے مجرمانہ ملک میں بہت ہی کامیاب ہو گیا کیونکہ اس میں اپنے ہی لوگوں کا قتلِ عام ہوتا ہے۔ بے شک پاکستان کے تحریکِ طالبان قتلِ عام کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان میں نفرت پسند لوگوں کی کمی نہیں ہے۔

مسلمان اور پاکستانی اس وقت احتجاج کرتے ہیں۔ جب ان کو مغرب میں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جب مساجد نشانہ بنتی ہیں اور ہم بھی نفرت آمیز جرائم کی ندی میں بہتے چلے جاتے ہیں۔ لیکن گھروں میں ہم عامر لیاقت جیسے گھٹیا انسان کا استقبال کرتے ہیں۔ جو اپنی ایک ہی نشست میں ہزاروں انسانوں کا صفایا کر جاتا ہے۔ ان کو قتل کرنے کے لئے ابھارنے کے ذریعے۔ کہ احمدی واجب القتل ہیں۔ اس کے دو دن کے اندر اندر ایک ایسے احمدی ڈاکٹر قتل کر دیئے گئے جو بہت سی غریب عوام کی خدمت بجا لا رہے تھے۔ اور ان کا قاتل فرار ہو گیا۔ ایک اور نفرت آمیز تقریر سے ایک اور احمدی ڈاکٹر ظالمانہ طریقے سے قتل کر دیئے گئے اور ہاں جی، دوبارہ قاتل انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا۔

ہمارا قومی اخلاق دو عظیم شخصیات کے اندر ڈھلتا ہے۔ حضرت محمدؐ اور محمد علی جناح۔ ہمیں ایسی اینٹی احمدیہ انتقامی کارروائیوں کو کرتے وقت یہ سوچنا چاہئے کہ وہ کیا سوچیں گے؟ کیا تمام انسانوں میں سے بہترین شخص کا رحم اور انصاف، ایک بھی احمدی کے قتل سے چشم پوشی کرے گا؟ اور کیا جناح کے اصولوں کی آنکھ اندھی ہو جائے گی؟

لیکن ہمارے ہیرو آنحضرت ﷺ یا جناح ؒ نہیں ہیں بلکہ ہم تو ایک بھٹکی ہوئی قوم ہیں۔ ہم لٹیروں کو پسند کرتے ہیں۔ ہم اخلاقیات سے گرے ہوئے لوگوں کی پیروی کرتے ہیں۔ ہم نفرت آمیز، منافقانہ آوازوں سے جوش دلا دلا کر ابھارے جاتے ہیں اور جو کہ داڑھیوں، پگڑیوں، حجابوں اور نقابوں کے بھیس میں ہوتے ہیں۔

فلسطین کا کوئی بھی مر جائے کسی کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ ایک اسرائیلی یا بیس ترک مر گئے تو پوری دنیا میں احتجاج شروع ہو گیا۔ اسی طرح پاکستانی سو احمدی دورانِ عبادت قتل کئے گئے۔ کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔ لیکن جب اسرائیل نے 20 کارکنان کو مارا ہے تو پاکستانی آگ بگولہ ہو گئے ہیں۔ اس لئے اگر آپ اسرائیلی یااحمدی ہیں تو آپ کی کوئی قیمت نہیں ہے۔

پاکستانی ایک دوسرے کو قتل کر سکتے ہیں کوئی مسئلہ نہیں۔ اسرائیلی نہیں کر سکتے۔ یعنی (شراب پینا میرے لئے تو حلال ہے اور شراب پینا تمہارے لئے حرام ہے) واضح بات ہے۔

لیکن اسرائیل، فلسطین کو بے دخل کرتا ہے اور آج تک انہیں قتل و غارت کرتا ہے۔ یہ ایک کٹر دشمنی کے تحت ہے۔ لیکن پاکستانی اپنے ہی شہریوں کو قتل کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ جبکہ اصل میں ایک ملک کو ایسا ہونا چاہئے جیسے ایک ماں کا پیار، گرمی اور حفاظت ہوتی ہے۔

اور سیاسی مہم کا فن تو پاکستانی سیاست دانوں سے ہی سیکھنا چاہئے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی رگ سے، احمدیوں کے قتلِ عام پر صدر زرداری نے کوئی بھی بیان نہیں دیا۔ وزیراعظم گیلانی نے اپنے آپ کو کیمروں سے ہی دور رکھا۔ ہم لفظ عمران خان نے اور صرف نواز شریف نے بولا اور مولانا فضل الرحمٰن اور قاضی حسین بھی اپنے آپ میں گم اور خوش و خرم۔ شہباز شریف نے بھی اس کو کیک کی طرح ہی لیا اور پریشان کن الفاظ میں نشانہ بننے والے افراد کے لئے بولا ’’وہ جو مر گئے ہیں‘‘ اس کو بھی اتنی جرأت نہیں ہوئی کہ ’’شہید‘‘ کا لفظ بول سکے۔ اور ڈرتے ہوئے سیاست کا جنازہ ہی نکالتا ہوا پایا گیا۔ اس کو اتنی بھی شرم نہ آئی کوئی اچھا لفظ بول سکتا جیسے ’’جاں بحق‘‘۔ آپ ان کو دیکھ رہے ہیں کہ یہ ایسے ستارے ہیں جو کہ قوم کے حکام ہیں۔

(باقی آئندہ بدھ ان شاءاللہ)

(مولانا سید شمشاد احمد ناصر۔ امریکہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 مئی 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ